انٹرٹینمنٹ – پاکستان کا کیش کراپ۔۔۔اختر برک

جب  سعودی عرب میں سنیما کو عوام کے لئے کھولا گیا تو لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا, وہ انٹرٹیمنٹ کے لئے بے تاب تھے اور پابندی اٹھانے کے بعد لوگوں کے چہرے کھل اٹھےتھے, لیکن ہمارے پاکستان کو انٹرٹیمنٹ درآمد کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ہمارا ‘کیش کراپ’ ہیں اور ہم اس شعبے میں مکمل طور پر خود کفیل ہیں،اس انٹرٹینمنٹ کو یا ہمارے سیاسی لیڈرز بڑی مقدار میں پیدا کرتے ہیں یا مختلف واقعات اس کے لئے پیش خیمہ ثابت ہو جاتے ہیں یہاں پر کبھی یوٹیوبرز کے جھگڑے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں تو کبھی انڈیا سے جنگ کے لئے جب بوڑھے ہاتھوں  میں کلاشنکوف اٹھاتے ہیں تو ہنسی رکنے کا نام نہیں لیتی, پاکستان کی پارلیمنٹ بھی کسی انٹرٹینمنٹ سے کم نہیں۔ جب جب پارلیمنٹ سیشن شروع ہو جاتی ہے تو ایکد وسرے پر طنز اور لطیفوں  کی بارش ہوتی ہے کبھی ایک پارلیمنٹیرین دوسرے کو چوزا کہتے ہیں تو جواب میں ابو اور امی کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں، اینکرز حضرات بھی انٹرٹینمنٹ کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے پر  لعن طعن کی بوچھاڑ کردیتے ہیں جس سے ناظرین کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جاتی ہے اور وہ لطف اندوزی کی کیفیت میں مسرور ہو جاتے ہیں , ہمارے عامر لیاقت حسین اور زید حامد بھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں کہ انٹرٹینمنٹ کی فراوانی کی وجہ سے انسانوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں پھر وہ لوگ بھی انٹرٹینمنٹ مہیا کرنے میں پیچھے نہیں رہتے جو ڈالر کی اڑان, مہنگائی اور گیس و بجلی کی قیمتوں کی پرواز میں رہتے ہوئے لوگوں کو ناقابل یقین امید کے سمندر میں غوتے دیتے رہتے ہیں اور اپنی پارٹی کی فیس سیونگ میں خاطر خواہ اضافہ کرتے ہیں , پھر ہمارے لیڈر بھی کبھی کوہ قاف کے پہاڑوں تو کبھی سمندر کی گہرائیوں میں تیل اور گیس کے ذخیرے تلاش کرتے رہتے ہیں تاکہ ملک کو اس بحرانی کیفیت سے نکال سکے, ہمارے سوشل میڈیا کے صارفین گھر بیٹھے سلیبریٹیز اور سیاسی لیڈروں کی میمز اور تصویروں کو اوٹ پٹانگ تخلیقی جامہ پہناکر وائرل کردیتے ہیں جس سے ہماری بھڑاس نکل جاتی ہے اور تراہ نکلتے نکلتے رہ جاتا ہے۔

ہماری تاریخ اس سے بھری پڑی ہے کہ ہمارے حکمران خواہ وہ ڈکٹیٹرز تھے یا جمہور پسند، لوگوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کے میدان میں بہت کچھ چھوڑ کر گئے ہیں جس سے اب تک لوگ خاطر خواہ فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ چلیے یہاں پر آپ کو ایک مزے کا واقعہ سناتا ہوں جو تلک دیوشیر نے پاکستان کے متعلق اپنی کتاب میں نقل کی ہے جس سے فیلڈ مارشل ایوب خان نے خوب مزا لیا اور مشرقی پاکستان کے گورنر کی سیاسی بصیرت سے بہت متاثر ہوئے۔

ہوا یوں کہ ایوب خان ایک مرتبہ مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) کےدورے پر گئے جہاں انہوں نے عوامی جلسے سے خطاب کرنا  تھی، اگر چہ وہ عام طور پر انگریزی یا اردو زبانون میں تقریر کرتے تھا، اور بنگالی زبان پر انہیں عبور نہیں تھی ، چنانچہ اپنے اور لوگوں کے درمیان بات پہنچنانے کے لئے مشرقی پاکستان کے گورنرمنعم خان کو تشریح دان کی ذمہ داری سونپی گئی  ، ایوب خان نے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی اور فارغ ہوگئے اسی دوران منعم خان کبھی خراٹے لیتے تھے تو کبھی اونگھتے رہے، جب منعم خان کی ترجمے اور تشریح کی باری آئی تو تقریباً  دو گھنٹے لگاتار تقریر کرتے رہے کبھی غالب، ٹیگور تو کبھی علامہ اقبال کا کلام سناتے ، لوگوں سے داد اصول کرتے ، بنگالی عوام ہنستے، مسکراتے اور نعرے لگاتے، ان دو گھنٹوں میں گورنرصاحب نےلوگوں کو مختلف قصوں ، کہانیوں اور شاعری سے خوب محضوظ کیا اور وہ باتیں کیں جو ایوب خان نے اپنی تقریر میں کی ہی نہیں تھی۔۔

اتنی لمبی لمبی چھوڑنے کے بعد جب ایوب خان نے ان سے پوچھ گچھ کی تو منعم خان نے بڑے ادب سے عرض کیا کہ لوگ اتنی دور سے ان کی لمبی تقریروں اور خشک باتوں کے لئے نہیں آتے بلکہ وہ تھوڑی دیر زندگی کے بوجھل پن سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں ، پھر ایوب خان کو مزید بتایا کہ مون سون کے موسم میں لوگ  زیادہ تر فارغ ہوتے ہیں اور ان کے پاس اور چارہ نہیں ہوتا سوائے بچے پیدا کرنے کے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے آبادی کنٹرول کرنے کے مراکز موجود ہیں مگر پھر بھی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، اسکی وجہ بہت سادہ ہے لوگ ان سنٹرز پر اس لئے نہیں آتے کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے طریقے سیکھیں  اور اس پر عمل کرسکیں ۔۔ بلکہ یہ لوگ کنٹراسیپٹیوز کے استعمال کے بارے میں سننے اور اپنی خواہشات ابھارنے کے لئے آتے ہیں، ایوب خان ان کی باتوں اور تشریح کرنے کے انداز سے بڑے خوش ہوئے اور بہت ہنسے۔

پاکستان میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جو انٹرٹینمنٹ کی دنیا کو چارچاند لگاتے ہیں جس کے لئے انڈین کامیڈی فلموں کی ضرورت نہیں ہوتی چنانچہ پاکستان میں ناصر جان خان, شام ادریس, ڈکی بھائی ، عامر لیاقت اور سوات میں جلات خان اور ان جیسے دوسرے کلاون موجود ہوں  تو ماحول ہمیشہ زعفران رہتا ہے اور جگت بازی کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے خواہ حکمران عوام کو صحیح راستے پر لانے میں کامیاب ہو جائے یا ناکام ان کے پاس عوام کی فلاح وبہبود کے لئے بہت کم وقت بچتا ہے اور انٹرٹینمنٹ کے لئے زیادہ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *