بھَگتُو کا قرض۔۔ادریس آزاد

بھَگتُو ملاح جب بھی جیل سے آتا واپس دھندے میں جُت جاتا۔ وہ ایک مشہور پیشہ ور چور تھا ۔ چونکہ پرانے زمانے میں ہرشئے میں روایات اور اقدار کا خیال رکھا جاتا تھا اس لیے سب لوگ بھَگتُو کی ایک خاص انداز میں عزت کرتے تھے۔ اسی عزت کا نتیجہ تھا کہ وہ جب بوڑھا ہوگیا تو دس پندرہ سال تک اہل علاقہ نے اُسے پرانے چوک میں چوکیدار مقرر کردیا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ چونکہ وہ چوری، نقب لگانے، دیواروں پر چڑھنے اور چھتیں پھلانگنے کا ماہر ہے اور چوروں کی ہرادا اور ہرطریقے سے واقف ہے اس لیے وہی چوکیدار بننے کا بھی سب سے زیادہ اہل ہے۔

بلکہ بھَگتُو کو سب سے پہلے چوکیدار میرے اباجی نے ہی بنایا تھا۔ کئی سال تک وہ ہمارے گھر اور مال ڈنگر کا چوکیدارہ کرتا رہا۔ اور پھر کہیں اہل علاقہ نے اسے پرانے چوک میں بڑے عہدے پر منتقل کردیا۔ بھگتُو جب چوکیدار بن گیا اور پرانا ہوگیا تو اس کا ٹائم ٹیبل یہ ہوتا کہ عشأ کی نماز کے بعد وہ چوک میں آجاتا اور اپنے مخصوص بنچ پر براجمان ہوجاتا۔ ہم اس وقت لڑکے تھے۔ میں تب پان بہت چبایا کرتا تھا۔ میں پیلی پتی والا پان منہ میں رکھ، بھگتُو کے بنچ پر اس کے ساتھ جابیٹھتا تھا۔ بھگتو نے تقریباً ہر اُس چوری کی واردات مجھے سنائی جو اس نے اپنی زندگی میں کی تھی اور اسے یاد رہ گئی تھی۔ کئی مرتبہ وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر لے جاتا اور پھر اپنے سر پر آپ کا ہاتھ پھِرواتے ہوئے کہتا،

’’یہ دیکھو! پولیس کے ڈنڈے کھا کھا کر میرا سر کیسا ہوگیا ہے؟‘‘

بھگتُو کا سر واقعی بہت عجیب و غریب تھا۔ جیسے ساحل کی ریت پر کوئی بڑی لہر اپنے نشان چھوڑ جائے۔ بھَگتُو چوروں کے قواعد ، رسم و رواج اور اقداروروایات کے بہت واقعات سناتا تھا۔ اس کے نزدیک بڑا چور یعنی بڑی شان والا چور وہ تھا جو پولیس کے مارنے پر چوری نہ مانے۔ وہ سینہ تان کر اکثر اس طرح کے واقعات سناتا،

’’ایک مرتبہ تھانیدار نے مجھے کہا، بھگتُو سچ سچ بتاؤ! فُلاں چوری تم نے کی؟ تو میں نے تھانیدار سے کہا، صاحب جی! ایک گلاس پانی تو پلا دیں پہلے۔ تھانیدار نے اسی وقت ایک پولیس والے کو حکم دیا اور پولیس والا میرے لیے پانی لے آیا۔ میں نے پانی پیا۔ گلاس خالی کرکے پولیس والے کو تھمایا اور تھانیدار سے کہا، ’صاحب جی! ابھی یہ جو پانی میں نے پیا ہے۔ آپ پہلے مجھ سے یہ منوائیں کہ میں نے پیا ہے۔ تب میں چوری بھی مان لونگا۔ یہ بات سن کر تو تھانیدار کو اور زیادہ غصہ آگیا۔ اس نے میری خوب دھلائی کی لیکن پھر دوبارہ چوری کا سوال نہ کیا بلکہ آخر تک یہی پوچھتا رہا کہ ’بھگتُو! تم نے ابھی پانی پیا کہ نہیں؟‘‘

بھگتُو کے پاس کہانیاں ہی کہانیاں تھی۔ سب اسکی اپنی زندگی کے واقعات تھے۔ چوریوں کی وارداتیں، ڈنگر(جانور) کھولنا۔ رات کی تاریکی میں جسم پر تیل مل کر صرف ایک جانگیہ پہن، اونچی اونچی چھتوں پر پھدکتے چلے جانا۔ چھت سے چھلانگ لگانا تو زمین پر یوں آکر کھڑے ہوجانا جیسے بھگتُو گِر نہیں بلکہ اُڑ رہا تھا۔ ایک بار بھگتُو نے مجھے بتایا کہ،

’’کسی زمانے میں ہم پیشہ ور چوروں کے درمیان مقابلے ہوا کرتے تھے۔ ہم پھولوں کی ایک تھالی ہاتھوں میں تھام کر چھت سے چھلانگ لگاتے اور جس کی جتنی کم پتیاں اُڑ کر زمین پر گرتیں وہ اتنا زیادہ جیت جاتا‘‘

بھگتو کے بڑھاپے کے زمانے میں ہمارے شہر میں ایک اور پیشہ ور چور ’’اَچھُو کالیا‘‘ خاصا مشہور ہوچکا تھا ۔ لیکن وہ جوانی میں ہی چل بسا ۔ ایک روز کسی چھت سےایسا گرا کہ سیدھا نہ کھڑا ہوسکا اور اس کا منکا ٹوٹ گیا۔

بھگتو کی شادی جوانی میں تو نہ ہوسکی لیکن جب اس نے چوریاں چھوڑ دیں اور اباجی کی مُریدی میں آگیا تو اباجی کے بعض دوستوں کی کوششوں سے ہم نے کسی گاؤں میں اس کی شادی کروادی۔ وہ بیوی سے اتنا پیار کرتا تھا۔ اتنا پیار کرتا تھا کہ جب اس کی بیوی کو بھگتُو کی بجائے چودھری خالد سے پیار ہوگیا تو بھگتُو نے بیوی سے ناراضی کا اظہار کرنے کی بجائے اسے چودھری خالد سے ملنے دیا۔ وہ کہتا تھا ’’میری رانی کو خوش رہنا چاہیے۔ وہ خوش ہے تو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے‘‘

ایک مرتبہ بھگتو کی بیوی غائب ہوگئی۔ لیکن تین دن کے اندر اندر اس نے ڈھونڈ نکالی۔ اور جب میری بھگتو سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ بیوی کو ڈھونڈنے کے لیے اس نے تیس چالیس مکانوں کی سیر کی ہے ۔ یعنی رات کو جب لوگ سورہے تھے تو وہ لوگوں کے گھروں میں اترا اور اس نے ایک ایک بستر پر لیٹے ، ایک ایک فرد کے چہرے سے کمبل ہٹا ہٹا کر دیکھا کہ کہیں اس کی بیوی تو نہیں سورہی؟ اور بالآخر اس نے اپنی محبوب بیوی کو ڈھونڈ ہی لیا۔ اس کے بعد بھگتُو خوشاب چھوڑ کر چلا گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔ مجھے آج تک معلوم نہیں کہ وہ کب فوت ہوا ہوگا۔ یا ابھی بھی زندہ ہو تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن اگر وہ اب زندہ ہوا تو اس کی عمر ضرور نوّے سال سے اوپر ہوگی۔اا

بھگتُو، قوم کا ملاح تھا چنانچہ ایک اور فن جو اس کی گھُٹی میں تھا اور اُسے چوری سے بھی زیادہ آتا تھا ، وہ تھا دریا میں تیرنا۔ مچھلیاں پکڑنا۔ ڈوبنے والوں کی لاشیں ڈھونڈ کر دینے کا کام وہ ہمیشہ مفت کیا کرتا تھا۔ موسم جتنا بھی سرد ہوتا بھگتُو کا کہنا تھا کہ جسم پر تیل مل کر اور بہت سا گُڑ کھا کر دریا میں چھلانگ لگا دو۔ بالکل بھی ٹھنڈ نہیں لگے گی۔ ایک مرتبہ بھگتونے مجھے مچھلی پکانے کا ایک عجب طریقہ بتایا۔ میں نے آج تک اس طریقے پر مچھلی پکائی تو نہیں لیکن سوچتا ہوں کہ جب کبھی کوئی بھی اس طریقے پر مچھلی پکائے گا تو وہ مچھلی ہوگی بے حد لذیذ ۔ بھگتو نے بتایا کہ اگر کبھی دریا پر آپ اکیلے ہوں اور کچھ پکانے کے لیے آپ کے پاس کوئی سامان بھی نہ ہو تو آپ ایک مچھلی پکڑیں۔ مچھلی کا پیٹ صاف کرکے، اس پر چکنی دریائی مٹی کا موٹا موٹا لیپ کردیں۔ پھر عام گھاس پھونس اور چھوٹی موٹی لکڑیوں سے آگ کا چھوٹا سا الاؤ جلائیں اور مچھلی اس میں پھینک دیں۔ پھر دیکھیں کہ جب مچھلی پر لگی مٹی پک جائے جیسے کمہاروں کے گھڑے پک جاتے ہیں تو مچھلی آگ سے نکال لیں اور اسے درمیان سے اس طرح چیریں کہ مچھلی کسی سِیپ کے دو ٹکڑوں کی طرح دولخت ہوجائے۔ اور یوں آپ کے ہاتھ میں پکی ہوئی مٹی کی گویا دو پلیٹیں آجائیں گی جن میں پکی پکائی مچھلی دھری ہوگی۔

بھگتو کی کہانیوں میں چوریوں، مچھلیوں اور پولیس کے علاوہ جیلوں کی داستانیں بھی ہوتی تھیں۔ اس نے اپنی عمر کا زیادہ تر حصہ جیل میں کاٹا تھا۔ وہ اتنی بار جیل گیا تھا کہ آخر جیل میں موجود تمام پرانے قیدیوں اور سٹاف کی اس کے ساتھ دوستی ہوگئی تھی۔ بھگتو کو وہ جیل سے باہر کچھ خریدنے کے لیے بھی بھیج دیتے تھے ۔ وہ چپ چاپ جاتا۔ سبزی، دال، جیلر کے لیے سگریٹ خریدتا اور پھرواپس آجاتا۔ جب جب وہ جیل میں ہوتا تو ہمیشہ کُک بھگتُو ہی ہوا کرتاتھا۔ جیل نے اسے اتنا اچھا کُک بنا دیا تھا کہ جس زمانے میں اباجی نے اسے بطور چوکیدار رکھا ہوا تھا۔ بھگتو ہمارا کُک بھی رہا۔ بھگتو نے گھر کے باہر تَنُور (تندوری) لگا رکھی تھی۔ تندوری لگا رکھی سے مُراد مٹی کا تنور بنا رکھا تھا۔ اور وہ تندوری کے چبوترے پر چڑھ کر بیٹھ جاتا۔ ساتھ کے ساتھ مذاق کیے جاتا، کہاںیاں سنائے جاتا اور ساتھ کے ساتھ روٹیاں تھپتھپاتا جاتا۔

بھگتو گاتا بھی بہت اچھا تھا۔ اگرچہ اس کا گَلہ دیہاتی قسم کا بلند تھا لیکن پھر بھی اس کے سُر نہ ٹوٹتے تھے۔ ایک گانا جو بھگتو اکثر سنایا کرتا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے اور میں کبھی کبھی گنگناتا بھی ہوں۔ اگرچہ یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ گانا کسی پنجابی فلم کا ہے یا بھگتو اور اس کے دوستوں نے خود بنا رکھا تھا۔ ممکن ہے آج فیس بک کی اس پوسٹ کے بعد کوئی پنجابی فلموں کا شوقین دوست اس راز سے پردہ اُٹھا سکے،

بھگتو یہ گانا سنایا کرتا اور اکثر رو پڑتا،

اَسّی آں لفنگے تے تلنگے موچی وال دے
جیلاں دے عادی اَسّی شوقیں آں دال دے
اسی آں لفنگے تے تلنگے موچی وال دے

لُٹے سہاگ اَسّی ، لُٹی پھلجھڑیاں
کئی واری جیل ویکھی پایاں ہتھ کڑیاں
نئیں ہوندے چور جانی! اَجکل ساڈے نال دے
اسی آں لفنگے تے تلنگے موچی وال دے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *