انصاف کی آواز, انسانیت کی خاطر۔۔۔۔ بلال شوکت آزاد

مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ بلال رائٹ ونگ سے تھا یا لیفٹ ونگ سے؟

بلال کی تنقیدی طبیعت کی زد میں کون کون آیا اور کیوں آیا مجھے اس سے بھی دلچسپی نہیں۔

بلال کا ذاتی و انفرادی کردار کیسا تھا اور وہ اجتماعیت میں کیسا تھا مجھے اس کی بھی تحقیق کا شوق اور خواہش نہیں۔

بلال کتنا شدت پسند اور انتہا پسند تھا یہ بھی میری دلچسپی کا موضوع نہیں۔

میں نے بلال کی شہادت پر تین تحاریر مختصراً لکھی صرف دو وجہ سے کہ ایک تو وہ انسان تھا اور دوم وہ قلم قبیلے کا باسی تھا جس سے میں اور میرے جیسے اور بہت سے دائیں بائیں والے منسلک ہیں۔

اس کا مذہبی اور مسلکی پہلو صرف ایک وجہ سے ذکر کیا گیا کہ اس کا ختم نبوت ص اور حرمت رسول ص پر نکتہ نظر بہت مضبوط اور غیر معمولی تھا جس کی ذیلی شاخ ناموس صحابہ رض بل پر اس کا کام یقینی طور پر قابل تعریف تھا اگر ہم اسکی شدت پسندی اور انتہا پسندی کو فراموش کرکے دیکھیں۔

لیکن میں نے دیکھا کہ عمومی تاثر جو لوگوں کو گیا وہ یہ تھا کہ میں نے یا میرے ساتھیوں نے بلال کو جنت کا مکین ہونے کی سند دے دی ہے جبکہ یہ بالکل ناممکن اور بہت ہی بیوقوفانہ سمجھ ہے جس کی وجہ سے بلال کی شخصیت پر تبرہ اور طعن و تشنیع اور ڈھکی چھپی نفرت کے اظہار کا راستہ ہموار کیا جانے لگا اور بہت سے نابغہ روزگار احباب خود بھی کنفیوز ہوئے اور ہمیں بھی کیا۔

اب چونکہ ایک وقت گزر چکا اور کیس کو بند کرنے کی مقامی کوششیں اور عالمی بڑھتا دباؤ دیکھ کر کھل کر بولنے کا موقع بنا اور ملا ہے سو کچھ گزارشات رکھنے جارہا ہوں۔

جیسے جیسے قلم تھامے ہم قلمی بلوغت کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ ہم تو علمی اور قلمی بونے تھے جو اب قد آور ہورہے ہیں۔

میرا ذاتی نطریہ یہ ہے کہ نظریہ ہو یا عقیدہ, بعد از تحقیق اور تفتیش بدلنا قطعی معیوب اور برا فعل نہیں لہذا جہاں بہتری کی گنجائش ہو وہاں بہتر سے بہترین ہونے میں قباحت نہیں۔

بلال ابھی جس عمر میں تھا اور جس عمر سے وہ اس دنیا میں آیا تھا وہ وہی عمر ہے جس میں جذبات تیز آنچ پر جل رہے ہوتے اور انسان کو ہر جانب برا ہی برا نظر آتا ہے ماسوائے اس کے اور اسکی پسندیدہ لوگوں کے, لہذا ہم اس بات کو بنیاد بنا کر بلال کی شخصیت کو مسخ نہیں کرسکتے کہ ہر وہ بندہ جو بلال کا ہم عمر ہے وہ بھی ویسا ہی ہے بلا تفریق و بلا تخصیصِ زبان, نسل, مذہب, مسلک, نظریہ, عقیدہ اور عمر کے۔

بلال کو قتل کرنا عدم برداشت اور انتہا پسندی کی وہ انتہا ہے جہاں ابھی بلال نہیں پہنچا تھا لہذا اس کے کرادر کو مشکوک سمجھ کر طعن و تشنیع کرنے کے بجائے ہمیں من حیث القوم بطور انسان اس کے لیئے صرف انصاف کی مانگ کرنی چاہیے۔

اب بات کریں قاتل کی تو ہم نہ تو جج وکیل اور متعلقہ تھانے کے تھانیدار ہیں کہ کسی کو بھی مجرم تسلیم یا تصور کرکے سزا کی مانگ کریں اور نہ ہی یہ انصاف مانگنے کا کوئی مہذب اور انسانی طریقہ ہے لہذا اٹکلے لگا کر ماحول خراب کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ کوئی مسلکی قتل ہے, ذاتی قتل ہے یا کچھ اور ہوا ہے وغیرہ وغیرہ؟

اور بات کریں عالمی برادری بشمول یو این او کی اس قتل پر مذمت اور شفاف تحقیقات اور انصاف کی تو میں اس کو کس خانے میں فٹ نہیں کرپایا اور نہ ہی قبل از وقت کسی خانے میں فٹ کرنا چاہتا ہوں کہ اب عالمی سیاست ہماری سمجھ سے باہر کا کھیل ہے, جہاں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ کب وہ واقعی انسانی ہمدردی جتارہے اور کب سیاست چمکارہے؟

بلال چونکہ ہمارے مربوط قلمی قبیلے کا ایک اہم فرد تھا کہ جس کی آواز میں ارتعاش نہیں تھا۔

خواہ بات مذہب کی ہوتی, سیاست کی ہوتی, قیادت و سیادت کی ہوتی یا معاشرت کی ہوتی وہ ہر پلیٹ فارم پر پایا جاتا, پر اس کا کمزور نکتہ یہ تھا کہ وہ جس بھی موضوع پر لکھتا اور بولتا انتہا پر چلا جاتا اور مجھے اس میں حیرت نہیں کہ بعضے مجھے بھی یہی شکوہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ میری تحاریر میں بھی انتہا پسندی اور جذباتیت کا عنصر غالب ہے (جو کہ ہوتا تھا) پر اب بہت کم ہوگیا ہے بار بار کی نصیحتوں اور نشاندہیوں کے بعد۔

خیر بلال کی ایک مخصوص نفسیات تھی جیسی کہ اس تیسری دنیا کے ہر باسی کی ہے کہ وہ ہی درست ہے جبکہ باقی سب غلط لہذا اس بات کو بنیاد بنا کر ہم تنقید کا حق جتائیں یہ غلط ہے کہ ہم کونسا اپنے علاوہ کسی کو درست مانتے ہیں یا ماننے کو تیار ہوتے ہیں؟

میرا ساری بحث کا مقصد یہ ہے کہ بلال کو ناحق قتل کیا گیا بیشک اس کی سوچ و فکر اور نظریات سے ہماری سوچ و فکر اور نظریات متصادم تھے لیکن انسانیت, مسلمانیت اور پاکستانیت وہ رشتہ تھا اس کا ہم سے جس میں ہم سب شامل ہیں لہذا اس کے قتل کی شفاف تحقیقات اور انصاف کے لیئے ہم پر آواز اٹھانا فرض ہے اور اس مقصد میں اگر اندرون و بیرون کوئی بھی طاقتور آواز ساتھ دیتی ہے تو ہر چند کہ  ہمیں اس کا بھی فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔

جبکہ جو لوگ ذاتی عناد یا مسلکی و نظریاتی عناد اور بغض نکال کر صفحے کالے کررہے ہیں وہ قابل ترس لوگ ہیں ناکہ قابل نفرت کہ جس بات پر وہ بلال کی کردار کشی کررہے وہی حرکت وہ خود کررہے ہیں نفرت میں اندھے ہوکر اور جب ان کی ناگہانی یا طبعی موت ہوگی تو یہ لوگ بھی اسی طرح چوکوں, چوراہوں اور فیسبک پر ڈسکس کیے جائیں گے جو کہ تب بھی ہمارے لیے تکلیف اور دکھ کا باعث ہوگی بالکل ویسے ہی جیسے بلال کی موت پر ہمیں تکلیف اور دکھ ہوا۔

لاشوں کو بھنبھوڑنے اور زندوں کا خون نچوڑنے والی یہ قبیح و گھٹیا علمی و قلمی حرکت اب ختم کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے اور ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اب انسان کے بچے بن کر رہیں گے اور ہمیشہ مرنے والے انسان کی تعظیم کریں گے یع دیکھے بغیر کہ وہ کون تھا, کیا تھا اور کیوں تھا؟

انصاف بلال کا بنیادی انسانی, شرعی اور قانونی حق تھا لہذا اس کو مانگنے میں کوئی شرمندگی اور پریشانی نہیں اس لیئے دامے درمے سخنے ہر کس و ناکس اپنا حصہ ڈال کر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

انصاف کی آواز, انسانیت کی خاطر اب اٹھانی ہی ہوگی۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *