ارطغرل غازی کون تھا؟۔۔درخشاں صالح

سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی پر ترکی کا مقبول ترین تاریخی ڈرامہ ’’ارطغرل غازی‘‘  نشر کیا  جا رہا ہے، اُسے پاکستانی عوام کی طرف سے بے پناہ سراہا بھی  جا رہا ہے۔ میں نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا لیکن میڈیا کی خبروں کے مطابق اس ڈرامہ نے ماضی کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس ڈرامہ کی پہلی قسط کو یکم رمضان المبارک کو پاکستان میں نشر کیا گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ہر جگہ اس ڈرامے کے چرچے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ابتدائی پندرہ دنوں میں اس ڈرامہ کے یوٹیوب چینل پر دس لاکھ سبسکرائبرز ہو گئے، جبکہ ڈرامہ کی پہلی قسط کو 10 مئی تک یوٹیوب پر ایک کروڑ 41لاکھ سے زیادہ افراد دیکھ چکے تھے۔ یہ ڈرامہ خلافت عثمانیہ کی اسلامی تاریخ، کلچر اور روایات پر مبنی ہے، جسے ترکی میں بہت بڑی کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر اردو زبان میں ڈب کر کے پاکستان میں دکھایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پاکستانی عوام کو اسلام کے سنہری دور سے آگاہ کرنا ہے۔

ارطغرل غازی سلطنت عثمانیہ کے بانی ہیں ، آپکی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسوی میں، کچھ کتابیں 1281 بتاتے ہیں, آپ ہی کے تین بیٹے تھے گندوز, ساؤچی اور عثمان اور آپکے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 یعنی اپنے والد ارطغرل کی وفات کے 10 سال بعد خلافت بنائی اور ارطغرل کے اسی بیٹے عثمان کے نام سے ہی خلافت کا نام خلافت عثمانیہ رکھا گیا لیکن سلطنت کی بنیاد ار طغرل غازی  رکھ کر گئے تھے۔

اسکے بعد اسی سلطنت نے 1291 عیسوی سے لے کر 1924 تک , 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا۔

اس کے ساتھ مسجد نبوی، گنبد خضریٰ اور مسجد الحرام کی جدید تعمیر، سیدنا امیر حمزہ کا مزار، مکہ مکرمہ تک ایک عظیم الشان نہر ، آقائے دوجہاں ﷺ  کے روضہ مبارک  کے گرد سیسہ پلائی دیوار ، مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیے۔

ارطغرل  غازی کا خاندان وسط  ایشیا سے یہاں آیا تھا اور ان کے جدِ امجد اوغوز خان Oghuz khan کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ Kayi تھا جس سے ار طغرل  غازی تعلق رکھتا تھا آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا, ارطغرل  غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, ذوالجان اور گلدارو ,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا۔

آپ کا قبیلہ سب س پہلے وسط  ایشیا Central asia سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ Anatolia آئے تھے منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کےلئے۔ جہاں سلطان علاؤ الدین جو سلجوک Seljuk سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان Sultan Alap Arslan نے قائم کی تھی 1071 میں byzantine کو battle of Manzikert میں عبرت ناک شکست دے کر  اور سلطان الپ ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اور اسی سلطنت کے بادشاہ  آگے جاکر  سلطان علاؤ الدین بنے تھے۔

اسی سلطان علاؤالدین کے سائے تلے یہ 12 قبیلے اوغوز خان Oghuz khan رہتے تھے, اور اس قائی قبیلے کے چیف ارطغرل بنے، اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد, سب سے پہلے اہلت Ahlat آئے تھے ،پھر اہلت سے حلب Aleppo گئے تھے، 1232 جہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے العزیز کی حکومت تھی, سب سے پہلے ار طغرل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی، پھر سلطان علاؤ الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی۔۔ جس سے آپکو تین بیٹے ہوئے اوپر جو میں نے نام دیے ہیں, ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی, صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا, اسکے بعد ارطغرل سلطان علاؤ الدین کے بہت قریب ہوگیا۔

اس کے بعد منگولوں کی یلغار قریب ہوئی ،تو ارطغرل غازی نے منگول کے ایک ایم لیڈر نویان کو شکست دی ,نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا Right hand تھا ,اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روندا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا۔

اسی نویان کو ارطغرل نے شکست  دی تھی۔

اور پھر ارتغل غازی اپنے قبیلے کو لے کر  سوغت Sogut آئے ،بالکل قسطنطنیہ  کے قریب, اور پہلے وہاں بازنطین Byazantine کے ایک اہم قلعے کو فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبیلوں کو اکٹھا کیا اور سلطان علاؤ الدین کے بعد آپ کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے ان کی بیٹی کے ساتھ ہی عثمان کی شادی ہوئی ،ایک جنگ میں سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے اور انکی نسل سے جاکے سلطان محمد فاتح رح تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور اسی پہ  حضور ﷺ کی غیبی خبر پوری ہوئی۔

تاریخ میں ارطغرل  غازی جیسے جنگجو بہت کم ملتے ہیں لیکن ہماری نسل ا ن کو جانتی نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *