• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • گدی نشینوں کوبراہ راست ٹیکس نیٹ میں لائیں۔۔۔طاہر یاسین طاہر

گدی نشینوں کوبراہ راست ٹیکس نیٹ میں لائیں۔۔۔طاہر یاسین طاہر

جو بھی لکھا خوب لکھا دسترس ہوتا اگر
چومتا میں ہاتھ اپنے کاتب ِتقدیر کا
خواجہ حیدر علی آتش کا یہ شعر بھی یقیناً ہم جیسے “ٹیکس پیشہ” ہجوم کے لیے لکھاتھا۔ شاید اس وقت بھی حالات ایسے ہی تھے، مگر یوں مہذب طریقے سے لوٹ مار نہ ہوتی تھی۔حملہ آور آتے اور مال مویشی، آٹا دانا،عورتیں بچے ہانک کر لے جاتے، جسے یقین نہ آئے وہ تاریخ کوعقیدت کی آنکھ سے پڑھنے کے بجائے مضمون کےطور پر پڑھے تو اسے احمد شاہ ابدالی اور غزنوی کی “اسلام دوستی” سمجھ آجائے گی۔پنجانی کہاوت بڑی مشہور ہے”کھادا پیتے لائے نا ،تے باقی احمد شاہے نا”یعنی احمد شاہ ابدالی کے حملہ آور ہونے سے پہلے پہلے جو کچھ کھا پی لیا، جو کچھ کہیں چھپا لیا، وہی اثاثہ حیات ہے،باقی تو احمد شاہ ابدالی اپنے بے رحم حملہ آور لشکر کے ساتھ آئے گا اور سب کچھ لوٹ کے لے جائے گا۔ احمد شاہ ابدالی نے اس خطہ بے تقدیر پر کتنے حملے اور کیوںکیے؟ تاریخ کے دامن میں سب محفوظ ہے۔انگریز آئے تو کیا ہوا؟ر ہمارے آباو اجداد نے ٹیکس دیے۔آج جو بڑے بڑے جاگیر دار ہیں ان کے آبا نے انگریزوں سے وفاداری کے عوض بڑی بڑی جاگیریں پائیں۔ یہ تاریخ کا ایک المناک سچ ہے جسے کسی بھی طور جھٹلایا نہیں جا سکتا۔جھٹلانا تو ایک طرف کوئی اسے دل ہی دل میں جھوٹ بھی نہیں کہہ سکتا۔تقدیر اور شے ہے اورتقدیر کے نام پر کسی چرب زبان کے سامنے اپنی ہمت ہار جانا کارِ دگر است۔
انسان اپنے افعال میں قادر ہے یا کلی طور پر تقدیر کے تابع؟ یہ بڑا دلچسپ موضوع ہے اور اس فلسفیانہ موضوع پر سینکڑوں کتب لکھی جا چکی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جیسے عوام ہوں گے ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کیے جاتے ہیں۔میںسمجھتا ہو ں کہ علمائے کرام کو اس حوالے سے جدید تفسیری فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے اس حدیث پر مزید تحقیق کرنی چاہیے۔اگر تو سارا قصور عوام کا ہے تو پھر میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو قید کرنے کی ضرورت کیا ہے؟پھر شہباز شریف کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات کیوں ؟پھر مہنگائی بڑھنے پر عمران خان اور ان کی ٹیم کو برا بھلا کیوں کہا جا رہا ہے؟جب قصور ہی عوام کا ہے توحکمران قہر الٰہی بن کر نازل ہوں گے۔لیکن ایسا نہیں ہے۔ اللہ رب لعزت کی ذات عادل ہے۔قدر و جبر کا نظریہ ایک علمی اور دقیق فلسفیانہ بحث ہے۔ہم اس سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔کسی دوسرے مقام پر سلسلہ وار اس حوالے سے لکھیں گے۔عمران خان جب 2011 کے بعد” اچانک مشہور” ہو گئے اور موقع پرست سیاست دان جوق درجوق ان کی “انصاف” پارٹی میں انصاف کی تلاش میں آنے لگے تو خان صاحب کو یقینِ کامل تھا کہ 2013 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر ملک کی کایا پلٹ دے گی۔ مگر جو ہوا وہ خان صاحب کے لیے حیران کن بھی تھا اور تکلیف دہ بھی۔حکومت نون لیگ نے بنائی اور کم از کم جیسے تیسے کر کے بجلی کے شدید تر بحران سے عوام کی جان چھڑائی۔کیسے؟ یہ اسحاق ڈار نے اپنی حکمت عملی سے کام کیا اور عوام کا غصہ ٹھنڈا کیا۔ یہی سیاسی حکمت ہے۔اس کے ما بعد اثرات پر البتہ نون لیگ کی حکومت نے یکسوئی سے کام نہ کیا جس کا خمیازہ نون لیگ اور پوری پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔نون لیگ کے عہد میں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی تھیں تو عمران خان اپنا مشہور جملہ ہر چینل پر دہراتے تھے کہ جب 47 روپے کا پیٹرول 65 روپے میں ملے تو سمجھ لیں کہ آ ُ پ کاوزیر اعظم کرپٹ ہے۔سوشل میڈیا کی ایجاد نے عوام کی یادداشت کو تازہ کیا ہوا ہے۔کہا جاتا تھا کہ میں آتے ہی ٹیکس نیٹ کو بڑھاوں گا، بڑے مگرمچھوں کو پکڑوں گا اور عام آدمی کو ریلیف دوں گا۔
جذبات انسان حیات کی پہچان ہیں، مگر گاہے انسان جذبات کی رو میں بہہ کرکیا سے کیا کہہ جاتا ہے۔ میری نظر میں ایک لیڈر کو جذباتی نہیں ہونا چاہیے ورنہ نقصان لیڈر کے ساتھ ساتھ پوری قوم کا ہوتا ہے۔ ٹرمپ،اور عمران خان کی مثال ہمارے سامنے ہے، دونوں میں قدرِ مشترک جارحیت اور جذباتیت ہے۔میں چونکہ عام آدمیوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہوں، لہٰذا اصل رائے ان ہی کی ہوتی ہے جو ملک کی کثیر آبادی ہے،اسلام آباد اور دیگر محل سرائوں میں ناشتے اوربرگر کھانے والےاپنے اور اپنے اپنے خاندان کے مفادات کا پہلے سوچتے ہیں، کک بیکس لیتے ہیں اور اپنے فرنٹ مینوں کو نوازتے ہیں۔عمران خان اور ان کے لائق فائق سابق وزیر خزانہ ہر شام ٹی وی پر بیٹھ کر ملکی مسائل منٹوں میں حل کر دیا کرتے تھے۔
مراد سعید کا کہنا تھا کہ ایک دن عمران خان وزیر اعظم کا حلف اٹھائیں گے تو دوسرے دن بیرون ملک پاکستانی دو ارب ڈالر پاکستان بھجوا دیں گے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس بار عمران خان اور ان کی ٹیم پر وہ اعتماد نہیں کیا جس کی انھیں تمنا تھی۔اس ناامیدی کا بدلہ حکومت نے عام آدمی سے لینے کا فیصلہ کیا۔آٹا، دال چینی، سیمینٹ، سریا،ادویات، غرض ہر چیز مہنگیہو گئی ہے کہیں پر بھی پرائس کنترول کمیٹیاں نہیں ہیں۔، ڈالر کنٹرول میں نہیں آ رہا،اور وزیر اعظم صاحب اب بھی اپوزیشن کے لہجے میں کہتے ہیں کہ ٹیکس دیں،یا سزا بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں، جب وہ اس لہجے میں بات کررہے ہوتے ہیں تو ان کا مخاطب عام آدمی ہوتا ہے۔ٹیکس نیٹ میں کتنا اضافہ ہو؟حکومت نے اس حوالے سے کیا اقدامات کیے؟ان ہی غریبوں پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے جو ماچس کی ڈبیا پر ٹیکس دیتے ہیں، حالانکہ وہ سیلز ٹیکس ہوتا ہے لیکن سیلز مین کنزیومر سے لے رہا ہوتا ہے۔ریاستِ مدینہ کا”سلوگن” بھیجنے کے بجائے عمران خان ریونیو بڑھانے کے لیے دیگر سنجیدہ اقدامات اٹھائیں جس سے عام آدمی مثاثر نہ ہو، بلکہ بڑے بڑے ارب پتی،شوگر ملز مالکان،اور دیگر بڑے کاروباری طبقات اپنا پیسہ مارکیٹ میںلائیں۔ایک بینکر دوست مجھے بتا رے تھے کہ ایمنسٹی سکیم کے تحت ایک شخص نے کوئی 16/17 کروڑ روپے جون کے تیسرے ہفتے میں جمع کرائے ، قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعدچوتھے ہفتے میں وہ رقم نکلوا کر بیرون ملک ٹرانسفر کر دی۔اس حوالے سےحکومت نے کوئی پالیسی بنائی؟حکومت اگر صرف گدی نشینیوںکوپابند کر دے بلکہ کسی غیر ملکی فرم سے چھوٹی بڑی گدیوں کا آڈٹ کرائے، ان پیروں،عاملوں کے اثاثوں کی چھان بین کرائی جائے تو ملک کا آدھا قرضہ اتر جائے گا۔بخدا اگر صرف پنڈی اسلام آباد کی تین چار بڑی گدیاں،قوالوں پر نذرانے اتارنے کے بجائےسالانہ بیس بیس بیس کروڑ روپیہ قومی خزانے میں جمع کرائیں تو ملکی معیشت سنبھل جائے گی۔ اگر چھوٹے بڑے سارے پیر، عاملین اپنے پنے مریدین کو حکم دیں کہ ہر مرید ایک سو روپیہ قومی خزانے میں جمع کرائے، نیز مدارس والے اپنے چندوں کا کچھ حصہ بھی خزانے میں جمع کرائیں توملکی معیشت پر بوجھ کم ہو جائے گا۔لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ کیا شاہ محمود قریشی؟صمصام بخاری؟اور تحریک انصاف سمیت، دیگر جماعتوں میں بیٹھے وڈیرے، اور گدی نشین ایسا کوئی بل اسمبلی سے پیش ہونے دیں گے؟ان کا تو سارا دھندا ہی نذرنذرانوں پر چلتا ہے۔ہر عامل ہر پیر تیسرے چوتھے ہفتے لندن چلا جاتا ہے کہ مریدوں نے بلایا ہے۔اگر ایف بی آر والے ان کے ٹیکس ریٹرن کا آڈٹ کریں تو لگ پتا جائے۔حکومت الٹا انھیں ہی نان فائلر کہہ رہی ہے جو صدیوں سے جبری ٹیکس کی چکی میں پس رہے ہیں، “کبھی بہ حیلہء مذہب کبھی بنام وطن”بارِ دگر عرض ہے اگر ملک کے گدی نشینوں اور مدارس والوں کوبراہِ راست ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر جمع نہ ہو جائیں۔اس کے لیے خواہ ایگزیکٹو آرڈر ہی کیوں نہ پاس کرنا پڑے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *