• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تڑپتی عیدیں۔۔۔ رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت ” کا اقتباس

تڑپتی عیدیں۔۔۔ رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت ” کا اقتباس

چاند نظر آ گیا ہے۔۔۔میں نے میسیج لکھا۔۔لکھا تھا کہ”میرے چاند کو چاند مبارک ہو”۔میسیج بھیجتے ہوئے مسکراہٹ تھی جو کسی فقیر کے چہرے پر پوری دنیا فتح کرنے کے بعد بھی نظر نہیں آتی۔آنکھوں میں چمک تھی،ایسی چمک جو کسی پیدائشی نابینا کی آنکھوں میں دیدہ بینا ہونے کے بعد بھی نظر نہیں آتی۔ہاتھوں کی انگلیاں رقص کرتی ہوئی کی بورڈ پر گھوم رہی تھیں۔۔آنکھوں کی پتلیاں بھی چاند کو چاند لکھا دیکھ کر شرما رہی تھیں۔پلکیں بار بار دل کی دھڑکن کی مانند بے چینی سے جھپک رہیں تھیں۔ میسیج لکھ کر کئی بار انگلیوں نے لفظ چاند کو چھوا۔۔ہر بار لفظ چاند سے تمہاری سانسوں کی گرمی نے میری انگلیوں کو جلا دیا۔۔جلن دور کرنے کو ہر بار ہی انگلیاں میں نے ہونٹوں سے لگا لیں۔پھر شرما کر خود ہی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیں۔بھلا تمہیں جو انگلیاں چھو لیں وہ ہونٹوں سے لگ جائیں تو میں تو شرم سے ہی مر نا جاؤں۔۔۔پھر ہنس دی  کہ کیسی پاگل ہوں نا میں۔۔

میسیج تھا کہ  بھیجتے ہوئے عجیب سا خوف اور خوشی تھی۔۔۔خوف اور خوشی کا حسین امتزاج ویسا ہی تھا جیسا تمہارے ہاتھ میں ہاتھ ہوتے ہوئے بھی میں تم سے دور ہونے کا کہتی تو تمہارے چہرے پر خوف چھا جاتا اور ہاتھ ہاتھوں میں تھام کر تم دھیرے سے مسکرا کر کہتے کہ “ایسا کہہ کر تم میری جان لے لیتی ہو جانِ من”۔۔۔ایسی ہی جان میری بھی جا رہی تھی۔۔۔سینڈ کا بٹن دبایا ہی نہیں جا رہا تھا۔مگر چاند کو چاند لکھ بیٹھی تھی اب مٹا نہیں سکتی تھی ۔۔کیسے بھلا میں اپنی زندگی کو مٹا لیتی خود ہی۔۔شرما کر, گھبرا کر ,کانپتی انگلیوں سے بٹن دبا ہی دیا۔۔پانچ سیکنڈ جو تھے جس میں میسیج کینسل کر سکتی تھی دل اتنا دھڑکا کہ  مجھےلگا دھڑکن کے شور سے سارا جہان میری کیفیت جان لے گا۔میسج سینڈ ہوتے ہی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔چاند کو چاند لکھا پڑھ کر تم بھی تو مسکرا دیئے ہو گے نا؟۔۔رات بھر اس خاک نے اس آفتاب کا نظارہ کیا۔۔چاند جو لکھ بیٹھی تھی اب نظریں ہٹاؤں سکرین سے تو بھی مر جاؤں اور نظر جماؤں تو بھی شرم سے مر جاؤں۔کیسی کیفیت میں رات گزری کبھی آگ کے بستر پر پایا خود کو تو کبھی چاند کی ٹھنڈی چاندنی میں اپنا وجود منجمند ہوتا محسوس کیا۔
صبح نمازِ عید کے بعد سب سے عید ملتے بے چینی سی تھی۔۔کچھ کمی سی تو تھی۔۔عید تو عید تھی میری عید کیوں پھر عید نہ  تھی؟۔۔۔لوگوں نے تو آسمان کا چاند دیکھ کر خوشی منا لی۔۔میں تو اپنے چاند کو چاند کہہ کر بھی عید نہیں منا رہی تھی۔
اب میسج نہیں اب تو کال پر ہی عید مبارک کہہ کر میں عید مناؤں گی۔۔۔فون اٹھایا ساری فون لسٹ ٹٹولی۔۔سامنے نمبر تھا تمہارا کئی بار گزرا مگر جان بوجھ کر گزار دیا۔۔۔شرما گئی تھی۔۔دل کو دھوکہ دے رہی تھی نا میں۔یونہی کشمکش میں کئی بار نمبر گزار دیا۔۔آخر انگلیوں نے خود ہی کام کرنا چھوڑ دیا۔تمہارا نمبر سامنے چمک رہا تھا۔میں نے انگلی لگائی۔تمہارا نام چمکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔یا شاید ہنس رہا تھا مجھ پر۔۔تمہارے نام کے تمام ہجے یہاں وہاں بکھرتے محسوس ہوئے۔۔میں کبھی کوئی ہجہ پکڑتی آنکھوں سے لگاتی ,تو کبھی کسی کو پکڑ کر دل سے لگا لیتی۔تمہارا نام میری روح کی طرح بکھر رہا تھا۔اپنی تمام کائنات ہی اپنی آنکھوں کے سامنے ہجوں کی طرح بکھرتی اور بے ترتیب سی نظر آئی۔۔۔میں نے بہت مشکل سے دھڑکن پر قابو پا کر فوراًتمہارا نمبر ملا دیا۔گھٹنوں کے بل زمین پر آنکھ بند کئے بیٹھ گئی۔۔فون کان پر یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے سیسہ پگھلا کر ڈال دیا ہے۔۔دل کی دھڑکن بند ہو رہی تھی۔چند سیکنڈ میں کئی بار مر گئی میں ۔۔چاند کو دیکھ کر تو لوگ عیدیں مناتے ہیں شبراتیں مناتے ہیں۔۔۔پھر میرا چاند میرے لئے کسی عید کی نوید کیوں نہیں بنتا؟۔
تمہاری دید جب سے نہیں ہوئی کبھی میری عید نہیں ہوئی۔یوں تو تم روز ملو تو روز عید منا لو ں مگر اب جو رسائی نہیں تو ہر آنے والی عید میرے لئے صرف دکھ کی ایک گھڑی ہی ٹھہرتی ہے۔ ۔ایسا دکھ کہ جو مجھے ایسے جلاتا ہے کہ  میں راکھ ہو جاتی ہوں۔۔۔ہواؤں کے سنگ بکھر جاتی ہوں۔کوئی میرے بکھرے ریزریزہ ہوئے وجود کو ٹھکانہ نہیں دیتا۔تمہاری محبت میں خاک بن کر بھی میں بے مراد رہی اور راکھ بن کر بھی مرادیں بر نہیں آتیں۔یہ نمبر تو گزشتہ کئی سالوں سے بند ہے۔۔۔پھر بھی ہر تہوار پر سب سے پہلے تمہیں میسج  کرتی ہوں۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ پیغام جو آنسوؤں کے سیلاب اور دل پر گزری قیامت صغری کا عذاب لئے لکھا ہے کبھی تم پڑھ نہیں سکو گے۔۔کبھی جواب نہیں دو گے۔پھر بھی ہر بار شکستِ فاش تسلیم کر لینے کے بعد بھی گلے میں یاد کا طوق ڈالے تمہیں میسیج کرتی ہوں۔۔فون کرتی ہوں۔۔نہ کروں تو بھی طوق میرا گلا گھونٹ دے گا اور کروں تو بھی۔۔کرنے میں عافیت ہے کہ  مرنے والا کم سے کم یہ احساس تو لے کر مرے کہ  اس نے آخری کوشش کی تھی۔۔مگر یہ کوشش سال بھر کی میری برداشت اور صبر کو چور چور کردیتی ہے۔۔۔فون ملاتی ہو  ں توکانوں میں “مطلوبہ نمبر درست نہیں” کی آواز قیامت کے صور کی مانند محسوس ہوتی ہے۔ ۔میرے کان کے پردے برداشت ہی نہیں کر پاتے ۔ہر بار عید پر میں یونہی گھٹنوں کے بل بیٹھے اپنی مُردہ محبت اور دیمک لگے وجود پر ماتم کرتی ہوں۔
تم نے صرف ایک بار کہا تھا “کہ تمہیں کوئی عیدوں کی مبارک باد نہیں دیتا۔تمہارا ہونا نہ ہونا اہم نہیں”
اس ایک لمحے کے بعد ہر آنے والی عید پر میں تمہیں مبارک دیتی تھی ۔۔اور آج بھی دیتی ہوں۔ اور آخری سانس تک دیتی رہوں گی۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ  اب یہ مبارکباد تمہیں وصول نہیں ہوتیں۔میں اپنے وجود کو کانچ کی مانند زمین پر بکھیر دیتی ہوں۔ایک ایک ٹکڑا میرے وجود کا بکھرا ہوا مجھ سے اپنا قصور پوچھتا ہے۔۔اور میں شرمندہ ہو کر لاجواب ہوجاتی ہوں۔
دیکھو۔۔پھر سے میری ڈائری کے ورق بھیگ گئے۔ہر لفظ لکھا بھیگ گیا۔تمہارے نام کے سوا کسی لفظ پر دوبارہ قلم نہیں پھیرتی۔کیونکہ یہ نام اور اسکے ہجے میری دھڑکنوں کی وجہ ہیں۔ ۔ڈائری کھولوں تو ہر ورق پر تمہارا نام موجود ہو تو آنسو چمک اٹھتے ہیں۔۔۔
ہاں! باقی کے تمام اوراق پر سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں۔۔۔ہر لفظ پر ویسی ہی سلوٹیں ہیں جیسی میرے ماتھے پر تمہارے انتظار کی لکیریں پڑ گئی ہیں۔۔کسی لفظ کو لکھتی ہوں  فوراً آنسو مٹا دیتے ہیں۔۔۔کبھی سوچتی ہو ں تم جب یہ ڈائری پڑھوں گے تو کیسے جان پاؤں گے میں نے کیا لکھا؟؟؟
کیا یہ آنسوؤں سے پھیلی سیاہی,یہ بھیگے سلوٹ زدہ اوراق اور تمہارے نام پر پھیری ہوئی کئی کئی بار قلم تمہیں سمجھا دے گی کہ میں نے کیا لکھا اور کتنی اذیت میں لکھا؟میرا درد تم جان لوگے؟میری محبت کی مستقل مزاجی پر یقین کر لو گے؟
نہیں ۔مگر تم کہاں اَن کہے الفاظ سمجھا کرتے ہو۔
تمہیں کہاں آنسوؤں کا بے رنگ پانی سیاہی میں ڈوبے کرب کو سمجھنے دے گا۔۔۔تُم تو تُم ہو نا اور اب ستم ظریفی کہ  میں بھی اب تُم ہی ہوں۔۔۔آئینہ دیکھتی ہوں تو بے رنگ سا حسن مردہ سی جوانی دیکھ کر بہت روتی ہوں۔۔کیا حال کردیا ہے نا میں نے تمہارا۔۔۔میں تو خود کو “تُم” سمجھ کر سنوارتی تھی ۔۔۔ اب تو آئینہ اس “تُم” کی وہ تصویر پیش کرتا ہے کہ  میں تڑپ جاتی ہوں۔تمہارا چہرہ میری اداسی کی نظر ہو گیا۔اب “تُم” جو ایک بار پکار لو تو یہ چہرہ جو تمہارا نقش لئے ہے ایک بار پھر سے سنور جائے۔خدارا ! میرے لئے نہ سہی اپنے وجود کو میرے وجود میں سنوارنے کو ہی پکار لو۔۔۔پکار لو اس سے پہلے کہ  میں تمہارا نقش لئے مر جاؤں پھر تم شکوہ کرو کہ مجھ میں “تُم” کو سنبھال نہیں پائی میں۔۔۔

نوٹ۔۔۔خود کلامی کا یہ سفر “محبت” کے “م” سے “موت” کے “م” تک کا عام سفر نہیں.بلکہ کرب اور اذیت کی ایسی داستان ہے کہ  کبھی تڑپتی عیدیں ملیں گی ,کبھی سسکتی خوشیاں, کبھی روتے قہقہے ,تو کبھی مسکراتی اذیت۔ہر رنگ نرالا اور ہر تکلیف نایاب ملے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *