یورپ ۔ جہاں زندگی آزاد ہے ۔ روم اٹلی/میاں ضیا ء الحق۔۔۔۔حصہ دوم

اٹلی کا سفر!

موجودہ اٹلی اور سابقہ رومن ایمپائر کے دارلحکومت روم سے آغاز کرنے کا چار مقاصد تھے کہ یہ کھوج لگایا جائے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو کیوں بانسری بجا رہا تھا اور روم اگر ایک دن میں نہیں بنا تو کتنے عرصے میں بنا؟ روم میں جا کر رومنز کی طرح رہنا کیوں ضروری ہے۔ تاریخی کولوسیم میں گلیڈئیٹرز کیسے اپنی جان بچانے کے لئے دوسرے کی جان لیتے تھے۔
اس کے علاوہ وینس کی معجزاتی پانی والی گلیاں اور شاہرائیں اپنا سحر اور وجود اب تک کیسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ میلان میں موجود مونا لیزا بھی کب سے بلا رہی تھی کہ ڈاونچی تو کہیں اور دفن ہے لیکن میں ہنستی مسکراتی یہاں ہی موجود ہوں۔

دبئی سے روانگی: برادر آصف بٹ دبئی ائیرپورٹ چھوڑنے گئے تو میرے انکار کے باوجود ازراہ محبت چھ آلو والے پراٹھے ہمراہ کردئیے کہ وہاں بہت کام آئیں گے! حالانکہ میں نے گرم کپڑوں کی فرمائش کی تھی کہ دسمبرانہ سردی میں دبئی کا لباس نہیں چلے گا۔

یورپ۔ جہاں زندگی آزاد ہے (۱) ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

ائیرپورٹ پر امارات  ائیرلائن کا A-380 تیار کھڑا تھا۔ سب کچھ کر کرا کر طیارے میں سوار ہونے لگے تو ایک ویزہ آفیسر وہاں بھی موجود تھا۔ میرا پاسپورٹ اور ویزہ گھڑی ٹھیک کرنے والے عدسے سے چیک کیا اور اٹلی جانے کا سبب دریافت کیا۔ فورا ً  بتا دیا کہ بھائی سیاحت کے علاوہ ہمارا کوئی اور پلان نہیں ہے کیونکہ دبئی اگر یورپ نہیں تو کم بھی نہیں اس لئے اپنی تمام گوریوں کو محفوظ تصور کرکے مطمئن ہوجاو۔ میاں بالکل بے ضرر ثابت ہوگا۔
پھر پوچھنے لگا کہ یہ ویزہ کہاں سے لیا ہے۔ فوراً  امانت چن یاد آگیا کہ اس سے بھی ٹریفک وارڈن یہ نہیں پوچھتا کہ لائسنس دکھاو بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ تم نے یہ موٹر سائیکل کہاں سے لے لی ہے اوئے؟ ہم نے تفصیل سے بتایا کہ ہم بے چین طبعیت کے مالک ہیں اس لئے ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے دوسرے الفاظ میں ٹورسٹ ہوں اور یہ ویزہ آپ کی ایمبیسی سے سی کے جی ایس ایجنسی دبئی کے ذریعے ہی لیا ہے۔ چند اور سوالات پوچھنے اور میرے تاثرات چیک کرنے کے بعد جانے کی اجازت مل گئی۔
اب یقین ہوگیا تھا کہ یورپ اب چند گھنٹے کی مسافت پر ہے جس کے لئے تقریباً  دو سال سے پلاننگ جاری تھی۔ ابھی اٹلی کے ائیرپورٹ پر بھی سادہ سی تفتیش ہونی تھی جس کے بعد میاں یورپ میں آزاد تھا۔
امارات ائیر لائن  کا ڈبل ڈیکر طیارہ واقعی شاندار تھا۔کشادہ سیٹیں مسکراتا ہوا عملہ اور کھلا کھلا ماحول ایک اچھا آغاز تھا۔ ایک عربی جوڑے کے ساتھ سیٹ دستیاب ہوئی تو معلوم ہوا کہ ہنی مون کے لئے جا رہے ہیں۔ نظر دوڑائی تو اندازہ ہوا کہ زیادہ تر یہی معاملہ ہے اور سولو ٹریولر تقریبا ً  صرف میاں ہی ہے۔ جلد ہی خود کو تسلی دے لی کہ عورت ساتھ ہو تو بندہ ٹھیک طرح سے گھوم پھر نہیں سکتا۔
چھ گھنٹے کا وقت عمدہ کھانا اور دو موویز کی بدولت جلد ہی پار ہوگیا۔ یورپ میں کرسمس گزر چکی تھی لیکن نیو ائیر 2 دن بعد تھا اس لئے بلا کا رش تھا۔ امیگریشن کاونٹر تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ  لگا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کثیر تعداد میں بنگالی لوگوں کو دیکھ کر ہوئی جو اپنی فیملی سمیت لائن میں کھڑے تھے۔ دل میں سوچا کہ شاید انہوں نے نیا بنگلہ دیش ہم سے پہلے بنا لیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہاں بنگالی افراد ساوتھ افریقہ سے کشتیوں پر آتے ہیں اور اٹالین حکومت کی خدا ترسی کی بدولت اب یہاں کے مستقل رہائشی ہیں۔
امیگریشن آفیسر نےپہلے اٹالین بعد میں انگلش میں کچھ سوالات کئے ریٹرن ٹکٹ ہوٹل بکنگز اور یورو کی کثیر تعداد دیکھ کر کہا جاو میاں نکل جاو نینویں نینویں ہوکے۔
ائیرپورٹ پر Lyca Mobile کی سم خریدی 50 یورو میں 40 جی بی ڈیٹا اور پورے یورپ کی انلیمیٹڈ کالز دس دن کے لئے کافی تھی۔
روم FCO ائیرپورٹ سے باہر نکلا تو باہر کی ٹھنڈی اور خوشگوار خوشبودار ہوا نے استقبال کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں آکسیجن کی فراوانی ہے۔ ڈیپ بریتھنگ سے انرجی بھی محسوس ہوئی۔ بالکل سامنے میٹرو ٹرین کا نشان نظر آیا تو سوچا کہ ٹیکسی کی بجائے میٹرو استعمال کی جائے کیونکہ ibis ہوٹل اسی کے روٹ پر آتا تھا اور میٹرو نظام سے آگاہی بھی ہوجاتی۔
مشین سے 2 یورو کا سنگل جرنی ٹکٹ حاصل کرکے ٹرین کی طرف روانہ ہوگیا۔ میٹرو کے ڈیلی ویکلی اورمنتھلی پاسز بھی ملتے ہیں لیکن اس سمت ابھی زیادہ تحقیق کرنے کا وقت نہیں تھا۔ یہاں پہنچتے ہی حیرت ہوئی کہ گوگل میپس میٹرو کی لائیو انفارمیشن دے رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ میری ٹرین اس پلیٹ فارم پر 7 منٹ کے بعد آجائے گی اس لئے کسی دوسری ایپ کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔
20 منٹ بعد میٹرو ٹرین نے Muratella سٹیشن پر اتار دیا۔ باہر کی خوشبودار ہوا ایک دفعہ پھر ویلکم کررہی تھی۔ ہوٹل یہاں سے ایک کلومیٹر دور تھا اس لئے گوگل کے مطابق مجھے بس لینی تھی۔ بس سٹاپ پر ایک اٹالین سے معلومات لیں تو معلوم ہوا کہ بس میں ٹکٹ نہیں ملتی اور سفر سے پہلے کسی مارکیٹ یا سیلز پوائنٹ سے خریدنی ہوتی ہے۔ میاں اب خود کو ایک کلومیٹر سامان سمیت چلنے کے لئے تیار کرچکا تھا کہ ٹیکسی کی ایپ نے بھی اس علاقے میں ٹیکسی کی دستیابی سے انکار کردیا تھا۔ اس خوش اخلاق اٹالین نے صورتحال فورا بھانپ لی۔ اتنے میں بس آن پہنچی تو اس نے کہا اندر آجاو اور اگلی دفعہ ٹکٹ لے لینا یہاں کوئی چیکر نہیں ہوتا اعتبار پر ہی کام چلتا ہے۔ خوشی میں اس کو پپی کرنے کو دل چاہا لیکن نیند اور تھکاوٹ نے اجازت نا دی۔ اس کی اٹالین نما انگلش سن کر بہت مزہ آیا کہ تھوڑی الگ سی چیزیں ہمیشہ سے میری فیورٹ رہی ہیں۔
باہر کا درجہ حرارت 5 سنٹی گریڈ پہلی دفعہ تب محسوس ہوا جب بس میں موجود افراد عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ ہاف بازو شرٹ پہنے یہ کونسی مخلوق ہے بھئی۔ بس سے نیچے اترا تو ایک اٹالین نے اشارہ بھی کردیا کہ کچھ پہن لو سردی ہے۔ فورا جیکٹ پہنی تو لگا کہ کم ہے ایک اور پہننی پڑے گی۔جذبات اور خوشی کے مارے سردی کا احساس بھی جاتا رہا تھا کہ دبئی میں 25 سنٹی گریڈ چھوڑ کرگیا تھا۔
کمرہ پہلے سے بک تھا اور شدید تھکاوٹ اور سردی میں ہوٹل کی گرم ریسیپشن زبردست مزہ دے رہی تھی۔ ہنستی مسکراتی اٹالین لڑکی نے کمرے کی چابی تھمائی تو اس کو ایک گرماگرم کافی Latte کا بھی کہہ دیا کہ فورا ً بھجوانا میاں کا سونے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ یہ ہوٹل ibis Roma fera کی چین سے تعلق رکھتا تھا جو سستا اور معیاری ہونے کے لئے مشہور ہے. کمرے میں الیکٹرک یا گیس کی بجائے سٹیل ہیٹرز لگے ہوئے تھے۔ باہر کھڑکی کا نظارہ بھی ہر طرف ہریالی اور روایتی یورپین مناظر دکھا رہا تھا۔
دو گھنٹے بعد فریش ہوکر اب روم شہر کا دورہ کرنے کا پروگرام تھا کہ شام تو پہلے ہی ڈھل چکی ہے اس لئے تاریخی مقامات پر جانا فضول فیصلہ ہوگا۔ ریسپشن والی نے ٹیکسی آرڈر کردی MyTaxi ایپ زبردست تھی۔
5 منٹ کے بعد ٹیکسی والا اٹالین آپہنچا تو معلوم ہوا کہ لوکل اٹالین ٹیکسی کا کام بہت شوق سے خود کر تے ہیں۔ ڈرائیور سے دریافت کیا کہ بھائی آج تو میزبان ہے اور میاں آج مہمان ہے بتا کہاں لے کر جائے گا؟ اس نے کہا ایک فوارہ ہے وہی اس وقت سب سے اچھی تفریح ثابت ہوسکتا ہے جہاں اس وقت بھرپور رش ہوگا۔ یہاں سے آغاز کرنا چاہئے۔ اس کو Trevi Fountain کہتے ہیں۔ اس کی اٹالین انگلش بھی بہت مزے کی لگی اس سے سارے راہ گپ شپ چلتی رہی اور کہیں بھی محسوس نہیں ہوا آج پہلی دفعہ ملاقات ہوئی ہے۔ 30 منٹ کے بعد اس نے ایک گلی میں اتار دیا کہ آگے پیدل جانا ہوگا کہ گاڑیاں وہاں نہیں جا سکتیں۔ رات کے 8 بج چکے تھے اور درجہ حرارت شاید زیرو سنٹی گریڈ سے بھی نیچے جا پہنچا تھا۔ اب لگ رہا تھا کہ واقعی یورپ میں ہوں۔
کچھ دیر کی چہل قدمی کے بعد ٹریوی فاونٹین پر پہنچا تو وہاں ایسے رش لگا تھا جیسے ہمارے ہاں داتا دربار پر جمعرات کی شام کو لگتا ہے فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں پر ہر بندہ اپنی ذاتی لڑکی ساتھ لے کر آیا تھا لیکن میاں نے اس خیال کو زیادہ دیر حاوی نہیں ہونے دیا۔
اس فاونٹین کی تعمیر 1626 میں شروع ہوئی اور 1762 تک چلتی رہی۔ یہ فاونٹین اس جگہ تعمیر کیا گیا جہاں سے پینے کا پانی شہر کو سپلائی ہوتا تھا 19 قبل مسیح سے یہ کام کررہا ہے۔ اس کا موجودہ سٹرکچر سترہویں صدی عیسوی سے موجود ہے۔
اس کے تالاب میں 3 یورو سکے پھینکنے کی روایت ہے جو تالاب کی طرف پشت کرکے دائیں ہاتھ سے بائیں کندھے کے اوپر سے پھینکے جاتے ہیں۔ روزانہ 3000 یورو کے حساب سے سالانہ ڈیڑھ ملین یورو یہاں سے نکالے جاتے ہیں جو کہ چرچ کے زیر انتظام غریب اور نادار لوگوں کی فلاح و بہبود پر لگائے جاتے ہیں۔ ویسے آج کل روم کی میونسپل کمیٹی اور چرچ کا تنازعہ چل رہا ہے کہ میونسپل کمیٹی اب اس پیسے کو استعمال کرے گی۔ فاونٹین کی عمارت پر کچھ بلند و بالا مجسمے نصب ہیں جو اینجلز اور دوسرے مذہبی افراد سے منسلک ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سردی اور لوگوں کا رش مزید بڑھ رہا تھا کہ فوٹوز اور ویڈیو بنانی بھی مشکل ہورہی تھی۔ نزدیکی دکان سے دستانے خریدے جو پورے یورپ ٹور میں بہت کام آئے۔
https://youtu.be/nPiMFa3uD1M
گوگل میپ سے مدد لی تو نزدیک ترین Piazza Venezia اور Altare Della Patria نظر آئے جو کہ یادگاری عمارات اور سکوئیر ہیں۔ اسی سکوئیر میں ایک ہوم لیس بھی نظر آیا جو اپنا گھر ایک چوراہے پر بنا کر بیٹھا تھا اس کے نزدیک تھک کر بیٹھا تو وہ میرا اور میں اس کا جائزہ کافی دیر تک لیتے رہے۔ 30 منٹ بعد بغیر کسی اعلامیے کے یہ اجلاس ختم ہوا تو 2 یورو اس کے سپرد کرکے ٹیکسی پکڑی اور ہوٹل کی راہ لی کہ کل ویٹیکن میں پوپ اور کولوسیم میں گلیڈئیٹرز کو ملنا ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *