اساتذہ کی صفوں میں چھپے درندے۔ذیشان رحمان

درسگاہ ایک بہت ہی اہمیت کی حامل وہ جگہ ہے جہاں پر آنے والی ایک نئی نسل کو تیار کیا جاتا ہے. جہاں پر طلباء و طالبات کو بنیادی تعلیم اور معاشرتی اصولوں کے ساتھ پروان چڑھایا جاتا ہے۔ ایک ایسی کھیپ تیار کی جاتی ہے جس سے ملک و قوم کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ یہی وہ نسل ہے جن کے ہاتھ میں ملک و قوم کی ترقی کی باگ ڈور ہے. یہی وہ نسل ہے جو ظلمت کے اندھیرے مٹانے میں کارگر ثابت ہو گی۔ سچ پوچھیے تو کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے معیار تعلیم پر ہوتا ہے۔ تعلیم ہی صحیح معنوں میں اس قوم کی ترقی کی راہ متعین کرتی ہے اور استاد اس قوم کا معمار ہوتا ہے جو ان ترقی کے پودوں کو اپنے ہاتھوں سے سینچتا ہے ان کی پیوند کاری کرتا ہے اور انہیں پروان چڑھاتا ہے تو آپ یوں سمجھ لیجئے کے استاد کا اس قوم کی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے۔

اللّٰہ تبارک و تعالٰی نے حضور اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلا لفظ جو عطا کیا وہ “اقراء” یعنی پڑھ ہے۔ نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے” یہ تو دو حوالے ہو گئے ایک اسلام میں تعلیم کی اہمیت اور دوجا ملک و قوم کی ترقی کا راز تو اگر ہم ان بنیادی تعلیمات کا جائزہ لیں تو ہم استاد کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس سارے عمل میں استاد اور درسگاہ کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر استاد قوم کا معمار ہے تو وہ کیا ہوگا جو اس پیغمبرانہ پیشے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے درسگاہ اور اس پیشے کو مسلسل بدنام کر رہا ہے۔ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے اس پیشے کی چادر اوڑھ کر مسلسل ہماری نسل پر وار کر رہا ہے۔ اپنی حوس مٹانے کے لئے ہمارے طلباء و طالبات کو آئے دن ذہنی تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس کی تازہ مثال سندھ یونیورسٹی جامشورو ہے. جہاں پر اساتذہ کا ایک بھیانک روپ سامنے آیا ہے جو طالبات کو کبھی مارکس تو کبھی حاضری کے نام پر بلیک میل کرکے اپنی جنسی حوس کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ گویا پاس کرنے کے لئے جسمانی تعلقات  بنیادی شرط رکھ دی گئی ہے اور طالبات سے کھل عام  اس شرمناک حرکت کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ یہ وہ بھیانک درندے ہیں جو طالبات کی تعلیم کی اہم رکاوٹ ہیں۔ جن کے باعث والدین بچیوں کو درسگاہوں، یونیورسٹیوں، کالجوں میں بھیجنے سے ڈرتے ہیں کئی ایسی ہونہار طالبات جو کچھ کرنا چاہتی ہیں آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ مگر مجبور ہو کر ایک بیوی یا پھر ایک ماں بن کر زندگی گزار دیتی ہیں جانے کتنی حسرتیں ان کے اندر پنپتی ہوں گی جو حالات کے آگے دم توڑ جاتی ہیں۔

قربان جاؤں میں ان طالبات پر جنہوں نے حوصلہ کرکے ان بھیانک درندوں کیخلاف آواز بلند کی ہے اور سپریم کورٹ کو سو موٹو لینے پر مجبور کردیا ہے۔ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کیوں کہ اگر آپ اپنی طالبات کو ہراساں کر رہے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ آپ اپنی بیٹی کو ہراساں کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کریں گے۔ کیونکہ آپ کے اندر موجود بھیانک درندہ صفت انسان شاید ہی اس فرق کو بھی پہچان سکے۔

سندھ یونیورسٹی کی انگلش لینگوئج اینڈ لٹریچر ڈیپارٹمنٹ کی طالبات کی جانب سے جس طرح کے انکشافات کئے گئے ہیں یہ ہمارے معاشرے کے لئے بہت ہی شرمناک ہے اور یہ حقیقت ہے۔ کبھی تھیسس کے نام پر گھنٹوں دفتروں میں بٹھا کر تکتے رہنا تو کبھی ریہرسل کے نام پر اپنی رہائش گاہوں پر مدعو کرنا۔ جیسے تعلیم حاصل کرنے کے لئے جسمانی تعلقات  کو بنیادی شرط بنا ڈالا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے اسے ایک سوچیں سمجھی سازش قرار دیا جارہا ہے۔ آپ اسے سازش کہہ کر اپنا پیچھا نہیں چھڑوا سکتے۔ یہ اگر سازش ہے تو حال ہی میں کس طرح یونیورسٹی کے ہاسٹل سے “نادیہ رند” کی لاش ملی۔ کیوں یہ بھیانک درندے اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔

اگر آپ اسے اپنی یونیورسٹی کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کے لئے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے رہے ہیں تو حیرت ہے ان اساتذہ پر اور ان نام نہاد طلباء تنظیموں پر جو خاموشی سادھے ہوئے ہیں شائد اس لئے کہ یہ آگ آپ کے گھروں تک نہیں پہنچی تو سن لیجیے وہ وقت دور نہیں کہ آپ کی خاموشی آپ کے گرد گھیرہ تنگ کر رہی ہے جو کبھی بھی آپ کو اس آگ میں لپیٹ سکتی ہے۔

ان عوامل کو تلاشیے اور ان کا سدباب کریں کیوں کہ آپ کی یونیورسٹی کی شہرت انہیں سزا دینے سے خراب نہیں ہوگی جنہوں نے اس مقدس جگہ کو فحاشی کے اڈے میں تبدیل کر رکھا ہے۔ بلکہ آپ کی شہرت تب بڑھے گی جب والدین اپنے بچوں کو بلا خوف و جھجک تعلیم دلوانے گھروں سے بھیجیں گے۔ اب نظریں سپریم کورٹ کی جانب ہیں اس کمیٹی کی جانب ہیں ان نام نہاد حقوق نسواں کی تنظیموں کی جانب ہیں جو اس شرمناک حرکت میں ملوث بھیڑیوں کو سزا دلوانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا ایک دفعہ پھر ہم اپنے طلباء و طالبات کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیں گے۔

خدارا اس اہم مسئلے کا سدباب کریں آئیے اپنی درسگاہوں کو طالبات کے لیے محفوظ بنائیے۔ یہ صرف محفوظ درسگاہ کا نعرہ لگانے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات کرنے ہوں  گے کیونکہ ہماری بیٹیاں ہمارا فخر ہیں۔ اگر ان درسگاہوں کو بچانا ہے تو ان بھڑیوں کا احتساب ضروری ہے۔ احتساب ان کا بھی ہونا چاہیے جنہوں نے اس مسئلے کو دبانے کی کوشش کی ہے جنہوں نے یونیورسٹی کی شہرت بچانے کے لئے مزید کئی معصوموں کی عزت داؤ پر لگادی ہے جنہوں نے پھر سے ان اساتذہ کو حوصلہ دیا ہے کہ جس طرح مرضی ان کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرو یہ دور دراز سے آئی لڑکیاں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی یہ بھی برابر کے شریک ہیں۔ گر درسگاہوں کو بچانا ہے تو ان درندوں کو بھگانا ہے

اے میر سچ مثل ہے جو عالم ہے بے عمل

گویا وہ اک گدھا ہے کتب سے لدا ہوا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *