• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کلبھوشن فیصلہ:کیا ہوا، کیا ہو گا؟ ۔۔۔۔ انعام رانا

کلبھوشن فیصلہ:کیا ہوا، کیا ہو گا؟ ۔۔۔۔ انعام رانا

عالمی عدالت نے بالآخر کلبھوشن کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ فیصلے کے ساتھ ہی تبصرے ،طعنے  اور دل پسند تشریحات جا بجا دکھائی دے رہے ہیں۔ اطراف کے میڈیا نے کرکٹ میچ کی مانند اس قانونی مقدمے کو بھی اک پاک-بھارت جنگ کا ماحول دے دیا جس میں حکومتوں سمیت جانبین اپنی فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ کچھ صاحبان نے تو اسے باکسنگ میچ بنا دیا کہ اک پوائنٹ انڈیا کا، اک پاکستان کا اور بس پھر پاکستان نے بھارت کو ناک آوٹ کر دیا۔ خیر یہ تو برصغیر کا عمومی مزاج ہے البتہ عوام کی اکثریت کنفیوز ہے کیونکہ فیصلہ خالصتاً  قانونی زبان و انداز میں ہے۔ بطور قانون کے ایک طالب علم کی ، اس فیصلے کا جائزہ لیتے اور مستقبل پہ اسکے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئےکوشش ہو گی کہ “لے مین” یا عام آدمی کے لیے بھی یہ قابل فہم ہو۔

کلبھوشن:
پاکستان نے کلبھوشن یادیو نامی ایک شخص کو گرفتار کیا اور یہ دعوی کیا کہ وہ بھارتی فوج کا کمانڈر اور خفیہ ایجنسی را سے وابستہ ہے۔ کلبھوشن پہ پاکستان میں دہشت گردی کا الزام لگا،اسکی ایک کنفیشنل یا اعترافی وڈیو بھی جاری ہوئی، اس پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور باآخر اسے سزائے موت  سنائی گئی۔ پاکستان کا دعویٰ  ہے کہ کلبھوشن نے اس سزا کے خلاف آرمی چیف سے اپیل کی جو مسترد ہوئی اور اسکے بعد معافی کی درخواست بھی پیش کی۔ بھارت کے احتجاج اور کلبھوشن کے خاندان کی درخواست کے بعد اسکی ملاقات اسکی والدہ اور بیگم سے بھی کرائی گئی مگر اسے بھارتی قونصلر تک رسائی نہیں دی گئی۔

عالمی عدالت میں بھارتی مقدمہ
بھارت نے پاکستانی سرکار کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ کیا۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک اس عدالت کے پابند ہیں اور ویانا کنونشن کے دستخط کنندہ۔ اس سال فروری میں اس مقدمہ کی سماعت ہوئی جہاں عدالت نے آخری فیصلے تک کلبھوشن کی پھانسی پہ عمل درآمد روک دیا تھا۔ یہ جاننا بہت اہم ہے کہ بھارت کا مقدمہ کس الزام پہ کھڑا تھا۔

الزام
بھارت کا الزام تھا کہ پاکستان اس پورے قضئیے میں ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے کیونکہ آرٹیکل 36 یہ تقاضا کرتا ہے کہ کسی دوسری ریاست کے شہری کو پکڑتے ہی فوراً  اسکی حکومت کو آگاہ کیا جائے، اسکے ملک کے قونصلر تک رسائی دی جائے، اور قونصلر اسکی قانونی نمائندگی کا انتظام کرے۔ بھارت کا الزام تھا کہ پاکستان مسلسل آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی کرتا رہا۔

ریمیڈی
بھارت نے تقاضا کیا کہ کیونکہ پاکستان نے اس مقدمہ میں آرٹیکل 36س کی خلاف ورزی کی ہے چنانچہ یہ فیصلہ دیا جائے کہ
۱- پاکستان نے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36کی خلاف ورزی کی۔
۲- فوجی عدالت کی دی گئی سزا کالعدم قرار دی جائے
۳- کلبھوشن کو رہا کیا جائے
۴۔ پاکستان کو پھانسی کی سزا پہ عمل درآمد سے فوراً  روکا جائے۔
۵- اگر کلبھوشن کو رہا کرنے کا فیصلہ نہیں دیا جاتا تو پھر پاکستان سزائے موت روکتے ہوئے، فوجی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور مقدمہ سول عدالت کے سامنے چلائے جہاں آرٹیکل 36 کے مطابق قونصلر کا تعاون اور رابطہ موجود ہو۔ مزید ازاں کلبھوشن سے لیا گیا اعترافی بیان اس مقدمہ کی کارروائی پہ اثر انداز نہ  ہو۔

بھارت کا یہ بھی اصرار تھا کہ پچھلے کچھ مقدمات میں دئیے گئے ریویو سے متعلق فیصلے اس کیس میں متعلقہ اور کارآمد نہیں ہیں کیونکہ پاکستان کی فوجی عدالت سے دئیے گئے فیصلے کے خلاف مناسب اپیل یا ریویو پاکستان کے کریمنل جسٹس سسٹم میں ممکن نہیں ہے۔

پاکستان کا جواب
پاکستان نے بھارت کے الزامات کے جواب میں اپنا جواب یا ڈیفنس عالمی عدالت میں رکھا۔ ذیل میں پاکستانی جواب جو تحریری اور دوران سماعت دلائل پہ ہے اور اسکا بھارتی جواب کچھ یوں تھا۔

1- عدالت کو سماعت کا اختیار نہیں ہے
پاکستان کا موقف تھا کہ عالمی عدالت انصاف کو اس مقدمہ کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔ مزید کہ یہ مقدمہ قابل سماعت ہی نہیں ہے۔ پاکستان کا موقف تھا کہ ویانا کنونشن کا آرٹیکل 36 جاسوسوں پہ لاگو نہیں ہوتا۔
2۔بھارت کی دلیل تھی کہ ویانا کنونشن ایسی کوئی ایکسپشن یا اشتثنی نہیں رکھتا۔
3- بھارت تصفیہ کے دیگر ذرائع استعمال کر سکتا تھا۔
4- پاکستان اور بھارت کے درمیان قونصلر رسائی معاہدہ2008موجود ہے چنانچہ ویانا کنونشن کے بجائے یہ معاملہ اس معاہدے کے تحت آئے گا۔
5۔ بھارت  کلبھوشن کی بھارتی نیشنلٹی کا ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے۔ ہندوستان نے کلبھوشن کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجا سو ان کے اپنے ہاتھ صاف نہیں۔ مزید ازاں ہندوستان نے پاکستان کی پیشکش کے باوجود کلبھوشن کے جرائم کے حوالے سے کریمنل انوسٹی گیشن میں تعاون کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

بھارت  کا کہنا تھا کہ پاکستانی وکیل کی یہ دلیل تضاد سے بھری ہے۔ اک جانب تو وہ کہتے ہیں بھارت کلبھوشن کے بھارتی شہری ہونے کا ثبوت دینے میں ناکام رہا اور دوسری جانب بھارت سے کہہ رہے ہیں کہ تم نے کلبھوشن کو بھیجا اور کریمنل انوسٹی گیشن میں تعاون کرو جبکہ الزامات غیر مصدقہ ہیں۔ مزید ازاں پاکستان اور بھارت میں کریمنل انوسٹی گیشن تعاون کا کوئی معاہدہ ہی نہیں سو بھارت کسی ایسے مطالبے کا جواب دینے کا پابند نہیں ہے۔

بھارتی و پاکستانی لیگل ٹیم
بھارت کی لیگل ٹیم بہت مختصر تھی جسے بھارتی سینئر وکیل سالوے نے لیڈ کیا۔ رپورٹس کے مطابق سالوے نے مقدمے کی فیس ایک بھارتی روپیہ لی۔
پاکستان کی لیگل ٹیم کئی وکلا، فوجی ایکسپرٹ، غیر ملکی وکلا اور غیر ملکی ایکسپرٹس پہ مشتمل تھی جسے برطانوی بیرسٹر خاور قریشی نے لیڈ کیا۔ رپورٹس کے مطابق بیرسٹر قریشی نے ایک لاکھ پاؤنڈ فیس لی۔ باقی وکلا اور ایکسپرٹس کی فیس و اخراجات کا مجھے علم نہیں ہے۔

یہ بات البتہ میرے لیے ناقابل فہم ہے کہ اس مقدمہ میں اتنی بڑی ٹیم کی کیا ضرورت تھی۔ بیرسٹر قریشی کو یقیناً   علم ہو گا کہ عالمی عدالت قانون ٹرائل کورٹ نہیں تھی اور انکے دلائل فقط ایک نکتےکہ “کیا پاکستان نے آرٹیکل36 کی خلاف ورزی کی “کے بارے میں ہونا تھے۔ نہ  تو یہاں فوجی معاونین کی ضرورت تھی اور نہ  ہی غیر ملکی ماہرین کی۔ بیرسٹر قریشی کو یقیناً  کاسٹ بجٹ کی اہمیت کا اندازہ ہو گا اور انھوں نے اپنے کلائنٹ کو ،جیسا کہ بطور بیرسٹر وہ پروفیشنلی ذمہ دار ہیں، بتایا ہو گا کہ اس لمبی چوڑی ٹیم کی ضرورت نہیں ہے تاکہ مقدمہ کے اخراجات غیر ضروری طور پہ زیادہ نہ  ہوں۔ یا کم از کم میں ان سے یہ ہی توقع رکھتا ہوں۔

عدالت کا فیصلہ اور احکامات
عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ

۱- عدالت کے سامنے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی تشریح کا معاملہ ہے جو یقیناً  عدالت کے دائرہ سماعت میں آتا ہے۔ چنانچہ پاکستان کا سماعت کے دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کیا جاتا ہے۔
۲- اس بات میں کسی قسم کا کوئی شک ہی نہیں ہے کہ کلبھوشن یادو بھارتی شہری ہے۔ چنانچہ پاکستان کا اعتراض مسترد کیا جاتا ہے۔
۳- آرٹیکل 36 قطعا ً جاسوسوں کو اشتثنیٰ نہیں دیتا اور جاسوس بھی ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت سہولیات کے حقدار ہیں۔ چنانچہ پاکستان کا اعتراض مسترد کیا جاتا ہے۔
۴۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا قونصلر رسائی معاہدہ 2008دراصل ویانا کنونشن ہی کے تحت آتا ہے چنانچہ بھارت نے مقدمہ عالمی عدالت میں درست دائر کیا۔ پاکستان کا اعتراض مسترد کیا جاتا ہے۔
۵۔ کوئی ثبوت نا تھا کہ پاکستان کلبھوشن کو فوری سزائے موت نا دے دیتا جبکہ تصفیہ کے دیگر ذرائع کافی زیادہ وقت مانگتے ہیں۔ اس لیے مقدمہ اسی عدالت میں بنتا تھا۔ چنانچہ پاکستان کا اعتراض مسترد کیا جاتا ہے۔
۶۔ شواہد و دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان نے ویانا کنونشن کے آرٹیکل36 کی مسلسل اور شدید خلاف ورزی کی۔ جبکہ پاکستان کو فوراً  بھارتی حکومت کو آگاہ کرنا چاہیے تھا، قونصلر رسائی فراہم کرنا چاہیے تھی اور کلبھوشن کی قانونی معاونت کی اجازت دینا چاہیے تھی۔ پاکستان یہ سب کرنے میں ناکام رہا اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی۔

احکامات:
عدالت نے یہ طے کرنے کے بعد کہ پاکستان نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی، مندرجہ ذیل احکامات دئیے
۱- پاکستان فورً ا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی روکے، کلبھوشن کو اس کے حقوق سے آگاہ کرے اور قونصلر رسائی فراہم کرے اور قونصلر کو کلبھوشن کی قانونی معاونت کی اجازت دے۔
۲- پاکستان اس کیس میں ہونے والے فیصلے کا ریویو کرے جو کہ موثر ریویو ہو۔
۳- پاکستان یقینی بنائے کہ یہ ریویو موثر ہو، چاہے اس کے لیے قانون سازی کرنا پڑے۔
۴۔ اس مقدمے کے آخری فیصلے تک پاکستان سزائے موت پر عمل درآمد روک دے۔

قارئین کرام، یقینا ً اب تک آپ بھی مایوس ہو چکے ہوں گے کہ یہ پاکستان کے ساتھ کیا بنی، ہم تو ہار گئے۔ مگر رکیے ذرا فیصلے کے پیراگراف ۱۳۵ سے شروع ہو کر کچھ اہم قانونی نکات کو دیکھیں۔ گزارش ہے کہ بھارتی مطالبات کو اک دفع پھر دیکھ لیجیے اور پڑھیے کہ عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ:
۱- اس عدالت کا دائرہ اختیار فقط ویانا کنونشن کی تشریح تک محدود ہے۔ (پیرا ۱۳۵)
۲- گو پاکستان نے قونصلر رسائی نہ  دے کر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی جو اسکا فرض تھا لیکن کلبھوشن کا مقدمہ یا سزا بذات خود ویانا کنونشن کی خلاف ورزی نہیں ہے (پیرا ۱۳۶)۔
۳- عدالت نے بھارت کے کلبھوشن کی رہائی کے مطالبے اتفاق نہیں کیا کہ وہ اسکے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
۴۔ عدالت نے یہ حکم دیا کہ پاکستان اپنے نظام انصاف میں اس فیصلے کا موثر ریویو کرے کہ موجودہ کیس میں یہی مناسب ریمیڈی بنتی ہے۔
۵- عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے مقدمے عبدالرشید بنام سرکار ۲۰۱۸ کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا کہ پاکستانی عدالتی نظام میں فوجی عدالت کے فیصلے کے ریویو کا اختیار موجود ہے۔ چنانچہ پاکستانی جوڈیشل سسٹم میں ہی ریوو اور ری کنسڈریشن کی مناسب ریمیڈی موجود ہے۔ عدالت نے اس پہ زور دیا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ یہ ریوی موثر ہو، آرٹیکل چھتیس کی روح کے مطابق ہو اور ایک فیئر ٹرائل کی تعریف پر پورا اترتا ہو۔

گو اس طالب علم نے جو آسان ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے وہی کافی ہے معاملے کو سمجھنے کے لیے مگر پھر بھی مختصراً  کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
اگرچہ میں بیرسٹر خاور قریشی کی محنت کا معترف ہوں لیکن اس مقدمے میں بہت سی  باتوں سے مجھے اختلاف کی جسارت کرنے کی اجازت دیجیے۔

روز اوّل سے یہ واضح تھا کہ بھارت کا مقدمہ آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی پہ کھڑا ہے اور وہ بہت آسانی سے یہ ثابت کر لے گا۔ ایسی صورت میں بھارت صاف ہاتھوں کے ساتھ نہیں آیا یا عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا اور بھارت نے کریمنل انوسٹیگیشن میں تعاون نہیں کیا ،جیسے بچگانہ آرگیومنٹس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ہمارا فقط یہ کہنا کہ ہماری تشریح کے مطابق جاسوس اس آرٹیکل میں نہیں آتے مگر عدالت اس پہ فیصلہ کر لے،اور اگر عدالت کے مطابق آتے ہیں تو ہمارے سسٹم میں موجود ریویو سسٹم کے تحت اسے ریویو کر لیا جائے گا: کافی ہوتا۔ اس سے ایک تو جگ ہنسائی کی صورت کم ہوتی اور دوسرا ہماری بونافائیڈی یا نیک نیتی ظاہر ہوتی۔ دوسرا اس مقدمہ میں غیر ضروری طور پہ ایکسپرٹس کو انوالو کیا گیا جبکہ یہ مقدمہ جس شق کی تشریح کے حوالے سے تھا وہاں ان سب کی ضرورت ہی نہ  تھی اور اگر قریشی کے کہنے پہ یہ ہوا اور قومی خزانے سے ان کو کوئی ادائیگی ہوئی ہے تو یہ قریشی کی زیادتی ہے۔ مزید ازاں، گو بات مزاح کی ہے مگر یہی کام میں قریشی صاحب سے چوتھائی قیمت میں کرا لیتا کہ سادہ کیس تھا فقط قانون کی تشریح کے حوالے سے۔ سچی بات تو یہ ہے پاکستان سے آنے والا کوئی بھی اچھا وکیل اس کیس میں یہی نتیجہ حاصل کر لیتا چنانچہ قریشی صاحب کو پاکستان کا ہیرو بنانے سے گریز ہی بہتر ہو گا۔

پاکستانی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کے  کچھ لوگ جیسے فتح کا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی غلط ہے۔ اوّل تو کلبھوشن کی رہائی وغیرہ عدالت کے اختیار سے ہی باہر تھی اور جو الزام بھارت لگا کر عالمی عدالت میں گیا تھا وہ تو آپ پر ثابت ہو گیا ہے۔ تو شادیانے کیسے؟ کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش میں ہیں کہ ریویو کا کیا ہے بس ہم کر لیں گے جیسا تیسا یہ بھی غلط تشریح ہے۔ جس پر  ذرا آگے بات کرتے ہیں۔

قارئین، اک اہم نکتہ مت بھولیے گا۔ اس کیس میں پاکستان  کے  حق میں واحد چیز پشاور ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ تھا جہاں اس نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ناکافی ثبوت کی بنیاد پر، ان فیئر ٹرائل ہوا ہے ، تو ہائی کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ فوجی عدالت کا فیصلہ ریویو کرے۔ یقیناً  فوجی حلقوں پر یہ فیصلہ اس وقت بہت گراں گزرا ہو گا اور حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی کر رکھی ہے، لیکن یہی عدالتی فیصلہ تھا جو ہمیں اس موجودہ مقدمے میں بچا گیا۔ اسی فیصلے کی بنیاد پر پاکستانی عدالتی نظام پہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عالمی عدالت نے پاکستان میں ہی ریویو کروانے کا فیصلہ دیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایسے بے باک ججز اور انکے فیصلے خواہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ  لگیں، یہ عالمی سطح پہ ہماری توقیر کا باعث بنتے ہیں۔

آگے کیا ہو گا؟
اہم سوال ہے کہ اب کیا ہو گا؟ عالمی عدالت کے فیصلے کے تحت اب کلبھوشن کو بھارتی قونصلر تک رسائی دی جائے گی۔ یہ قونصلر کلبھوشن سے ملاقات کرے گا، اسکی قانونی معاونت کا اہتمام کرے گا۔ اور یہ یقینی بنائے گا کہ کلبھوشن پہ کوئی دباو نہ  ہو۔

مزید ازاں اب پاکستانی حکومت کو فوری طور پہ کلبھوشن کے خلاف ہونے والے فیصلے کے موثر ریویو کا انتظام کرنا ہو گا۔ لفظ موثر بہت اہمیت کا حامل ہے جسے عالمی عدالت نے برتا۔ اسکا مطلب ہے کہ آرٹیکل 36 کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہ  ہو، اس ریویو کے رستے میں کوئی قانونی قباحت نہ  ہو اور یہ ہر طرح سے ایک فیئر ٹرائل ہو۔ اسکا مطلب ہے کہ ایک تو کلبھوشن کا سابقہ اعتراف جرم، اگر وہ اب اس سے مکر جائے، تو قطعا ً اسکے خلاف ثبوت نہیں ہو گا۔ دوسرا اگر وہ کہے کہ اس سے بیان زبردستی یا دباؤ  کے تحت لیا گیا تھا تو بھی یہ فیئر ٹرائل کے خلاف ہو گا۔ حکومت کو کلبھوشن کے خلاف ناقابل تردید ثبوت سامنے لانا ہوں گے جو اعتراف جرم کی غیر موجودگی میں اسکا جرم ثابت کر سکیں۔ اسکا مزید مطلب یہ بھی ہے کہ اوّل تو سپریم کورٹ میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف موجود اپیل اڑ جائے گی وگرنہ پھر حکومت کو ایسی قانون سازی کرنا پڑے گی جو فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف ریویو کو ممکن بنائے۔ یاد رہے کہ اس اب کے دوران بھارتی قونصلر اپنی جگہ پر شور شرابا  بھی کرتا رہے گا۔ دوسرا عالمی عدالت، عالمی سیاست اور میڈیا کا فوکس بھی رہے گا۔ چنانچہ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔

دوستو، ہمارے یہاں اک محاورہ ہے ٹیپ آن دی ہینڈ یعنی معمولی سرزنش کہ خیال کر بھئی جواناں۔ عالمی عدالت نے بھی یہ ٹیپ کر کے ہمیں کہا ہے کہ بندے بنو اور بھارت کو بھی کہا ہے کہ زیادہ نہ  اُچھلو۔ دراصل عالمی قانونی معاملات ایسے ہی ہوتے ہیں عالمی عدالت کسی خودمختار ملک کے خلاف کسی حد تک ہی جا سکتی ہے۔ البتہ بھارت اور پاکستان کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسے معمولی معاملات میں یوں سرعام تماشے لگانے کے بجائے اگر ہم بہتر قانونی معاہدے اور پھر ان پر عمل درآمد کر لیں تو شاید زیادہ بہتر ہو گا۔ بھارت کو تو پھر مفت وکیل مل جاتے ہیں، ہمارا تو مہنگا بھی بہت ہوتا ہے۔

پاکستانیوں کے لیے  البتہ زحمت میں رحمت یہ ہے کہ اب فوجی عدالت کی سزا کے خلاف سول عدالت یا ہائی کورٹ میں اپیل کی راہ کھل جائے گی۔ چنانچہ جو ہیومن رائٹ ایکٹیوسٹ اس معاملے میں آواز اٹھاتے رہتے تھے، انکو مبارک۔

اک بار پھر پشاور ہائی کورٹ کے اس جج کو سلام کہ جسکی وجہ سے ہم عالمی عدالت میں کسی بڑی سبکی سے بچ گئے، اس وقت پاکستان کا ہیرو وہی جج ہے۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *