چیئر مین ! اللہ تم کتنے رومانٹک ہو ۔۔۔علی اختر

یہ غالباً اس وقت کی بات ہے جب راقم نیا نیا کالج میں پہنچا تھا ۔ اردو کا پیریڈ تھا ۔ میر کی غزل ۔ پڑھانے والی ایک خرانٹ سی پردہ دار خاتون ۔ شعر کچھ یوں تھا ۔

نازکی انکے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے ۔

تشریح بیان ہوتی ہے ۔ نہ رومانس نہ عشق نہ محبت ۔ جی یہ شعر عشق حقیقی پر مبنی ہے ۔ راقم بھرپور احتجاج کرتا ہے ۔ اس تشریح سے اسے کھلا اختلاف ہے ۔ اسکا اصرار ہے کہ  یہ شعر شاعر کا محبوب کے لبوں کا  بوسہ    لینے کے  بعد شاعر  کا تجربہ ہے ۔ میڈم نے راقم کی ذہنی گندگی کا ازخود نوٹس لیا۔ انکا اصرار تھا کہ  بڑے شاعر تم لوگوں کی طرح گندی سوچ کے حامل نہیں تھے ۔ وہ میر کو حاجی ،نمازی ، مولوی اور کلام کو صرف عشق حقیقی پر مبنی بنانے پر تلی ہوئی تھیں کہ راقم نے میر کا ایک اور شعر سنایا جسکا آخری مصرع کچھ یوں تھا

رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

راقم کے مطابق تو میر اس مصرعہ میں ناصرف خود دوران جفا کشی پسینے سے شرابور دیدار کر چکے ہیں بلکہ دوسروں کوبھی دعوت دے رہے ہیں کہ  میاں ہم تو دیکھ چکے تم بھی دیکھ لو ۔

میڈم نے اسکے جواب میں راقم کو کلاس سے باہر نکالا اور پورا سال باہر ہی رکھا ۔ وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھیں کہ  میر جیسا عظیم شاعر بھی ایسا کچھ کہہ سکتا ہے ۔

راقم سمجھنے سے قاصر ہے کہ  پاکستانی قوم رومانس سے اتنا زیادہ الرجک کیوں ہے ۔ جیسے ہی کوئی  رومانٹک بات ہو تو ہمارا اجتماعی رویہ بڈھی خالہ جان والا ہو جاتا ہے جو پان کلے میں دابے کہتی ہیں ۔ “ہمارے جمانے میں مجال ہے کہ  جوزہ ، مرد کے ساتھ ایک پلنگ پر بیٹھ جائے ۔ آج کی موئی فیشن لیول بی بیوں کوتو دیکھو ہائے ہائے کمبخت ماریاں مرد کے کندھے سے جڑی رہتی ہیں ۔ بے سرم نہیں تو “۔ اب کوئی  پوچھے کہ  خالہ جان یہ جو تمہارے 14 بچے علاقے میں دندناتے گھوم رہے ہیں ۔ یہ کلوننگ سے تو پیدا نہیں ہوئے ہونگے ۔ یقیناً آپ نے بھی کندھے وغیرہ سے لگنے کے بعد ہی یہ نگار ایوارڈ حاصل کیے ہونگے۔ تو اب حاجن بننے کا کیا مطلب ؟۔

یہیں کا واقعہ ہے کہ  ایک گاؤں والوں نے ہفتے  کی  بیس سیر گندم اور چار سو روپیہ ماہوار پر ایک مولوی گاؤں کی مسجد کے لیئے رکھ لیا ۔ مولوی کو جو اچھی تنخواہ و حجرہ  میسر ہوا تووہ اگلے ہی ماہ ایک جوان عورت بیاہ کے گاؤں لے آیا ۔ گاؤں والوں نے بغیرکچھ سوال کیئے بیچارے کو اگلے ہی دن فارغ کر دیا ۔ وجہ پوچھی تو بتایا کہ  ہم نے اسے شریف انسان سمجھا تھا اور اسکی حرکتیں دیکھو ۔ بھلا اتنا شریف ہوتا تو شادی ہی کیوں کرتا ؟۔

ویسے راقم جانتا ہے کہ  سارے حاجی اور روزہ دار راقم کی رومانس کے بابت اس وکالت پر بولیں گے کہ  یہ سب بیوی کے ساتھ ہوتا تو جائز تھا اور چیئرمین کسی اور کی منکوحہ سے عشق فرما رہے تھے تو بھائیو ! یہ جو میر کی شاعری میں عطار کے لونڈے ، اہل دول کے لڑکے ، حافظ شیراز کا ترک شیرازی وغیرہ ہیں یہ تو انکی کیا کسی کی بھی منکوحہ نہیں ہو سکتے تو انہیں بھی تو نصاب اور کتابوں سے نکالو پھر راقم پر اعتراض کرو ۔ یعنی ایک جانب تو لونڈیاں چھوڑ لونڈوں کو بھی نہ بخشنے والوں کو نصاب میں شامل کیا جارہا ہے تو دوسری جانب ٹخنوں سے اونچا پاجامہ کیے نمازی گنے  جا رہے ہیں ۔ قربان جاؤں اس منافقت کے ۔

اس سارے واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ  رومانس کسی کم ظرف کے ساتھ نہ کیا جائے ۔ منانے کے لیئے سر سے پیر تک تو کیا ہمیں کوئی  ایک بار چومنے کا بھی اشارہ دیتا تو ہم تو فوراً  شیو بنوا کر ، سونف خوشبو کا پان کھائے بائیک ایک سو بیس کی اسپیڈ سے چلاتے پہنچ جاتے کہ  آجاؤ ۔ مار ڈالو ۔ منالو ہمیں ۔ یہ کون کم نسل کافرہ تھی جس نے کال لیک کر کے محبت کو رسوا کر دیا ۔

دیکھا جائے تو پیار کی ہر کہانی یعنی لیلی مجنوں، سسی  پنو،سوہنی  ماہیوال  کوہماری طرز  کے لوگ روحانیت کی جانب موڑتے نظر آتے ہیں کہ  بھائی  آپ غلط سمت میں سوچ رہے ہیں یہ سب اللہ والے لوگ تھے ۔ چلیں مان لیا لیکن ہر کہانی میں ایک ولن ضرور ہوتا ہے جو پیار کرنے والوں سے ایک سو چھتیس کا آ کڑا رکھتا ہے ۔ اب رومانٹک لوگوں نے اسکی بکریاں چرائی  ہوتی ہیں یا ان کے آم کے درخت کی جڑ میں پیٹرول ڈالا ہوتا ہے یہ تو وہی جانتا ہے مختصراً یہ کہ  اسے کسی پل چین نہیں ہوتا ۔ آپ ہیر رانجھا کی کہانی دیکھ لیں ۔ وہ “کیدو ” کمینہ ایک ٹانگ سے لنگڑا تھا۔ او بھائی  تو لنگڑا ہے بیٹھ جا کسی کونے میں اور خدا کو یاد کر ۔ نہیں صاحب وہ ایک ٹانگ سے ہی ہر جگہ پہنچ کر مخبری کر دیتا تھا کہ “سنبھال لو لونڈیا کو ۔ پھر نہ کہنا ہاتھ سے گئئ ” اس کہانی میں پوری قوم کے ساتھ ساتھ ہیر نے خود بھی کیدو کا کردار ادا کیا ہے ۔ خیر چیئرمین چاہے ساری دنیا تمہارے خلاف ہو جائے یہ راقم تمہاری چمیوں کے حق میں بولتا رہے گا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *