مسلمان اور چاند کی اٹھکیلیاں۔۔۔۔عامر کاکازئی

ہر رمضان اور عید پر ایک سادہ اور عام مسلمان کو جس مسئلے سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، وہ  یہ ہے کہ کس دن اور کس مُلا کے کہنے پر روزہ رکھا جائے اور عید منائی جاۓ۔
سوال یہ ہے کہ کیایہ مسئلہ حالیہ تاریخ کا ہے یا پھر اول دن سے ہے؟
جواب تلاش کرتے ہیں، تیرہویں صدی کے عرب سکالر جناب محئ الدین یحئ النواوی کی کتاب الرسلہ سے۔ اس کتاب میں انہوں نے مختلف مکتبہ فکر کے اماموں کا چاند کے بارے میں نکتہ نظر پیش کیا تھا، جن میں امام شافعی اور امام احمد بن حنبل شامل ہیں۔
امام شافعی کے خیال میں چاند کو مکمل طور پر فلکیاتی ، اجرام فلکی اور ریاضی کے علم حساب کے ذریعے سے حل کرنا چاہیے جبکہ امام احمد بن حنبل کا خیال ایک دم مختلف تھا، ان کے مطابق جب تک ننگی آنکھ سے چاند کو نہیں دیکھا جائے گا، اُس وقت تک روزہ اور عید کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس زمین پر کسی بھی جگہ سے اگر چاند نظر آنے کی اطلاع ملتی ہے تو ان لوگوں پر بھی چاند کی روئیت فرض ہو جاتی ہے، جنہوں نے اپنی  آنکھ سے نہیں دیکھا۔ تیسری طرف امام ابن تیمیہ اپنی کتاب رسالہ فی ہلال میں لکھتے ہیں کہ نئے مہینہ کے آغاز کا تعین صرف اور صرف ننگی آنکھ سے ہی دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ وہ مکمل طور پر کسی بھی حساب یا اجرام فلکی کے علم کو مسترد کرتے ہیں۔ یاقوت ابن عبداللہ ال ہموائی کے خیال میں صرف اور صرف حکومت وقت کے پاس یہ اختیار ہے کہ کوئی  بھی طریقہ اختیار کرتے ہوئے نئے مہینے کااعلان کرے۔ پہلی بار 1920 میں گرینڈ مفتی شیخ مصطفئ مرگزائی، جامعہ الاظہر قاہرہ ، مصر نے درمیان کا رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ننگی آنکھ کی روئیت   اس وقت  ہی قابل قبول  ہو سکتی ہے، اگر سائنسی طور پر بھی چاند نظر آنے کے شواہد موجود ہوں۔
پاکستان میں پہلی بار 1948 میں چاند دیکھنے کے لیے ایک سینٹرل کمیٹی بنی جو کہ ڈسٹرکٹ کمیٹیوں اور میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے نئے مہینے کاتعین کرتی تھی۔یاد رہے کہ اگر مشرقی پاکستان جو کہ سینکڑوں میل دور تھا، میں چاند دیکھ لیاجاتا تو مغربی پاکستان میں بھی روزہ یا عید منا لی جاتی تھی۔  پاکستان میں سب سے پہلے 1958 میں ایک سیاسی وجہ کی بدولت پشاور میں روزہ دو دن پہلے رکھا گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمیشہ پشاور والوں نے ہی رنگ میں بھنگ ڈالا، جواب ہے کہ نہیں۔ دوسری بار 1960 میں کراچی کے علماء نے ایوب خان کی حکومت کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ تیسری بار، مارچ 1961 میں ایک بار پھر کراچی کے علماء نے ایوب خان کی حکومت کا فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہوۓ، اپنی عید الگ منانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ مولانہ احتشام الحق تھانوی صاحب نے کیا۔ اس سال پہلی بار تین دن عیدیں منائی  گئیں۔ پشاور اور صوبہ سرحد میں مارچ سترہ کو، سینٹرل حکومت نے مارچ اٹھارہ کو جبکہ کراچی والوں نے مارچ انیس کو عید منائی۔چوتھی بار 1964 میں کوئٹہ سے مولانا  احتشام صاحب نے حکومت کے روزے کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔جس پر ان کو جنرل ایوب کی حکومت کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پانچویں بار 1966 میں کراچی کے علماء نے جنرل ایوب کی حکومت کے فیصلے  کے خلاف جاتے ہوۓ ایک بار پھر عید اکٹھے منانے سے انکار کر دیا۔ 1967 میں ایک عجیب کام ہوا۔ جنرل ایوب خان کی حکومت نے پہلے اعلان کیا کہ جمعہ کو عید ہے مگر رات گۓ یہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔ وجہ یہ بنی کہ کچھ علماء سوء نے جنرل ایوب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ایک دن میں دو خطبے حکومت وقت کے لیے بُرا شگون ہوتا ہے اور دو خطبے ایک دن کرنے سے جنرل ایوب کی حکومت ختم ہو جاۓ گی۔ اس ڈر کے پیش نظر عید کو ہفتے  کے دن شفٹ کر دیا گیا۔ اس فیصلہ کے خلاف جاتے ہوئے تین علماء نے حکومت کے خلاف بغاوت کر دی اور جمعہ کوعید منانے کا اعلان کیا۔ ان میں کراچی سے جماعت اسلامی کے مولانا مودودی،مولانا اشرف الحق تھانوی اور لاہور سے مولانا محمد حسین نعیمی شامل تھے۔ ایوب خان نے اسے اپنی حکومت کے خلاف غداری سمجھتے ہوئے تینوں علماء کو گرفتار کر لیا اور تین مہینوں کے لیے جیل بھیج دیا۔
بھٹو نے 1974 میں اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا اور باقائدہ قانون سازی کرتے ہوئے روئیت ہلال کمیٹی قائم کی۔ اس کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ چیئرمین کا عہدہ صرف تین سال کے لیے ہو گا اور پچھلا چیئرمین دوبارہ نہیں بن سکے گا۔ مگر بدقسمتی سے 2001 سے مفتی منیب الرحمان اس سیٹ پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ اس اثنا میں پانچ صدر، چار چیف آف  آرمی سٹاف، آٹھ وزیراعظم تبدیل ہوۓ، مگر کوئی بھی اس ملک کے سب سے مضبوط بندے کو اپنی سیٹ سے نہ ہلا سکا۔
1997 میں مولانااطہر نعیمی اس کمیٹی کے چیئرمین تھے اور مفتی منیب الرحمان کمیٹی ممبر۔ اس وقت کے صوبہ سرحد کے ممبر مولانا محمد یوسف قریشی نے ان دونوں کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ انہوں نے صوبہ سرحد کے لوگوں کی گواہی ماننے سے انکار کرتے ہوئےاگلے دن روزے  کا اعلان کر دیا تھا۔ مفتی منیب الرحمان صاحب کی پشاور کے لوگوں سے نفرت بہت پُرانی ہے۔ ابھی ایک دن پہلے ان کا بیان آیا کہ “پشاور کا شروع دن سے یہ وطیرہ رہا ہے۔ ان کا کوئی  دین ایمان نہیں۔” ان کی یہ نفرت مسلکی کے ساتھ ساتھ نسلی بھی لگتی ہے۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا صرف پاکستان میں دو عیدیں ہوتی ہیں؟ جواب ہے کہ نہیں، انڈیا میں کیرالہ، دہلی اور لکھنو والوں کی الگ الگ عیدیں ہوتی ہیں، انڈونیشیا میں محمدیا اور نہاد اتول کے علماء میں ہمیشہ عید پر اختلاف رہتا ہے۔ انگلینڈ، امریکہ اور یورپ کے بھی اکثر ملکوں میں دو دو عیدیں ہوتی ہیں۔
آخری سوال کہ کیا پاکستان میں کبھی ایک روزہ اور عید منائی جا سکے گی؟ جواب نفی میں ہے۔ کیونکہ کوئی حکومت بھی اس معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہوتی۔
تین ضمنی سوالات:
اگر پاکستان اس وقت سعودیہ کی خلافت کے تحت ہوتا تو کیا ہم سعودیہ کے ساتھ ایک دن عید مناتے یا الگ؟
مفتی منیب الرحمان اور مفتی پوپل زئی سائنس کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں اورچاند کی روئیت پر یقین رکھتے ہیں تو بقول غالب، ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ ہر علاقہ اپنی روئیت پر روزہ اور عید کا اعلان کر سکتا ہے۔
کیا عید چودہ اگست ہے کہ ایک دن نہ منائی  تو ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جاۓ گی؟
بقول انور مسعود
چاند کو ہاتھ لگا آئے اہل ہمت
ان کو یہ دھن ہے کہ اب جانب مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں
ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں
اس مضمون کی تیاری میں عابد حسین کی ہیرلڈ میگزین، امین جیلانی کی ایکسپریس ٹریبیون اور شعیب دانیال کی ایک تحریر سے مدد لی گئی ہے۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *