سیرِِ ِاسرائیل بمع عزرائیل۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر

جانا ہمارا تل ابیب ساحل پر بمع خرقہ بدوش بی بی عالمہ سیاہ پوش کے۔۔
ہماری سیاہ بختی کہ اس جنت  بے نظیر، بے خطیر، بنا کتر و پیرہن کیثر میں جاتے ہی بیگم صاحبہ کے رونگٹے اور ہمارے ناگفتہ ناگ پھنی ننھے کھڑے ہو گئے۔
ہماری نیک بی بی نے ہماری پیاسی آنکھوں پر اوّل کَس کے کالے دوپٹے کی پٹی باندھ دی، دوئم درشن کی  لوبھی نیناں اور دیگر مکروہات و گرم جذبات پر اپنے سرد ہاتھ بطور مرہم بھی رکھ دیے۔
ادھر صبح کا سہانا  شام ماں ڈھلا، آفتاب عالمتاب بصد جلال بمہ آتشی گلال جلوہ کناں ہو کر آگ کے پھول برسانے لگا۔ ایک نادرِ روزگار عالم بمع بالم۔۔۔

نگارِ شوخ و شنگ، رشک ِپری، چھپن چھری، رخان فرنگ سیم تن، خوش رنگ و ننگ، بلوریں ذقن، سیمیں بدن، غنچہ دہن، رشک ِچمن ساحل مراد و دلِ ناشاد پر سایہ فگن ہوا۔
بیگم ہمیں اپنی دعاؤں اور نیلی چھتری کے سائے تلے بٹھا کر ہم سے مطمئن ہو کر شاپنگ کو سدھاریں۔

مصنف :ناصر خان ناصر

ایک پری رو، شہرزاد، مدر پدر آزاد، قطامہ گل بداماں نے ایسی رخت عریانی پھاڑتی من موہنی، میٹھی سوہنی آواز میں استفسار فرمایا کہ جسے بند کانوں اور بندھی چندھی  آنکھوں سے دیکھ سن کر ہی دل کی کلی اور روح کی کھڑکی کھل سکتی تھی۔
رحمت حق بہانہ می جوید۔۔۔یہ ہم نہ گوید، ہمارا خدا گوید۔۔۔۔
درویش صفت باش، کلاہ تتری دار۔۔۔

اس زہرہ تمثال، پری جمال، مشتری خصال، گلابی گال اچھکا چھنال نے دوبارہ  ہماری تصویر بطور عبرت و زیارت کھینچنے کے لیے پوچھا تو ہماری حالت بطور شخصے۔۔۔دروازے پر آئی  برات، سمدہن کو لگی ہگاس۔۔۔۔ کی سی تھی۔

بیگم صاحبہ گھڑی بھر کو ٹلی تھیں۔ دائیں کندھے کا نیکیاں تحریر کرنے والا فرشتہ خود متحیر تھا، اپنی سٹی اور قلم گُم کیے کھویا کھویا بیٹھا ہر طرف کے نظارے تکنے میں مگن تھا۔ دوسرے کندھے والا بھی بنا پیے  مدہوش لڑھک رہا تھا۔
ہم نے اس نورِ عالم افروز، حسن فرد سوز، نگینہ حسینہ، بے تمکینہ بنا پشمینہ سے کمینہ بن کر کہا:
اے غنچہ بدن، شیریں دہن،

غارت گر ایمان، درشنی ہنڈی، مشکِ کستوری، امڈتی خوشبو، توبۃ النصوح۔۔
اس سے قبل کہ روح قبض کرنے والی فرشتہ اجل و اٹل نازل ہو، فٹا فٹ چوری چوری دو چار تصویریں بطور یادگیری، دل پشوری و سینہ زوری ترنت کھینچ دے کہ بعد میں انھیں دیکھ کر دلِ صد پارہ و آوارہ کا ایمان تازہ ہو، دل و دماغ روشن ہوں۔۔۔
ہاں!
مجھ درم خریدے، ندیدے خستہ حال، نڈھال، بے کسب و کمال، پچکے گال، بنا بال غلام کی درماندگی پر ہرگز مت جائیو۔۔۔
کبھی ہم بھی خوبصورت تھے۔۔۔

اس سے قبل کہ قضائے فلک سے حیہ حیات، قاضی القضات، مناجات پڑھتا، قلابے بھرتا، قلانچیں مارتا، قلبِ مُضطر کا کلیان کرنے، قلیہ تمام کرنے، کلہ اور قلعہ اکھاڑنے، لاتیں مارنے، حالات و بات بگاڑنے آ جاوے۔۔۔۔
یہ لے ہمارا فون اور اپنی سیلفی بمہ ایڈریس و فون نمبر اور دو چار جنتی نظارے بارے ہمارے کیمرے میں محفوظ کر دے تو حج کا ثواب ترنت نظر کروں۔۔۔
اس نیک بی بی کی کھینچی تصویریں اور دو سطریں حال ِ دل پیشِ دوستاں ہیں تاکہ سند رہے اور بہ وقت کدورت کام آویں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *