حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہاں دفن ہیں ؟ ایک معمہ۔۔۔فرمان اسلم

حضرت علی ابن طالب کرم اللہ وجہہ ‘  امام علی و امیرالمومنین کے نام سے مشہور،اہل سنت کے چوتھے خلیفہ’ شیعوں کے پہلے امام، صحابی، راوی، کاتب وحی ، رسول خداؐ کے چچازاد بھائی و داماد، حضرت فاطمہؑ کے شوہر اور گیارہ شیعہ آئمہ کے والد و جد ہیں۔ حضرت ابو طالب آپ کے والد اور فاطمہ بنت اسد والدہ ہیں۔ شیعہ و اکثر سنی مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔ رسول اللہؐ نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا سب سے پہلے آپ ایمان لائے۔ آپ ؓ کی شہادت 40ہجری 21رمضان المبارک کو ہوئی –
لیکن سوال یہ کہ اتنی عظیم الشان ہستی کی قبر  کہاں ہے ؟ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو آج تک حل نہیں ہوسکا  ۔ ذیل میں ان روایات کو درج کیا جاتا ہے جو مولاعلی کرم اللہ وجہ کی قبر سے متعلق ہیں۔روایات میں اتنا تضاد ہے کہ کسی حتمی نتیجےپہ پہنچنا ناممکن ہے

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیرت پر مشہور محقق و مؤرخ ڈاکٹر علی محمد الصلابی اپنی کتاب “علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ  میں لکھتے ہیں
ان کی قبر کی جگہ کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے امام ابن الجوزی نے اس بارے میں متعدد روایات نقل کرنے کے بعد کہا ہے: اللہ تعالی ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ان میں سے کون سا قول زیادہ صحیح ہے۔
(المنتظم لابن الجوزیؒ 5/178 و علی المرتضٰی 713)
اس سلسلے میں جو روایات منقول ہیں، وہ یہ ہیں: ۔
٭حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے انھیں جامع مسجد کے نزدیک کھلی جگہ پر نماز فجر کے بعد دفن کر دیا۔ یہ جگہ کندہ کے ابواب کے قریب ہے وہاں لوگوں نے فجر کی نماز پڑھی پھران کے واپس جانے سے پہلے تدفین عمل میں آئی ۔
(الطبقات 3/38 وخلافۃ علی بن ابی طالب لعبد الحمید ص441 )
اس جیسی دوسری روایت میں ہے کہ انھیں کوفہ میں قصر امارت کے قریب جامع مسجد کے پاس رات کو دفن کیا گیا۔ ان کی قبر کا مقام عام لوگوں کو معلوم نہیں۔
(المنتظم 65/177 وتاریخ الاسلام عہد الخلفاءالراشدین ص651)
ایک روایت میں ہی ذکر ملتا ہے کہ ان کے صاحبزادے حضرت حسن نے میں مدینہ منتقل کردیا تھا،

(تاریخ بغداد 1/137)
ایک روایت میں یہ ہے کہ کوفہ سے باہر نجف میں مشہد کے نام سے مشہور جگہ ہے۔ وہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر ہے ۔ بعض اہل علم نے اس کا انکار کیا ہے، ان میں کوفہ کے قاضی شریک بن عبداللہ النخعی (وفات 178 ھ) اور محمد بن سليمان الخضرمی (وفات 297ھ)
شامل ہیں۔ (خلافة على بن أبي طالب العبدالحميد، ص:441 )

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں: نجف میں مشہد کے نام سے جو مقام ہے، اہل علم اس پر متفق ہیں کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کی قبر کا مقام نہیں ہے بلکہ وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی قبر ہے۔ اہل بیت ، شیعہ اور دیگر بے شمار مسلمانوں نے کوفہ میں ان کی حکومت اور تین سو سال سے زیادہ کے لیل و نہار بیت جانے کے باوجود بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تین سو سال بعدبنی بویہ کے دور حکومت میں اس جگہ کو مشہدعلی کا نام دیا گیا۔
(مجموع فتاوی ابن تیمیہ 4/502 ودراسات فی الاھواء والفرق والبدع ص280 )
ایک روایت یہ ہے کہ حسن ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور رشدوہدایت کے اس آفتاب عالمتاب کو کوفہ کے عزیٰ نامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ( تاریخ اسلام شاہ معین الدین قریشی 281/1)
جبکہ شعیہ حضرات کا ماننا ہے  امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں بنی امیہ کی قدرت زوال کا شکار ہو چکی تھی، لہذا قبر کے مخفی رہنے کا جواز ختم ہو چکا تھا اور اسی وجہ سے تدریجی طور پر آپ کی قبر کا مقام لوگوں پر آشکار ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ صفوان سے روایت نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے اجازت طلب کی کہ وہ کوفہ کے شیعوں کو اس کے بارے میں آگاہ کر دیں اور امام (ع) نے انہیں مثبت جواب دیا اور انہیں قبر کی مرمت کے لئے کچھ رقم بھی عطا فرمائی (التمیمی، مدینۃ النجف 188۔)
حضرت علی ؓ کی جائے مرقد کو عام لوگوں سے مخفی رکھنے کا سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ خارجیوں کے خوف سے آپ کو ایسی جگہ دفن کیا گیا جس کا حال عام لوگوں کو معلوم نہ ہو ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے ( تاریخ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی 620/ 1) واللہ اعلم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *