محمد مرسی۔۔۔۔آصف محمود

وہ مالک بن انسؒ تھے ، یہ محمد مرسی ہیں۔ بیچ میں صدیوں کی مسافت حائل ہے اور حفظ مراتب کا سمندر بھی کہ کہاں مالک بن انس کہاں محمد مرسی؟ بسملِ ناز کا بانکپن مگر وہی ہے۔مسافت بھی ویسی ہی ہے اور شوق سفر بھی ۔کل شہر کے چوراہے میں مالک بن انس تھے جو پکار رہے تھے : میں ہوں مالک بن انس ، جو جانتا ہے وہ جانتا ہے جو نہیں جانتا وہ بھی جان لے۔آج تاریخ کے چوراہے میں مرسی کا لاشہ آواز دے رہا ہے :میں ہوں محمد مرسی جو جانتا ہے جانتا ہے ، جو نہیں جانتا وہ بھی جان لے۔ کوئی دکھ سا دکھ ہے۔محمد مرسی کا قتل تو ناحق تھا ہی، ان کی تدفین بھی بین الاقوامی قوانین ،حقوق انسانی کے مسلمہ معیارات اور جنیوا کنونشن سے متصادم ہے۔تاریخ مگر کسی آمر کی وزیر اطلاعات نہیں ہوتی کہ اسی کے قصیدے پڑھتی رہے۔ مرسی کی قبر کی مٹی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی اور تاریخ نے فیصلہ سنا دیا۔مصر میں جسے رات کی تاریکی میں دفن کیا گیا دنیا کے ہر بر اعظم میں اس شہید کا جنازہ پڑھا گیا۔یہ کوئی نئی بات نہیں ، دستورِ عشق میں ،کہتے ہیں کہ ، یہی قدیم ہے۔ المیہ یہ ہے مسلم معاشرے غیر معمولی انتشار فکر کا شکار ہیں۔ہیجان ، اضطراب ، تلخی ، دکھ اور درد کے ماحول میں یہ انتشار فکر مزید بڑھتا جا ر ہاہے ۔ مرسی شہیدکی قربانی کا یہ ادنی ترین قرض ہے کہ ہم چند معاملات پر سنجیدگی سے غور فرمائیں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں جمہوریت کیوں نہیں پنپ سکی؟ جمہوریت کے بارے میں مسلم دنیا ایک فکری گرہ کا شکار کیوں ہے؟ اسے جمہوری اقدار کیوں راس نہیں آتیں؟ کیا اس کی جڑیں صرف خارج میں ہیں اور اسے مغرب کی سازش قرار دیا جائے یا کچھ خرابی داخل میں بھی ہے اور ہمارا فکری بیانیہ جمہوریت کو آج بھی اجنبی تصور کرتا ہے؟ آپ نوجوانوں سے بات کر کے دیکھ لیجیے ، انتشار فکر آپ کو حیران کر دے گا۔ ہم آج تک جمہوریت کو بطور ایک نظام قبول ہی نہیں پائے۔ آج بھی آوازیں اٹھتی ہیں اسلام میں جمہوریت کا کوئی تصور نہیں۔ آج بھی کہا جاتا ہے جمہوریت نہیں ، خلافت۔ہم آج تک اپنی فکری گرہ نہیں کھول پائے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اسلامی معاشروں میں جب جمہوریت کی بات کی جاتی ہے تو یہ مغرب کے جمہوری تصور سے مختلف چیز ہوتی ہے۔مغرب میں جمہوری انداز سے منتخب لوگ فیصلہ سازی میں مختار ہوتے ہیں۔ وہی فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔لیکن اسلامی معاشرے میں جمہوریت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے طے کردہ اصولوں کی روشنی میں نظام ریاست چلانے کے لیے جو لوگ آئیں گے وہ عوام کے ووٹ سے آئیں گے کوئی ان پر مسلط نہیں ہو گا۔ یہ غیر اسلامی کیسے ہو گیا؟ پاکستان کے آئین کا دیباچہ دیکھیے وہاں صاف لکھا ہے کہ یہ اقتدار اللہ کی امانت ہے۔یہ امانت کسے سونپنی ہے ، اس کا فیصلہ عوام کریں گے اور یہی جمہوریت ہے۔معاشرے کے فکری ارتقاء کے لیے ضروری ہے عوام فیصلہ سازی میں شامل رہیں۔ جب عوام پر کوئی گروہ مسلط ہو جاتا ہے اور عوام کی رائے کی توہین کی جاتی ہے تو یہ ارتقاء رک جاتا ہے۔جب یہ ارتقاء رکتا ہے تو معاشرہ بانجھ ہو جاتا ہے۔آج مسلم معاشرے اسی بانجھ پن کا شکارہیں۔ علم و تحقیق اور جستجو یہاں نایاب ہو چکی ہے اور خوفناک زوال نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔نہ کسی نمایاں صاحب علم و فکر کا تعلق مسلم معاشرے سے ہے نہ ڈھنگ کی کوئی یونیورسٹی مسلم معاشروں میں واقع ہے۔ جمہوریت نہ ہو تو کسی بھی معاشرے کو ہانکنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ جمہوریت ہی ہے جس کی نتیجے میں عوامی جذبات فیصلہ سازی میں ظہور کرتے ہیں۔ آمریت اور ملوکیت سماج کی فکر کو پالیسی سازی میں ظہور نہیں کرنے دیتی۔ ان کا مفاد ذاتی ، خاندانی اور گروہی اقتدار کا تحفظ ہوتا ہے اور وہ بین الاقوامی دبائو کے سامنے ٹھہر نہیں پاتیں۔ سامراجی قوتیں بھی بھلے زبانی طور پر جمہوریت سے کتنی ہی وابستگی کا اظہار کیوں نہیں کریں وہ عملًا مسلم معاشروں میں جمہوریت کو نا پسند کرتی ہیں۔وہ ایک قوم یا ایک پارلیمان سے معاملہ کرنے کی بجائے ایک فرد یا ایک خاندان سے معاملہ کرنا آسان سمجھتی ہیں۔جمہوریت کی نفی سے مسلم معاشرے ہیجان اور اضطراب کا شکار رہتے ہیں۔ جب آپ منتخب صدر کو قتل کر کے اس کی لاش بھی ورثاء کو نہ دیں تو کیا اس سے متوازن سماج کی تشکیل ممکن ہو سکے گی؟ مسلم معاشرے ایک عرصے سے تعمیر کی بجائے اسی ہیجان کا شکار ہیں۔اس میں اغیار کی سازش بھی ہو گی لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم اپنا انتشار فکر کب ختم کریں گے؟ خود مذہبی جماعتیں جو جمہوری عمل کا حصہ ہیں ، جمہوریت پر کم ہی یقین رکھتی ہیں۔ جمہوریت ارتقاء کا نام ہے یہ انقلاب کی داعی ہیں۔ راتوں رات کوئی مسیحا آئے اور قوم کی نیا پار لگا دے۔یہ جماعتیں کہیں جمہوری عمل کا حصہ بھی ہیں تو یہ محض اقتدار کے حصول کی ایک کوشش ہے۔ فکری طور پر یہ جمہوری روایات سے کوئی اتنی رغبت نہیں رکھتیں۔خود محمد مرسی جمہوری عمل ے اقتدار میں تو آ گئے لیکن وہ ارتقاء کی بجائے انقلاب کی راہ پر چل نکلے ۔وہ بہت جلدی میں تھے۔ان کے اقتدار کے آخری ایام کا مطالعہ کر لیجیے ۔ ان کے فیصلوں سے کتنے بحران پیدا ہوئے۔ ایک بحران کے بعد دوسرا بحران۔ وہ ایک جمہوری صدر کم اور ایک فاتح زیادہ تھے۔ارتقاء کی بجائے راتوں رات انقلاب برپا کر دینے کی خواہش ان پر غالب آ چکی تھی۔بیک وقت درجنوں محاذ انہوں نے کھول لیے اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اقتدار سے محروم کر دیے گئے۔وہ تو سرخرو ہو گئے لیکن ان کا ملک ، ان کا معاشرہ ایک دلدل میں جا گرا۔ حکمت سے کام لیا جاتا اورانقلاب کی بجائے ارتقاء کے فلسفے کے تحت معاملات آگے بڑھائے جاتے توشاید آج مصر آمریت کے آزار سے محفوظ ہوتا۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *