جامعہ پنجاب ۔۔ ایک مسیحا کی تلاش میں

پنجاب یونیورسٹی۔ ایک مسیحا کی تلاش میں
پنجاب یونیورسٹی کا شمار ان جامعات میں ہوتا ہے جن کا قیام ،پاکستان بننے سے قبل عمل میں لایا گیا۔ قیام پاکستان سے قبل جب انگریزوں کا راج ہوا کرتا تھا ،تب اکتوبر 1882ء میں چار یونیورسٹیز بنانے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔ ان میں ایک پنجاب یونیورسٹی بھی تھی جو مسلم اکثریت والے علاقوں میں بنانے کا فیصلہ ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد 1947ء میں پنجاب یونیورسٹی بھارت اور پاکستان میں تقسیم ہوگئی۔ بھارتی پنجاب چندی گڑھ میں پنجاب یونیورسٹی بنائی گئی اور پاکستان میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بنائی گئی۔
طلبہ کے مسائل پر بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پہلے جامعہ پنجاب کے بارے میں جانکاری ہو۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور اس وقت 5 کیپمسز پر مشتمل ہے ۔جن میں علامہ اقبال کیمپس (اولڈ کیمپس)، قائداعظم کیمپس (نیو کیمپس)، جہلم کیمپس، گجرانوالہ کیمپس اور خانیوال کیمپس شامل ہیں۔ مجموعی طور پر جامعہ پنجاب کی 13کلیات(فیکلٹیاں) ، 9 کالجز اور 64 شعبوں اور ریسرچ سنٹر اور انسٹیٹیوٹ پر مشتمل ہے جبکہ اس کے الحاق شدہ کالجوں کی تعداد 434 ہے۔ جامعہ میں اساتذہ کی تعداد 750 سے زیادہ ہے اور طلباء کی تعداد تقریباًًً 32,000 کے قریب ہے۔جامعہ پنجاب کا پہلا وائس چانسلر جیمز براڈ لیئل جبکہ ڈاکٹر مجاہد کامران 53ویں وائس چانسلر ہیں۔
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے صوبے بھر کی تین جامعات سمیت پنجاب یونورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر مجاہد کامران کو بھی فارع کر کے ان کی جگہ سینئیر پروفیسر کو قائم مقام وائس چانسلر بنانے اور ایک ہفتے کے اندر نئے وائس چانسلرز کے لئے اشتہار دینے کا نوٹس جاری کر دیا ہے ۔جس کے بعد کیمیکل انجینیرنگ کے سینیر پروفیسر ڈاکٹر تقی زاہد بٹ کو پنجاب یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر کا عہدہ دے دیا جائے گا۔مجاہد کامران کے حالات زندگی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو 23 جنوری 1951ء کو گجرات میں پیدا ہوئے۔ 1965 میں میٹرک، اور 1969ء میں بی ایس سی راولپنڈی سے کیا ہیں۔1971 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی فزکس کر نے بعد حکومتی سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ تشریف لے گئے اور 1979 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔ ان کے اعزازات میں 1999 میں "پرائڈ اف پرمارمنس" ایوارڈ، عبدالسلام ایوڈ 1985، اور "نیشنل بک فاؤڈیشن ایواڈ 1997 شامل ہیں۔ آپ ایک درجن کتابوں کے بھی مصنف ہیں۔
ڈاکٹر مجاہد کامران پر بہت سے الزامات اور کیسز بھی ہیں جن کے خلاف ٹیچرز کمیونٹی سراپا احتجاج ہے اور ان پریہ الزام لگاتی ہے کہ وائس چانسلر صاحب نےبغیر سیلکشن بورڈ کے 326 افراد کی غیر قانونی تعیناتی کر دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ من پسند افراد کو ایک سے زیادہ عہدوں پر بٹھادیا گیا ہے ۔ اس کی ایک مثال ڈاکٹر عابد حسین چوہدری صاحب ہیں جو بیک وقت چیئر مین ہال کونسل، چیئرمین سیکنڈری ایجوکیشن، چیئرمین ٹیکنالوجی ایجوکیشن اور ایک ہاسٹل کے سپریٹنڈنٹ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ مجاہد کامران پرکرپشن، جعلی ڈگریوں، ہراسمنٹ، اور دیگر الزامات شامل ہیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب جنوری 2008 سے وائس جامعہ کی سیٹ پر براجمان ہیں۔ 2012 میں ان کی مدت ملازمت پوری ہو چکی تھی لیکن ایک مرتبہ پھر ان کو چار سال کے لیے مزید توسیع دی گئی۔ فروری 2016 میں دوسری مرتبہ ان کی مدت ختم ہونے کے باوجود ان کو بحال رکھا گیا ہے۔ ٹیچرز کمیونٹی اس بات پر بھی سراپا احتجاج ہے کہ ایک ہی شخص کو تین مرتبہ وائس چانسلر کا عہدہ دے کر دوسرے اساتذہ کا حق مارا جارہا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی پارلیمنٹ ایکٹ 1973 اور 2012 کے تحت 65 سال سے زائد عمر کا فرد کسی بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اہل نہیں ہو سکتا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مجاہد کامران کی عمر 67 سال کو پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں مجاہد کامران کو تیسری مرتبہ پنجاب یونیورسٹی میں تعیناتی نہ صرف دوسرے اہل اساتذہ کی حق تلفی ہے بلکہ پڑھا لکھا پنجاب کے نعرے کو بھی اپنے ساتھ دفن کر دیتاہے۔ لیکن اصل حقائق سے قوم کو آگاہ نہیں کیا جاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے ،کہ مسلسل ایک ہی شخص کو نوازا جا رہا ہے؟ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلےکا اساتذہ، طلبہ اور ملازمین کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا ہے ۔
ہمارا اصل موضوع پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کے مسائل ہیں ۔جہاں تک طلباء کے مسائل کا تعلق ہے تو یہ بات واضح ہے کہ جس ادارے میں اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیاں مسائل کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ موجود ہو اور دونوں اپنے مفادات کو ترجیح دے کر کھینچ تاؤ شروع کریں وہاں طلبہ کے مسائل کی طرف کون توجہ دےگا ؟ بد قسمتی سے طلبہ یونین پر پابندی کی وجہ سے یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں طلبہ کا نمائندہ بھی موجود نہیں ہوتا جو ایڈمنسٹریشن کو طلبہ کے مسائل کی طرف توجہ دلائے۔ وزیر تعلیم اور حکومتی نمائندوں کا دورہ ایکزیکٹیو کلب تک محدود ہوتا ہے اور چند فرلانگ کے فاصلے پر موجود طلبہ کے ہاسٹل اور ڈپیارمنٹس تشریف لانے کی توفیق نہیں ہوتی۔
یوں تو ہر طالب علم کا یہ خواب ہوتا ہے کہ اس کا جامعہ پنجاب میں داخلہ ہو، لیکن جامعہ پنجاب کی سرزمین میں قدم رکھنے کے بعد اسے بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو جامعہ پنجاب میں پڑھنے والوں کی زیادہ تر تعداد متوسط اور غریب طبقے سے ہے۔ ان میں سے بھی زیادہ تر ،کی تعداد یا تو لاہور سے باہر کی ہے یا پھر دیگر صوبوں یا علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کا جب داخلہ ممکن ہو جاتا ہے تو ان کے لیے فیسوں کے بعد سب سے بڑا مسئلہ رہائش کا ہوتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں اس وقت لڑکوں کے 16 اور لڑکیوں کے لئے 10 ہاسٹل موجود ہیں۔ ان ہاسٹلز میں صرف مارننگ کے آدھے سٹوڈنٹس کو ہاسٹل کی سہولت دی جاتی ہے۔ بہت سے طالب علم صرف اسی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ہیں کہ ان کو رہائش کا مسئلہ ہے۔ مارننگ کے پروگرامز سے زیادہ " سلف سپورٹنگ پروگرام" میں طلبہ داخل ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ دگنی فیس جمع کروانے کے باوجود ہاسٹل کے لئے اہل نہیں ہو تے ۔
یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یونیورسٹی میں آخری بار ہاسٹل 1982 میں طلبہ یونین کے فنڈز سے ہاسٹل نمبر 16 تعمیر کروایا گیا تھا۔ تب سے لیکر اب تک جہاں سٹوڈنٹس کی تعداد میں ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہاں ان کی رہائش کے لیے اب تک ایک بھی ہاسٹل تعمیر نہیں ہو سکا۔ جس کے نتیجے میں ہر کمرے میں جہاں 4 افراد کی گنجائش تھی وہاں 6 افراد اور کیوبکل روم میں 2 کی بجائے 4 افراد کو گھسا دیتے ہیں۔ یوں بھیڑ بکریوں کی طرح رہنا پڑتا ہےاور ہاسٹل کے اندر سہولیات کامعیار بھی ناقص ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے طالب علم ہاسٹل میں رہائش کا اہل نہیں اور اب شیخو پورہ کے لئے صرف ایک بس سروس چلانے کے بعد شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے طالب علموں پر بھی ہاسٹل میں رہائش رکھنے پر پابندی لگا دی گئی۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ جب طالبات کے لئے ہاسٹل میں جگہ کم پڑگئی تو بجائے نئے ہاسٹل بنانے کے لڑکوں کا ہاسٹل نمبر 16 زبردستی خالی کروا کر طالبات کو الاٹ کر دیا گیا۔ طلبہ نے جب اپنے حق کے لئےآواز اٹھائی تو راتوں رات پولیس کی مدد سے ان کو گرفتار کیا گیا اور تین تین ماہ تک نجی سیلوں کے پیچھے رکھا گیا تاکہ مزید کسی کو یہ ہمت نہ ہو کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھا سکے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے ارد گرد ہزاروں ایکڑ زمین خالی پڑی ہے جہاں چار شادی ہال بن سکتے ہیں تو طلبہ کے لیے ایک ہاسٹل کیوں نہیں؟
جہاں تک سیکورٹی کی صورت حال ہے تو 90 کروڑ کی کثیر رقم سیکورٹی بجٹ پاس کر کے یونیورسٹی کی چاردیواری بنائی گئی اور چار سو کے لگ بھگ سیکورٹی گارڈز اور پولیس چوکی موجود ہے لیکن اس کے باوجود آئے روز یونیورسٹی کے اندر طلبہ سے لیپ ٹاپ اور موبائیل چھیننے کی واردات ہورہی ہیں ہیں ۔ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں چوری ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ خود اساتذہ کے گھروں میں دن دھاڑے ڈکیٹی کے واقعات ہوئے ہیں۔ حال ہی میں شیخ زائد اسلامک سنٹر کے پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد گوندل صاحب کی گمشدگی یونیورسٹی سیکورٹی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یونیورسٹی میں چار سو سیکورٹی گارڈ موجود ہونے کے باوجود 15 میں سے صرف دو گیٹ جزوی طور پر کھول دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کو کئی کلومیٹر پیدل چل کر کلاسز میں جانا پڑتا ہے۔ایک اہم مسئلہ یونیورسٹی بس سروس کا ہے۔ 32 ہزار طلبہ وطالبات کے لیے صرف 52 بسوں کا انتظام کیا گیا ہے حالانکہ طلبہ سے باقائدہ بس سروس چارچ وصول کیا جاتا ہے۔ 1992کے بعد اب تک کوئی بس نہیں خریدی گئی۔ پچھلے سال ایک طالبہ یونیورسٹی بس سے گر کر جان بحق ہوئی تھی تب طلبہ کے شدید احتجاج پر وائس چانسلر نے 5 نئی بسیں خریدنے کا وعدہ کیا تھا ان میں سے بھی صرف تین بسیں خریدی گئی ۔ بھیڑ بکریوں کی طرح سفر کرتے ہوئے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ فیسوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ طلبہ سےیونیورسٹی کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے پارکنگ فیس کے نام سے بھتہ وصول کیا جاتا ہے ۔ انتظامیہ کی طرف سے پارکنگ میں سیکورٹی فراہم کرنے کی بجائے پارکنگ ٹھیکے پر دئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کو روزانہ کی بنیاد پر کئی جگہوں پر پرچی فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ سکالرشپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم میں بھی بے ضابطگیوں کا مظاہرہ کیا گیا ۔وائس جامعہ اور یونیورسٹی انتظامیہ سے دردمندانہ گذارش ہے کہ براہ کرم ذاتی مسائل ، عہدوں کی لڑائی اور اپنوں کو نوازنے کے ساتھ تھوڑی سی توجہ طلبہ کے مسائل پر بھی دیجئے۔ اس سے پہلے کہ طلبہ اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں ،مزید مسائل پیدا ہوں اور جامعہ کا ماحول متاثر ہو،انتظامیہ کو چاہیے کہ طلبہ کے مسائل حل کرنے طرف توجہ دے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عبدالحلیم شرر
اک سنگ بدنما ہے بظاہر میرا تعارف ۔۔ کوئی تراش لے تو بڑے کام کا ہوں میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply