لسانی انقلاب کی ضرورت۔۔کاشف حسین سندھو

یورپ میں جب چند صدیاں قبل علمی انقلاب renaissance سیاسی انقلاب کو ساتھ لیکر برپا ہوا تو ایک بڑی تبدیلی یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ یورپ کی دو بڑی اشرافیائی زبانوں لاطینی اور فرنچ کی جگہ عوامی زبانیں یعنی جرمن انگلش لینے لگیں (ازمنہء وسطیٰ و قدیم میں علمی مواد صرف ان دو زبانوں میں ہی بیان کیا جاتا تھا) پروٹسنٹزم کے بانی مارٹن لوتھر کنگ نے پہلی بار بائبل کو لاطینی سے جرمن زبان میں ٹرانسلیٹ کیا تاکہ بائبل کو صرف پادریوں تک محدود نہ رہنے دیا جائے، عوام بھی اسے سمجھے اور خود تجزیہ کر سکے ،پادری بائبل کو لاطینی کے سوا بیان کرنے کو بھی گناہ سمجھتے تھے ،یورپیئن اشرافیہ ان دو زبانوں فرنچ اور latin کو بالکل ویسے ہی برتتی تھی ،جیسے آج پاکستان اور بھارت میں انگلش، ہندی اور انگلش، اردو کو برتا جاتا ہے ان زبانوں کو عوام اور اشرافیہ میں تفریق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے دو طبقے پیدا کیے جاتے ہیں اعلیٰ اور ادنیٰ ـ علم انگلش اور اردو کی طرح اعلیٰ طبقے کے پاس ہے اور ادنیٰ طبقہ برصغیر کی باقی زبانوں کی شکل میں جہالت کے دریا میں غوطے کھا رہا ہے کامیابی اس وقت ملے گی جب علم عوامی زبانوں میں گھر گھر دستیاب ہو گا اور اس پہ مخصوص ڈرائنگ رومز کی بجائے عوامی تھڑوں اور گھر گھر میں بحث ہو گی۔

اس سارے کھیل کا ایک دلچسپ پہلو ہے جو یورپیئن تاریخ سے بہت مماثلت رکھتا ہے وہ یہ کہ یورپ میں بھی جب تک اشرافیائی زبانیں حاکم رہیں فرقہ واریت اور مذہبی جنونیت بالکل ویسے ہی غالب رہی جیسا کہ آج برصغیر میں پاکستان اور بھارت ہندوازم اور مسلم ازم کے نام پہ جنگیں لڑ رہے ہیں اور نا صرف آپس میں برسرپیکار ہیں بلکہ انکے سماج اندرونی طور پہ بھی مذہبی فرقہ واریت سے رنگے ہوئے اور عوام کو لڑا رہے ہیں ،لیکن جیسے جیسے لاطینی اور فرنچ کی جگہ عوام کو انکی زبانوں میں مواد ملنے لگا روشن خیالی جنم لینے لگی ،انگلش اور جرمن اور دوسری زبانیں اعلیٰ ادبی شہکار اور مفکر و مشاہیر جنم دینے لگیں یعنی کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ علم دوستی عوامی زبانوں کی پرورش ہی میں چھپی ہے۔

ہمارے دانشور دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ برصغیر میں یورپ کی طرح سیاسی انقلاب علمی اور علمی انقلاب لسانی انقلاب کے پہلو بہ پہلو چلے گا، جو دوست صرف سیاسی و علمی انقلاب کو لسانی پہلو سے الگ کر کے دیکھ رہے ہیں وہ درست نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہیں گے۔

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ کسی بھی اشرافیائی زبان کی جگہ عوامی زبان نافذ کرنے کا مطلب ان زبانوں کے علمی ذخیرے کو ضائع کرنا اور ان سے استفادہ نا کرنا ہرگز نہیں ہونا چاہیے لاطینی اور فرنچ نے انگلش کو وسیع کرنے میں بھرپور حصہ لیا ہے، آج بھی لاطینی زبان انگلش اصطلاحات و تراکیب کے بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *