پانچویں نسل کے مجاہدین ۔۔۔ معاذ بن محمود

شہر کے پرتعیش ترین علاقے میں ایک خاص ادارے کا مدرسہ برائے بالغان واقع ہے۔ اس مدرسے کی پہلی منزل پر دائیں جانب ایک بڑا سا ہال نما کمرہ ہے جہاں کمپیوٹر ہی کمپیوٹر موجود ہیں۔ انہی میں سے کوئی ایک کمپیوٹر وہ لیبر روم ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی۔

اس کے والدین خصوصاً جدّی سلسلے کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں۔ شنید ہے کہ یہ راولپنڈی کی چند انگلیوں کی شرارت تھی جنہوں نے اس کے ظہور واسطے کی بورڈ پر “حرکت” کی۔ حرکت میں اتنی برکت ہوئی کہ ایک ایک کر کے اس کے دس پندرہ ہزار بہن بھائی معرض وجود میں آگئے۔ عالمِ سوشل میڈیا میں قدم رنجہ ہوتے ہی اس کا اکیلا پن باقی کے برادران پورا کرتے ہیں۔ ان کے پیچھے کارفرما دماغ بھی متنوع قابلیت کے حامل ہوتے ہیں۔ عام انسانوں کی طرح ان میں بھی عمر رسیدہ الو اور جواں سال پٹھے مسیں جن کی ابھی بھیگنی ہوتی ہیں، ہوا کرتے ہیں۔

ان کے بڑوں کا جوڑا یعنی کی بورڈ تخلیق کار ابواپ اور نصب شدہ ارباب اختیار امائیں دونوں انہیں پال پوس کر کچھ ہی دنوں میں جوان کرتے ہیں۔ ان کے قبیل کا ہر شخص سوشل میڈیا پر ایک ہدف لے کر پیدا ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے ابا محترم کی ایک اچھے پسر کی طرح فرمانبرداری کرنا۔ اپنے اپنے بس کے مطابق ان کی نسل کا ہر فرد بابا جانی کے احکامات کی تعمیل میں لگا پڑا ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی ڈومین یا شعبہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر لونڈے لپاڑے دشمنانِ پدر کی گھریلو مستورات کی شان میں ہجو گوئی پر مامور ہوتے ہیں۔ کئی ایک اپنے خالقِ “حقیقی” کی جانب سے ان کی بلند شان پر مبنی بیانیہ رائج کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کی ایک بڑی تعداد سیاسی منظر نامے پر والدہ یعنی نصب شدہ اشرافیہ کی شکایت گیری پر متعین ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر پچھلے ادوار کے جملہ تاریخ دان ہوا کرتے ہیں جو بوقت ضرورت موجودہ گندگی کا جواز پچھلے کچرے سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لانا فرض مان کر پورا کرتے ہیں۔ ان کا ایک کبیر حجم مطالعہ پاکستان کی تعلیم بالغاں کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی تعداد مخالف قبیل پر شخصی حملوں میں ملوث رہا کرتی ہے۔

یوں ملت الباکستانیہ کے یہ رذیل الشان سپوت متحد رہ کر ایک پلٹن کی شکل میں بطور سپاہی، حوالدار، صوبے دار وغیرہ جیسے نچلے عہدوں پر اپنی کارکردگی دکھانے میں پوری آن و جان لٹاتے ہیں کہ جان فیس بک پر نکلتی نہیں اور آن ان کی ہوتی نہیں۔ ان کی خدمات کے صلے میں انہیں نشان محب الوطنی سے لے کر غداری کے سرٹیفیکیٹ پر لگنے والی مہر تک دستیاب ہوتی ہے۔ پانچویں نسل کی جنگی حکمت عملی کے تحت لڑی جانے والی ان جنگوں میں یہ اپنے آباء کی مدح سرائی کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی عناد نکالنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑتے۔ ان کی ایک نسل اوپن مارکیٹ سے بھی خریدی یا کرائے پر لی جا سکتی ہے۔ کبھی اندلس تو کبھی لندن، کبھی خوشاب تو کبھی لاہور، ان کی نشاندہی باقاعدہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے کروا کر انہیں معروف “پے رول” پر لیا جاتا ہے۔ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے بھرتی ہونے والی اس پیڑھ میں ستائش باہمی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ملتا ہے۔ ان کی دوسری بڑی خوبی نرگسیت کی وہ بلندی ہوا کرتی ہے جہاں سے گرنے کے محض خوف سے ہی ان کی انا کی ہڈیاں چٹخنا شروع کر دیتی ہیں۔

ان کا اتحاد و یگانگت مثالی ہوتا ہے۔ تمثیل کے طور پر ان کے جتھوں کو ایک سے زائد جنگلاتی گروہوں سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جن کا ذکر اس موقع پر اس غول کو پتھر مارنے کے مترادف ہوگا۔ ان کی ایک بڑی خوبی ان کا وہ پراثر دفاع ہوا کرتا ہے جس کے تحت ہر موجودہ جرم کی توجیہ ماضی قریب یا بعید کے گناہوں کی یاددہانی کروا کر دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ نہایت ہی آزمودہ و مجرب ہے۔ ان کے اکابرین خاص کو وہ جو عمر کی اعلی درجے پر فائز ہیں، اکثر اس طریقے کا مؤثر استعمال کرتے رہتے ہیں۔

ریاست کی ستر سالہ تاریخ میں ان کا کردار میر جعفر و میر صادق کی طرح جاندار رہا۔ شاندار بہرحال خوب ہمت کے باوجود بھی نہ کہہ پایا۔ یہ ریاستی ناخداؤں کے ازل تا ابد کاسہ لیس ہیں۔

ان سے ملیے۔۔۔ یہ۔۔۔ گل خان ہیں۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *