گھر کو لٹاتا نہ میں۔۔۔۔سلمٰی اعوان

کیاکروں ۔ساغر صدیقی اور اس کی اس مصرعے کی حامل یہ شہرہ آفاق غزل بہت شدت سے یاد آئی ہے کہ گزشتہ رات جو کچھ اور جس صورت میں دیکھا ہے۔ اس کی اِن اشعار سے بہتر ترجمانی ہوہی نہیں سکتی۔

ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی انداز وفا یاد نہیں
پاکستانی ٹیم کی جنوبی افریقہ کے خلاف فتح کے ردّعمل کے طور پر کسی انڈین چینل کے اینکر پرسن اور اس کے ہمراہ کچھ دیگر انڈین کا ایک افغان نوجوان کے ساتھ گفتگو کا منظر نظروں کے سامنے تھا۔ گفتگو کا آغاز افغانستان اور انڈیا کے درمیان میچ کے حوالے سے ہوا۔تھوڑی لگاوٹ ،کچھ محبت بھرے جذبات کا انڈین لوگوں اور اینکر کی طرف سے اظہار تھا۔افغان نوجوان نے بھی جواباً بڑے دلدار ی بھرے لہجے میں کہا۔
انڈیا افغانستان بھائی بھائی ۔کچھ فرق نہیں ۔انڈیا جیتے یا افغانستان ہمارا تو ٹارگٹ پاکستان۔وہاں موجود لوگوں کی تو اِس جملے سے باچھیں کھل گئیں۔بھرپور لُطف اٹھاتے ہوئے ایک نے وضاحت کی کہ افغان نوجوان کا مقصد ہے کہ انڈیا کو افغانستان کے ساتھ کِسی بارے بھی متفکر ہونے کی قطعی ضرورت نہیں۔ہم جیتیں یا انڈیاکوئی مسئلہ ہی نہیں۔ایک ہی بات ہے۔ ہم تو بھائی بھائی ہیں۔ نشانہ تو پاکستان ہے۔آپ کا بھی اور ہمارا بھی۔
اینکر کی کمینگی بھی اپنی انتہاﺅں پر پہنچی ہوئی تھی۔ صدقے واری ہوتے ہوئے اسی کا جملہ دہراتا ہے۔آپ نے کہا ہے انڈیا افغانستان بھائی بھائی۔آگے کیا کہا تھا آپ نے۔ دہرائیے  نا ذرا۔جیسے چسکے لینا چاہ رہا تھا۔ آٹھ دس دائرے میں کھڑے لوگ اِس صورت سے محظوظ ہورہے تھے۔ افغانی بھی ترنگ میں تھا۔
پاکستان کو نشانہ بنانا ہے۔قہقہے فضا میں بکھرتے ہیں۔ہاں تو بھئی تالیاں ہوجائیں ناجو ان کے لیے اور سارے بھارتی اپنے افغانی بھائی کے لیے زور و شور سے تالیاں پیٹتے ہیں۔ اب ایسے میں کلیجے پر چاقو چھریاں نہ چلتیں تو اور کیا ہوتا۔ چار دہائیاں ہوگئی ہیں اس کوہستانی مسلمان برادر ملک کے نخرے اٹھاتے۔ اس کی لڑائی کو اپنے ویہڑے ڈال کر اپنا آپ لہولہان کرتے ۔کہاں ہیں ہمارے وہ نام نہاد لیڈر جن کے نزدیک اس جنگ میں کودنا بے حد ضروری تھا کہ جن کے خیال میں ہماری سٹریٹیجک ڈپٹتھ(Strategic Depth)کے تقاضے افغانستان سے جڑے ہوئے تھے۔جنہیں نظرانداز کرنا اُن کے خیال میں سنگین غلطی تھی۔
یادہے مجھے اسّی کی دہائی کے وسط میں میرے ملک کے بڑے بڑے دائیں بازو کے کالم نگاروں کو مجاہدین کے سوویت یونین کی فوجوں پر برسائے جانے والے راکٹوں کی پھلجڑیوں میں اسلام کی نشاة ثانیہ کے احیاءکے خواب نظر آتے تھے۔ میرے جیسی جذباتی عورت کو خوشی میں چپکے چپکے اپنے آنسو بہانا اور فرط محبت سے انہیں پونچھنا سب یاد ہیں۔بربادیوں کی داستان کا تو پتہ ہی نہ تھاکہ ملک نے خون خون ہوجانا ہے اور سنبھلنے میں جانے کتنا وقت لینا ہے۔
بدقسمتی تو ہماری زوال پذیری کی آپ ان کے جس مرضی لیڈر کی باتیں سن لیں۔حکمت یار کہیں بھائی چارے کی بات کرتے ہیں تو اُن کا مدرسہ فکر اکثریت سے قطعی مختلف ہے۔سچی بات ہے افغان سوویت وار میں وار لارڈز کیسے ایک ایک ڈالر کی کمی بیشی کے لیے لڑتے مرتے تھے۔خیر یہ الزام تراشیاں تو نجی سطح کی ہیں۔ملکی سطح کی یا بین الاقوامی معاملات کی ایک معمول کا حصّہ ہیں۔مگر بات ہے کہ جب آپ کا ہمسایہ آپ کے کڑے وقت پر آپ کے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے تو کچھ فرض آپ کا بھی تو ہے تھوڑی سی نمک حلالی کرنا آپ کا حق تو بنتا ہے نا۔یہاں تو حال یہ ہے کہ ماضی کے حامد کرزئی ہوں یا حال افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو اسد اللہ خان ہوں۔دل کے خود ساختہ پھپھولے پھوڑنے سے باز نہیں آتے ۔ابھی اسد اللہ خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے افغانستان کی ٹیم پاکستان سے بہت بہتر ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کرکٹ کو بہتر بنانے کے لیے افغانستان سے مددلے۔ہم اُن سے تکنیکی اور کوچنگ کے اعتبار سے بدرجہا بہتر ہیں۔
اب بندہ اِس کے لیے کیا کہے۔چلو اگراِس وقت پاکستان ابتر حالات میں سے گزر رہا ہے تو زخموں پر نمک پاشی ہی مت کرو۔اِن کا تو وہ حال ہے ماضی میں کھاتے بھی تھے ،غراتے بھی اور محاورے کی زبان میں سینے پر مونگ بھی دلتے تھے۔ خدا خدا کرکے تین سال پہلے کم و بیش اڑتیس لاکھ افغانیوں کو اُن کے ملک واپس بھیجا گیا ہے۔
ان میں سے بہت سارے تو پیدا اور پلے بڑھے بھی یہیں اور ابھی بھی 1.3ملین تصدیق شدہ افغانی یہاں رہ رہے ہیں ا ور غیر تصدیق شدہ بھی بے شمار ہیں۔ حال پھر بھی وہ ہے کہ نفرت کا کوئی موقع ہاتھ سے جائے کیوں؟
ابھی سی پیک کے اردگرد پانچ کلومیٹر تک کے علاقے میں اِن کے چھوٹے بڑے کیمپوں کو خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ہری پور کے کلر سیداں یا خاکی کیمپ میں چلے جائیں یا ملک چھوڑ جائیں۔
میرے تو ذاتی تجربات بھی افغانیوں سے متعلق بہت تلخ ہیں۔ ذرا اُن کی ایک جھلک بھی دیکھ لیں۔ماسکو سے پٹیرز برگ جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر آئی تو خدوخال اور حلیے سے دو اپنے جیسے لوگ ویٹنگ لاﺅنج کے کونے میں بیٹھے نظر آئے۔پاس بھاگی۔ دونوں افغانی، دونوں پشاور اور نوشہرہ میں سیٹل پر دونوں اُردو بولنے سے گریزاں۔ایک قدرے کم اور دوسرا زیادہ۔ ایک تو پورا زہری جان پڑتا تھا۔ زہریلی سُنڈی جیسا، دو اُنگلی کے چوڑے متّھے پر ستّر بل پڑتے تھے۔ آنکھ اُٹھا کر ایک بار دیکھنے کا چور ضرور ہوا تھا۔دوسری بار زحمت نہیں کی تھی۔درخواست توبس اتنی سی کی کہ ٹکٹ دیکھ کر پلیٹ فارم کی طرف گائیڈ کردیں۔ سُن وٹے جیسی خاموشی تھی۔
پر میں کونسا کم تھی۔ پوری پکّی چنڈال۔ چھُوٹتے ہی کہا۔
” تم پاکستان میں رہتے ہو۔ اس کی پناہ میں ہو۔ کاروبار کرتے ہو۔رزق روٹی تمہیں میّسر ہے ۔تو اتنی نفرت کیوں کلیجوں میں ٹھونسے بیٹھے ہو۔ ارے چلچلاتی دھوپ میں چلنے والا ایک مسافر بھی راستے کے اُس درخت جسکی فرحت بخش چھاﺅں میں وہ کچھ دیر کے لیے سستانے بیٹھتا ہے دعائے خیرمانگ لیتا ہے۔ تم لوگوں نے تو لُٹیا ہی ڈبو دی ہے۔ بالکل ہی گئے گزرے ہو۔“
کھانے کا پٹارہ کھولے بیٹھے تھے۔دوُدھ کی بوتلیں پاس دھری تھیں۔کمبختوں نےپھوٹے منہ صلح تو کیا کرنی تھی بیٹھنے تک تو نہیں کہا۔
مجھے بھی آگ سی لگی تھی۔
”دیکھو تو جس تھالی میں کھاتے ہیں اُسی میں چھید کرتے ہیں۔ہمارا تو وہ حال ہے کھروں کھر گوایا باروں پڑ وا کہو آیا واں (یعنی اپنا گھر بھی گنوایا اور باہر سے طعنے بھی سُنے) ۔ پناہ دی۔ انکی لڑائی لڑی۔ اُوپرسے اپنے ملک کے لوگوں کو دس علّتوں میں جھونک کر لڑائی کوبھی اپنے ویہڑے میں ڈال لیا۔پورا ملک آگ اور خون میں نہا رہا ہے اور ان کا طنطنہ دیکھو۔“
ڈٹ کر سنائیں۔ واپس آکر اپنی جگہ بیٹھی پر کھولن ابھی بھی کم نہ ہوئی تھی۔
سارک لٹریچرفیسٹیول دلّی میں افغانستان کا مندوب پرتاونادری جو درازقد خوبصورت نوجوان تھا۔بنگلہ دیش کی روینا حق بیس اکیس سال کی دھان پان سی اور مالدیپ کا ابراھیم وحید زیادہ چھائے ہوئے نظرآئے۔ البتہ محبت اور پیار کی بانٹ کا جو اظہار و اہتمام افغانیوں کے ساتھ ہورہا تھا اور جس طرح انتظامیہ کے اہم لوگ انکے آگے پیچھے پھرتے تھے۔وہ ہم سے پوشیدہ نہ تھا۔ ہم پاکستانیوں کے ساتھ افغانی عورتوں اور مردوں کی بس سلام دعا تک ہی بات چیت محدود تھی۔
میڈرڈ میں بھی جلال آباد کے ایک خاندان نے مجھے پاکستانی جان کر منہ نہ لگایا۔
افغان پاکستان سلسلے میں میرا دل تو اکثر ہی یہ گنگنانے کو کرتا ہے۔
یہ جانتا اگر تو گھر کو لٹاتا نہ میں۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *