الجبرا بھائی جان۔۔۔محمد خان چوہدری

نام تو ان کا جابر تھا۔ پڑوسی تھے۔ رشتہ دار تو تھے ہی, گھر بھی جُڑواں تھے۔ ہم سے بڑے تھے۔
ہمیں جب پرائمری سکول میں دوسری جماعت میں داخلہ ملا تو پانچویں میں تھے۔ ہمیں سکول لے کے جانا اور واپس ساتھ لانا ان کے ذمہ تھا۔ یاد رہے ہم لوگ شرقی محلہ میں رہتے تھے سکول غربی محلہ میں تھا ۔ روزانہ سات سمندر کی طرح تین محلے اور چار بازار طے کر کے جانا ہوتا تھا۔ شروع میں دو اور کزن بھی چوتھی جماعت میں داخل ہوئے تھے تو چار کے ٹولے کے انچارج جابر بھائی  جان تھے۔ الجبرا بھائی  جان تو وہ بعد میں بنے تو ہم یہاں بھی بعد میں بتائیں گے !

یہ بھائی  جان ویسے بھی بہت مفید مخلوق تھے، بڑے دو بھائی  ملازم تھے ایک فوجی، دوسرے کسی تیل گیس ڈھونڈنے  والے محکمہ میں تھے۔ ان کے والد گلگت رہتے تھے۔ صوبیدار ریٹائرڈ تھے وہاں کسی پیر صاحب کے شاید گارڈ شارڈ ہوں۔

دو تین ماہ بعد آتے۔۔ خالہ مطلب جابر کی والدہ صبح گھر کا کام کاج نپٹا کے چار سیدھے ہاتھ کے گلیوں کے موڑ اور تین الٹے ہاتھ موڑ مُڑ کے میکے چلی جاتی تھیں جہاں ان کی چار بھابھیاں زیر ِکمان رہتی تھیں، ہم وہاں اکثر جاتے کہ بڑی نانی بہت جی دار خاتون تھیں۔ محرم کے جلوس میں ذوالجناح ان کے گھر سے برآمد ہوتی۔ اس کے سازو سامان والا کمرہ سال بھر ایک خانقاہ کی طرح ہوتا۔ ہمیشہ وہاں سلام کرتے تو نذر نیاز کی مٹھائی  کھانے کو ملتی۔

جابر سکول جانے کے علاوہ اپنے گھر پہ  ہوتے، بلکہ محلے  بھر میں ہوتے ۔
انکے اور ہمارے گھر کے درمیان بارڈر پانچ فُٹ اونچی دیوار تھی ، جس کے ساتھ انکے گھر کی سیڑھیاں تھیں اور ہماری طرف طویل ڈنگروں والی کھُرلی جسے ہم پھلانگ کر ان کے گھر اتر جاتے ۔ لیکن وہ ہمیشہ دروازے سے آتے۔۔۔گلی کی طرف ہمارا بھوسہ ڈالنے والا کوٹھا  اور مویشیوں کی بہک کے بعد ڈیوڑھی تھی جس میں جہازی سائز چوبی دروازہ تھا جس کے کواڑ کہیں رات گئے بند ہوتے ۔
بعد دوپہر تو ہمیں جابر بھائی  جان کی بار بار مدد درکار ہوتی۔ کسی دو رسیوں والے بیل کو ڈیوڑھی سے کھول کے صحن میں کھرلی پہ  لانا ہوتا تو انہیں بلاتے، ٹوکہ مشین پر چارہ کاٹنے کے لیے ان کی ضرورت تو روزانہ ہوتی۔۔۔

کیا درویش طبیعت تھی، سکول سے واپس آتے خالہ گھر نہ ہوتی تو اپنے برآمدے میں جالی والی الماری میں پڑے مٹی کے قلف سے صبح پکے پراٹھے نکالتے ، مرتبان سے اچار یا مربہ لے کے کھا لیتے۔ اکثر کسی بھی گھر جاتے تو کھانا جو مل جاتا کھا لیتے۔ اس زمانے میں لنچ کا اہتمام نہیں ہوتا تھا۔ تندور کی روٹی رات کے بچے سالن۔ پیاز چٹنی یا اچار کے ساتھ اپنے گھر یا پڑوس میں جہاں کوئی  چچی ممانی خالہ گھر ہوتی وہ کھلا دیتی ۔
گرمیوں کی شام کے وقت تو جابر کو لازمی زحمت   دیتے ہم ۔۔۔
ہوتا یوں کہ چارپائیاں چھت پہ  چڑھانی ہوتیں۔ تب بچے سب رات کو  چھت پہ  سوتے تھے ، ہوا بھی ہوتی اور صحن میں والدین کو پرائیوسی بھی میسر ہوتی۔۔
یہ بات بھی جابر بھائی  جان نے بتائی  تھی۔ ۔کہ ہر گھر میں دو تین سال بعد بچوں کی ولادت بڑے بچوں کے چھت پر سونے کی وجہ سے ہوتی تھی۔سو شام ڈھلے وہ صحن میں برآمدے کے ساتھ کھڑے ہو کے چارپائی کو پائیوں سے چھت پر ٹانگ دیتے جسے ہم چھت پہ  جا کے اوپر کھینچ لیتے، دن میں حسب ِ ضرورت یہ چارپائیاں واپس نیچے اتار لی جاتیں۔

پرائمری سکول سے وہ دو سال بعد کزنز کے ساتھ ہائی  سکول پہنچ گئے ۔ جب ہم ہائی  سکول گئے تو وہ مڈل میں اٹکے تھے مطلب آٹھویں جماعت کا امتحان دو بار دے چکے تھے۔ دوسری بار جب فیل ہوئے تو ہم نے ان سے وجہ پوچھی۔۔
تب انہوں نے بتایا کہ الجبرا ان کو نہ آتا ہے نہ بھاتا ہے۔ اب اس زمانے میں ایسی بات تو کہنے والے کی پہچان بن جاتی تھی نک نیم اس سے ہی مشہور ہوتے تو جابر بھائی  جان ہمیشہ کے لیے الجبرا بھائی  بن گئے۔
انکے والد صاحب تین ماہ کی چھٹی پر آئے تو انکی بھی روٹین مسجد امام بارگاہ آنے جانے کی ہو گئی،محرم کے جلوس میں وہ ماتمی حلقے کے سربراہ ہوتے، جہاں چائے کی نیاز ہوتی وہاں منتظم وہی ہوتے ۔
ذوالجناح کے جلوس میں تو وہ سارا راستہ لگام بردار رہتے۔ہم جب ایف اے کر کے لاہور یونیورسٹی میں داخل ہوئے تو وہ میٹرک کر چکے تھے۔
رابطہ کم ہوتے ہوتے ختم ہو گیا، پچاس سال گزر گئے، ہمارا گھر بِک گیا، سب کھُوہ پہ جا بسے ، ہم اسلام آباد  کے مکین ہو گئے۔
جابر بھائی  جان کی یاد آج ایک البم میں پرانی تصویر دیکھ کے آئی ۔۔۔جب ہم انکو پہچان ہی نہ پائے تو یاداشت پہ  زور دیا، بس انکی یاد ذہن کے دریچوں سے در آئی ۔
ہمیں بس اتنا پتہ تھا کہ انکی شادی نہیں  ہوئی  تھی، اور وہ کسی درگاہ پہ جا کے مقیم ہو گئے تھے۔۔
اس کے بعد کوئی  خبر نہیں  !
باعث تحریر یہ ٹھہرا کہ زندگی کے سفر میں ہم لوگ اس قدر محو ہوئے کہ اپنے معصوم بچپن سے جڑی یادگار گلیاں گھر تو بھولے سو بھولے ہم تو لوگوں کو بھی بُھلا بیٹھے ۔۔
کتنی بار سوچا کہ کسی روز اس گلی سے گزروں اگلی گلیاں جن کے موڑ ابھی تک یاد ہیں وہ دیکھوں ۔۔۔۔
لیکن ایک خوف ہے جو یہ کرنے نہیں  دیتا۔۔۔
کہ اگر وہ سب کچھ اب ویسا بھی ہو تو وہ لوگ تو نہیں  ہوں گے،
پچھلے  وزٹ پر قبرستان میں جب کتبے دیکھے تو اس گلی محلے والے سب بزرگ پہلو بہ پہلو قبروں میں سوئے تھے۔۔
سچ کہتے ہیں سانپ کینچلی اتار دے تو اس میں واپس جا نہیں سکتا۔
ہاں یادوں میں محفوظ مناظر دہرائے جا سکتے ہیں ۔ لکھے جا سکتے ہیں، تو ہم نے یہ کالم لکھ دیا، اور یہ بھی تمام ہوا !
جب تک لکھتے رہے اتنی دیر تو جابر بھائی  یا الجبرا بھائی  جان ساتھ تھے، جہاں ہیں اللہ کریم انہیں عافیت و رحمت میں رکھے ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *