حُسین ابن علی ؑ ۔۔۔۔ سید سبط حسن گیلانی

تاریخ انسانی میں تین ایسے کردار دکھائی دیتے ہیں۔جن پر وقت دھول ڈالنے میں پوری طرح ناکام رہا۔یہ تینوں مختلف ادوار میں پیدا ہوئے۔ لیکن حیرت انگیز مماثلت ہے جو ان میں پائی جاتی ہے۔ان تینوں پر جب یہ بات آشکار ہوئی کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔اوراس کے بچائو کا ایک ہی طریقہ ہے،کہ اپنے نظریات یا اصولوں سے یا تو انحراف کر لیں یا بہت فاصلہ پیدا کر لیں۔اس مرحلے پر ان تینوں کا ردِ عمل ایک جیسا دکھتا ہے۔ایک طرف ان کا موقف ۔نظریہ ،اصول۔ دوسری طرف زندگی۔ان میں سے کسی ایک کا چنائو۔ان تینوں نے اپنی زندگی اپنے اصولوں پر قربان کر دینے کا کٹھن فیصلہ کیا۔اور اپنی قربانی کو ایک خاص طریقے سے ترتیب دیا۔ایک ایسا طریقہ جو ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔کبھی نہیں مرتا۔سچ کی راہ پر چلتے ہوئے مظلومیت کا راستہ۔ شہادت کا راستہ۔ سچ کی راہ کے یہ تین عظیم ترین کردار ہیں۔ سقراط،عیسیٰ ابن مریم اور حسین ابن علی۔حسین ابن علی کو دوسرے دو شہیدوں پر ایک حوالے سے سبقت حاصل ہے۔ سقراط اور عیسیٰ نے اکیلے اپنی جان قربان کی مگر حسین ابن علی نے اپنی اولاد اپنے خاندان اور ساتھیوں کی قربانی بھی دی۔یہ بات سوفی صد سچ ہے، اگر سقراط زہر کا پیالہ نہ پیتا تو مر جاتا۔عیسیٰ مصلوب نہ ہوتے تو دفن ہو جاتے۔حسینؑ اگر کربلا کے میدان میںدریا کے کنارے پیاسے ذبح نہ ہوتے تو صرف مذہبی کتابوں میں ہی زندہ رہ سکتے۔سچ کی راہ کے پہلے شہید سقراط نے جن اصولوں پر اپنی جان قربان کی۔وہی اصول تقریباً پانچ صدیوں کے فاصلے پر ناصریہ فلسطین میں پیدا ہونے والے عیسیٰ ابن مریم کے بھی تھے۔ اور عیسیٰ کے تقریباً سوا چھ سو سال بعد کربلا عراق میں نہر فرات کے کنارے تین دن کے پیاسے شہید حسین ابن علی کے اصول بھی وہی تھے۔

سوال کا حق۔حریت فکر۔ ملوکیت وآمریت سے انحراف۔ضمیر اور کردار کی سربلندی۔باطل کی تقلید اور بیعت سے انکار۔مذہب کے نام پر آمریت کے چہرے سے نقاب کُشائی۔ظلم کے سامنے سرجھکانے کی بجائے کٹا دینا۔بلا امتیاز مذہب و ملت بنی نوع انسان نے سچ کی راہ کے ان شہیدوں سے بہت فیض پایا۔ بہت سارے کٹھن اوراندھیرے راستوں میں روشنی کے ان میناروں سے اپنی منزل کا سراغ پایا۔ملیح آباد کے پٹھانوں کے گھر پیدا ہونے والے شبیر علی خان جوش یاد آتے ہیں۔وہ جوش جس نے میر اور غالب کے بعد اردو شاعری کا سر مزید بلند کیا۔

    کیا صرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسین ؑ

      چرخِ نوع بشر کے تارے ہیں حسین ؑ

 انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

   ہر قوم پُکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

  یہ بات تو طے ہے کہ حسینی صرف شیعہ ہی نہیں ہوتے ہیں۔ سواد اعظم اہل سُنت بھی اتنے ہی حسینی ہیں جتنا کوئی دوسرا۔صرف ایک مٹھی بھر طبقہ ہے جو یزید کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے۔ان میں سے بھی اکثر وہ ہیں جوفرقہ وارانہ مخالفت برائے مخالفت کے تحت ایسا تاثر دیتے ہیں۔اور یہ طبقہ اہل سنت کے ہاں معتبر نہیں ہے۔حسین ؑ کو ماننے کے لیے نہ شیعہ ہونا ضروری ہے نہ مسلمان،البتہ انسان ہونا ضروری ہے۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ گواہ ہے،کہ ہندووں اور سکھوں نے بھی محبت حسینؑ کا دم بھرا ہے۔ میرے والد نے مجھے بتایا تھا، کہ امام حسینؑ کے جلوس میں حضرت عباسؑ کے پرچم کے راستے میں حائل ہونے والے ہندو ئوں کے مقدس درختوں ،پیپل اور بوہڑ، کو ہندئووں نے خود کاٹ ڈالا۔ہندو لٹریچر میں امام حسین ؑ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ایک روایت کے مطابق امام نے لشکر یزید سے کہا تھا میرے خون میں ہاتھ مت رنگو۔اس کا داغ قیامت تک تمہاری پیشانیوں سے مٹ نہیں سکے گا۔ میرا راستہ چھوڑو میں ہندوستان کی طرف ہجرت کر جاتا ہوں۔ اس پر معروف ہندو شاعرہ روپ کماری نے کہا تھا۔

 حسین اگر بھارت میں آتا تو پلکوں پہ اُتارا جاتا                          یوں ظلم سے لعل نبیﷺ کا نہ مارا جاتا

 صبح و شام اُس کی چوکھٹ پر پوجا کی جاتی

   ہند کے دیش میں بھگوان پُکارا جاتا

 بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ راولپنڈی شہر کے مرکزی جلوس کا روٹ ایک سکھ کی کاوش سے منظور ہوا تھا۔ کمیٹی محلہ کے قریب اس سردار سکھ کے نام سے آج بھی ایک محلہ آباد ہے۔ گرو نانک دیو جی تو ایک روایت کے مطابق نجف اور کربلا زیارت کے لیے خود چل کر گئے تھے۔ نجف اشرف میں ان کے نام سے ایک جگہ آج بھی منسوب ہے۔لکھنو میں ہندو باقاعدہ تعزیہ لے کر جلوس میں شامل ہوتے تھے۔برہمنوںمیں حسینی برہمن آج بھی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ملتان اور چنیوٹ میں سنیوں کے تعزیے تعداد میں شیعوں سے آج بھی زیادہ ہوتے ہیں۔حسینیت کے ساتھ پچھلے چالیس پچاس سال میں ایک اور ظلم یہ ہوا ہے کہ اسے ایک خاص فرقے کی میراث سمجھ لیا گیا ہے۔اور اس فرقے کے اندر در آنے والی فرقہ واریت کے سبب سواد اعظم نے اپنے قدم کھینچ لیے۔ سنیوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔میرے بچپن میں سنی محرم کے جلوسوں اور نذر نیاز میں باقاعدگی سے شامل ہوا کرتے تھے۔ سنیوں اور شیعوں کے درمیان ایک فرق تھا۔ سنی ماتم نہیں کرتے تھے۔میں نے سنی بزرگوں کو امام کی شھادت پڑھے جانے کے وقت شیعوں سے اونچی آواز میں گریہ کرتے خود سنا ہے۔ مسلمانوں کے پاس امام حسینؑ واحد ایسی شخصیت ہیں جو جگت گُرومانے جاتے ہیں۔حسینؑ کے نام اور اس لفظ میں ایک ایسا رومانس ہے جو سیدھا دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔

کل ہی ایک معروف برطانوی اخبار میں ایک ایرانی خاتون کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے۔اس خاتون نے ایک ڈاکومنٹری بنائی ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر مذہب چھوڑنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ان میں کچھ ایسے ہیں جو اپنے شعوری ارتقا کے سبب مذہب سے دور ہوے ہیں اور اکثریت ایسوں کی ہے جو بدترین فرقہ واریت و جنونیت سے دلبرداشتہ ہو کر اس گروہ میں شامل ہوے ہیں۔میرا خیال ہے حُسینیت میں اتنا دم ہے کہ وہ اس ناراض طبقے کو منا کر واپس پلٹا سکے۔اس لیے کہ اسلام میں یہ واحد ایسی شے ہے جو ہمہ گیر کلچر میں ڈھل سکی ہے۔اور کلچر میں ایسی قوت ضرور ہوتی ہے جو آزاد خیالوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔بر صغیر کے معروف سیکولر دانشور جناب سبط حسن نے جب محرم میں سیاہ لباس پہنا تو معروف افسانہ نگار کرشن چندر نے ان پر اعتراض کیا۔ہمیں مذہب سے ہٹا کر خود مذہبی بن بیٹھے ہو۔ انہوں نے کہا تھا۔ محرم اورحسینیت میرا کلچر بھی تو ہے۔

حُسینیت کے ساتھ ایک المیہ تو یہ ہوا ہے کہ اسے ایک فرقے کی میراث قرار دے دیا گیا۔اور اس فرقے نے جیسا سلوک باپ کے ساتھ کیا ایسا ہی برتائو بیٹے کے ساتھ بھی کیا۔ باپ جیسے عظیم الہہیات دان اور مفکر امام کو ایک عظیم جنگجو بنا کر پیش کیا۔صاحب ِ نحج البلاغہ کو صرف تلوار کا دھنی بنا کر ان پر ظلم کیا گیا۔اور بیٹے کو صرف ایک ایسا مظلوم جس پر بے پناہ ظلم توڑے گئے۔اپنی دانست میں امام حسینؑ کی ملکیت کا دعوے دار فرقہ اگر مجھ سے ناراض نہ ہو تو مجھے کہنے دیجیے کہ امام حسینؑ ایک خاص پہلو سے اپنے عظیم باپ سے بھی بڑا کردار ہیں۔اسلام کی کمر بلا شبہ علیؑ کی تلوار نے مضبوط کی تھی۔اتنی مضبوط کہ جس نے ایک صدی کے اندر اندر دو عظیم سلطنتوں کو تسخیر کر لیا تھا۔ لیکن امام حسینؑ نے ایک ایسی آمریت کو للکارا تھا جو دوعظیم سلطنتوں کو روند کر دو براعظموں تک پھیل چکی تھی۔ان کے پاس کوئی آزمودہ فوج نہیں تھی۔ جب انہوں نے ایک مختصر سے قافلے کے ساتھ 28اور29رجب 60ہجری کی درمیانی شب مدینے کو خیر آباد کہا تو ان کے ساتھ کل 145افراد تھے۔ 45سوار اور باقی پیدل۔2محرم 61ہجری کو ان کے قافلے نے کربلا میں پڑائو کیا تو اس قافلے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا۔ 90سے بھی کم لوگ تھے جنہوں نے ان کے ساتھ شہادت پائی۔عصر کے وقت مدِ مقابل یزید کے تیس ہزار سے زائد لشکر کے سامنے وہ بلکل تنہا ہو چکے تھے۔

اپنی شھادت سے کچھ لمحے پہلے انہوں نے اپنا آخری تاریخی خطبہ اونٹنی پر سوار ہو کر دیا۔ اونٹنی پر سوار ہو کر متحارب فریق سے بات کرنا عرب میں امن اور صلح کی علامت سمجھا جاتا تھا۔اس خطبے میں انہوں نے کہا تھا۔مسلمانو اس وقت فرشِ زمین پر میں واحد ایسا انسان ہوں جو کسی نبیﷺ کا براہ راست نواسہ ہے۔میرے ہاتھ میں تلوار ،میرے سر پر پگڑی۔میرے جسم پر عبا۔میرا گھوڑا ۔یہ سب میرے نہیں ہیں۔تمہارے نبیﷺ کی اشیا ہیں۔ میں اپنے سب بیٹوں بھتیجوں اور ساتھیوں کے خون تمہیں معاف کرتا ہوں،میرے خون میں ہاتھ مت رنگو۔ یہ داغ قیامت تک تمہاری پیشانی سے مٹائے نہیں مٹے گا۔جواب میں عمر سعد نے کہا تھا ، ہم ایسا کرنے کو تیار ہیں بشر طیکہ بیعت کر لیجیے۔اس وقت آپ کے لب ہائے مبارک سے دو تاریخی جملے نکلے۔ جو آج بھی نہ صرف تاریخ بلکہ وقت کی پیشانی پر انسانی آزادی کی علامت بن کر جگمگا رہے ہیں۔ “میرے عظیم ناناﷺ کے دین اسلام میں کسی ظالم آمر کی بیعت حرام ہے۔اگر میرے خون سے میرے ناناﷺ کا دین بچ سکتا ہے تو اے تلوارو مجھ پر ٹوٹ پڑو”۔ جس آمر کو آپ نے للکارا تھا اس کی حکومت آئیندہ دو سال بھی برقرار نہ رہ سکی۔

آمریت آج بھی دنیا میں زندہ ہے۔ مگر حسینیت آج بھی اس سے بر سرِ پیکار ہے۔حسینیت نام ہی حریت ِ فکر کا پرچم بلند کر کے ظلم کے ساٹھ ٹکرا جانے کا ہے ۔ جوش پھر یاد آتے ہیں۔انہوں نے اپنی آپ بیتی ’’ یادوں کی برات‘‘ میں ایک واقعہ لکھا ہے۔ جن دنوں ہندوستان میں تحریک آزادی کا زور تھا۔ جوش نے ، حسینؑ اور آزادی، کے نام سے اپنی معروف نظم لکھی تھی۔ جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ انگریز کمشنر سے ملے۔اس انگریز کمشنر کا کہنا تھا۔ میں نے حسینؑ ابن علیؑ کا مطالعہ کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر مٹھی بھر انسان بھی اپنے اس عظیم لیڈر کی روح خود میں سمو کر تاج برطانیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو برطانیہ کا شاہی پرچم دنوں میں سرنگوں ہو سکتا ہے۔کیا تم لوگوں میں اتنا دم ہے؟۔

 آخر میں سُنیوں سے التماس ہے کہ حسینؑ تمہارے نبیﷺ کے نواسے کا نام ہے۔وہ نواسہ جو تمہارے نبیﷺ کو بہت پیارا تھا۔جسے وہﷺ کندھے پر بٹھا کر مدینے کی گلیوں میں سیر کرایا کرتے تھے۔ تمہیں اگر شیعوں سے کوئی شکایت ہے تو اپنے نبیﷺ کے نواسے کا دن خود سے اپنے طریقے سے منا لیا کرو۔تمہارے پاس مولانا طارق جمیل جیسے ذاکروں کی کیا کمی ہے؟۔اور شیعوں سے گزارش ہے کہ اپنی مجالس کو اس قابل رہنے دو کہ وہاں کوئی دوسرا مسلمان بھی شریک ہو سکے۔جس وقت تمہارا کوئی ذاکر کوئی خطیب امام حسینؑ کے ممبرپرکھڑے ہو کر کسی دوسرے کلمہ گو فرقے کی دل آزاری کر رہا ہوتا ہے ،انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہا ہوتا ہے۔اس وقت ممکن ہے وہ تمہارے فرقے کو ’’ تقویت‘‘ پہنچا رہا ہولیکن کربلا والوں کے مشن کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔آج ہی ایک انگریزی اخبار میں امام خامنہ ای کا فتویٰ شائع ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے ماتم کے نام پر خون بہانے کی رسم کو غیر اسلامی رسم قرار دیا ہے۔اب تو تم چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے پھول جیسے چہروں پر تیز دھار چھریوں سے ضربیں لگا کر ان کا خون بہا رہے ہوتے ہو۔یہ اسلام اور حسینیتؑ کی سر بلندی کا کونسا مہذب طریقہ ہے؟۔کیا آج کل کی مہذب عالمی سوسائٹی ان طور طریقوں سے متاثر ہو سکتی ہے؟۔کیا تم نے حسینیت ؑ کو جنسِ بازار بنا کر نہیں رکھ دیا؟۔جس کی خریدو فروخت پر ایک مخصوص طبقہ پل رہا ہے۔جسے ڈاکٹر علی شریعتی نے منافق طبقہ قرار دیا تھا۔ جو اپنا حصہ سکہ رائج الوقت کی شکل میں نقد وصول کرتا ہے اور تمہیں ادھار پر ٹرخاتا ہے۔یعنی جس کا اجر تمہیں مرنے کے بعد ملنے کی نوید سناتا ہے۔

شہید علی شریعتی نے کہا تھا، میں ایسے مذہب کو مذہب ماننے پر تیار نہیں جو تمہاری دنیا سنوارنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو مگر آخرت سنوارنے کا دعویٰ کرتا ہو۔کیا تمہارے نبیﷺ اور تمہارے آئمہ کا مذہب ایسا ہی ہے؟۔اگر ایسا نہیں ہے تو اس’’ مروجہ مذہب ‘‘سے تمہاری کونسی دنیا سنور رہی ہے؟ سوائے تمہارے ذاکروں اور خطیبوں کے۔اگرحسین ؑ اور حُسینیت ؑ سے تمہیں سچی محبت اور عقیدت ہے تو اسے اس کا اصل مقام جو کہ عالمی انسانی ورثہ ہے دینے کی جدوجہد کرو۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *