• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک: حلب کی سماجی اور ثقافتی زندگی کی جھلکیاں ۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط14

سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک: حلب کی سماجی اور ثقافتی زندگی کی جھلکیاں ۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط14

ناشتہ بہت لذیز تھا۔ کھانے پینے کی چیزوں سے زیادہ ماحول کے حُسن نے مزہ  دیا۔ قدامت کا حُسن دامن دل کو بار بار آنکھیں لڑانے پر مائل کرتا تھا۔ تاہم آنکھوں نے دونوں کام کیے۔ شامی پنیر اور دہی دونوں کی خوش رنگی نے متاثر کرنے کے ساتھ دہن کو بھی اُکسایا کہ انصاف کرنا ہے اور پور ا پورا کرنا ہے۔ کالے اور سبز زیتون رج کے کھانے والی بات کی۔ قطعی نہ سوچا کہ زیادتی بلڈ پریشر بڑھنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ فواFawa، بینر،ٹماٹر، کھیرے سب کو تھوڑا تھوڑا رگڑا۔

اُمیہ مسجد کا دیکھنا سر فہرست تھا۔ یہ بہت سے اور ناموں سے بھی مشہور ہے۔ اسے الیپو کی عظیم مسجد یاجامع حلب الکبیر کے نام سے پکا رلیں۔ بہرحال حلب کی قدیم ترین اور عظیم ترین ہونے کا اعزاز  اُ س  کے پاس ہے۔ سلیمان بن عبد المالک کی تعمیر کردہ 715ھ کی یادگار جلوم Jalloum ڈسٹرکٹ میں واقع ہے۔ کوئی آٹھویں صدی میں بنائی گئی تھی۔ اجڑنے اور بسنے کی تاریخ حسبِ روایت ہے۔
بارھویں صدی کے آغاز میں سلطان نور الدین زنگی نے اِسے نئے سانچے میں ڈھالا۔ منگولوں کے ہاتھوں بھی بربادہوئی۔
صحن کی کشادگی متاثر کرتی تھی۔ جائے وضو اور دارلخزانہ دمشق کی اُمیہ مسجد جیسے ہی تھے۔ ہاں البتہ محرابی برآمدوں اور تزئین وآرائش میں ضرور فرق تھا۔ محراب ومنبر اور حضرت زکریا علیہ السلام کا مزار مبارک۔ یہاں نفل پڑھنا اور حضرت زکریا علیہ السلام کے حضور دعا کرنی جن سے بڑی قدیمی دوستی تھی۔ بیٹے کی خواہش کے لیے  سالوں اُن کی اسی دعا کو حرز ِ جان بنایا تھا جس میں انہوں نے اپنے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ پن کا ذکر کرتے ہوئے اوپر والے کی رحمت مانگی تھی۔ رب سچے کے قربان جاؤں وہ سرفراز ہوئے تھے۔ صدقے جاؤں اُس خدا کی ذات اوررحمت کے۔ اُن کی دعا کے صدقے یہ غریب نمانی عورت بھی نوازی گئی تھی۔

بہت سی متنازع  باتیں بھی تاریخ بتاتی ہے۔ کیتھڈرل قبرستان کی جگہ تھی۔ کسی دوسری جگہ یہ بیان ہے کہ سینٹ حلینیا کا باغ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اصل بات بس اتنی سی ہے کہ سبھی کچھ فاتح کی مرضی اور خواہش سے چلتا ہے۔ وہ مفتوح علاقوں کے بچے، بڑے عورتیں، بوڑھے کو لہو  میں پسو ادیں یا انہیں اپنے سایہ عاطفت میں لے لیں۔ اُن کی مرضی، اُن کی رضا۔ صدیوں سے آج تک کی یہی ریت روایت اور رواج ہے۔سوائے اُس عظیم ہستیﷺ اور عمر فاروقؓ کے۔ کسی اور نے اگر اِس روایت سے انحراف کیا تو میری کمزور تاریخ دانی سمجھ کر معاف کر دیں۔
نماز کا تو کوئی وقت نہ تھا۔ نفل پڑھے۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ جس نے موقع دیا۔ اسباب فراہم کیے  کہ جو صدیوں کا لبادہ اوڑھے کھڑی ہے اِس پیکر عظمت کے تن بدن پر ماتھا ٹیک سکوں۔ کاش تب جان سکتی۔ کاش کہیں کوئی چھٹی حِس چھوٹی سی سرگوشی میں ہی کہہ چھوڑتی۔
”مُورکھ دو لفظ اِس کی سلامتی کے بھی مانگ لے۔ ہونا تو وہی ہے جو اوپر والے نے مقدر کر دیا ہے۔ پر کل جب تو ہزاروں میل دور بیٹھی اس کے میناروں کو اس تباہ کن انداز میں گرتے دیکھے گی تو تیری آنکھیں پتھرا جائیں گی اور اِس کے خوبصورت آنگن میں اینٹوں اور پتھروں کے ڈھیر تجھے باور کرائیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ مسلمان ہیں یا مسلمانوں کے گماشتے۔ اس کے یہ چمکدار روشنیاں سی بکھیرتے محرابی برآمدے جلے جلے منظرتجھے دکھائیں گے تو تیراکلیجہ باہر نکلنے کو پھڑ پھڑائے گا۔ اور شاید تو کہے کاش کچھ اس کے لیے بھی مانگا ہوتا۔
واقعی آج میرے پاس تاسف بھرا اظہار ہے کہ تب زبان کو کیا دندل پڑ گئی تھی کہ کچھ کہتی تو سہی۔ یوسف کو خریدنے والی اُس مائی کی طرح جو سوت کی اَٹی لیے  اُسے خریدنے نہیں تاریخ میں خود کو خریداروں کی فہرست میں درج کروانے کے لیے  آئی تھی۔

پر میں اپنی اِس فضول سی سوچ پر خود ہی طنزیہ سی ہنسی ہنس دی ہوں۔
”واہ بڑی خوش فہمیاں ہونے لگی ہیں تجھے۔ تو اور تیری دعائیں۔ اپنے گھر اور ملک کی خیر منا۔ یہ سب کھیل اوپر والے کے ہیں۔“
چلو چھوڑو اِن باتوں کو۔خود سے کہتے ہوئے جولائی 2008ء کی ٹنل میں دوبارہ گھستی چلی جاتی ہوں۔
ال مدینہ سوق چلتے ہیں۔ زندگی کے سارے رنگوں کی گویا یہاں بارش ہو رہی تھی۔ دکانیں آنکھیں پھاڑتی تھیں۔ سامان کا سیلاب دروازوں سے باہر تک امنڈا پڑ رہا تھا۔ حافظ الاسد اور بشار الاسد کہیں دونوں با پ بیٹا اور کہیں بیٹا اکیلا بھی بڑے بڑے پوسٹروں پر ٹنگے ہوئے تھے۔
تینوں نے ڈھیرساری چیزیں خریدیں۔ تینوں کا کہنا تھا کہ بھئی دمشق سے یہ زیاد ہ سستا ہے۔ علی حلب کے نیشنل میوزیم اورkhussowhمسجد دیکھنے کے لیے مُصر تھا۔ میں انکاری تھی۔ دمشق میں میوزیم اور ڈھیروں ڈھیرمسجدیں تو دیکھ بیٹھے تھے۔اس نے مجھے عہد فاروق کی توبہ مسجد دیکھنے پر بھی اُکسایا۔ اور جب میں ٹس سے مَس نہ ہوئی تو ہنستے ہوئے بولا۔
”یہاں کتنے سینما گھر ہیں۔ کئی ایک میں انڈیا کی فلمیں لگی ہوئی ہیں تو پھر چلیں کوئی فلم ہی دیکھ آئیں۔“
”چلو اور جی کو جلاؤ۔ اپنی تو تبت سنو کی شیشی بھی کسی دکان پر پڑی نظر نہ آئی کہ چلو تپتے سڑتے دل کو تھوڑی سی ٹھنڈک ہی پہنچے۔ یہاں دمشق ہو، حلب، استنبول یا قاہرہ۔ امیتابھ بچن، شاہ رخ اور ایشوریہ کے نعرے ہی دل گرماتے اور برماتے ہیں۔ہم تو سچی بات ہے کہیں ہیں ہی نہیں۔“
میں تو حلب کے گلی کوچوں میں کھونے کی متمنی تھی کہ تاریخ تو اُس کے گلی کوچوں میں بکھری ہوئی تھی۔ چلو تینوں نے اتفاق کیا۔ طے ہوا کہ میں اپنا راستہ ناپوں اور وہ اپنا۔ اورجب جس کا جی چاہے وہ ہوٹل پہنچ جائے۔
میں توگویا بن پیے ہی ترنگ میں آئی تھی۔ اتنے مختلف النوع لسانی، مذہبی اور ثقافتی تہذیبوں کا مرکز کہیں عرب سنی مسلمان، عرب علوی کرُد سُنی، عرب آر تھوڈوکس عیسائی، عرب دروز Druze، عر ب اسماعیلی، فلسطینی، یزیدی وغیرہ وغیرہ۔ رنگارنگ نسلوں اور قوموں کا ایک دل کش امتزاج شہر کا حُسن تھا۔
یہ گلیاں تھیں یا کسی مصور کے نوک برش کا شاہکار تھیں یا دستکاروں کے کمال فن کا اظہار تھیں۔ ان میں کہیں صنوبر جیسی قدو قامت کہیں کجھور اور کہیں سرو جتنی مکانوں کی قطاریں گویا پریاں قطار اندر قطار جیسی صورت کی غماز تھیں۔

مزے کی بات کہ ان کی بلندیاں اور ان کی پستیاں کہیں بھی اپنے ترتیبی تناسب کے اعتبار سے یکساں نہ تھیں۔ مگر عجیب سی بات تھی کہ یہ نظروں پر گراں نہ گزرتی تھیں۔ان کے دریچوں ودر کے سینوں اور ماتھوں پر وہ فنکاری تھی جو بار بار دیکھنے کے لیے مجھے کہیں پل بھر کے لیے روکتی، کہیں دیر تک ٹھہراتی اور کہیں آگے بڑھاتی تھیں۔ مزے کی بات کسی ڈرامائی کہانی کی طرح ایکا ایکی یہ گلیاں موڑ مڑتیں اور چوراہوں میں جا کر اپنے انجام کا دل کش انداز میں اظہار کرتے ہوئے میرے لیے حیرتوں کے نئے جہاں وا کرتی تھیں۔
ایک چھوٹا سا دلکش سا کھوکھا نما ریسٹورنٹ۔ کرسی پر بیٹھتی ہوں۔ قہوے کا کہتی ہوں۔ اس وقت رش نہیں۔ نوجوان لڑکا قہوہ کی پیالی سامنے رکھتا ہے۔ بسکٹوں کی ورائٹی میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتی ہوں۔ کسیلا سا گھونٹ گھونٹ یہ میرے اندر جاتا سیال پانی دھیر ے دھیرے تھکن کو بلڈنگ پیپر کی طرح چوستا چلا جاتا ہے۔ تھوڑی سی با ت چیت۔ کچھ سیاسی۔ لڑکا تیز طرار جوشیلا سا۔ میرے ذرا نوکیلے سوالوں پر یقین اور اعتمادبھری آواز میں کہتا ہے۔
شہر تعلیم یافتہ اور کاروباری لوگوں کا ہے۔ جن کا امن اور بھائی چارے سے رہنا اُن کی بزنس مجبور ی ہے۔ مختلف النوع مذاہب اور ثقافتوں کا گڑھ ہے یہ۔ سیاست پر بات کرنی چاہی۔لڑکے نے سوال کے ساتھ ناک پر مکھی اُڑانے جیسے طر ز کا سلو ک کیا۔
”یہ علوی Alawitesکیا ہیں؟“ میں نے پوچھا تھا۔
”اسلام کی ایک الجھاؤ میں لپٹی ہوئی شاخ۔ مذہب کو توچھوڑیں۔ یہاں پرانے حلب میں تو ڈھیروں مذاہب اور فرقے ہیں۔“
کیفے میں کچھ لوگوں کے آنے سے وہ اُن کی طرف متوجہ ہوا۔ میں اُٹھ گئی۔ کہیں گلی ختم ہوئی اور میرے سامنے ایک اور کشادہ گلی نمودار ہوئی۔ یہاں وہ چھیل چھبیلا سا نوجوان کمر پرجس کے عین درمیان ایک بڑی سی دکان منقش تانبے اور پیتل کی آرائشی اشیاء سے سجی اِس ماحول میں یوں جگمگا رہی تھی جیسے سیاہ رات میں کوئی روشن تارہ جگمگ جگمگ کرتا ہے۔ کیا بیان ہو اُس دروازے کا، اُس پرجھکے چوبی شیڈ کا اور اندر کے طلسمی سے ماحول کا۔
ایک کونے میں رجسٹر پر جھکا ایک بوڑھا کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ دو ملازم تین ٹورسٹوں کے ساتھ مصروف تھے۔ پتہ نہیں بیچارے کس دیس سے تھے؟ ایک لفظ انگریزی کا نہیں بول سکتے تھے۔ ہنسنے ہنسانے والی مضحکہ خیز صورت تھی۔ انہیں یونہی ایک دوسرے میں اُلجھا چھوڑ کر میں آگے بڑھی۔ بوڑھے کے پاس رکی۔ نظریں اٹھا کر مجھے دیکھا گیا۔ تعارف ہوا۔ بڑی رواں اور شستہ انگریزی تھی۔ خدا کا شکر جیسے دندناتے آگئی تھی۔ اِس انداز کا برا نہیں مانا تھا۔ بیٹھنے کو کہا تھا۔ بیٹھی اور بات چیت کی طرف توجہ کی۔ شہر کی سماجی زندگی بارے کچھ جاننے کی لگن ہی سوال کی صورت سامنے آئی تھی۔ چند لمحوں کی سوچ۔ خاموش نگاہوں سے ذرا ماحول او ر میرا جائزہ۔ پھر مدھم سے لہجے میں گفتگو۔
حلب اگرچہ بہت سے نسلی اور مذہبی خانوں میں منقسم ہے۔ لیکن حلب کے شہری اِن باتوں کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ بڑی وجہ شہرتجارت اور صنعتوں گا گڑھ ہے۔ پیشے بھی مختلف نسلی ومذہبی فرقوں میں زمانوں سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔ اِس کی مثال یوں سمجھیے کہ جیولری اور مکینکس کا زیادہ کام آرمینیائی لوگوں کے پاس ہے۔ اور وہ اِس کا م کے ماہر بھی ہیں۔ کُرد لوگوں کی اکثریت نے تعمیراتی کام سنبھالا ہوا ہے۔ سنی لوگوں کی اکثریت بزنس سے متعلق ہے اور عیسائی کمیونٹی فیبرکس کے کام میں بہت فعال ہے۔ پیشے اور کاروبار کی ایک دوسرے سے جڑت نے لوگوں میں رابطہ داری اور وسعت نظری پیدا کر رکھی ہے۔ ایک دوسرے کی خوشی وغم کی تقریبات میں جانا اور دکھ سکھ میں ساتھ دینے کے معاملات بھی روز مرہ معمول کا حصہ ہیں۔ ہاں شہر کے مضافات میں یہ صورت نہیں ہے۔

بشار کے انداز حکومت بارے بڑی دھیمی سی آواز میں بولا تھا۔ کچھ کام بہت اچھے کیے ہیں۔ انفراسٹرکچر بہت بہتر ہوا ہے۔ حلب میں کچھ ہی سال پہلے کوئی مال نہیں تھا اب بے شمار ہیں۔ اسی طرح پرائیوٹ اسپتال، سکول، بینکوں اور شہر کی اقتصادی ترقی نے حلب کو شام کا دوسرا بڑا تجارتی مرکز بنا دیا ہے۔ رقا الفرات سے کیو اک دریا Quwaiq Riverکا دوبارہ چالو کرنا بھی بڑا کام ہے۔ تاہم کرپشن بھی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ چپڑاسی سے وزیر تک ایک زنجیر ہے اِس تسلسل کی جس نے عام آدمی کی زندگی کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔
ایک سوال انتہا پسندی کے حوالے سے بھی پوچھا۔
اسلامی انتہاپسندی تو ہے اور بعض جگہوں میں اس کی جڑیں گہری ہیں۔ گو حلب اور دمشق میں اس کا زور نہیں۔ جیسے میں نے پہلے کہا کہ یہاں اعتدال ہے۔میانہ روی ہے۔ مگر ادالیب اور دمشق کے مضافات اور خود حلب کے گاؤں گڑھ ہیں۔ اسلام کو بھی طبقاتی اور سیاسی حدبندیوں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ بڑ ے لوگوں کا اسلام پیسہ اور معتدل رویے ہیں۔ جبکہ درا اور رقا کے دیہی علاقوں کی سماجی زندگی میں اسلام اپنی قدامت پسند ی کے ساتھ پوری طرح رچا بسا ہے۔ جہاں سُنی اکثریت ہے جو سلفی عقید ے سے منسلک ہے۔ ہاں البتہ حمص میں سنی اعتدال پسند لوگوں کا ایک طبقہ بشار کا حامی اور دوسرا اُس کا مخالف ۔۔۔جمہوریت کا حامی اور انقلاب لانے کے لیے بے چین ہے۔
وہ خود آرمینیئن تھے۔ یہودیوں بارے پتہ چلا تھا کہ اب حلب میں کوئی یہودی نہیں۔ کبھی بہت تھے۔ اسرائیل بنا تو دھیرے دھیرے سب اپنی جائیدادیں بیچ باچ کر وہاں چلے گئے تھے۔
شام کے ڈھلنے میں قطعی تیزی نہ تھی۔ مجھے بھی لوئے لوئے گھر جانے کی قطعی جلدی نہ تھی۔
اپنی یادداشتوں والے سارے بھانڈے ٹینڈے بھر نے کی ضرورت تھی۔
میری آنکھوں میں بھوک ناچتی تھی۔ ندیدہ پن چھلکتا تھا۔ سمجھ نہیں پاتی تھی کہ گرسنہ آنکھوں کے برتن میں کیا کیا ڈالتی جاؤں۔
دئیے جلے تو جیسے دھرتی کے سائبان کا تھال کوچہ وبازار میں اُتر آیا۔ کسی نے کہا تھا۔ قصرولی میں ہر روز مقامی میوزک نائٹ ہوتی ہے۔ اُسے ضرور دیکھیے۔ جہاں کھڑی تھی وہاں سے قصرولی کتنے پیچ وخم کے بعد تھا۔

غیر ملکیوں کا ایک ٹولا کہیں ادھر ہی جا رہا تھا۔ لڑکے نے کہا ان کے ساتھ نتھی ہو جائیں۔ یہ وہیں جا رہے ہیں۔ اب کھڑی حساب کتاب میں اُلجھتی ہوں۔ فاصلہ کتنا ہوگا؟ واپسی کیسے ممکن ہوگی؟ اور پھر جیسے دل نے کہا۔ لڑکا تو جوانی کے جذبوں سے بھرا ہوا ہے۔ پینڈے مارنا اس کے لیے کو نسا مشکل کام ہے؟اِسے تو یہ دو چارگلیوں والا معاملہ ہی لگتا ہے۔ ایسا نہ ہو تیرا ملیدہ ہو جائے۔ فرانسیسی ٹولہ تو کسی کو لفٹ کروانے کے موڈ میں نہیں تھا۔
نی میں جانا جوگی دے نال
ہائے نی جانا ٹلہّ جو گیاں تے
معلوم نہیں پکار سچی تھی کہ جب اپنے ہوٹل پہنچی تو میرے ساتھی واپس آچکے تھے اور مجھے بتا رہے تھے کہ آج ہوٹل میں میوزک نائٹ منائی جا رہی ہے۔
واہ مولا میرا ٹلہ جوگیاں چل کر میرے پاس آگیا۔۔
پروگرام آہنی راڈوں پر کھڑے بیٹھے خیمے نما ہال میں منعقد ہو رہاتھا۔ چھت قالینوں سے سجی دیواریں قالینوں سے ڈھنپی، فرش قالینوں سے منڈھے۔ رنگ اور نظاروں کا جہاں آباد کیا ہوا تھا۔ ہال کے عین درمیان میں چبوترہ نما سٹیج سجی تھی۔ سازندے اللہ جانے کون کو ن سی دھنیں بجا رہے تھے۔ ایسی دھنیں جو سمجھ نہ آنے کے باوجود دل میں اُتری جاتی تھیں۔
رات گئے یہ محفل ختم ہوئی۔چلو روح کی سیری ہوئی۔دل کی سیری ہوئی۔اور کہہ لیں آنکھوں کی بھی ہوئی۔

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *