اصیل کُکڑ۔۔۔۔۔سلیم مرزا

اوپر تلے ہونے والے واقعات کی رو سے، بندہ آئن سٹائن نہ بھی ہو تو گریویٹی کو سمجھ لیتا ہے ۔ اگر بیچ میں ککڑ اور عاطف نہ ہوتے تو کشش کے اصول کے تحت رشیدہ سیدھی زمین دل پہ سکائی لیب کی طرح گرتی۔

دوبار کے انکار کے بعد عاطف اٹلی واپس چلا گیا ، اب نیپلز کے ساحل پہ ادھ مری میموں کو ہوائی چپلیں اور موٹے دانوں والی مالائیں بیچ رہا ہوگا۔
چونکہ عاطف باہرلا تھا، وہ بھی دوسرے اوورسیز کی طرح پورن پور کو ان پڑھ گاؤں ہی سمجھتا ہے ، حالانکہ پورن پور کی یونین کونسل، پورن ہب سے زیادہ فعال ہے، اور رہا میں تو میں کوئی گوگل والوں کا کاکا تو نہیں تھا جو ہر بارمیسنجر میں ہی بنتا۔
سیانے ادھر ادھر ہوکے کہتے ہیں کہ “پیا وہی جو گوری من بھائے”۔
مجھے رشیدہ کو سب صاف صاف بتانا تھا کہ اس کیلئے میرے دل میں کیسے کیسے “ٹوٹے ” چل رکے ہیں۔
میں نے تین چار بار کوشش کی، مگر اپنے لیے بات کرنے کی ہمت نہیں پڑی۔
ملاح کے حقے میں پانی والی کوئی مثال تھی۔
چنانچہ متفقہ فیصلہ ہوا کہ صابر میری طرف سے رشیدہ سے بات کرے گا۔
میری بات سنتے ہی صابر نے دائیں بائیں سر یوں ہلایا جیسے موٹر سائیکل والا بھیڑ سے راستہ بناتا ہے، میرے مشترکہ فیصلے سے انکار ممکن تو نہیں تھا۔
پھر بھی وہ رشیدہ کی نمکینی اور حالات کی سنگینی کو الٹ پلٹ کرتا رہا، آخر میں اسے قائل کرنے میں کامیاب ہو ہی گیاکہ وہ دودھ اور شہد سے گندھی ضرور ہے، کچھ اور اجزائے ترکیبی بھی ہوں گے ۔مگرہے نمکین ہی۔۔
محبت بھی انسان کو فرانزک لیب ٹیکنیشن بنا دیتی ہے،
حالانکہ میرا سارا علم، فزکس اور جغرافیے سے آگے کا نہیں تھا، اور اس میں بھی میں اوزان و پیمائش سے مار کھاتا ہوں ۔شاعروں کی طرح میری بھی محبوباتی معلومات فرضی ہی سمجھیں۔
صابر کو رشیدہ کے حسن سے زیادہ اس کی زبان کی کاٹ ڈرا،رہی تھی ، وہ بھی منہ کھولتے وقت نہیں دیکھتی کہ سامنے کون ہے۔
یونین کونسل میں میری عزت زیادہ تھی، صابر میرا اسپورٹر ۔ میرے لیے  ووٹ مانگ سکتا تھا تو دل کیوں نہیں؟

حالانکہ ووٹر تو چناؤ کے دنوں میں اس سے زیادہ بدتمیز ہوتے ہیں،
صابر کے پیدائشی تخریب کار ہونے کے باوجود ہر ایک گھنٹہ سمجھانے کے بعد میں طوطے کی طرح پوچھتا “سمجھ تے گیا ہوویں گا “؟
تو وہ سر ہلا دیتا، اور دھیرے سے کہتا “چوہدری دفع کر، رہن دے ”
چھ گھنٹے کی تکرار کے بعد اٹھا، واش روم گیا، باہر نکلا، ایک لمحہ مجھے دیکھا اور بولا،
“اچھا تم کہتے ہو تو جاتا ہوں۔۔
اس روز وال کلاک اور موبائل دونوں کی بیٹری کمزور لگی، میرا دل یوں دھڑک رہا تھا جیسے پہلی بار چیئر لفٹ پہ بیٹھے دھڑکتا ہے، بلندی اور ہار سے مجھے ایک جیسا ڈراتی ہے۔
خدا خدا کرکے صابر کی واپسی ٹارزن کی واپسی سے ملتی جلتی ہوئی ، موٹر سائیکل واش روم کے دروازے پہ روک کر وہ گھسا تو نکلنے کا بھول گیا،
شوگر نہ ہونے کے باوجود، صابر کا سسٹم واسا سے بھی گیا گزرا ہے، اسے گرمی بھی بہت ستاتی ہے، گرمیوں میں ہونے والی وفات پہ اکثر وہ میت کے پاس لگے برف والے بلاک کے آگے ملتا،
تین بار دروازہ بجانے پہ جب وہ نکلا بھی تو شلوار یوں پکڑی ہوئی ، جیسے حکومت نے معیشت کو پکڑا ہوا ہے۔
پاس بیٹھ کر صابر نے سب سے پہلے قریب پڑی دو سو تئیس کا میگزین نکالا۔۔۔چیمبر چیک کیا، پھر گلاس بھر کر پانی پیا، دوسرا ابھی آدھا بھرا تھا کہ میں نے چھین کر خود پی لیا۔میرا حوصلہ جواب دے گیا۔
“چوھدری، وہ نہیں مانی، اس نے جواب دیدیا، ”
میں نے شاید “کیوں”کہنا چاہا ، شاید میں بے کہا بھی ہو،؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ،

“چوھدری، حوصلہ کر یار، ہو سکتا ہے تمہیں اسے سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہو “؟
میں نے کوئی جواب نہیں دیا، اٹھ کر ڈیرے سے گھر آگیا،
دور کہیں نانی ساس کی سی آواز والا مکیش کسی ایسی ہی محبت کا سیاپہ کر رہا تھا۔۔

یہی کوئی دوماہ بعد میں بہت دکھی تھا، پٹھان رشین کلاشنکوف کے ساتھ چائنہ کا “کپا”مجھے بیچ، گیا تھا
کہ عاطف کا فون آگیا، یار مار کی جتنی روائتی، اور غیرروائتی گالیاں تھیں دیتا رہا، میں سمجھ گیا کہ صابر لیک ہوگیا ہے، ابھی اس سے نبٹنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ عاطف نے صابر کے بارے میں جو انکشاف کیا اگر “کپا “واپس نہ کرنا ہوتا تو سارا میگزین صابر کے کان کے پاس خالی کرتا۔
عاطف نے بتایا کہ صابر بہت دنوں سے رشیدہ کے ساتھ ایسی جگہوں پہ مل جل رہا تھا جہاں ملنا تعزیرات پاکستان کے زمرے میں آتا ہے ، اور بہت سی ایسی جگہوں پہ دیکھے گئے ہیں جہاں عاشقان سمجھتے ہیں کہ کوئی نہیں دیکھ رہا۔
فون بند ہونے کے بعد میں کافی دیر سوچتا رہا کہ عاطف کے حساب سے صابر بہت گھٹیا انسان ہے،اور اپنا سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دل کو رونا ہے یا صابر کو پیٹنا ہے ؟
انتقام اگلے روز ہی مجھے اس کے دروازے پہ لے گیا،

کیا چوھدری بوٹا ،رشیدہ کو واپس حاصل کر پایا؟
کیاصابر کا بار بار پانی بنانا اس کی ناکامی بن گیا ۔؟
کیا ملکی معاشیات محبتوں پہ بھی اثر انداز ہوتی ہے ۔؟
کیا اسلحے کی نمائش سے کہانی ایکشن ایکشن لگنے لگتی ہے ۔؟
کیسے پہنچی رشیدہ صابر کی موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ سے ۔چوھدری بوٹے کی گاڑی کی اگلی سیٹ تک؟
یہ جاننے کیلئے آٰئندہ پوسٹ پڑھنا نہ بھولیے ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *