داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط9

تعارف:

محمد خان چوہدری کا تعلق چکوال کے ، بجنگ آمد کے  مصنف کرنل محمدخان کے قبیلہ سے ہے، جن کی چھاپ تحریر پر نمایاں ہے، میجر ضمیر جعفری بھی اسی علاقے سے ہیں انکی شفقت بھی میسر رہی، فوج میں تو بھرتی نہ ہو سکے لیکن کامرس میں پوسٹ گریجوایشن کر کے پہلی ملازمت فوج کے رفاعی ادارے میں کی، پھر اِنکم ٹیکس کی وکالت کی، لیکن داستان نویسی میں چکوال کی ثقافت حاوی ہے، مکالمہ  پر  ان کی دو درجن کہانیاں چھپ چکیں ہیں  ، آج کل داستان زیست قسط وار بیان کر رہے ہیں۔

گزشتہ قسط

مجھے مخاطب کرتے تاکید کی کل آفس سے ڈیوز لے لو، کار کا رشید سے طے ہو جائے گا، فرحی کو مت بھولنا،انجینئر سے کہا کل اس کی رہائش کا بندوبست ہونا چاہیے۔۔
ملازم نے برتن اٹھائے، انجینئر بھی ساتھ اور وہ لوگ چلے گئے،
بہت دیر اس بات پہ  غور کیا کہ اگر اب فرشتے نہیں  آتے تو ان کی جگہ راجہ صاحب جیسے انسان ڈیوٹی کرتے ہیں۔

ہم نے دھیان بٹانے کے لئے بک شیلف کھول لی، نچلے خانے میں ایک نیلے کپڑے کا بستہ پڑا تھا، جھاڑ کے کھولا۔۔۔۔نانی شہراں کے نسخوں والی ڈائری مل گئی تھی۔۔
تلاش کرتے نسوانی ماہواری ڈسٹرب ہونے کے علاج کا نسخہ سامنے آیا، میتھیلیٹڈ سپرٹ اور چند جڑی بوٹیوں کے  دو مکسچر کی ترکیب تھی، ساتھ نوٹس میں لڑکیوں کی غلط کاری کی عادات اسباب اور علامات کا ذکر تھا۔۔
ڈائری  پر نشانی لگا کے سائیڈ ٹیبل پہ  رکھ دی۔۔سونے سے پہلے دعا کی، اور ذہن میں طے کیا کہ کل سارے معاملات نپٹانے ہیں

قسط نہم
صبح بشیر کے آنے سے پہلے ہم تیار تھے، بوسکی کی قمیض سفید شلوار اور کوہاٹی کھیڑی، وہ سمجھا شاید چکوال جانا ہے۔
ناشتہ کیا، اُس سے لیڈی ڈاکٹر کے کلینک آنے کا ٹائم پوچھا تو پریشان سا ہو کے بولا دس بجے سے پہلے، ہم نے دس بجے پہنچنے کا عندیہ دیا اور ٹائم لینے کی ڈیوٹی اس کی لگائی ، نانی شہراں والی ڈائری اٹھائی ، ٹھیک آٹھ بجے آفس ٹائم پہ  دفتر پہنچ گئے، جی ایم صاحب حسب عادت وقت سے پہلے دفتر میں براجمان تھے، چارج ہینڈنگ اوور کی کاروائی  مکمل کی، کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور فائنل ڈیوز کا چیک وصول کیا، رشید فورمین کو گاڑی چیک کروائی ، کاغذات دیئے وہ باس سے طے شدہ 6  ہزار روپے ،ٹرانسفر لیٹر ساتھ لایا تھا ،سائن کر کے کار سے اپنے کاغذات سفری پاؤچ نکالے اور اسے مبارک کے ساتھ
چابی تھما دی، ایڈمن آفیسر سے آفس کی کار گرین نسان y120 دو دن کے لئے جی ایم کی منظوری سے لے لی،یہ کار میں اکثر سرکاری کام کے لئے استعمال کرتا تھا۔
تھوڑی دیر کو بھول گئے کہ ہم تو نوکری چھوڑ چکے، لنچ بارے تفصیل لی، ہمارے کیشئر  نے بتایا کہ تمام آفیسر اور اکاؤنٹس کا سٹاف مدعو ہے، ہم نے کہا کہ ایڈمن سٹور اور مارکیٹنگ والا سٹاف کیوں نہیں  ؟
ایڈمن آفیسر سے بات کی، اس نے دلیل دی کہ ڈسپلن میں سٹاف شامل نہیں  ہوتا، ہم اکاؤنٹ آفیسر بن کے بولے۔۔۔۔
یہ بل آفس انٹرٹینمنٹ کی مد سے ادا ہو گا، سوائے سکیورٹی گارڈز کے سب شامل ہوں گے، وہ خاموش رہا۔
کیشئر سے کہا پیٹی کیش سے گارڈز کو بھی سو سو روپے دینا ۔۔

فرحی جیسی

جی ایم صاحب کو پرانی روٹین کے مطابق آگاہ کیا، وہ مسکراتے رہے، بس اتنا کہا see you at lunch in Intercont۔ٹھیک نو بجے بنک میں تھے، مینجر کو خبر مل چکی تھی، وہ خاطر مدارات کے چکر میں تھا اور ہم ذہنی طور گھوڑے پر سوار تھے۔چیک جمع کرایا، اوور ڈرافٹ اکاؤنٹ چیک کیا ، چارجز کینسل کروائے تو پورے 16 ہزار کا بنک بیلنس بنا۔
مینجر سے اسلام آباد میلوڈی برانچ فون کرایا، وہاں کے مینجر سے تعارف ہوا، اکاؤنٹ وہاں ابھی کھولا نہیں  تھا لیکن10 ہزار کی او ڈی لمٹ کا وعدہ لے لیا۔
آدھ گھنٹے میں فارغ ہو گئے اور سیدھے خالد شاہ کے ہوٹل پہنچے، انٹرنس پر ہی میڈم روحی سے ملاقات ہو گئی۔۔۔۔۔وہ سمجھی ہم کسی اور کام سے یا ناشتہ کرنے آئے  ہیں،   کھڑے کھڑے اسے ڈاکٹر کا بتایا، سٹپٹا سی گئی، اتنے میں خالد شاہ وارد ہو گیا، اسے کہا فرحی ہمارے ساتھ لالہ زار جا رہی ہے دو تین گھنٹے بعد واپس آئے  گی ، دھیان رکھنا۔۔۔
اس کی ناک تک چہرہ دمک اٹھا، شیطانی مسکراہٹ کانوں تک پھیل گئی، بولا ، سر جی بے فکر رہیں چاہے  رات تک واپس آئیں ، میں ہوں نا ۔۔۔
فرحی پریشان سی کار میں بیٹھ گئی، لالکرتی تک راستے میں اسے سمجھایا کہ ڈاکٹر سے کچھ نہیں  چھپانا، وہ نروس تھی۔۔
صدر سے خادم حسین روڈ پر  مڑتے روانی میں استادی داؤ مارا، آپ کا کس کزن کے ساتھ افیئر تھا ؟۔
بے ساختہ جواب دیا، خالہ زاد نصیر سے ! ہم نے دوسرا پتہ پھینکا اور نقوی ؟
بولی، جی اس سے کلب میں دو بار ملی تھی، جلدی سے اضافہ کیا، دونوں سے ادھوری ملاقات تھی۔
کلینک کی پچھلی سائیڈ پہ  کار پارک کی ،عقبی سیڑھی سے کلینک میں داخل ہوئے۔ڈاکٹر صاحبہ منتظر تھیں  ، بشیر کے ساتھ معائنہ کے کمرے میں داخل ہوئے، سلام کیا، تو ڈاکٹر نے بے ساختہ کہا،
آپ کا تعارف بشیر نے اکاؤنٹ کے بڑے افسر کا کرایا تھا۔۔۔میرا  خیال تھا بھاری بھرکم موٹے شیشوں کی عینک ،بڑھا ہوا پیٹ،جیسی شخصیت ہو گی، آپ تو پنڈی گھیب کے ملک لگتے ہیں ، بوسکی ، چپل ، سمارٹ اور ینگ۔۔۔
ہم نے شکریہ ادا کیا ، جواب میں انکی تعریف کی، اچپٹی نگاہ سے فرحی کو دیکھا مسکرائی ، اور اسے بشیر کے ساتھ لیب میں بھیج دیا، نہ  ڈاکٹر نے ہمارا باہمی تعلق پوچھا نہ ہم نے کوئی  بات کی۔
اس نے ہمارے ہاتھ میں پرانی ڈائری بارے پوچھ لیا، ہم نے صاف بتا دیا کہ اس میں جملہ زنانہ پوشیدہ امراض کے  علاج اور علامات کی تفصیل ہے، ساتھ نانی شہراں کا تعارف اور اپنا تجربہ شیئر کیا، شوق سے ڈائری کھول کے دیکھنے لگیں ۔۔
تو پیریڈ ڈس آرڈر والا نشان زدہ صفحہ تھا، کہا آپ کیا گائنی جانتے ہیں ؟ ہم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔بولی بتائیں اس بی بی کا مسئلہ۔
ہم نے کہا سمپل، Horny ہونے پر cum نہ ہونا، وجائنا میں ایکٹیوٹی سے منسوریشن سسٹم میں دو نالی کا کارک  بند ہونے سے withdrawal ۔۔۔ جھٹ سے بولی علاج  کیا ہے؟
منسوریشن ایکٹو ٹیبلٹس اور سُپر میچور الکحل سے moisturizing ، لپری الکحل سے تر کر کے یوٹرس میں رکھنے سے چند گھنٹوں میں بند منہ کھل جاتا ہے اور سارا سسٹم بحال ہو جاتا ہے، نانی کے وقت میتھیلیٹڈ سپرٹ لگاتے تھے اس سے  درد زیادہ ہوتا تھا۔۔
وہ ہمارا منہ تکتے بولی ، ارے واہ آپ تو ہمارے ابا میاں کی طرح حکیم لگتے ہیں۔
اتنی دیر میں فرحی اور بشیر آ گئے۔۔
ڈاکٹر صاحبہ نے ہم سے پوچھا یہ میچؤر الکحل کہاں سے ملے گی، ہمارے پاس ہے لیکن فریش بریوڈ ۔۔

کانٹی نینٹل ہوٹل

ہم نے کہا، آپ بی بی کو چیک کریں، وہ مل جائے گی، ہم بشیر کے ساتھ چائے پی کے آتے ہیں۔
فرحی نے واپسی پر  بتایا تھا کہ ہمارے جانے کے بعد چیک کر کے ڈاکٹر نے کہا کہ ابھی تو پردہ بقارت کی جھلی بھی قائم ہے، چار گولیاں کھلا کے دوسرے کمرے میں لٹا دیا تھا، کہ وہاں اور مریض دیکھنی تھیں۔۔
کار میں سفری پاؤچ میں وہسکی منی فلاسک میں ضرور ہوتی ہے، بشیر کے ہاتھ وہ ڈاکٹر کو بھجوا دی، کونے پہ دتو گجر  کے ڈھابے پہ  آدھ کلو دودھ پتی کا آرڈر دے کے پیپل کے نیچے چارپائی پر لیٹ گئے، بشیر لیب سے خبر لایا کہ اس کے اصرار پر نیگٹو ٹیسٹ رپورٹ ، کچی، تو گھنٹہ بعد مل جائے گی، دتو کی چائے تو پورے لالکرتی بازار میں مشہور تھی۔۔۔
لیکن انتظار کی کوفت دودھ پتی پی کے بھی کم نہ ہوئی  ، آخر کار بلاوہ آیا، رپورٹ بھی نیگٹو تھی، ڈاکٹر نے منفی رپورٹ اور پیریڈز کی مبارک دی ہم نے فیس دی، ایک بجنے کو تھا، فرحی کو ہوٹل اتارا۔وہ تو پاؤں چھونے کو  تھی، منع کیا، اس نے ایمبیسی کا فون نمبر نوٹ کیا اور ہم  خود انٹر کانٹی نینٹل لنچ کے لئے حاضر ہو گئے۔۔۔
واش روم سے فریش ہو کر بار میں جھانکا، تو راجہ صاحب اور حضرت انجینئر سٹولوں پر بیٹھے ڈرافٹ بیئر کی چسکیاں لے رہے تھے، ہم نے فرحی کے پاک صاف غیر حاملہ ہونے کی خوش خبری سنائی ، دونوں جپھی ڈال کے گلے ملے۔۔
ہم نے کہا یہ دولہا بغیر بارات کیسے چل رہی ہے، راجہ صاحب نے تڑ سے جواب ٹھوکا ، تم اب کہہ سکتے ہو۔۔۔
کنواری کڑی قابو چڑھ گئی ہے، سہرا تو باندھو گے، انجینئر نے گال پہ  چٹکی کاٹ لی۔
لنچ کی رونق اچھی رہی، ایک خاندان کا جمع ہونا لگ رہا تھا، افسروں نے ذاتی اور سٹاف نے مشترکہ تحائف دیے۔
کار کی ڈگی اور پچھلی سیٹ بھر گئیں، الوداعی تقریر ایڈمن آفیسر نے کی ، باس کنی کترا گئے کہ کہیں میرے پیار میں رو نہ دیں، لیکن جب باہر گیٹ پہ  انجینئر اور میں کار میں بیٹھے تو سب کی آنکھیں تر تھیں۔
اب اگلا محاذ چاندنی چوک والا گھر تھا، چوک سے کمرشل اور نیشنل مارکیٹ کو جاتی مین روڈ کے سنگم پر دو کنال کا چار بیڈ روم کا سنگل سٹوری بنگلہ ، روڈ سائیڈ کا گیسٹ روم باتھ ڈریسنگ لاؤنج اور کچنٹ ، گیلری کا ایک دروازہ بند کرنے سے علیحدہ پورشن بن گیا سامنے لان سمیت، ملک صاحب میاں بیوی ایک بیٹا، چھوٹی فیٹ کار۔
ہم نے بس اتنی بات کی، ملک جی چھوٹا بھائی  سمجھ لیں ، انشااللہ بن کے رہوں گا، ابھی ساڑھے سات سو حصہ ڈالوں گا ۔۔۔۔ ملک صاحب نے کہا آپ ایسے ہی رہ لیں تو کیا ہے، بھائی  خریدے نہیں  جاتے۔
ہم  نے اندر سے پورشن دیکھا بھی نہیں  تھا، گفٹ اتارے تو اے پلس اکاموڈیشن ۔ ڈبل بیڈ موجود ، ہنس کے پوچھا۔۔۔بیڈ سمیت ہے ناں ملک جی، وہ بھی ہنس دیئے، انجینئر صاحب لان میں نماز سے فارغ ہوئے سن رہے تھے۔کہنے لگے اچھا ہے ایک چارپائی ، بستر کپڑے فریج ٹی وی لے آؤ اور ہے کیا؟ باقی چارپائیاں ٹیبل صوفہ وغیرہ میں لے جاؤں گا۔
ہماری برق رفتاری جاری تھی اسی شام شفٹنگ کی ، اور رات پنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن کے بنگلہ نمبر 20B-1  میں  شفٹ ہو گئے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *