نازؔ خیالوی :ایک تجزیہ۔۔۔۔۔ڈاکٹر فرحانہ قاضی/دوسرا ،آخری حصہ

(۳۱)

جب سے دستارِ فضیلت پائی ہے دربار میں
جانے کیوں شانوں پہ اپنا سر نہیں لگتا مجھے

(۳۲)

یار وسائل سے نواز اُن کو یا غیرت دے دے
بیچ دیتے ہیں ضرورت میں جو ایمانوں کو

(۳۳)

یاروں کسی جلاد کی تعظیم نہ کرنا
مرجانا مگر ظلم کو تسلیم نہ کرنا

(۳۴)

بہت لذیذ نہیں ہیں مگر حلال تو ہیں
میں اپنے خشک نوالوں کی خیر مانگتا ہوں

(۳۵)

سر جھکایا ہے نہ دستار اُترنے دی ہے
یہ الگ بات کہ سر کٹ گیا دستار کے ساتھ

(۳۶)

غربت مری غیرت کے قرینے میں ڈھلی ہے
فاقوں میں کسی در کی سوالی نہیں ہوتی
معیار ہے نازؔ اور ہی کچھ دادِ سخن کا
اشعار کی قیمت کبھی تالی نہیں ہوتی

(۳۷)

میں حرفِ صداقت ہوں وہاں جچ نہ سکوں گا
دربار کے ماتھے پہ نہ لکھوائیے مجھ کو

(۳۸)

جبکہ عظمت انسانی، بہرحال میں زندہ رہنے کا حوصلہ برقرار رکھنے، امید ورجا اور حق پرستی و حق شناسی اور آئندہ آنے والے حالات کی نباضی کے حوالے سے بھی نازؔ کے ہاں ایسے اشعار ملتے ہیں جو اپنی جگہ خاصے کی چیز ہیں۔ ذیل میں نمونے کے طور پر چند اشعار درج کیے جاتے ہیں:

تارے ہیں میری آنکھ کے یہ دلفگار لوگ
میں جانتا ہوں نازؔ یہ عظمت کے پھول ہیں

(۳۹)

سجدے کو تو ہیں آج بھی تیار فرشتے
انسان زمانے میں مگر ہے کہ نہیں ہے

(۴۰)

میں شاہ کے الطاف سے ایسے ہی بھلا ہوں
خیرات کی پوشاک نہ پہنائیے مجھ کو

(۴۱)

امر لا تقنطوا کا متوالا
کس طرح نا اُمید ہوجائے

(۴۲)

صورت حال بہر حال بدلنی ہے ہمیں
اپنا ہر طور، بہر طور بدلنا ہوگا

گرنا ممکن تو نہیں راہِ عمل میں لیکن
گر بھی جایں تو ہمیں گر کے سنبھلنا ہوگا
لوگ کہتے ہیں ہمیں عزم و شجاعت کے چراغ
ہم کو بپھری ہوئی آندھی میں بھی جلنا ہوگا

(۴۳)
روشنی حق کی علامت ہے کسی روپ میں ہو
وہ ستارہ ہو، شرارہ ہو کہ جگنو برحق

(۴۴)

ان بہتر جانثاروں کے ہیں لاکھور جانثار
کتنے بازو اور کتنی گردنیں کاٹوگے تم

(۴۵)

ظلم کو جھیلنا تہذیب سے غداری ہے
سخت ظالم ہے جو ظالم سے بغاوت نہ کرے

(۴۶)

خزائیں نا اُمیدی کی مرے دل میں نہیں آتیں
سدا اس باغ میں لا تقنطوا کے پھول کھلتے ہیں

(۴۷)

آنے والے حالات کی تلخی اور درپیش خطرات کو جس طرح نازؔ نے محسوس کیا اور اس کے لیے ایک باشعور اور مخلص فنکار ہونے کے ناطے جو لائحہ عمل اپنانے کا رستہ انہوں نے دِکھایا ، اُسے جان کر واضح ہوتا ہے کہ حالات پر ان کی نظر کی عمق اور گہرائی کے ساتھ تھی اور وہ اپنے معاشرے کے مسائل اور پھر ان کے حل پر کتنی ذمہ داری کے ساتھ سوچتے رہے ہیں ۔ ذیل کے اشعارسے اُن کی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے:

بندوق نے وہ اُگلے شرارے کہ الاماں
مرغابیوں کا غول سرِ آب جل گیا

(۴۸)

یا چھوڑ دے شکار پرندوں کا کھیلنا
یا پھر یہ سبز رنگ کا چوغہ اُتار دے

(۴۹)

فرقہ وارانہ تعصب کی عملداری میں
قتل کرتے ہیں مسلمان، مسلمانوں کو

(۵۰)

پھر جمع نہ کر پاؤگے صدیوں میں بھی خود کو
نازؔ اپنی اکائی کبھی تقسیم نہ کرنا

(۵۱)

مل کے رستہ روکنا ہوگا ہمیں سیلاب کا
گاؤں میں اک جھونپڑا تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

(۵۲)

غزل کی روایت سے وابستگی اور ایک حقیقت پسند شاعر ہونے کے ناطے نازؔ کے کلام میں جبر کے خلاف آواز اُٹھانے اور مزاحمت کا جو رویہ ملتا ہے اس نے نازؔ سے لا تعداد ایسے اشعار کہلوائے ہیں جو غزل کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہیں۔ وہ نہایت واشگات لیکن فنکارانہ انداز میں ظلم و جبر، ناانصافی، بد نیتی، شریر پرمبنی قوتوں اور معاشرتی بربریت کی نشاندہی کرتے ہیں اور بہت ہی مؤثر لہجے میں اپنے عہد کی بدحالی کا نوحہ بیان کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ کسی لاگ لپیٹ کے بھی قائل نہیں اور اس سے کام لیتے ہیں وہ بین السطور بات کرنے کے بھی روادار نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ دوٹوک اور سیدھے سادھے الفاظ میں واضح بات کرتے ہیں ۔ ایسا انداز جو اُردو غزل کی تاریخ میں چند ایک شاعروں کا خاصا ہی رہا ہے ورنہ عام طور پر علامت اور استعارے کے وسیلوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے حتیٰ کہ صف اوّل کے بڑے غزل گویوں کے ہاں بھی یہی صورت ہے۔ اس سلسلے میں غزل کے علامتی اور رمزیہ اندازِ بیاں کا حیلہ تراشا جاسکتا ہے لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ حوصلے اور ہمت کا بھی معاملہ ہے اور اس اخلاقی جرأت کا بھی جس کا متحمل نہ ہر فرد ہوسکتا ہے اور نہ ہر فن کار۔
نازؔ خیالوی کا کلام پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ اخلاقی سطح پر بھی اور فنکارانہ ایمانداری کے حوالے سے بھی اُن میں یہ خاصیت موجود تھی کہ وہ ہر اُس چیز کی نشاندہی کرنے کی جرأت رکھتے ہیں جو ان کے مطابق انسانیت کے اصولوں کے خلاف ہو اور بطور ِ ایک فنکار کے بھی ان کو اپنی ذمہ داری کا شعور تھا کہ فن کا حق تب تک ادا نہیں ہوسکتا جب تک فن کار اپنے گردوپیش میں وقوع پذیر ہونے والے حالات کا بے لاگ اظہار نہ کرے۔ ذیل میں نازؔ کے عصری شعور کے حامل اشعار نمونے کے طور پر درج کیے جاتے ہیں:

ہر زمانے میں ثبوت عشق مانگا جائے گا
“لال” ماؤں کے چڑھیں گے سولیوں پر اور بھی
آفتاب اُبھرا ہے جس دن سے نئی تہذیب کا
ہوگیا تاریک انساں کا مقدر اور بھی
جب چلی تحریک تعمیرِ وطن کی دوستو!
ہوگئے برباد کچھ بستے ہوئے گھر اور بھی
جس قدر باہر کی رونق میں مگن ہوتا گیا
بڑھ گئی ہے رونقی انساں کے اندر اور بھی
بستیوں پر حادثوں کی چاند ماری کے لیے
بڑھ رہے ہیں روح کی جانب ستمگر اور بھی

(۵۳)

کہاں کے منصف و عادل، فقہیہ و محتسب کیسے
انہیں کے ہیں یہ سارے ان کو سارے کچھ نہیں کہتے

(۵۴)

دیر میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں بے فیض لوگ
جیسے غاروں کے خزانے ، جیسے قبروں کے چراغ

(۵۵)

جس کے سائے میں لڑکپن کی بہاریں کھیلیں
اب جواں ہاتھ وہی بوڑھا شجر کاٹتے ہیں

(۵۶)

کیا جئیں اہلِ حق وہاں کہ جہاں
لمحہ لمحہ یزید ہوجائے

(۵۷)

جو کلی بھی کھلی ہنس کے چپ ہوگئی
کتنا پُرخوف ماحول میرا رہا

(۵۸)

ہے طلوعِ سحر میں دیر ابھی
شب گزیدوں میں جان باقی ہے

(۵۹)

نازؔ خیالوی کے کلام کے تجزیے سے اُن کے وسیع مطالعے، شدتِ احساس اور انسان دوست فکر و احساس کا ثبوت ملتا ہے۔ مذکورہ بالا اشعار میں اُن کی متذکرہ خاصیتیں اپنی جھلک دِکھا رہی ہیں۔ دراصل اُن کی والہانہ انسانی ہمدردی اور انسان دوستی ایسی صفت ہے جو ان کے فن کو معاشرتی درد کا ترجمان بنا دیتی ہے اور یہاں آکر ہمیں ان کے فکری ڈانڈے ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعراء سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر ان کے ہاں فیض احمد فیضؔ جیسا طرزِ احساس نظر آتا ہے جس کے باعث وہ غریبوں اور ناداروں کے درد کے ترجمان بن جاتے ہیں اور نہایت دلنشین انداز میں اس طبقے کی حالتِ زار بیان کرنے لگتے ہیں،بلکہ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ اپنے دور سےآگے نکل کر اگلے زمانوں کے درد کی عکاسی کرنے پر قادر ہوں اور یہی دراصل ایک بڑا فن کار ہونے کی نشاندہی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے وقت سے جڑا ہوتا ہے بلکہ حال میں رہتے ہوئے ماضی کی روایت اور مستقبل کے امکانات کی بات ہی کرتا ہے۔ گویاایک طرح سے وہ ایک نقطۂ اتصال پر موجود ہوتا ہے جہاں سے آنے والے زمانوں کی کڑیاں بھی روایت سے مل جاتی ہیں۔ ذیل کے اشعار میں مظلوم و نادار طبقوں کے درد کی ترجمانی، روایت اور آئندہ سے جڑنے کی خاصیت نیز ناقدریٔ زمانہ، نا اہل و بے ظرف کے برسرِ اقتدار آنے اور اختیار مند ہونے، بے دری اور بے گھری کے احساس جبکہ ساتھ ہی ساتھ وطن سے شدید محبت، حساسیت و دردمندی اورزندگی کی حقیقت جیسے موضوعات پر نازؔ خیالوی کی فنکارانہ چابکدستی ملاحظہ کریں:

دل میں کیا سوچ کے ماں باپ نے پالے بچے
اور حالات نے کس رنگ میں ڈھالے بچے
آپ کھولیں تو سہی ان پہ درِ رزق حلال
پھر نہ توڑیں گے کبھی رات کو تالے بچے
نور ماں باپ کی آنکھوں کا ہوا کرتے ہیں
ایک ہی بات ہے گورے ہوں یا کالے بچے
گھر سے نکلے تھے کھلونوں کی خریداری کو
ہوگئے بردہ فروشوں کے حوالے بچے

(۶۰)

نمو کی قوتیں صدمات میں دم توڑ دیتی ہیں
غم و آلام بچوں کو جواں ہونے نہیں دیتے

(۶۱)

بے نواؤں کے مقدر میں ہے رُلتے پھرنا
کبھی گھر بار کی خاطر، کبھی گھر بار کے ساتھ

(۶۲)

تو مگن تھا اپنے کتّے پالنے کے شوق میں
مرگئے بھوکے کئی مجبور تیرے شہر میں
جن کے سر سہرا ہے نازؔ اس شہر کی تعمیر کا
گھر سے ہیں محروم وہ مزدور تیرے شہر میں

(۶۳)

جا بسے چاند نگرمیں بھی کئی لوگ مگر
ہم زمیں پر بھی رہے خانہ خرابوں کی طرح

(۶۴)

بانٹ دے گا وقت اہلِ زر میں ساری نعمتیں
مفلسوں کے واسطے حرفِ دعا رہ جائے گا

(۶۵)

جبکہ بے کسوں اور ناداروں کے درد کا احساس نازؔ کے ہاں کچھ اس صورت میں ملتا ہے:

کئی ڈھیر اس نے ریشم کے بُنے تھے
یہ میت بے کفن جس کی پڑی ہے

(۶۶)

جس نے ساری زندگی سونا اُگایا کھیت میں
اپنی بیٹی کو نہ چاندی کا بھی زیور دے سکا

(۶۷)

لٹاؤ مال نہ مردوں کے مقبروں کے لیے
خراب حال ہیں زندہ ابھی گھروں کے لیے

(۶۸)

کروڑوں لوگ فاقوں سے نہ مرتے نازؔ دنیا میں
روش اپنی اگر کچھ اہلِ زر تبدیل کرلیتے

(۶۹)

کھوئی کھوئی ہوئی بے کار جوانی میری
اُترا اُترا ہوا ماں باپ کا بوڑھا چہرہ

(۷۰)

یہ لازم ہے غریبوں کے حقوق ان کو دئیے جائیں
فقط خیرات سے تو دور ناداری نہیں ہوتی

(۷۱)

انسانی معاشرے کا ایک المیہ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ وہ عہدے ، مراتب اور اختیارات جو معاشرے کے ذمہ دار ،باکردار، بااُصول اور عالی ظرف لوگوں کو ملنے چاہیے تاکہ وہ رفاع عامہ کے کام کرسکیں اور حق بحق دار رسید کا اصول پورا ہو، اکثر ایسے عہدوں پر نااہل، بے ضمیر، طالع پرست، ابن الوقت ، کم ظرف اور خود غرض ٹولہ بُرا جمان ہو کر خوب خوب کھل کھیلتا ہے اور اپنی عاقبت نا اندیشیوں، اپنی بے حکمی، بے شعوری اور نا اہلی کے سبب انسانیت کو خون کے آنسو رُلاتا ہے ۔ کوئی بھی حساس فنکار جب اپنے اردگرد ایسی صورتِ حال دیکھتا ہے تو اُس کا قلم اس کے خلاف چلنے لگتا ہے اور اس کا زورِ بیان مزاحمت کی کوشش میں صرف ہوتا ہے۔ نازؔ خیالوی کے ہاں بھی ایسے اشعار ملتے ہیں جس میں انہوں نے ایسی صورتِ حال کی دہائی دی ہے اور اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ ذیل میں چند اشعار نمونے کے طور پر درج کیے جاتے ہیں:

رکھ دیے بالشتیوں نے پاؤں میرے کاٹ کر
میں قد آور تھا، مجھے قد آوری مہنگی پڑی

(۷۲)

ان کو مسند پہ بٹھانے کے ہیں مجرم سارے
دیکھنا یہ ہے کہ کس کس کا وہ سر کاٹتے ہیں

(۷۳)

مجھے لٹوا دیا ذوقِ نظر کی کم نگاہی نے
میں سونا جان کر بازار سے پیتل اُٹھا لایا

(۷۴)

تم بادشاہِ وقت کے لے پالکوں میں ہو
جو دل میں ہے کرو تمہیں سب اختیار ہے
کیا اور گل کھلائے یہ دیکھیں بہارِ نو
اب تک تو نازؔ جو بھی ہوا آشکار ہے

(۷۵)

کسی کے زخم پہ مرہم نہ رکھ سکی دنیا
یہ سنگدل تو فقط انگلیاں اُٹھا جانے

(۷۶)

گردشِ وقت کے روندے ہوئے انسانوں کا
کوئی مصرف نہیں ٹوٹے ہوئے برتن کی طرح

(۷۷)

خاک دنیا کے خداؤں نے اُڑا دی میری
اے خدا بن کے میں نائب ترا اچھا اُترا
قتل ہونے کا نہیں غم مجھے صدمہ یہ ہے
میرے سینے میں مرے بھائی کا نیزہ اُترا

(۷۸)

متذکرہ بالا موضوعات و خیالات کے علاوہ نازؔ کے کلام میں دیگر فکری زاویے بھی ملتے ہیں جن سے اُن کی ذہنی کشادگی، قادرالکلامی ، شعوری بلندی، وسیع النظری اور بالغ فکری کا ثبوت ملتا ہے۔ ایک مضبوط حوالہ جو نازؔ کی شاعری میں ملتا ہے وہ وطن سے والہانہ عقیدت اور محبت کا جذبہ ہے۔ جسے انہوں نے اپنے اشعار میں خوب شدت سے برتا ہے۔ نیززندگی کی ماہیئت و اصلیت کا بیان بھی نازؔ کے ہاں ایک اہم موضوع کے طور پر موجود ہے۔ تیرہ نصیبی، بے گھری اور بے دری کا مار دینے والا احساس بھی اُن کے اشعار میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ نیز روایتی اور کلاسیکی غزل گوؤں کی طرح شاعرانہ تعلیٰ پر مبنی اشعار بھی موجود ہیں۔ اس سلسلے میں چند ایک اشعار نمونے کے طور پر ملاحظہ ہوں:

فکر کے رنگ میں کیا ڈھلی زندگی
بن گئی مستقل بے کلی زندگی
میں غم زندگی میں تڑپتا رہا
مسکراتی رہی منچلی زندگی
ٹہنی ٹہنی پہ اشکوں کے غنچے کھلے
درد کی رُت میں پھولی پھلی زندگی
تم چلے ہو تو اس کو بھی لیتے چلو
میرے کس کام کی کھوکھلی زندگی

(۷۹)

عنبر و خوشبو کی مانگوں بھیک کیوں اغیار سے
سرزمینِ پاک کی مٹی ہے کستوری مجھے

(۸۰)

آوارہ ہی دیکھا ہے تجھے شام سویرے
اے نازؔ کہیں تیرا بھی گھر ہے کہ نہیں ہے

(۸۱)

نجات اب تو مجھے دے اے ذوق در بدری
کہ مدتوں سے مرا گھر مری تلاش میں ہے

(۸۲)

تو بھی ہارا نہیں دولت سے بقولِ دانش
عظمتِ فن ہے تری نازؔ امر، تو برحق

(۸۳)
نکھر گئی ہے مری روح زخم کھا کھا کر
متاعِ ہوش لٹا کر میں باشعور ہوا

(۸۴)

علاوہ ازیں روایت کے مطابق نازؔ خیالوی کے ہاں نعتیہ اشعار بھی ملتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اشعار صرف برائے شعر گفتن نہیں کہے گئے بلکہ ان میں نازؔ کے دلی جذبات جھلکتے ہیں اور اُن کا نبیﷺ کے لیے لگاؤ اور تقدس و احترام ملتا ہے۔ نیز اہلِ بیت اطہار کی شان میں بھی کہے گئے اشعار ملتے ہیں۔ مثلاً:
دونوں جہاں ہیں اُنؐ کی عنایت کے معترف
وہؐ دو جہاں کے واسطے رحمت کے پھول ہیں

(۸۵)

حوصلہ کس میں ہے دشمن کو دعا دینے کا
یہ روایت بھی محمدؐ کے گھرانے تک ہے

(۸۶)

سنتِ شاہؐ اُمم کا ہوں میں لذت آشنا
خاک سے بہتر کوئی بستر نہیں لگتا مجھے

(۸۷)

الغرض اس تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ نازؔ خیالوی ، اُردو شاعری بالخصوص غزل کے سرمائے میں ایک خوش گوار اور بامعنی اضافہ ہیں جن کا ایک کلام ایک طرف کلاسیکی روایت سے جُڑی کڑی قرار دیا جاسکتا ہے تو دوسری طرف آئندہ کے امکانات کے لیے ایک سنگ میل بھی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *