خاموش ہیں سسکیاں۔۔۔ہُما

میری فکر تمہیں بوڑھا کردے

جب یہ سوچوں تو دم گھٹتا ہے

کچھ ہفتے پہلے بلال غفور کی تحریر “کیسے نہ کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں“۔۔۔  نظر سے گزری ۔۔۔
تحریر کا موضوع اور ابتدائی سطور ہی منظر کشی کے ذریعے رلانے کو کافی تھیں۔بلال کی تحریر کا مرکزی کردار ایک لڑکا تھا، پھر ایک بیٹا تھا اور ساتھ ہی ایک بھائی ۔
یہ لڑکا ماں باپ کی ذمہ داریاں جانفشانی سے اٹھارہا تھا،بھائی کا کفیل تھا اور ساتھ ہی بہنوں کے فرض کو بھی بخوبی ادا کرنا چاہتا تھا۔
ماں باپ کی بیماریوں پر لگنے والا پیسہ بھائی کی پڑھائی کیلئے رقم کی فکر اور ساتھ ہی بہنوں کے جہیز کی ذمہ داری بھی اسی کے کاندھوں دل اور دماغ پر تھی۔

 

اس تحریر میں بلال نے جس ذمہ داری کو تفصیل سے لکھا وہ بہنوں کے رشتے تھے۔۔وہ روز اپنی آپی نادیہ اور آپی شازیہ کی بہتر زندگی کی امید کرتا، آپی نادیہ کیلئے جہیز جمع کرتا ہے اور آپی شازیہ کیلئے روز کسی اچھے رشتے کی آس میں گھر آئے مہمانوں کی خاطر مدارات کرتا ہے ۔۔۔آپی لفظ سے پتہ چلا کہ وہ لڑکا عمر میں بہنوں سے چھوٹا ہے لیکن گھر کا بڑا ہے ۔۔

میری سوچ دنگ اور لفظ گم ہوگئے کہ میں بھائی کی ان بندھتی ٹوٹتی امیدوں کو سوچوں جو وہ ہر اک نئی صبح سے بہتر زندگی کیلئے لگاتا تھا۔۔یا اسکی بہنوں کی خاموش سسکیوں کو سنوں؟
جو اپنے چھوٹے بھائی پر بوجھ بن جانے کے سبب روز ان کے حلق سے نکل کر دل میں پیوست ہوجاتی تھیں ۔۔۔بلال نے صرف اتنا لکھا کہ آپی شازیہ ہر روز مہمانوں کے سامنے آنے سے چڑچڑی ہوگئی تھیں۔۔بلال تو صرف وہی رویہ لکھ سکتے ہیں جو ایک بھائی بہن کی ظاہری حالت دیکھ کر اندازہ لگاتا ہے۔

بڑھتی عمر کے ساتھ روز روز تیار ہوکر مہمانوں کے سامنے آنا وہ بھی اس صورت میں جب چھوٹا بھائی پوچھے آپی مہمان آرہے ہیں کیا کیا لاؤں؟
روز بڑی بہن کو ذلت کے دلدل میں دھکیل دیتا ہے،لیکن یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک لڑکی اپنی عمر کی حدوں کو پار کرتے ہوئے تھک ہار کر کسی کالے پیلے نیلے عمر رسیدہ یا طلاق یافتہ کیلئے ہاں نہ کردے۔۔۔یہ سوچ کر کہ آخر کب تک ماں باپ اور بھائیوں پر بوجھ بنوں؟

کیا ہر معاشرے میں بھائی اسی لیے پیدا ہوتے ہیں کہ گدھے کی طرح ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ لاد دیا جائے؟
اور اتنی بھی فرصت میسر نہ ہو کہ وہ کہہ سکیں کہ کچھ پل مجھے اپنی تھکن دور کرلینے دو۔۔
کیا ہر معاشرے میں بہنیں سج سنور کر چائے کی ٹرالی اٹھائے بھائیوں کے سامنے مہمانوں کی خاطر مدارات کرتے ہوئے اپنی نظروں میں روز روز گرتی ہیں؟؟؟
نہیں۔۔۔

یہ فقط ہماری نام نہاد مشرقی روایتی اقدار ہیں۔۔۔جو لڑکی کو اس بات کی اجازت تو نہیں دیتیں کہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی کی راہیں متعین کرے،لیکن اس بات پر جبر ضرور کرتی ہیں کہ سج دھج کر ہر ایک سے اچھے اخلاق سے ملو،چاہے آنے والا تمہاری طرف ایک نگاہ ڈا ل کر اپنا منہ آڑھا ٹیڑھا کرلے لیکن آپ اپنے ماتھے کی شکنوں کو استری شدہ رکھو ۔کیونکہ جب تک کھل کرجواب نہیں آتا کہ ہمیں آپکی بیٹی پسند نہیں آئی تب تک امید قائم رکھنی ہے۔۔۔۔

ہمارے ہاں آج بیٹی کی پیدائش پر کھل کر ماتم تو نہیں ہوتا لیکن دل پر ایک بوجھ ضرور آجاتا ہے۔بیٹی ہوئی ہے مبارک ہو، چلو اللہ نصیب اچھے کرے، بیٹی سے ڈر نہیں لگتا بس بیٹی کے نصیب سے ڈر لگتا ہے۔اس کے برعکس بیٹے کی پیدائش پر کھل کر قہقہے بلند کیے جاتے ہیں اور لگتا ہے جیسے خاندان کے بوجھ کو اٹھانے والا کوئی آگیا۔یعنی بیٹی کی پیدائش پر اچھے نصیب کی فکر اور بیٹے کی پیدائش سے توقعات کی وابستگی ہی دونوں کے مستقبل کے کردار کا تعین کردیتی ہے۔جو کہ بلال غفور کی تحریر سے جھلکتے دکھ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

بلال کی تحریر کے اس مرکزی کردار بھائی کی کیفیات پڑھ کر دل بجھ سا گیا کہ ہمارے بھائی بہنوں کیلئے اپنی خواہشات اپنی ذات تک کو مٹادیتے ہیں ۔۔۔۔

اپنی بہن کو ایک بہتر زندگی دینے کی چاہ میں وہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر دن رات محنت کرسکتا ہے لیکن اسکی بہن کو واقعی ایک بہترین ساتھی مل جائے گا۔جو اسکی ذمہ داری کو خوشی سے قبول کرکے اس کے مستقبل کو خوشیوں سے بھر دے گا اس بات کی گارنٹی وہ اپنی بہن کو اپنی ہر چاہ ہر کوشش کے باوجود نہیں دے سکتا۔۔۔۔

بہن رشتہ ہونے سے شادی ہونے تک جن اذیتوں سے گزرتی ہے اسکے بعد جو بھی مل جائے صبر اور شکر اور ماں باپ کی روایتی نصیحت” ہماری عزت کی لاج رکھنا’ سوچ کر اپنی تمام عمر ایک ایسے رشتے کو نبھانے اور بچانے میں لگادیتی ہے جس کا وجود بھائی بہن ماں باپ اور پورے خاندان کی جاں توڑ محنت کے بعد وجود میں آیا ہو۔۔۔

کیا ہی اچھا ہو کہ بھائی جو اپنی بہن کی شادی کی فکر میں خود کو ذہنی اور بعض اوقات جسمانی بوڑھا بھی کرلیتے ہیں۔وہ بہن کو اپنا اعتماد اور ساتھ دیکر اسے اس قابل بنادیں کہ وہ ان پر بوجھ نہ رہے۔اس کی شادی شدہ زندگی کیلئے روز روز اس پر جبر کرنے کے بجائے اسے اس قابل بنادیں کہ اپنی تمام عمر وہ فخر و مسرت کے ساتھ خوشحال گزار دے۔اسے اس فکر سے آذاد کردے کہ ایک خاص عمر میں آنے کے بعد بس اسکی زندگی کا مقصد صرف شادی ہی ہے، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے ہو، کسی بھی صورت ہو،بس شادی ہو۔۔۔۔

میرا کہنے کا مقصد شادی نہ کرنے کی ترغیب دینا نہیں ہے،
کچھ شک نہیں کہ شادی ہی انسان کی زندگی کو مکمل کرتی ہے،انسان زندگی اور رشتوں کا بھرپور لطف اٹھا سکتا ہے۔لیکن ہمارے ہاں شادی کے لئے جو شرائط رائج ہیں۔بھائی گدھا بن جائے اور بہن ذلیل ہوکر رہ جائے۔خدارا اس اذیت سے ہمارے معاشرے کی بہنوں کو نکالیں، کہ وہ واقعی ماں باپ اور بھائی پر ذمہ داری کی صورت میں بوجھ ہیں۔اور یہ نجات دہندہ کوئی اور نہیں فقط ایک بھائی ہی ہوسکتا ہے جو اپنا بوجھ بہنوں کے ساتھ اس بات کی پرواہ کیے بغیر بانٹ لے کہ” لوگ کیا کہیں گے”۔۔۔۔۔

اگر اب بھی ایسا نہ ہوا تو بھائی ہوں یا بہن اپنے اپنے حصے کی مظلومیت اٹھاتے رہیں گے اور زندگی گزارنے کے بجائے کہانیاں بنتے رہیں گے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *