اگلے جنم موہے مرد نہ کیجو۔۔۔۔گل نوخیز اختر

’اینٹی مردانہ مارچ ‘ میں کوئی ایسا بینر نظر نہیں آیا جس پر باپ، بھائی یا بیٹے کے خلاف کوئی جملہ لکھا ہو۔ثابت ہوا کہ نشانہ سراسر شوہر تھے۔ میری ایک جاننے والی خاتون بھی نظر آئیں جو طلاق کے بعد ملنے والی آزادی پر خوشی سے نہال نظر آرہی تھیں۔ تاہم شائد انہیں کسی نے بتایا نہیں کہ اُن کے شوہرصاحب اس سے کہیں زیادہ مسرت میں مبتلا ہیں۔خواتین کا مارچ دیکھ کر اندازہوا کہ اصل میں ساری ذمہ داریاں مرد کی ہوتی ہیں، خواتین صرف اپنی زندگی انجوائے کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں۔یہ تو پتا چل گیا کہ کھانا گرم کرنے سے لے کر دیگر’اشیائے ضروریہ‘ تک خواتین کو بالکل بھی تنگ نہیں کرنا چاہیے تاہم پورے مارچ میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اس ضمن میں شوہروں کو بھی کوئی مراعات حاصل ہیں یا نہیں۔وہ کھانا جو بیوی گرم نہیں کرنا چاہتی اسے لانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟وہ گھر جس میں بیوی رہائش پذیر ہے اسے بنانے کا مدعا کس کے سر ہے؟ شوہروں کے خلاف اس مہم میں کسی بی بی نے یہ نہیں کہاکہ میری ماں کا شوہر بہت برا ہے۔کسی نے یہ پلے کارڈ نہیں اٹھایا کہ ’میری بھابی بہت اچھی جبکہ میرا بھائی بہت خرانٹ ہے‘۔ کسی طرف سے یہ سننے کو نہیں ملا کہ ’میری بہو معصوم ہے اور سارا قصور میرے بیٹے کا ہوتاہے‘۔ ساری بات شوہروں کے گرد ہی گھومتی رہی گویا مرد سے مراد صرف شوہر ہے۔ایک ڈیمانڈ یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ ’میرے کپڑے میری مرضی‘۔ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن کیا یہ حق مردوں کا بھی ہے؟آپ سکرٹ پہن کر آفس آنا چاہتی ہیں تو کیا مرد بھی شارٹس پہن کر آسکتے ہیں؟آپ ہاف سلیو پہن سکتی ہیں تو کیا مرد بھی بنیان میں ملبوس کسی شادی میں شرکت کرسکتے ہیں؟ مردوں سے نفرت کی یہ ریلی مجھے بہت دلچسپ لگی۔ ان میں سے اکثر خواتین شائد کبھی بھی یہ حق اپنی اولاد کو نہ دیں۔ ان کے بیٹے جب بھی پسند کی شادی کرنا چاہتے ہیں یہ ’خاندان‘کا واویلا مچا دیتی ہیں۔ ان کی بیٹیاں کسی عام لڑکے کو پسند کرلیں تو یہ آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔ لیکن ریلی میں ان کی ڈیمانڈ تھی کہ اِنہیں آزادی دی جائے۔گویا خود یہ اپنی اولاد کو غلامی میں رکھنا چاہتی ہیں لیکن اپنے لیے آزادی مانگتی ہیں۔طلاق لینے پر دل و جان سے خوش نظر آنے والی خواتین ہوسکتا ہے واقعی بہت دکھی ہوں اور طلاق کے بعد کسی وحشی انسان سے ان کی جان چھوٹ گئی ہو لیکن کیا ایسا مردوں کے ساتھ نہیں ہوتا؟ یہ کیوں فرض کرلیا گیا ہے کہ آزادی صرف مردوں کو ہی حاصل ہے۔ مردوں کی آزادی صرف اسی حد تک ہے کہ وہ رات کو اکیلے کہیں آجاسکتے ہیں، دوستوں یاروں میں دیر تک گپ لگا سکتے ہیں یا دوسری شادی کر سکتے ہیں۔ اس آزادی کا خمیازہ کیا ہے یہ شائد خواتین کو نہیں معلوم۔مہینے کے آخر میں جب بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں تو اِنہیں ادا کرنے کے لیے عورت کاپرس نہیں مرد کا بٹوہ درکار ہوتاہے۔آپ شوہر کے لیے تو کھانا نہیں گرم کر سکتیں لیکن یہی انکار آپ کی بہو آپ کے بیٹے کے لیے کرے تو آپ کو لگ پتا جائے۔ خواتین اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی داستانیں بڑے شوق سے سناتی ہیں، لیکن دوسری طرف کی بات کوئی نہیں سنتا۔یہ ٹھیک ہے کہ عورت بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں لیکن کیا آپ نے کسی مرد کے منہ سے بھی یہ سنا کہ میں گھر کا خرچہ چلانے کی مشین نہیں؟ ہر کسی کے اپنے اپنے فرائض ہیں، اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ جب طے کرلیا جائے کہ مجھے ہر ذمہ داری سے آزادی ملنی چاہیے تو پھر دوسرے کو بھی اس آزادی کا لطف اٹھانے کا موقع دیجئے۔ سب سے پہلے تو اس سوچ سے چھٹکارا پائیے کہ شوہر جب صبح آفس جاتاہے تو وہ اصل میں زندگی انجوائے کرکے واپس آتا ہے اور آپ گھر میں پڑی رہتی ہیں۔ میں نے پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ آپ کو ایک شوہرکو خوش رکھنا ہوتاہے جبکہ مرد باہر بیس شوہروں کو خوش کرکے آتا ہے تاکہ اس کے بیوی بچے سکون کی زندگی گذار سکیں۔جو مرد آپ کے سامنے بڑا مضبوط نظر آنے کی ایکٹنگ کرتاہے ذرا اس کے دفتر یا کام کی جگہ پر جاکر دیکھیں کہ وہ اپنی فیملی کے لیے کیسے کیسے لوگوں کی زہریلی باتیں صرف اس لیے برداشت کرتا ہے تاکہ روٹی روزی کا سلسلہ برقرار رکھ سکے۔حالیہ مارچ کو دیکھ کر یوں لگا جیسے عورت کو مرد کی بالکل بھی ضرورت نہیں یا وہ مرد سے بیزار ہوچکی ہے۔یہ تجربہ بظاہر سننے میں تو بڑا اچھا لگتاہے لیکن جس طرح مرد کی زندگی سے عورت کو نہیں نکالا جاسکتا ، عورت بھی مرد کے بغیر ادھوری ہے۔ آزادی مارچ کی بجائے اس کا نام حقوق مارچ ہوتا تو زیادہ اچھا لگتا۔یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں اکثر خواتین کو جائیداد میں سے ان کا حصہ نہیں دیا جاتا لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ اکثر بیوی خود تو اپنے سسر کی جائیداد کی تقسیم کی حامی ہوتی ہے لیکن اپنے باپ کی جائیداد پر کسی بھابی کو بولنے کی اجازت نہیں دیتی۔سچی بات ہے کہ عورت کو مرد سے آزادی کی بجائے عورت سے آزادی کے لیے مارچ کرنا چاہیے۔ ساس سے آزادی، نند سے آزادی، جیٹھانی سے آزادی وغیرہ۔مارچ میں شامل خواتین اس بات پر متفق نظر آرہی تھیں کہ تمام برائیوں کی جڑ مرد ہے لہذا اس کو جڑ سے ہی ختم کردینا چاہیے۔ میری ایک خاتون سے بات ہوئی، پوچھا کہ بہن جی !آپ کی اگر طلاق ہوچکی ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہوگیا کہ تمام شوہر برے ہوتے ہیں؟ اطمینان سے چیونگم چباتے ہوئے بولیں’میں نے کب کہا کہ میرے شوہر برے تھے، وہ تو بہت اچھے تھے، اسی لیے تو طلاق لے لی‘۔
مردوں کے متعلق خواتین کو یہ یقین ہوتاہے کہ یہ غیر عورتوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ حالانکہ ریاضی کے مسئلہ اثباتی کے تحت اگر ایک مرد کسی غیر عورت میں دلچسپی لے تو عین اسی وقت ایک غیر عورت بھی ایک غیر مرد میں دلچسپی لے رہی ہوتی ہے۔اس کا عادِ اعظم نکالیں تو تناسب برابر نکل آتاہے۔ اور اگریہ تناسب عورتوں والی طرف سے کم نکلے تو یہ اور بھی بری بات ہے ، گویا ایک غیر عورت ، دس غیر مردوں کو گمراہ کرتی ہے۔خواتین وحضرات! میرے لیے آپ سب قابل احترام ہیں۔ میری زندگی میں عورت کی شکل میں ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی ہے جبکہ مرد کی شکل میں باپ ، بھائی اور بیٹے ہیں۔میری زبان سے عورت کے لیے گالی نکلے گی تو اُس کی زد میں میرے رشتے بھی آئیں گے، اسی طرح اگر عورت مرد کو برا کہے گی تو پھر اسے اپنے باپ کو بھی ’ولی اللہ‘ ثابت کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔شوہر سے نفرت البتہ ہمارا ثقافتی ورثہ ہے کیونکہ یہ وہ بندہ ہوتاہے جو عورت سے ساری آزادی چھین لیتا ہے۔آزادی مارچ کو جتنا میں سمجھ پایا ہوں اس کے مطابق مردو کو چاہیے کہ وہ دن رات عورت کے آرام و سکون کے لیے ایک کردے لیکن کبھی اس سے ایک گلاس پانی تک نہ مانگے۔ آپس کی بات ہے خواتین نے جو پوسٹر اٹھارکھے تھے ان کی عبارت بھی اکثر مردوں نے ہی تجویز کی تھی۔ویسے جس قسم کے جملے آزادی مارچ کے پلے کارڈز پر لکھے گئے تھے ایسا کوئی ایک جملہ مرد لکھ دیتا تو قیامت نہ آجاتی۔مثلاً یہ کہ ماسی کو چھٹی دو، اپنے جوٹھے برتن خود دھوؤ۔الگ گھر میں رہنا ہے تو والد گرامی سے مکان لکھوا کر لاؤ وغیرہ۔ لیکن یاد آگیا کہ ایک خاتون کے پلے کارڈ پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ ’جہیز ایک لعنت ہے‘ ماشاء اللہ ۔۔۔یہ واحد لعنت تھی جسے صرف جہیز سے منسوب کیا گیا ، گو کہ اس کا ہدف بھی گھوم پھر کر مرد ہی تھا۔ بہت سے جملے میرے قلم میں آرہے ہیں لیکن بمشکل خودکو روکا ہوا ہے۔ آخر مردہوں ناں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اگلے جنم موہے مرد نہ کیجو۔۔۔۔گل نوخیز اختر

  1. بہت بہترین بات کی ہے۔ میں ایک لڑکی ہو کر بھی۔ عورتوں کی اس بےہودگی کے سخت خلاف ہوں۔آزادی اتنی بہتر جو اسلام کی حدود میں رہے۔ باقی مرد حضرات ان عورتوں کے فتنے کی وجہ سے آج کے معاشرہ میں ظالم بنا دئے گئے ہیں۔ میرے مطابق مرد و عورت میں کچھ بوگ برے ہو سکتے ہیں مگر تمام نہیں۔ اچھا ہوتا کہ اس مارچ میں کوئی کارڈ ایسا ہوتا کہ لکھا ہوتا حو بھائی باپ بیٹے شوہر اپنے کسی بھی محرم مرد کی تعریف میں ہوتا۔ برائی کے ساتھ اچھے مرد حضرات کی اچھائی بیان کرتے موت پڑتی ہے ان لبرل آنٹیوں کو۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *