انقلاب اور ٹوپی۔۔۔۔آزر مراد

سوال: چی گویرا کون تھا؟
جواب: چی گویرا صرف ایک انسان کا نام نہیں ہے اور چی گویرا کو صرف ایک انسان تک محدود رکھنا بھی زیادتی ہوگی. چی گویرا ایک نظریہ، سوچ، فکر، عہد، وقت یا پھر ایک پورا دور ہو سکتا ہے. وہ مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی اونچی ذات کا بھی ہو سکتا ہے اور نیچ ذات کا بھی وہ کسی بھی قوم اور ملک کا ہو سکتا ہے اور اس کی کوئی بھی شناخت ہو سکتی ہے. چی گویرا نظریاتی ہونے کو کہا جا سکتا ہے. چی گویرا نظریہ پرست ہونے کا نام ہو سکتا ہے. چی گویرا انقلاب کو کہا جا سکتا ہے اور واقعی چی گویرا ہی انقلاب ہے.

سوال: چی گویرا انقلاب کیسے ہو سکتا ہے؟

جواب: ہو سکتا ہے. جس طرح پھول میں سے خوشبو کو نکالنے سے پھول پھول نہیں رہ سکتا. بالکل اسی طرح انقلاب میں سے چی گویرا کو نکالنے سے انقلاب نقلاب نہیں رہ سکتا. نہیں سمجھے؟. انقلاب ایک ایسا پودا ہے جو کہ صرف نظریات کی زمین پر اُگ سکتا ہے لیکن اس کے اُگنے کے لیے جو زمین اور بیج چاہیے ہوتی ہے، وہ چی گویرا کہلاتا ہے. مطلب کہ انقلاب چی گویرا ہونا ہے اور چی گویرا ہونا انقلاب ہونا ہے. حالات، فکر اور نظریہ چی گویرا کو پیدا کرتے ہیں اور چی گویرا انقلاب کو پیدا کرتا ہے. اس لیے چی گویرا انقلاب ہے اور انقلاب چی گویرا ہے. اب یہ چی گویرا جو کہ انقلاب ہے یہ کسی سرحد، سرزمین، نسل اور کسی قوم کا پابند نہیں ہے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں. یہ کوئی بھی ہو سکتا ہے اور کہیں کا بھی ہو سکتا ہے.

سوال: یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر انقلابی میں چی گویرا موجود ہو؟

جواب: ممکن ہے… ہر انقلاب ایک نظریے کے گِرد گھومتا ہے اور ہر نظریہ ایک فکر کا پیدا کردہ ہے اور ہر فکر کے پیچھے کئی اور افکار ہوتے ہیں جن کے کئی نام، کئی ملک اور کئی پہچانیں ہوتی ہیں لیکن وہ رہتا ایک ہی ہے، اس کا مقصد اس کی منزل ایک ہوتی ہے. اس لیے ہر انقلابی میں چی گویرا کا ہونا ناممکن بات نہیں ہے. دراصل اکثر لوگ چی گویرا صرف ایک مخصوص شخص تک محدود کر دیتے ہیں جو کہ بالکل ہی غلط ہے. کیونکہ چی گویرا ایک شخص کا نام ہے ہی نہیں بلکہ وہ اس سے بڑھ کر کچھ ہے اور جو لوگ اسے صرف ایک شخص کی حیثیت سے جانتے ہیں. ان کے لیے وہ کوئی مخصوص آدمی ہے جو کہیں پیدا ہوا، کچھ جنگیں لڑیں اور مار دیا گیا لیکن جو لوگ چی گویرا کو ایک محدود دائرے میں نہیں رکھتے بلکہ وہ اس کی وسیع فکر کے ماننے والے ہوتے ہیں تو ان کے لیے چی گویرا محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ کہیں کا اور کوئی بھی بن سکتا ہے.

سوال: تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خود کو انقلابی کہنے کا مطلب خود کو چی گویرا کہنا ہے؟

جواب: خود کو انقلابی کہنے سے پہلے انقلاب کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے اور پھر اس سمجھ کے سانچے میں ڈھلنا اور اس فکر کو اپنانا انقلاب ہوتا ہے اور جب اس انقلاب کا ذرہ ذرہ کسی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑنے لگے تو تب وہ انقلابی بن سکتا ہے اور وہ چی گویرا بھی بن سکتا ہے. لیکن انقلاب کو صرف پڑھنا اور اس کے ظاہری خدوخال سے متاثر ہو کر اس کا لبادہ اوڑھنا اور اس لبادے کے اندر وہی انسان بن کے رہنا انقلابی بنا نہیں کہلاتا. جس طرح لوگ اکثر خود کو انقلابی یا چی گویرا ظاہر کرنے کے لیے چی گویرا کی ظاہری چیزوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے کہ اس کی ٹوپی یا اس کے ہاتھ کا سگار تو یہ لوگ انقلابی نہیں کہلائے جا سکتے کیونکہ ان کا انقلاب ظاہری ہوتا ہے، ان کا انقلابی صرف ٹوپی تک محدود ہوتا ہے اور وہ صرف دکھانے کے لیے انقلابی بنتے ہیں. وہ اسی ٹوپی کا سہارا لے کر خود کو اور سماج کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں اور خیالی تصورات میں گھرے ہوئے ہوتے ہیں جہنیں حقیقت میں انقلاب کا کچھ بھی علم نہیں ہوتا اور جو چی گویرا کو صرف اس کی ٹوپی سے پہنچاتے ہیں. ان کو چی گویرا یا انقلابی کہنا انقلاب اور چی کی توہین ہے. ٹوپی پہننا اور چی گویرا کے اسٹائل کی نقل کرنا بری بات نہیں. آج کل ہر دوسرا شخص کسی فلمی اسٹار یا پھر کسی پسندیدہ صحافی، مصور یا لکھاری کی نقل کر رہا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خرابی نہیں ہے. لیکن اس اسٹائل اور ٹوپی کا سہارا لے کر خود کو وہ دکھانا جو کہ اصل میں نہیں ہو، غلط ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ چی گویرا صرف ایک کالے رنگ کی ٹوپی اور اس پر لگے ایک عدد طلائی ستارے کا نام نہیں ہے، وہ ایک فکر ایک نظریہ ایک سوچ اور ایک ذمہ داری کا نام ہے. اور اگر ایک شخص میں یہ سب ہیں تو پھر وہ بنا ٹوپی اور اسٹائل کے چی گویرا بن سکتا ہے لیکن اگر اس میں یہ سب نہیں ہے اور وہ صرف چی گویرا کی ٹوپی اور اس کے سگار سے چی گویرا کو پہچاتا ہے تو پھر وہ ٹوپی والا چی گویرا بن سکتا ہے، نظریاتی چی گویرا نہیں.

سوال: ٹوپی والے چی گویرا اور نظریاتی چی گویرا میں کیا فرق ہے؟

جواب: جس طرح تصویر اور حقیقت میں فرق ہے. نظریاتی چی گویرا ہونا حقیقت ہے، سچ ہے اور انقلابی ہے. نظریاتی چی گویرا ہونا مذہبی چی گویرا ہونے کا نام ہے. جس طرح ایک مذہب میں ایک پیروکار کو اپنے فرائض اور قربانیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے بالکل اسی طرح نظریاتی بننے میں بھی نظریہ کو مقدس مان کر اس کے فرائض اور قربانیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، اس کی نشونما کرنی پڑتی ہے اور اس کے لیے جہاد کرنا پڑتا ہے. نظریاتی چی گویرا ہونے کا مطلب خالص چی گویرا ہونا ہے کہ جس کی سانس سانس میں انقلاب بستا ہے جس کے ہر حصے میں انقلاب شامل ہو جو کہ بالکل ایک پہاڑ کی طرح سپاٹ اور ساخت ہو. جس کو کسی ذاتی مفاد سے کوئی غرض نہ ہو، تب وہ نظریاتی چی گویرا کہلایا جا سکتا ہے. اور جو ٹوپی والا چی گویرا ہوتا ہے اس میں ان خاصیتوں میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا. وہ صرف اصل کا نقل ہوتا ہے. ایک کھوکھلی سی نقل جس کی شکل تو اصل سے ملتی جلتی ہے لیکن جو کہ ہوتا صرف ایک عکس ہے. حقیقت کا ایک عکس. یہ عکس نہ اپنے نظریے کا محافظ ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے مذہب کا برگزیدہ بندہ. یہ قربابی سے ڈرتا ہے، اسے جہاد سے خوف آتا ہے اور اسے اپنے نظریے کی حفاظت کرنا نہیں آتا. یہ جلد بک جاتا ہے. اسے ہر چیز میں اپنا مفاد دکھتا ہے اور وہ اپنے مفادات کے پیچھے کوئی بھی چہرہ پہننے کو تیار ہو جاتا ہے. یہ ٹوپی والا چی گویرا ہوتا ہے جو کبھی بھی نظریاتی چی گویرا نہیں بن پاتا.

سوال: کیا چی گویرا جیسا ہونا لازمی ہے؟

جواب: چی گویرا جیسا کبھی ہوا نہیں جا سکتا البتہ چی گویرا بنا جا سکتا ہے. آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں چی گویرا جیسا ہوں کیونکہ جیسا لفظ کچھ نہیں ہونا ہوتا ہے. جیسا ہونے کا مطلب کچھ بھی نہیں ہونا ہے. جیسا نہ تم کو تم رہنے دیتا ہے اور نہ ہی کچھ اور بننے دیتا ہے. وہ صرف جیسا ہی رہتا ہے. چی گویرا کو جان کر اس کی فکر سے وابستہ ہو کر اسے اپنا کر اپنے اندر چی گویرا پیدا کیا جا سکتا ہے. لیکن اس کے لیے کئی ارتقائی مراحل و عوامل سے گزرنا پڑتا ہے. پہلے اپنے آپ میں چی گویرا کا بیج بونا ہوتا ہے. پھر اس بیج کو پانی دینا اور اس کی نشونما کرنا پڑتا ہے. بعد میں جب یہ بیج اُگ کر پودا بن جاتا ہے، تب چی گویرا بنا جا سکتا ہے اور یہ لازمی نہیں ہوتا بلکہ یہ ارتقائی ہوتا ہے. یہ معاشرے اور حالات کا پیدا کردہ ہوتا ہے. یہ ظلم کا پیدا کردہ ہوتا ہے. غلامی وہ وجہ ہوتی ہے کہ جو چی گویرا پیدا کرتی ہے. لیکن ہر غلام میں غلامی کے خلاف چی گویرا بننے کی طاقت نہیں ہوتی کیونکہ وہ ارتقائی عمل کے مارے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ ذہنی طور پر غلام رہنا پسند کرتے ہیں. جب کہ ظاہری طور پر آزادی کے چاہنے والے ہوتے ہیں اور وہی غلطیاں کرتے ہیں جو کہ ارتقائی عمل کی کمی کی وجہ سے ہر کند ذہن انسان کرتا ہے. بالکل تمہارے سوال کی طرح وہ چی گویرا “جیسا” بن جاتے ہیں اور چی گویرا نہیں بن پاتے. چی گویرا بننا لازمی یا شرطیہ نہیں ہے، چی گویرا بس بن جانا ہے اور یہ بننا اپنے لیے لازمی کی شرط خود ہی پورا کرتا ہے.

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *