سات سوال بمقابلہ سات سوال۔۔ مولانا محمد کلیم اللہ حنفی

مولانا محمد الیاس گھمن کے بارے میں سوشل میڈیا پر انعام رانا صاحب کے سات سوال موجود ہیں جو مکالمہ ویب سائیٹ پر پڑھے اور دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ان کی سات سوالوں کی کوکھ سے سات سوال جنم لے رہے ہیں ۔ آئیے عدل و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کا موازنہ کرتے ہیں ۔ مکمل سوال اور انکا جواب حاضر ہے

(“پہلا سوال؛ کیا دارلافتاء قابل اعتماد ہیں؟

محترمہ سمیعہ خاتون نے مصاہرت کے حوالے سے ملک کے مختلف دارلافتاء کو سوال بھیجا۔ جس کا انکو جواب دیا گیا۔ مگر اہم سوال ہے کہ یہ خط ”لیک“کیوں ہوا؟

مصاہرت ایسا مسلئہ ہے جو ہمارے دیہاتوں میں اکثر پیش آتا ہے۔ اور دیگر بھی مسائل ہیں جو مذہبی رہنمائی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ایسے میں بہت سی خواتین ایک اعتماد کے ساتھ دارلافتاء میں مسلئہ بھیجتی ہیں۔ یہ ہی سمیعہ خاتون نے کیا۔ ایسے خط کو لیک کر کے کیا اعتماد کا استحصال نہیں کیا گیا؟ کیا ہماری خواتین اب پہلے کی طرح بے جھجک اپنے مسائل دارلافتاء بھیجنے کی جرات کریں گیں؟”)

محترم رانا صاحب !

آپ کے پہلے سوال پر سوال یہ ہے کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ محترمہ کا خط کسی دارالافتاء نے ”لیک “کیا ؟

جبکہ ہماری معلومات کے مطابق کسی دارالافتاء نے اپنی کسی ویب سائیٹ پر اس خط کو لیک نہیں کیا۔کسی دارالافتاء نے کسی اخبار پر اسے شائع نہیں کیا ۔کسی دارالافتاء سے اسے سوشل میڈیا کی زینت نہیں بنایا۔ اگر آپ کے پاس کسی ایسے دارالافتاء کا نام ہے تو پیش فرمائیں ۔ بغیر ثبوت کے سب دارالافتاء کے اعتماد کا استحصال نہ کریں ۔

(“دوسرا سوال: سال بھر مسلئہ کیوں اٹھا؟

خط سے ظاہر ہے کہ یہ سوال سال بھر پہلے اٹھا۔ متاثرہ خاتون نے مصاہرت کی بنیاد پہ فتوی لیا اور علہدگی لے لی۔ آخر اچانک کیا ہوا کہ یہ مسلئہ اس زور و شور سے اٹھانا پڑ گیا؟ کیا مسلئہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا کہ محسوس ہوا؟”)

محترم رانا صاحب !

دوسرے سوال پر سوال یہ ہے کہ آپ نے خط کے ظاہر سے نتیجہ کیسے اخذ کر لیا؟ اس کے بعد آپ کی یہ بات بھی بالکل خالص جھوٹ اور حقیقت حال سے کوسوں دور ہے کہ خاتون کی علیحدگی حرمت مصاہرت کی بنیاد پرہوئی۔ جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ خاتون کو مولانا موصوف نے 14اپریل 2015کو تحریری طورپرطلاق دی۔ جس کی فوٹو کاپی موصوف کے پاس اب بھی موجود ہے جو دیکھی جا سکتی ہے ۔ جبکہ جو استفتاءمحترمہ نے تحریر کیا ہے اس کی تاریخ 20 دسمبر 2015 ہے ۔جس سے محترمہ کی تحریر کی صداقت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔

نوٹ: یقیناً طلاق نامہ محترمہ کے پاس بھی موجود ہوگا ان سے بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔

(“تیسرا سوال: سمیعہ خاتون اور اہل خاندان کا رویہ کیا رہا؟

سمیعہ خاتون نے ایک معروف دینی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ سنا ہے کہ خود بھی دینی محاذ پہ بہت سرگرم عمل ہیں۔ وہ عام خواتین کی نسبت بہادر ہیں کہ الیاس گھمن سے شادی انھوں نے، بقول شخصے، اپنی مرضی اور بھائیوں کی مخالفت کے باوجود کی۔ یہ سب ہونے پر اس بہادر خاتون نے آخر کوئی قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی؟ اگر تب نہیں کی تو اب جب کہ یہ مسلئہ انکے خاندان کی بری تشہیر کا باعث بن رہا ہے، وہ سامنے آ کر کوئی قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کر رہیں یا واضح پوزیشن کیوں نہیں لے رہیں؟ میں یہ تو خیر مانتا ہی نہیں کہ مفتی ریحان نامی کوئی شخص ان سے ملا اور خود ہی یہ سب کر لیا۔ خود انکے صاحبزادے نے بھی تردید کی ہے۔ لیکن سوال اٹھتا ہے کہ خط تو چلو لیک ہو گیا ہو گا، یہ آڈیو کلپس اور دس سالہ گھریلو ملازمہ(افسوس ایک دینی گھرانے میں دس سال کی بچی بطور ملازمہ موجود تھی) کا بیان مفتی ریحان کو کس نے فراہم کیا۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا یہ رویہ فقط ان کے خاندان پہ مزید انگلیاں اٹھوائے گا۔”)

محترم رانا صاحب !

آپ کے تیسرے سوال کا جواب محترمہ اور ان کے خاندان کے لوگوں سے ہے اس لیے اس بارے کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

(“چوتھا سوال؛ الیاس گھمن کیوں خاموش ہے؟ 

کوئی بھی شخص جس پہ الزامات لگیں، وہ بھی ایک ایسی خاتون کی طرف سے جو اس کی بیوی رہ چکی ہو تو جواب دینا عین انسانی فطرت ہے۔ اگر کوئی سلیم فطرت شخص جوابی الزامات نہ بھی لگائے تو خود پہ لگے الزام کا جواب ضرور دیتا ہے۔ الیاس گھمن آخر خاموش کیوں ہیں۔ سال سے زیادہ جاری اس مہم اور پھر “آئی بی سی” پہ لگے مضمون کی اشاعت اور اس مہم کے عروج کے باوجود وہ کوئی قابل ذکر دفاع کرنے میں ناکام رہے۔ انکا کل آنے والا وڈیو بیان بھی فقط مذہبی جذبات استعمال کرنے کی ایک کوشش تھی۔ یہ ہمارے مذہبی طبقے کا وطیرہ ہے کہ خود پہ لگے الزام کو فورا اسلام یا مسلک کی طرف موڑ دو، یہ ہی کوشش الیاس گھمن و ہمنوا کی طرف سے کی گئی۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ ایسے معاملے میں الزام کا ثبوت نہیں بلکہ صفائی کا ثبوت ضروری ہے”)

محترم رانا صاحب !

چوتھے سوال پر سوال یہ ہے مولانا کب خاموش ہیں؟ مولانا نے تو ان کی وضاحت کر دی ہے ۔ محترم نوفل ربانی صاحب کے سامنے سارے الزامات کی حقیقت بتلا چکے ہیں، جس کا تذکرہ انہوں نے اپنے کالم میں کیا ۔ اسی طرح روزنامہ جنگ لاہور کے محترم بلال غوری صاحب اور ان کے ہمراہ پانچ آدمیوں کا وفد مولانا سے ویڈیو انٹرویو کرچکے ہیں ۔ انہیں پڑھیے اورانٹرویو کوسماعت فرمائیے۔ کم از کم آپ کے اس سوال کا جواب تو ضرورموجود ہے ۔

باقی آپ کا نکتہ ہی نقطہ اختلاف ہے کہ الزام لگانے والوں کے بجائے ملزَم صفائی کے ثبوت فراہم کرے۔

(“پانچواں سوال؛ علما اور اداروں کا رویہ کیا تھا؟

یہ سلسلہ ایک سال سے جاری ہے، خطوط لکھے گئے، باتیں ہوئیں اور اب تو باقاعدہ سکینڈل آ گیا۔ مگر ہمارے معروف علما اور وفاق المدارس جیسے ادارے جو ہر دوسری بات پہ طوفان اٹھا دینے کے عادی ہیں، اتنی پراسرار خاموشی کا شکار کیوں ہیں؟ الیاس گھمن پہ پہلے بھی الزام لگے، جنکا کوئی تسلی بخش جواب اس مسلئے کی طرح نہیں موجود، تو پھر ایسا شخص بطور ایک نمائندہ عالم اور “متکلم اسلام ” کیوں قبول کیا گیا؟ کیا وجہ ہے کہ اب بھی “کوڑا قالین کے نیچے کر دو” والا رویہ نظر آ رہا ہے۔ کیا علما یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ یہ قضیہ دراصل مدارس کی اخلاقی حیثیت پہ ایک سوال اٹھا گیا ہے۔ اگر وہ سامنے آ کر اپنے درمیان موجود کالی بھیڑوں کو نہیں نکالتے، تو مدارس اور علما سے نئی نسل کی بیزاری اور ان پہ اعتماد پر کمی میں مزید اضافہ ہی ہو گا

ویسے سوال یہ بھی ہے کہ جو شخص مصاہرت کے اس سوال کے جواب میں “نکاح قائم ہے” کہ رہا تھا، وہ اب بھی مفتی ہی سمجھا جائے؟”)

محترم رانا صاحب !

آپ کے سوال پر سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ سال بھر کہاں جاری رہا؟ معروف علماء کی پراسرار خاموشی والی بات بھی درست نہیں۔ پیر عزیز الرحمان ہزاروی کے صاحبزادے مفتی اویس عزیز ، علامہ ساجد خان نقشبندی، مفتی عبدالواحد قریشی ، مولانا عبدالکریم ندیم صاحب کے صاحب زادے مولانا احمد ندیم ، مفتی ندیم محمودی وغیرہ علما نے اس پر کھل کر لکھا اور بیان کیا ہے۔

(“چھٹا سوال؛ کیا ہم ایک تماش بین قوم ہیں؟

شاید اس سوال کا جواب بہت آسان ہے؛ ہاں۔ ہم ہر مصالحہ دار موضوع پہ مکھی بن کر بیٹھتے ہیں۔ ایک گمنام شخص نے ایک ادبی معیار سے بہت گری ہوئی داستان لکھی، اور ہم سب لوگ اس کو ایک ثبوت کی طرح برتنے لگے۔ الزام لگانے والے ہوں، دفاع کرنے والے یا قارئین(مجھ سمیت چھاپنے والے بھی)، کیا تماش بین ثابت نہیں ہوے؟ اس موضوع سے کراہت کی بنا پر میں نے اس سے اجتناب کیا مگر دیکھیے تو کہ “مکالمہ” کے اس وقتی پلے تین “مقبول ترین” کالم الیاس گھمن پہ ہیں۔ افسوس وقاص خان جیسے بہترین لکھاری کا “دو قومی نظریہ” نہیں بلکہ گھمن پہ مضمون دس ہزار کراس کرنے والا پہلا مضمون بنا۔ شاید ہمیں خود سے بھی سوال کی ضرورت ہے۔”)

محترم رانا صاحب !

آپ کے اس سوال پر سوال نہیں بلکہ اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے استثناءکے ساتھ اس کا جواب” جی ہاں “ ہے ۔

(“ساتواں سوال: حل کیا ہو گا؟

فیس بک پہ ایک طوفان اٹھا، دو گھرانوں کی عزت چوک میں پامال ہوئی، علما گندے ہوے، مدارس پہ سوال آئے، تو اب کیا بس یہ بات ختم ہو جائے گی؟اس مسلئے کا حل کیا ہو گا؟ قانونی طور پہ مصاہرت کو ثابت کرنا ممکن نہیں۔ اگر کوئی ریپ ہوا تو میڈیکل ثبوت کا وقت گزر چکا۔ لیکن کیا ایک مجرم کو اس وجہ سے بچ جانا چاہیے؟

پہلا حل؛ یہ ہے کہ ایک علما کی کونسل فورا اس مسلئے کو لے کر دونوں فریقین کا موقف سنے، میسر ثبوتوں کا معائنہ کرے اور قصوروار کو سزا کی سفارش کرے۔ اس پہ عمل یقینا ریاست ہی کا کام ہے۔ اگر الیاس گھمن قصوروار ہے تو علما بطور ادارہ اس کو مردود کریں اور ایک پالیسی بیان دیں کہ ایسا شخص قبول نہیں اور اسے اپنی صف سے نکال باہر کریں۔ فقط اظہار لاتعلقی کافی نہیں۔

دوسرا حل یہ ہے کہ عدالت عظمی فورا اس کا نوٹس لے اور اس مسلئہ کو ایک سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں حل کیا جائے۔ سمیعہ خاتون، الیاس گھمن، مولوی ریحان، سبوخ سید یا جو بھی شخص اس قضئے سے متعلق ہو یا معلومات رکھتا ہو، اسے طلب کیا جائے اور اس قصے کو نپٹایا جائے۔ اس سلسلے میں شاید مغربی قانون کا اصول ہی بہترین ہے کہ ریپ کیس پہ الزام کنندہ سچا ہے جب تک کہ جھوٹا ثابت نا ہو۔ یعنی واقعاتی شہادت پہ تکیہ کیا جائے۔

سموسوں اور آٹے کی قیمت کا سوموٹو نوٹس لینے والی عدالتوں سے امید ہے کہ اس مسلئہ پر پہ ایکشن لیں گی۔)”

محترم رانا صاحب !

آپ نے جو دو حل پیش کیے ہیں ان میں پہلی بات کا اظہار خود مولانا نے اپنے وضاحتی بیان میں کیا کہ علما کا پینل فریقین کا موقف سنے ۔ اس سے آگے والی بات آپ کی یک طرفہ جانبداری کو ظاہر کرتی ہے کہ اگر الیاس گھمن قصوروار ہے تو علماء فقط اظہار لاتعلقی تک نہ رہیں بلکہ اسے اپنی صف سے نکال باہر پھینکیں ۔ اور اگر خاتون الزام تراش اور بہتان باز نکلے تو اس بارے آپ نے کچھ نہیں فرمایا شاید بھول گئے یا گول کر گئے۔

دوسرے حل میں بھی آپ نے زیادتی کی ہے مشرقی تہذیب کے لیے مغربی قوانین کو مسائل کا حل بتایا جو سراسر غلط ہے ہاں اسلامی اور پاکستان کے آئین کی رو سے فیصلہ فریقین کو تسلیم کرنا چاہیے ۔

عدالت میں خاتون کے وکیل استغاثہ بن کر آپ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ قدم اٹھائیے سموسے اور آٹے والی قوم آپ کے ساتھ ہوگی ۔

گو مکالمہ الیاس گھمن صاحب کے موضوع پر مزید تحریروں سے معزرت کر چکا ہے، لیکن مفتی مرکز احناف میڈیا سے انعام رانا کے اٹھائے گئے سات سوالوں کا جواب دیا گیا ہے۔ سوال اور جواب دونوں حنفی صاحب نے لکھ دئیے ہیں۔ اس کا جواب دینے کے بجائے شاید اب معاملہ قارئین پہ چھوڑ دینا چاہیے۔ ایڈیٹر

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سات سوال بمقابلہ سات سوال۔۔ مولانا محمد کلیم اللہ حنفی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *