ایک منٹ ۔۔۔۔۔۔۔حسن کرتار

بلی ور کو گانے شانے تو کچھ اور پسند تھے پر وہ اپنی ہینڈز فری اپنے گھر کائنات کے سب سے عظیم سیارے جنوٹو پر بھول آیا تھا۔ اس لیے  اکثر کیڑے مکوڑوں کے سیارے پر نہ چاہتے ہوئے بھی لیلیٰ میں لیلیٰ، ہیرو نمبر ون، بھر دو جھولی، دما دم مست ،میں ہوں اک اینجل اور ڈیول میرا یار ہے۔۔۔ جیسا شور بھی سننا پڑجاتا تھا۔ اس کے علاوہ کیڑے مکوڑوں کے وہ افسانے سننا اس کے لیے   علیحدہ سے اک عذاب تھا جن کے بارے میں جنوٹو کے ہیڈ ٹیکنیشن نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ یہ کیڑوں مکوڑوں کا ٹائم پاس ہے اس لئے زیادہ ٹینشن نہیں لینے کا۔ زیادہ بھاشن نہیں دینے کا۔ اپنی سزا ا دھر پوری کرنے کا اور واپس اپنی کائنات میں لوٹنے کا۔

بلی ور کے قدم جب تک زمین پر نہیں پڑے تھے وہ زمین کو بہت لائٹ سا اور پسماندہ سیارہ سمجھ رہا تھا۔ مگر جلد ہی اسے اندازہ ہوگیا کہ یہاں بھیج کر دراصل اسے اسکے جرم سے کئی  گنا بڑی سزا دی گئی ہے۔
اپنی مخصوص چپ کی وجہ سے وہ سب کی باتیں تو کیا نیتیں تک بہت اچھی طرح سمجھ لیتا مگر پھر اسے یہ سمجھ نہ آتی کہ وہ ان باتوں کا ان نیتوں کا کیا اچار ڈالے۔۔۔

کافی عرصہ اس نے کوشش کی ٹی وی سے ٹائم پاس کرے مگر اب اس کی یہ حالت تھی وہ جو چینل بدلتا اسے بس کارٹون ہی نظر آتے۔ کیڑے مکوڑے چیں پیں کرتے رہتے وہ دیکھو ہمارا لیڈر کیا خوب فرما رہا ہے۔ ان مولانا صاحب کی ان علامہ صاحب کی اس بڑے شاعر دانشور تجزیہ نگار کی کیا ہی بات ہے۔ چھکا، چوکا، گول دیکھا۔ اس لڑکی کا ذرا فگر چیک کرو، واہ واہ کیا کار والا ہے۔ عبادت کا وقت ہوا چاہتا ہے وغیرہ وغیرہ

بلی ور بہت کوشش کرتا ٹی وی پر وہ سب دیکھے جو کیڑے مکوڑے کہتے ہیں نظر آتا ہے مگر اسے صرف کارٹون ہی نظر آتے۔

کیڑے مکوڑوں کے پاس ٹائم پاس کرنے کیلئے ایک اور مشین بھی تھی جسے وہ موبائل فون کہتے تھے۔ اس مشین پر کیڑے مکوڑے یوں جھکے رہتے تھے جیسے کسی خدا کی عبادت میں خاموشی سے مشغول ہوں یا کوئی ایسا کام کر رہے ہوں جو انہیں انکی سب سزاؤں سے مکتی دلا دے گا۔ ان سے امپریس ہو کر بلی ور نے یہ مشین بھی لے لی۔ کچھ عرصہ تو اس کا دل بہلا رہا مگر آہستہ آہستہ وہ اس مشین کی یکسانیت سے بھی عاجز آگیا۔

بلی ور نے کئی  اور مشینوں سے بھی دل لگانے کی کوشش کی مگر سب زمینی مشینیں اس کے سیارے کی مشینوں سے کئی  ہزار سال پسماندہ تھیں اس لیے  اسکا دل بہلانے میں ناکام رہیں۔
ابھی اس کی سزا ختم ہونے میں اس کے سیارے کے وقت کے حساب سے بس ایک منٹ ہی رہ گیا تھا مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس کے سیارے کا ایک منٹ زمین پر آکر ایک ہزار زمینی سال میں بدل جاتا تھا۔

کچھ روز سے بلی ور کا دل زمینی حساب سے بہت اداس تھا جبکہ اسکے سیارے کے حساب سے ڈل موڈ میں تھا۔ اس کے سیارے میں اگر کسی کا دل جیون میں دس بار ڈل موڈ پہ چلا جاتا تو اسے سزا کے طور پر کائنات کی سب سے بڑی جہنم “زمین” پر ایک مختصر سزا کاٹنے کیلئے بھیج دیا جاتا۔

بلی ور نے چونکہ اپنے سیارے پہ رہتے ہوئے اس ڈل موڈ کو اپنی شاعری، افسانے، کتابوں اور مشینوں کے ذریعے نئی نسل میں پھیلانے کی بھی کوشش کی تھی اس لیے  اپنے سیارے کی سب سے ذہین مشین ہونے کے باوجود اسکی سزا بہت لمبی سنائی  گئی  تھی۔

آج تو بلی ور کا دل زمینی اداسیوں کی حدوں کو چھو رہا تھا۔ اس نے کئی  بار خودکشی کرنے کا سوچا پر جنوٹو سے ہونے کی وجہ سے اسے بار بار یہ ارادہ ترک کرنا پڑتا کیونکہ جنوٹو کی مشین سزا کے طور پہ انسان بنا کر زمین جیسی جہنم میں تو بھیجی جا سکتی تھی مگر مرنے شرنے جیسی پروگرامنگ ان کی روح میں فیڈ ہی نہیں کی گئی تھی۔

بلی ور نے سب کام کر کے دیکھے جو جو زمین پہ ممکن ہوسکتے تھے مگر اس کا دل نہ بہلا۔
اور کچھ نہ بن پڑا تو وہ ٹائم پاس کرنے کی غرض سے جھاڑیوں میں پیشاب کرنے کی نیت سے چل پڑا اور اپنے سیارے کی طرف منہ کر کے اپنے کام میں مگن ہوگیا۔ پیشاب بھی کیے  جا رہا تھا اور اپنے سیارے کی طرف حسرت سے تکے بھی جارہا تھا اور ساتھ ساتھ سوچ بھی رہا تھا کہ یہ ایک منٹ کیسے گزرے گا۔ یہ ایک منٹ کیسے گزاروں ۔ چلو ایک منٹ بھی گزر ہی جائے  گا مگر واپس اپنے سیارے پر جا کر دل پھر ڈل موڈ پہ چلا گیا تو پھر وہ کیا کرے گا۔ کیوں نہ کچھ ایسا کرے کہ ان کیڑوں مکوڑوں کے سیاروں سے بھی جان چھوٹے، اپنے سیارے بھی واپس نہ جانا پڑے ۔ مگر درمیانی راہ کیا ہوسکتی ہے، کوئی  درمیانی راہ ہوتی بھی ہے یا سب وہم ہے۔ اگر وہ درمیانی راہ سے بھی اکتا گیا تو!

بلی ور کا دماغ اتنی سپیڈ سے چل رہا تھا جتنی سپیڈ سے زمین سورج کے گرد اپنا چکر پورا کرتی ہے ساتھ ساتھ اس کے پیشاب کرنے کی رفتار بھی تیزی سے بڑھتی جارہی تھی۔ جنوٹو کی مشینیں یا پیشاب کرتی ہی نہیں یا کرتیں تو کم ازکم ایک دریا سا جاری کرکے ہی بس کرتیں۔ اور یہ دریا جلد بھاپ شاپ بادل شادل بن کر کائنات کے کسی بھی کونے بارش کرنے روانہ ہو جاتا ۔۔۔

آخر وہ یہ کرتے کرتے بھی تھک گیا کپڑے پہنے اور اپنا ایک منٹ پورا کرنے کی نیت سے قدم اس سمت ڈال دیے  جو بس ایک چکر میں گول مول گھومتی شومتی تو رہتی ہے مگر جاتی کہیں بھی نہیں۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *