• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • رسوماتِ عزاداری، ثقافتی اثرات کے تناظر میں ۔۔۔۔ علامہ امجد عباس

رسوماتِ عزاداری، ثقافتی اثرات کے تناظر میں ۔۔۔۔ علامہ امجد عباس

 امام حسین علیہ السلام سالکِ راہِ حق ہیں، نواسہِ رسول، جوانانِ جنت کے سردار کو ایک بدکار، بے دین ظالم کی بیعت سے انکار کے “جرم” میں ساتھیوں سمیت بھوکا و پیاسا شہید کردیا گیا جبکہ اہلِ خانہ کو گرفتار۔۔۔ حسین علیہ السلام ظالم کے خلاف ڈٹ جانے والوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں، حسین علیہ السلام آزادی کے متوالوں کے دل کی دھڑکن ہیں۔ حسین علیہ السلام عزم و ہمت و حوصلہ و شجاعت کا استعارہ ہیں۔

حسین علیہ السلام سے مسلم و غیر مسلم سبھی انسانیت دوست، محبت کرتے ہیں۔ امام عالی مقام کی یاد دنیا بھر میں ہر سال منائی جاتی ہے۔ یاد منانے کے طریقے و رسمیں مختلف ہیں، یہ طریقے ثقافتی تناظر میں بنائے گئے ہیں۔ یاد منانے کا اصل مقصد امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا فلسفہ سمجھنا، آپ علیہ السلام کی روش پر چلنا اور دین کی خاطر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنا ہے۔

ہاں اہلِ تشیع بلکہ اہلِ سنت کی کتب میں بھی مذکور ہے کہ آپ علیہ السلام کی شہادت کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگاہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم افسوس بھی فرمایا کرتے، شہادتِ حسین کے روز حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے خواب میں غمگین حالت میں دکھائی بھی دیے۔

سو ذکرِ امام حسین علیہ السلام کرنا، آپ علیہ السلام سے اظہارِ محبت کرنا، آپ علیہ السلام کو خراجِ تحسین پیش کرنا، آپ علیہ السلام کے غم میں غمگین ہونا و رونا بہترین اعمال ہیں اور شرعی اعتبار سے درست ہیں۔ ماتم کرنا، سینہ کوبی، زنجیر زنی، قمہ زنی، تعزیہ داری و ذوالجناح کا نکالنا وغیرہ یہ سب ثقافتی رسمیں ہیں۔ اِنہیں اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ رسمیں مذہب کا حصہ نہیں ہیں (فقہِ جعفریہ کا بھی حصہ نہیں ہیں)۔

ماتم و سینہ کوبی احتجاج کا طریقہ ہے، فی نفسہ اس کو حرام یا ناجائز نہیں کہا جا سکتا جب تک بدن کو کافی نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو، نوحہ و بین کرنا جب تک صبر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف نہ ہو ممنوع نہیں ہے، غلط جملوں پر مشتمل نوحوں سے روکا گیا ہے. احادیث میں “النوح بالباطل” کی تعبیر آئی ہے کہ باطل نوحہ منع ہے۔

امام حسین کے گھوڑے کی شبیہ بنانے کی حرمت بھی ثابت نہیں ہو سکتی، تعزیہ کا بھی جواز ہے، لیکن زنجیر زنی شریعت اور عقل کی رُو سے نا مناسب عمل ہے۔ اسی وجہ سے شیعہ علماء بھی اس عمل کی مخالفت کرتے ہیں۔

تعزیہ بنانے کا کلچر خالص ہندوستانی ہے، یہاں کے ہندو و سکھ بھی اسی طرح تعزیے بناتے ہیں، اُنہون نے امام حسین علیہ السلام کے روضہ اور دیگر چیزوں کے تعزیے بنانا شروع کیے، اہلِ تشیع نے بھی یہ روش اختیار کر لی۔ اسی طرح امام حسین علیہ السلام کے گھوڑے کی شبیہ بنانا بھی صرف برصغیر کا کلچر ہے، ورنہ پوری دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں کیا جاتا، حتیٰ کے شمالی پاکستان میں بھی ذوالجناح کا رواج نہیں ہے۔ (شرعی اعتبار سے سبھی رسومات بذاتِ خود غلط نہیں قرار دی جا سکتیں، ہاں زنجیر زنی نادرست عمل ہے)۔

عالمی سطح پر عزاداری کی رسومات پر آلِ بویہ، صفوی حکمرانوں، فاطمی خلفاء اور برصغیر کے شیعہ و ہندو حکمرانوں اور علاقائی رسوم و رواج کے گہرے اثرات ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی یاد میں اِِن رسوم کی انجام دہی سے بھی زیادہ ضروری “پیغامِ حسینی” کو سمجھنا اور اُس پر عمل کرنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی یاد منانا اچھا عمل، لیکن آپ علیہ السلام کی سیرت پر چلنا لازمی ہے۔ رسومات کی انجام دہی سے زیادہ ضروری اسلام فہمی ہے۔ وہ ہدف جاننا ہو گا جس کی خاطر امام عالی مقام نے شہادت گوارا کی۔

جہاں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو یاد رکھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے وہیں آپ علیہ السلام کی تعلیمات کو یاد کرنے اور اُن پر عمل پیرا ہونے کا اہتمام کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں اپنی عملی زندگی کو “حسینیت” کے اصولوں میں ڈھالنا ہوگا۔ نہ ظالم بنو، نہ ظالم کے ساتھی، نہ ظلم برداشت کرو، یہی حسینیت کا بنیادی پیغام ہے۔

حسین تیرا، حسین میرا حسین سب کا، حسین رب کا جوش ملیح آبادی نے کیا خوب فرمایا ہے انسان کو بیدار تو ہو لینے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *