تم سے میں۔۔۔۔۔۔۔روبینہ فیصل

خواب کی ایک وادی ہے
اور تم میرے بہت قریب کھڑے ہو
اتنے کہ تمھاری سانس کا لمس میری
گردن کو چھو رہا ہے
مگر تم توایک اجنبی ہو،
جسے میں نے کبھی دیکھا تک نہیں
پھر بھی تم صدیوں کے شناسا لگ رہے ہو
کیوں؟؟؟
میرا  توتم سے کوئی رشتہ نہیں
میں اس رشتے کا نام ڈھونڈنے نکلتی ہوں
میں قرآن میں تمھیں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں آیتوں میں گم ہو جاتے ہو
میں تمھیں تاریخ میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں صفحوں میں گم ہو جاتے ہو
میں تمھیں چاند میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں ستاروں میں گم ہو جاتے ہو
میں تمھیں جھیل میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں پانیوں میں گم ہو جاتے ہو
میں تمھیں آسمانوں میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں بادلوں میں گم ہو جاتے ہو
میں تمھیں گلابوں میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں کانٹوں میں گم ہو جاتے ہو
میں تمھیں اپنے قریب ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں فاصلوں میں گم ہو جاتے ہو
میں تمھیں رومانوی داستان میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں حقیقتوں میں گم  ہو جاتے ہو
میں تمھیں خواب میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں سرابوں میں گم ہو جاتے ہو
میں تمھیں اپنے من میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں میری سوچوں میں گم ہو جاتے ہو
آخر کار تھک ہار کر
میں تمھیں اپنی روح میں ڈھونڈتی ہوں
تم کہیں اس کے ویرانوں میں گم ہو جاتے ہو
اور ایسا گم ہو تے ہو کہ
میں تمھاری ڈھونڈ چھوڑ کر
اپنی ڈھونڈ کے لیے نکل کھڑی ہو تی ہوں۔۔۔۔۔۔۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تم سے میں۔۔۔۔۔۔۔روبینہ فیصل

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *