ذرا نم ہو یہ مٹی۔۔عارف خٹک

خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر مرزا جان محسود کا میں ایک عرصے سے فین رہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب علم کی جو روشنی کُرک جیسے پسماندہ علاقے میں پھیلا رہے ہیں۔ اس کے لئے خٹکزینہ تا قیامت اُن کا ممنون رہے گا۔

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اپنا یارانہ برسوں سے ہے۔ میری خواہش تھی،کہ میں کسی دن یونیورسٹی کے جرنلزم ڈپارٹمنٹ کے بچوں کےساتھ ایک سیشن رکھوں اور اُن کے خیالات جان سکوں۔
آج ڈاکٹر انور خان صاحب،چیئرمین جرنلزم ڈیپارٹمنٹ اور جناب پروفیسر عبداللہ نے ایک ابتدائی تعارفی نشست کا اہتمام کیا۔ جس کے بعد کرک یونیورسٹی میں میرے ماہانہ  اعزازی لیکچر ہوا کریں گے۔ جس میں صحافت کے بُنیادی اُصولوں سے لے کر جرنلزم کو بطور کیریئر اپنانے پر سیرِ حاصل گفتگو ہوا کرے گی۔ ڈپارٹمنٹ کے بچوں میں ایک سپارک ہے۔ وہ کچھ الگ کر دکھانے کے خواہش مند ہیں۔ محدود وسائل میں جناب ڈاکٹر انور، پروفیسر عبداللہ اور ڈاکٹر مرزا جان نے کرک کے طلباء کےلئے ایک یونیورسٹی ایف ایم ریڈیو بھی لانچ کیا ہے۔ جہاں سے محدود وسائل کے باوجود وہ 29 کلومیٹر کے دائرے میں اپنی نشریات نشر کرتے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ لیب میں کمیونیکیشن آلات، ریکارڈنگ کے آلات اور دوسرے صحافتی وسائل کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت وائس چانسلر صاحب نے جو کام کیا ہے۔ وہ بذات خود ایک بڑا کارنامہ ہے۔

میں اس مضمون کی وساطت سے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان صاحب سے اپیل کرتا ہوں ۔کہ خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کے لئے فنڈ کا اِجراء کرکے بین الاقوامی سطح کی آر اینڈ ڈی کا قیام جلد از جلد عمل میں لایاجائے۔
اور ڈاکٹر مرزا جان محسود، ڈاکٹر انور اور پروفیسر عبداللہ صاحب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔جو محدود وسائل میں جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کو بین الاقوامی معیارِ تعلیم کے ہم آہنگ کرنے کی اپنی سی کوشش کررہےہیں۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *