• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • شاباش جماعت اسلامی ، چوروں کا ساتھ ہرگز نہ دیجیئے۔۔۔سید عارف مصطفٰی

شاباش جماعت اسلامی ، چوروں کا ساتھ ہرگز نہ دیجیئے۔۔۔سید عارف مصطفٰی

خداکرے کہ یہ خوشی عارضی نہ ہو کیونکہ بہت دنوں بعد جماعت اسلامی کی قیادت نے ایک بہت اچھا فیصلہ کیا ہے اور اس وجہ سے مجھے یوں لگتا ہے کہ اب جماعت اسلامی میں احساس زیاں نہ صرف بیدار ہوچکا ہے بلکہ وہ ماضی میں کی گئی فاش غلطیوں کی تلافی کے لیے اور اپنا واحد اثاثہ یعنی اخلاص پہ مبنی ساکھ کو بچانے کے لیے کمر بستہ ہے اور یوں وہ ملکی نظام کے سدھار میں ایک حقیقی مثبت کردار کرنے کی راہ پہ گامزن ہورہی ہے ۔۔ بلاشبہ 26 جون کو سیاسی یتیموں اور رنڈووں کی محفل سیاپا سے خود کو الگ رکھنے کا جماعت اسلامی کا یہ فیصلہ نہایت لائق ستائش ہے ۔۔۔ مجھے خاص طور اس ضمن میں اسکے بیانیے کا یہ وضاحتی حصہ بہت دلپذیر معلوم ہوا ہے کہ جس میں اس نے وطن عزیز کی موجودہ مخدوش حالت کے لیے پہلے سے باریاں لیتی چلی آنے والی جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے کیونکہ یہ وہ نکتہ ہے کہ جس سے کسی بھی ایسے فرد کو ہرگز اختلاف نہیں ہوسکتا کہ جو گزشتہ 3-4 دہائیوں کی تاریخ سے آگہی رکھتا ہے ۔۔۔ لیکن اس منافقت کا کیا کیجیے کہ محض حصول اقتدار کے لیے زرداری کا پیٹ پھاڑنے کے بھاشن جھاڑنے والے مہان گرو اب وہی پیٹ سہلاتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ اب دونوں ہی کے پاپی پیٹ کا مسئلہ جو پڑ گیا ہے اسی طرح جس نواز شریف کو زرداری بالکل برداشت نہ کرنے اور انکی نون لیگ کو مزید کوئی موقع نہ دینے کے لیے چنگھاڑتے سنے جارہے تھے اب وہی زرداری اسی پہ صدقے واری جارہے ہیں ۔۔ رہے مولانا فضل الرحًان کہ جنہیں مولانا کہتے اور لکھتے ہوئے مجھے ہی نہیں میرے قلم کو بھی پسینہ آجاتا ہے تو کرپشن تو انکے نزدیک ایسا کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں اور انکی ایسی سوچ ہی خود بدترین فکری و عملی کرپشن کے مترادف ہے۔

مجھے کہنے دیجیے کہ اس ملک کو زرداری و نواز شریف سے کہیں زیادہ مولانا فضل الرحمان اور چوہدری برادران جیسے ابن الوقت اور بے ضمیر لوگوں کے ہاتھوں زیادہ بڑے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اور اسی فہرست میں جہانگیرترین ، فردوس عاشق اعوان ، فؤاد چوہدری شیخ رشید اور صدرایوب کے پسماندگان و سیف اللہ فیملی و کئی دیگر سیاسی بازیگروں کے کے نام بھی آتے ہیں لیکن انکی حیثیت شامل باجا سے زیادہ ہرگز نہیں ۔۔۔۔ لیکن ان سب میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ کہ انکے نزدیک انکا ذاتی مفاد ہر قومی مفاد اور تمام ارفع اصولوں‌ و اقدار سے بالاتر ہے اور خوہ کوئی کسی رستے سے بھی اقتدار کی کرسی پہ آکے براجمان ہوجائے یہ ‘بلند پایہ’ اصحاب اسکی کرسی کے پائے بن جانے کے لیے قطار لگالیتے ہیں اور ان تمام خوشامدی وارفتگان میں جو بسمل کی سی تڑپ مولانا نے پائی ہے اس میں کوئی انکا ثانی تو کیا انکے پاسنگ بھی نہیں ہے اور یہی وہ حقیقت ہے کہ جسے سمجھانے کے لیے میں کراچی میں ادارہء نور حق میں ایک جلسے میں قاضی حسین احمد کے روبرو جا پہنچا تھا اور انہیں ایم ایم اے کی مخلوط حکومت کا حصہ بننے پہ برسرعام کھری کھری سنائی تھیں لیکن جسکا انہوں نے نہ صرف برا نہیں مانا تھا بلکہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا ظہار انہوں نے چند روز بعد ہی کردیا تھا اور وہ جماعت کو ایم ایم کی پرفریب دلدل سے نکال لائے تھے۔

لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ 2018 کے عام انتخابات سے پہلے جماعت اسلامی ایک بار پھر مولانا کے دام الفت کا شکار ہو گئی تھی اور اس عاجز کی طرف سے بار بار متنبہ کرنے کے باوجود ایک ہی سوراخ سے یہ نیکو کار دوسری بار ڈسے گئےاور پہلے سے بھی بڑھ کے ڈسے گئےتھے ۔۔ توقع کے عین مطابق اس غیر عاقلانہ اقدام سے جماعت کا اپنا روایتی ووٹر بھی اس بری طرح سے دلبرداشتہ ہوگیا تھا کہ اس نے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ ہی نہ کیا تھا جس سے سرفروش دینداروں کی اس جماعت کو اپنی تاریخ کی بدترین انتخابی شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور قومی سطح پہ اسکا شیرازہ بکھر گیا تھا ۔۔۔ اب جبکہ جماعت اسلامی نے چوروں کے اس میلے سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ ارادہ اس بات کا غماز ہے کہ اس نے حقائق کا ادراک کرلیا ہے اور وہ اب بہتر بصیرت کو بروئے عمل لا کراپنی شیرازہ بندی کرے گی اور اپنی متاع عزیز یعنی اچھی و دیانتدارانہ ساکھ کو آئندہ کسی بھی ادنیٰ مفاد پہ ہرگز قربان نہیں کرے گی ۔۔۔ گو یا رستہ کٹھن بھی ہے اور طویل بھی ، لیکن لاریب اسی میں جماعت کی بقاء و ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *