حسن نثاریت بیماری یا علاج۔۔۔۔۔علی نقوی

یہ 2003 کی بات ہے جب مجھے اخبارات میں کالم پڑھنے کی لت لگی اس سے پہلے یا تو میں مذہبی کتابیں پڑھتا تھا یا اخبار کا پیج تھری۔ یہ وہ وقت تھا کہ جنابِ حسن نثار سے واقفیت ہوئی کالم پڑھے تو ایک غصے میں بھرے ہوئے انسان کو معاشرے کا ماتم کرتے پایا ایسا لگا کہ جیسے میرے بارے میں بات ہو رہی ہے، اگر میں چاہوں اور وقت اور جگہ اتنی ہو تو میں ہزاروں کالمز کے لاکھوں ایسے پیراگراف پیش کر سکتا ہوں کہ جو میری اس بات کی تائید کریں گے۔

پھر ان صاحب کو ٹی وی چینلز پر دیکھا تو ہم ان سے اور مانوس ہونے لگے، یہ مختلف موضوعات پر بڑی مدلل گفتگو کیا کرتے تھے ہم چونکہ نئی نئی اسلامی تاریخ پڑھ کر فارغ ہوئے تھے تو جن باتوں پر ہمیں کوفت ہوتی تھی یہ بھی انہی باتوں پر کڑھتے اور لڑتے بِھڑتے نظر آتے تھے مثال کے طور پر ہم دوست کہ جنہوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر اسلامی تاریخ کو پڑھنے کی کوشش کی تھی ایک بات پر متفق تھے کہ یہ جو اسلامی فتوحات کا ہمارے یہاں بہت چرچا ہے یہ دراصل ویسے ہی حملے تھے کہ جیسے آج امریکہ افغانستان یا عراق میں کر رہا ہے، اسی اثنا میں ہم نے دیکھا کہ حسن نثار ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ رہا تھا کہ کبھی اپنے بچوں کو ان فاتحین کے انجام بھی پڑھاؤ کہ فاتح ہند محمد بن قاسم کی موت کس طرح ہوئی، غزنوی، غوری کہ جن کا پبلک میں نام لیتے ہوئے بھی ہمیں پسینے آتے تھے یہ آدمی بڑی دلیری سے ان پر بات کر رہا ہوتا تھا، ہم نے دیکھا اور سنا کہ ایک دن وسیم بادامی کے لیٹ نائٹ شو میں (کہ جب حضرت تھوڑی حالتِ غیر میں بھی تھے) انہوں نے ضیاء الحق کو لعنتی کہہ دیا جس پر اینکر تو سٹپٹایا ہی سامنے بیٹھے جماعت اسلامی انتہائی شریف النفس رہنما فرید پراچہ تو گڑبڑا ہی گئے اور یہ کہنے لگے کہ آپ حسن نثار صاحب کو رات دیر گئے نہ بلایا کریں انکے معاملات اس وقت کچھ اور ہوتے ہیں، لیکن ہمیں اس وقت حسن نثار بہت پیارا لگا.
اگر ان صاحب کے موضوعات کہ جن پر یہ متواتر لکھتے اور بولتے ہیں کا احاطہ کریں تو سب سے زیادہ بات انہوں نے جس پر کی ہے وہ ہے اسلامی دنیا کی زبوں حالی۔ اس بات سے کون ذی شعور اختلاف کر سکتا ہے کہ اسلامک ورلڈ ایک مدت سے زبوں حال ہے آپ فرماتے ہیں اور ٹھیک فرماتے ہیں کہ آج کی اس ماڈرن دنیا میں مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں ہے یہ ماڈرن دنیا جنہوں نے بنائی ہے انہی کا حق ہے کہ وہ اس دنیا ہر حکمرانی کریں اور اس پستی کی وجہ آپ سائنس و ٹیکنالوجی سے دوری بیان کرتے ہیں کہ دنیا کی بڑی درسگاہوں میں اسلامی دنیا کی درسگاہیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، آپ اہل مغرب کو کردار میں بھی اپنے بہت سے برادر اسلامی ملکوں سے بہتر گردانتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مسلم امہ کا اجتماعی کردار بھی آپکے قبضے کا مضمون ہے،
آپ جب پاکستان کی بات کرتے ہیں تو سارا نزلہ عوام اور سیاستدانوں پر گراتے ہیں آپکی رائے میں یہ نظام ہی اس قابل نہیں کہ یہ بڑے لوگ پیدا کر سکے انکے مطابق ہم انسانی معیاروں پر پورا اترنے والا معاشرہ نہیں ہیں آپ  فرماتے ہیں کہ کیا ایک ایسا معاشرہ انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے کہ جہاں نو مولود بچے کے دودھ اور مرتے ہوئے بڈھے کی دوا میں ملاوٹ کی جاتی ہو بالکل نہیں.۔۔
آپ فرماتے ہیں پاکستان میں جمہوریت کے نام پر ڈرامہ ہوتا رہا ہے یہاں کبھی جمہوریت آئی ہی نہیں آپ شاید پاکستان کے وہ واحد صحافی و دانشور ہیں کہ جو اس موجودہ جمہوری تسلسل کو خوش آئند نہیں سمجھتے کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ اگر سور کے گوشت کو ہزار بار بھی قیمے کی مشین سے گزارا جائے تو بھی وہ مٹن نہیں بن سکتا لہذا مشین سے زیادہ ضروری گوشت بدلنا ہے اور اس کے بعد آپ ان موجودہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے کرتوت گنوا گنوا کر عوام کے اسُ غصے کی ترجمانی کرتے ہیں کہ جو وہ خود نہیں نکال پاتے لیکن بات یہاں رکتی نہیں سیاستدانوں کے بعد شامت آتی ہے عوام کی آپ فرماتے ہیں کہ اس ملک کے اصلی ولن عوام ہیں جو بار بار انہی لوگوں کو ووٹ دے کر تھرون پر بٹھاتے ہیں اور انہی سے جوتیاں کھاتے ہیں اسی عوام کے پیسوں پر یہ عیاشی کرتے ہیں اور وہی عوام باہر سڑکوں پر جوتیاں چٹخاتی پھرتی ہے ،بالکل ٹھیک۔۔
لیکن اگر کبھی فوج کے سیاسی رول کی بات کی جائے تو یکسر بات کو رد کر دیتے ہیں اور اگر مذمت ناگزیر ہوجائے تو ضیاء الحق کو دوچار گالیاں بک کر بات بدل دیتے ہیں مگر پرویز مشرف کو اس ملک کے مسائل کا حل مانتے ہیں اور انکے خلاف بات کرنا تو درکنار بات سنتے ہوئے بھی تیوری چڑھ جاتی ہے۔

اس سب کے باوجود عمران خان آپکے ہیرو ہیں جس دن جنرل پاشا نے عمران خان پراجیکٹ شروع کیا تھا اسی دن جنابِ حسن نثار کو کریکٹر بلڈنگ کے کام پر معمور کیا گیا تھا اور ان صاحب نے عمران خان کی وہ کریکٹر بلڈنگ کی کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔
ایک چینل پر بیٹھ کر فرما رہے تھے کہ میں اپنی تو نہیں لیکن عمران خان کے بارے میں قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ بےایمان نہیں ہے، عمران خان ایمانداری کا ماؤنٹ ایورسٹ ہے، یہاں تک فرمایا کہ وہ ایک روحانی آدمی ہے جو فیصلے اپنی روحانی تحریک پر کرتا ہے، جب سے عمران خان پراجیکٹ شروع ہوا یہ صاحب اس طرح کی باتیں تواتر سے  کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نواز شریف اور ن لیگیوں کی وہ درگت بنا رہے ہیں کہ شاید اس سے پہلے کسی کی بنی ہو، اسی عمران خان پراجیکٹ کے دوران انہوں نے ایک آرٹیکل لکھا تھا جس کا عنوان تھا۔۔”پیپلزپارٹی مرحومہ و مغفورہ” اس طرح پیپلزپارٹی ان کی انُ گالیوں سے کم از کم تھوڑی محفوظ رہی جو گالیاں ن لیگ کے حصے میں آئیں لیکن اس کی ایک واضح وجہ تھی اور وہ یہ کہ پی ٹی آئی کا اصل مقابلہ ن لیگ سے تھا 2011 میں جب عمران خان اپنی پوری آب و تاب سے اٹھے تو اس تک وقت پیپلزپارٹی کافی حد تک ڈس کریڈٹ کر دی گئی تھی اس لیے آپ نے پیپلز پارٹی کو تو اس قابل ہی نہیں سمجھا کہ اس پر زیادہ بات بھی کی جائے اور ایک ہی بار مرحومہ و مغفورہ کہہ کر جان چھڑائی لیکن آپ اور آپکے بہت سے ہم نشینوں جو کہ ایک ہی کام پر معمور کیے گئے تھے جن میں شاہد مسعود، سمیع ابراہیم، مبشر لقمان، صابر شاکر، ارشد شریف، اوریا مقبول جان، روف کلاسرا وغیرہ وغیرہ شامل تھے نے نواز شریف اور ن لیگیوں کا ایسا نقشہ کھینچا کہ یہ لگنا شروع ہوگیا تھا کہ اس ملک کے ہر مسئلے کی جڑ ن لیگ اور اسکی پالیسیاں ہیں یہی لوگ ہیں جن کی کرپشن کی وجہ سے آج یہ ملک یہاں پہنچا ہے اور اگر نواز شریف اینڈ کمپنی سے جان چھٹ جائے تو یہ ملک واپس ترقی کی راہ لے لے گا اس میں اضافہ یہ کہ جس طرح نواز شریف سے چھٹکارا نا گزیر ہے اسی طرح عمران خان کی قیادت بھی نا گزیر ہے اور اس کے حق میں ایسے ایسے دلائل گھڑے کہ انسان چھوڑیے پتھر قائل ہوجائے
ہر روز رات ہوتے ہی دسیوں چینلز پر ہر طرف حسن نثار ہی حسن نثار نظر آتے تھے جو قوم کو چیخ چیخ کر جگا رہے ہوتے تھے کہ تم کس گند کو ہر بار منتخب کر لیتے ہو؟ یہ دیکھو ایک آدمی گزشتہ اٹھارہ بیس سالوں سے تمھاری خدمت کر رہا ہے تم دھیان کیوں نہیں دیتے ہو، قوم اس سب سے اتنا متاثر ہوئی کہ اس کو یہ لگا کہ میرے ہر مسئلے کا حل پیپلزپارٹی اور ن لیگیوں سے جان چھڑانا ہے اور عمران خان کے آتے ہی یہاں دودھ کی ندیاں بہہ نکلیں گی اٹھارہ کے الیکشنز میں عمران خان جیت گئے چھ ماہ ہی تک معاملات نہیں سنبھل سکے اور ایک دن ہوا یہ کہ یہی حسن نثار پی ٹی آئی کے فنانشل جینئس اسد عمر پر پھٹ پڑے اس سے ذرا پہلے انہوں نے دبے الفاظ میں عثمان بزدار پر بھی تنقید کی تھی لیکن ایک دن سما ٹی وی پر پارس خورشید کے شو میں پی ٹی آئی کی ویسی ہی بینڈ بجائی جو کبھی وہ ن لیگیوں کی بجایا کرتے تھے اسکے بعد ایک اور شو میں یہاں تک کہا کہ مجھ پر لعنت جو انہیں چینج ایجنٹ سمجھتا رہا مجھ سے مس کیلکولیٹ ہوگیا اور جب حل پوچھا گیا تو اپنی روایتی رعونت کے ساتھ بولے کہ عمران خان عزت بچائے اور گھر جائے۔۔

اب یہاں ایک سوال ہے کہ حضور ابھی چھ مہینے نہیں ہوئے آپ جس نے قوم کو کل کہا تھا کہ یہی وہ آدمی ہے جو تمھارے مسائل حل کرے گا یہی وہ ہے جو تمہارے زخموں پر مرحم رکھے گا اور آج آپ اس کو کہتے ہیں کہ گھر جاؤ کیا گارنٹی ہے کہ اس بار آپ مس کیلکولیٹ نہیں کر رہے؟ کیونکہ اسی اعتماد سے آپ نے ہمیں اس آدمی کو ووٹ دینے کا کہا تھا۔
بہرحال اس کے بعد یہ ہوا کہ وہ وزیراعظم جو کسی کو کچھ نہیں مانتا اور کسی کے پریشر میں نہیں آتا وہ اپنی پوری کابینہ کے ساتھ حسن نثار کے گھر انکو منانے پہنچ گیا اس دن کے بعد سے حسن نثار دوبارہ پورے خشوع و خضوع کے ساتھ یہ کہنے لگے کہ عمران خان ایک روحانی آدمی ہے۔۔۔
اب یہاں چند سوالات ہیں۔۔
آپ یہ بتائیے کہ آپ کے کس موقف کی تائید کی جائے اور کونسی باتوں کو رد کیا جائے، کیونکہ آپ دو متضاد باتیں ایک جیسے وثوق کے ساتھ کرتے ہیں؟
کیوں آپ ہر بار اپنی رائے اس تیقن کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ یہ حرفِ آخر ہے اور اس پر مزید بات نہیں ہو سکتی؟
فوج کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے آپ کیوں اپنی لعنت کا دائرہ کار صرف ضیاء الحق کی ذات با برکات تک محدود کر دیتے ہیں، ایسے کہ جیسے اس کے سارے کرتوتوں کی ذمہ داری اس اکیلے پر عائد ہوتی ہے، اس معاملے پر آپکے موقف سے یہ لگتا ہے کہ جیسے وہ کنگ کانگ تھا اور اکیلا ہی سب کچھ کر لیتا تھا،
یاد رکھیے کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ ضیاء الحق اکیلا وہ سب کچھ کر رہا تھا جو اس نے کیا تو اس کی دماغی کیفیت یا تو قابلِ رحم ہے یا وہ پرلے درجے کا منافق اور بد دیانت ہے ان صاحب کے ضمن میں دونوں باتیں ٹھیک ہیں۔
ہم شروع میں یہی سمجھتے تھے کہ یہ عوام جاہل ہے جو بار بار نواز شریف کو لے آتی ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ہم متاثرین کو ہی گالیاں دے رہے تھے جو لوگ اس ساری غلاظت کا Victim تھے ہم انہی کو گندا کہہ رہے تھے کیا حسن نثار نہیں جانتا کہ نواز شریف کبھی بھی پبلک کا نمائندہ نہیں تھا؟ اس کو وہی طاقتیں لائیں تھیں جو آج عمران خان کو لائیں، ہر روز عمران خان اور اسکے حسن نثاریے یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو آئی ایس آئی نے فلاں فلاں موقع پر فلاں فلاں غیر قانونی کام کے پیسے دیئے ۔۔

سوالیہ ہے کہ نواز شریف تو اس لیے برا ہے کہ اس نے ایجنسی سے پیسے لے کر کوئی غلط کام کیا لیکن کیا وہ ایجنسی بری نہیں ہے کہ جس نے نواز شریف یا کسی کو بھی کسی بھی غیر آئینی و غیر قانونی کام کے پیسے دئیے؟
آپ اس ملک کی ہر سیاسی جماعت اور ہر سیاست دان کو سور کا گوشت کہتے ہیں لیکن جہاں یہ سور پیدا ہوتے اور پالے جاتے ہیں اس کی بات کرتے آپ تھتھے ہوجاتے ہیں؟
آپ کہ جو ہر روز صبح شام ہر سیاسی جماعت اور شخصیات پر یہ الزام بنا ثبوت کے لگاتے ہیں کہ انہوں نے حرام کمایا ہے خود مشاہد اللہ کی ایک ذرا سی بات کہ حسن نثار ایکڑوں کے گھر میں رہتے ہیں پر اتنے چراغ پا ہوجاتے ہیں کہ لائیو شو میں مشاہد اللہ کو حرامزادہ، کتا اور نجانے کیا کیا کہہ ڈالتے ہیں؟ کیوں آپ سے یہ نہیں پوچھا جاسکتا کہ یہ لائف سٹائل آپ کس کمائی سے مینٹین کرتے ہیں؟ کاش کہ کوئی آپ جیسا ہی آپ سے یہ اس انداز میں پوچھے کہ
“اوے تم ہو کیا دو ٹکے کے کالم نگار، اوقات کیا ہے تمھاری رشوت لے کر کالم لکھنے والے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے چمچے کرچھے ، چمپو چماٹ مایوسی کے محمود بوٹی”۔۔

لیکن اللہ نہ کرے کہ کوئی دوسرا حسن نثار یہاں پیدا ہو کیونکہ ایک حسن نثار اور ایک عمران خان نے ایک ایسی نسل پیدا کردی ہے کہ جو انہی دونوں کی طرح جاہل، نابلد، نا اہل اور بد تمیز ہے اللہ نہ کرے کہ اس ملک میں دوبارہ حسن نثار جیسے دانشور اور عمران خان جیسے لیڈر پیدا ہوں کہ جو آنے والی نسل کو یہ نہ بتا سکیں کہ بد تمیزی اور بد کلامی آپکو کہیں نہیں پہنچا سکتیں، سب سے پہلی اور ضروری چیز زبان کی تہذیب ہے دراصل حسن نثاریت ایک بیماری ہے کہ جس کو ہمارے سامنے علاج بنا کر پیش کیا گیا ہے اللہ ہر انسان کو ایسی بیماری سے محفوظ رکھے کہ جس میں انسان کے منہ کے  آگے کتا بندھ جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *