یہ جو نلکا نلکا سرور ہے۔۔۔۔سلیم مرزا

صحرا ایسا ہی تھا جیسا انگلش فلموں میں دکھایا جاتا ہے ۔یا سعودیہ میں مزدوری کرنے والے دیکھ کر آتے ہیں ۔اسے اس تپتے صحرا میں کھجل خوار ہوتے مہینوں ہوچکے تھے،
اس کے پاس پانی کا ذخیرہ بھی ختم ہوگیا تھا، وہ کتنے ہی گھنٹوں سے پیاسا تھا، اچانک اسے صحرا میں کھجوروں کے کچھ درخت دکھائی دئیے، وہ حلق میں چبھتے کانٹوں اور جلتی پیاس لئیے، وہاں تک پہنچا، شکر ہے سراب نہیں تھا، وہاں ایک شیڈ تھا اور شیڈ کے نیچے ایک نلکا۔۔۔۔۔۔

نام پر کلک کرکے گزشتہ تحریریں پڑھیے۔۔۔ سلیم مرزا
وہ بیتابانہ آگے بڑھا، نلکے کی ہتھی چلائی
پانی تو کیا ہوا بھی نہ نکلی، وہ رکا نہیں چلاتا رہا، آخر اسے یقین کرنا ہی پڑا کہ اس کی “بوکی”خشک ہوگئی ہے جس کی وجہ سے نلکا پانی اٹھانے سے قاصر ہے،
وہ تھک کر شیڈ کی چھاؤں میں بیٹھ گیا، پیاس اذیت بن چکی تھی،
کچھ دیر اوسان بحال کرنے کے بعد اس نے شیڈ کا جائزہ لیا تو اچھل پڑا،


وہاں سوا دولیٹر کی کوک کی بوتل پانی سے بھری پڑی تھی،اس نے بھاگ کر بوتل اٹھائی، غٹاغٹ پانچ سو ملی لیٹر پی گیا،تبھی اس کی نظر ساتھ لگے ٹیگ پہ پڑی، جس پہ لکھا تھا،
“بھائی صاحب، اس بوتل کے پانی سے نلکے کی “بوکی “تر کر کے نلکا چالوکر لیں، اور جب پانی نکل آئے تو بوتل دوبارہ بھر کر یہیں رکھ دیں “۔
اس نے آدھا لیٹر کا گھونٹ اور لیا،باقی بوتل ساتھ پکڑی، نلکے کو زور سے لات ماری اور چل دیا۔۔
اس کہانی کا تصویر میں دئیے گئے نلکے سے اور ملکی معیشت سے کوئی تعلق اگر آپ جوڑ لیں، تو آپ کی مرضی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *