• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اسلامی معاشروں کیلئے بعثت پیغمبر اکرم ﷺ کے پیغامات۔۔۔۔حجت الاسلام والمسلمین محمد حسین مختاری

اسلامی معاشروں کیلئے بعثت پیغمبر اکرم ﷺ کے پیغامات۔۔۔۔حجت الاسلام والمسلمین محمد حسین مختاری

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا واقعہ اہل ایمان کی دیرینہ آرزو تھی۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ جملہ نقل ہوا ہے: “رَبَّنا وَ ابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ” (سورہ بقرہ، آیت 129)۔ معروف عالم دین اور مفسر قرآن کریم علامہ طباطبائی رح فرماتے ہیں کہ اس دعا سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مراد پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت تھی جیسا کہ خود پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: “میں ابراہیم (ع) کی دعا کا نتیجہ ہوں” (تفسیر المیزان، جلد 1، صفحہ 432)۔ بعثت سے پہلے بھی جب مشرکین عرب یہودیوں سے لڑائی کرتے اور انہیں اذیت و آزار پہنچاتے تو یہودی انہیں خبردار کرتے ہوئے کہتے تھے: جب ہمارا وہ نبی مبعوث ہو گا جس کی بشارت توریت میں دی گئی ہے اور اسی توریت کے بقول وہ مدینہ کی طرف ہجرت کرے گا تو ہمیں اس ذلت اور آپ عربوں کے ظلم و ستم سے نجات دلائے گا۔” قرآن کریم یہودیوں کے اس عمل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: “وَ کانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِینَ کَفَرُوا” [اور اس سے پہلے تم خود کافروں پر فتح کی نوید دلاتے تھے کہ اس کی مدد سے دشمنوں پر غلبہ پاو گے] (سورہ بقرہ، آیت 89)۔

بعثت، ایک عالمی سطح کا پیغام
قرآن کریم نے ہر گز حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیلئے “پیغمبر اسلام” کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ انہیں “رسول اللہ” کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے: “مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ” (سورہ فتح، آیت 29)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد (ص) تمام بنی نوع انسان کیلئے مبعوث ہوئے ہیں۔ خداوند متعال فرماتا ہے: “وَما أَرْسَلْناکَ إِلاَّ کَافَّةً لِلنَّاس‏” [اور ہم نے تمہیں نبی بنا کر نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کیلئے] (سورہ سبا، آیت 28)۔ نبی مکرم حضرت محمد (ص) کی بعثت کا مقصد تمام قومی اور لسانی محدودیتوں کو ختم کر کے انسانوں کی روح میں تقوی کا نور ڈالنا تھا۔ جیسا کہ خود پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: “بُعِثْتُ‏ إِلَى‏ الْأَحْمَرِ وَ الْأَسْوَدِ” [میں سیاہ اور سفید کیلئے مبعوث کیا گیا ہوں] (تفسیر نورالثقلین، جلد 4، صفحہ 336)۔ حضرت محمد مصطفی (ص) کی بعثت اور دیگر انبیاء کی بعثت میں فرق یہ ہے کہ گذشتہ انبیاء صرف اپنی قوموں کیلئے بھیجے گئے تھے جبکہ حضرت محمد (ص) تمام دنیا کے انسانوں کیلئے مبعوث ہوئے ہیں۔

بعثت، خودشناسی اور منافقت سے مقابلے کا پیغام
انبیاء الہی کی اہم ترین ذمہ داری جہالت اور منافقت کا خاتمہ تھا۔ جیسا کہ خود نبی اکرم (ص) نے مبعوث ہوتے ہی منافقت اور فریبکاری کا پردہ چاک کرتے ہوئے نجات دہندہ کے جھوٹے منتظرین کا حقیقی چہرہ برملا کر ڈالا۔ “وَ کانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا کَفَرُوا بِه” [۔۔۔۔۔۔جب ان کے پاس یہ کتاب اور پیغمبر، جسے وہ پہلے سے اچھی طرح جانتے تھے، آئے تو اس کے منکر ہو گئے] (سورہ بقرہ، آیت 89)۔ لفظ “کانو” سے ظاہر ہوتا ہے کہ مدینہ میں آباد یہودی آنحضور (ص) کی مدینہ ہجرت سے بہت عرصہ پہلے سے مسلسل یہ آرزو کیا کرتے تھے اور ان کا یہ اقدام تمام عرب مشرکین میں مشہور ہو چکا تھا لیکن جیسے ہی پیغمبر اکرم (ص) مبعوث ہوئے اور مدینہ ہجرت کی تو انہوں نے آپ (ص) کی نبوت کا انکار کر دیا۔ (تفسیر المیزان، جلد 1، صفحہ 334)۔ درحقیقت بعثت تمام ایسے افراد کیلئے ایک عظیم درس ہے جو منجی عالم بشریت امام مہدی (عج) کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں۔ بعثت ایک ایسی کلاس ہے جہاں سے ہمیں خودشناسی کا سبق ملتا ہے۔ ہم خود کو پہچان کر ہی حقیقی کمال اور سعادت تک پہنچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ مولائے متقیان امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “یُثِیرُوا لَهُمْ‏ دَفَائِن العُقولِ” [خداوند متعال نے مسلسل انبیاء کو بھیجا تاکہ انسانی عقل میں چھپے ہوئے خزانے آشکار کر سکیں۔” (نہج البلاغہ، خطبہ 1)۔

بعثت، قوموں کی اتحاد کی جانب واپسی
آیات قرآن کریم کی روشنی میں انبیاء مبعوث ہونے سے پہلے تمام انسان ایک قوم تھے لیکن مستکبرین کی جانب سے ہر چیز پر قبضہ کرنے کی کوشش اور ظلم و ستم کے باعث انسانوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو گیا اور وہ کئی قوموں میں بٹ گئے۔ لہذا خداوند متعال نے انبیاء کو بھیجا تاکہ وہ انسانوں میں دوبارہ اتحاد اور وحدت پیدا کر سکیں۔ ارشاد خداوندی ہے: “کانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِیِّینَ” (سورہ بقرہ، آیت 213)۔ لہذا انبیاء کے اہداف میں سے ایک ہدف تمام انسانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت ایجاد کرنا ہے۔ وہ انسانوں کو شیطانی اوہام اور خیالات سے نجات دلا کر انہیں آب حیات تک پہنچانے آئے ہیں۔ ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی (ص) بھی اتحاد بین المسلمین کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ لہذا ہم پر بھی واجب ہے کہ تمام اسلامی فرقوں کے درمیان وحدت اور بھائی چارہ قائم کریں۔ جیسا کہ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای فرماتے ہیں: “شیعہ اور سنی مسلمانوں کو آپس میں متحد رہنا چاہئے کیونکہ جب بھی مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہو گا اسلام دشمن عناصر ان پر غالب آ جائیں گے۔” خدا انشاءاللہ ہمیں ایسا دن دکھائے جب تمام مسلمان رسول اکرم (ص) کے مقدس نام اور اسلام کے پرچم تلے بھائی چارے اور محبت سے مل کر رہیں اور کسی کو اس کے عقائد کی بنیاد پر کافر قرار دے کر امت مسلمہ سے دور نہ کیا جائے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *