ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں ۔۔۔!!!

مجھے نہیں معلوم کہ ایک بیٹا جب اپنی ماں کے بارے میں تاثرات قلمبند کرتا ہے تو کیسے کرتا ہے۔ آج کتنے ہی سال ہو گئے کہ میں اپنی ماں کے بنا جی رہا ہوں۔ کیسے جی رہا ہوں؟ اس کا جواب خود میرے پاس بھی نہیں!

بچپن ماں کی گود میں کھیل کے شباب میں قدم کیسے رکھتے ہیں ، کچھ اندازہ نہیں ہے۔ عنفوان شباب میں مجھے حوادث زمانہ کے تھپیڑے ہی تو ملے ہیں، میں کیا جانوں کہ ماں کے آنچل کے سائے میں تسکینِ عافیت کس شے کا نام ہے؟ مرے نزدیک ماں کا وجود تو ایک سراب سا ہے جسے میں جہانِ تخیل میں دیکھ تو سکتا ہوں لیکن چُھو نہیں سکتا۔

امی جان! آج مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے!
آپ بہت جلد مجھے چھوڑ کے چلی گئیں۔ ابھی تو میں نے اپنے لاڈ بھی پوری طرح نہیں اٹھوائے تھے کہ فرشتہء اجل آپ کو اٹھا لے گیا۔ ابھی آپ کے ہاتھوں سے لقمے کھانے سے من بھی نہیں بھرا تھا کہ میری آنکھیں انسؤوں سے بھر گئیں۔ اب یہ دھندلائی ہوئی آنکھیں آپ کا عکس بھی ٹھیک طرح سے نہیں دیکھنے دیتیں ۔۔۔ لیکن جب شب کو نیند آنکھوں میں بھر جاتی ہے اور میں سو جاتا ہوں، پھر کوئی بھی خواب دیکھوں تو میرا ذہن آپ ہی کی صورت کا طواف کرتا ہے۔

امی جان ۔۔۔۔ آپ تو محبت کی مجسم صورت تھیں نا ۔۔!!
اس سے زیادہ کیا لکھوں کہ لفظِ محبت آپ کی شبیہ سے کشید کرتا ہوں۔ زندگی تو جیسے تیسے گزر ہی رہی ہے لیکن آپ آج بھی بہت یاد آتی ہیں۔ اسی لئے میں نے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ آپ کی یادوں سے معمور کر کے آپ ہی سے موسوم کررکھا ہے۔ جب کبھی اداس ہوتا ہوں، اُنہی گوشوں میں تانک جھانک کر لیتا ہوں، یقین جانئے بہت سکون ملتا ہے۔

اب تو یہی دعا ہے کہ
سبزہء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
آسماں تری لحد پہ شبنم افشانی کرے

Avatar
ثاقب رانا
ہر پاکستانی کی طرح ویلھا مصروف اور نویلا " دانشور".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *