ماضی کی خواتین جرنلسٹ۔انورغازی

اس تحریر میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ وہ کون سی خواتین ہیں جنہوں نے اردو صحافت کے آغاز سے لے کر آج تک صحافت کے میدان میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔تاریخ میں بے شمار ایسی خواتین کے نام ملتے ہیں جنہوں نے اردو ادب اور جرنلزم کے رسالے نکالے۔ اخبار اور رسائل کی خود ایڈیٹر رہیں۔ اداریے لکھے، فیچر لکھے، ڈرامے اور فلمیں لکھیں، کہانیاں اور ناول لکھے، انٹرویو کیے، خاکے اور سوانح نگار بنیں۔ مکالمے اور تبصرے کیے، ترجمے کیے، اسکرپٹ لکھے، مقالے اور کتابیں لکھیں۔ مقابلے میں اخبار اور میگزین نکالے۔ بڑے بڑے قلمکاروں، ادیبوں اور صحافیوں کا مقابلہ کیا۔ دیگر میدانوں اور کاموں کی طرح صحافت کی پرخار وادی میں بھی کامیابیاں حاصل کیں اور کررہی ہیں۔

اردو صحافت کی ابتدا میں ہی خواتین کی راہنمائی کے لیے ادبی اور معلوماتی رسائل و جرائد جاری کیے گئے۔ صحافی کے طور پر بے شمار خواتین نے شہرت حاصل کی۔ بیسیوں بلکہ سیکڑوں خواتین ایسی ہیں جنہوں نے اردو ادب اور اردو صحافت میں ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔ آج بھی وہ صحافت کے افق پر روشن ستاروں کی مانند تابندہ ہیں۔ اردو ادب و صحافت کی تاریخ میں ان کے نام امر ہوچکے ہیں۔ آئیے! چیدہ چیدہ ناموں سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی تعلیم و تعلّم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ تمام علوم و فنون میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی برابر حصہ لے رہی تھیں۔ علم و حکمت کا یہ سنہری دور 9 سو سال پر مشتمل ہے۔ اس دور میں بڑی بڑی ادیبائیں، مصنفائیں اور شاعرائیں گزری ہیں۔ خود بادشاہوں کی بیویاں اور بیٹیاں بھی پڑھنے لکھنے کا اعلیٰ ذوق رکھتی تھیں۔

مثال کے طور پر بابر بادشاہ کی بیٹی ”گل بدن بیگم“ زبردست انشاءپرداز اور اعلیٰ درجے کی شاعرہ تھی۔ ”جہانگیر“ کی ”نورجہاں“ علم و فضل اور انتظام و انصرام میں یکتا تھیں۔ ”اورنگ زیب عالمگیر“کی بہن ”جہاں آراءبیگم“ ادب، قراءت اور شعر گوئی کی ماہر تھی۔ اورنگ زیب کی بیٹی ”زیب النساء “ شعر و سخن اور فنِ خطاطی میں یدطولیٰ رکھتی تھی۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی خواتین ادب، شعر و شاعری اور دیگر علوم و فنون میں مہارت رکھتی تھیں۔

مغلیہ دورِ حکومت کے بادشاہ چونکہ علم دوست تھے، ان کی بیٹیاں، بیویاں، حرم کی دیگر خواتین بھی علوم و فنون کا ذوق و شوق رکھتی تھیں، اس لیے تمام خواتین نے علوم و فنون حاصل کیے۔ پڑھنے پڑھانے کا چرچا عام ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب اورشعر و شاعری میں مرد اور عورتیں برابر حصہ لیا کرتی تھیں۔

اسی طرح باقاعدہ تصنیف و تالیف کاکام کیا کرتی تھیں۔بر صغیر پاک وہند کی ہسٹری سے پتا چلتا ہے کہ 1884ءمیں فاطمہ بنت مریم نے ”مراة النسا” لکھی۔ 1803ءمیں ”منور بیگم“ نے ”گوشہ  عافیت“ لکھی۔ 1847ءمیں خدیجة النساءنے ”افکارِ خواتین“ لکھی۔ نواب شاہجہاں بیگم نے 43 کتابیں لکھیں۔ بیگم وائی بھوپال نے 1888ءمیں ”تہذیب نسواں“ کے نام سے کتاب لکھی۔ مصباح الخواتین کے نام سے ”ہادی النساءبیگم“ نے ایک کتاب تصنیف کی۔ اس طرح اس زمانے کی بے شمار خواتین ایسی تھیں جنہوں نے علوم و فنون اور علم و ادب کی آبیاری کی۔

برصغیر میں خواتین کو علم اور ادب سے خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مختلف موضوعات پر متعدد تصانیف بطور یادگار چھوڑی ہیں۔ متعدد اخبارات اور رسائل میں بھی ان عورتوں کے مضامین چھپتے تھے۔ ”دہلی اردو اخبار“ میں بہادر شاہ ظفر کی بیگم ”زینب محل“ کا کلام شائع ہوتا تھا۔ کلکتہ سے جاری ہونے والے پندرہ روزہ میگزین ”گلدستہ نتیجہ  سخن“ میں بھی پردہ نشین خواتین کی غزلیں شائع ہوتی تھیں۔

ایک رسالہ جس کانام ”گلدستہ ناز“ تھا، اس کو ایک عورت شائع کرتی تھی۔ اس خاتون کا نام تھا: ”بلقیس جہاں بیگم“۔ اس کی ایڈیٹر ”ناظمہ بیگم“ تھیں۔ اسی طرح بمبئی سے ”چراغ کعبہ“ کے نام سے ایک رسالہ بھی ایک خاتون نے جاری کیا تھا، اس میں خواتین کے مسائل پر ہی گفتگو ہوتی تھی اور خواتین ہی مضامین وغیرہ لکھتی تھیں۔اسی طرح محبوب عالم منشی نے 1893ءمیں ”شریف بیبیاں“ کے نام سے لاہور سے رسالہ شائع کیا۔ اردو کی خواتین کی صحافت میں یہ رسالہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ”شریف بی بی“ کے نام سے ایک رسالہ 1909ءمیں شائع کیا تھا۔ اس میں خواتین ہی کا موضوع تھا اور اکثر مضامین خواتین ہی کے شائع ہوتے تھے۔

”تہذیب نسواں“ کے نام سے ایک اخبار آصف جہاں بیگم نے شائع کیا تھا۔ اس میں عورتوں کی بیداری کے حوالے سے ہی تمام تحریریں ہوتی تھیں۔ ”تہذیب نسواں“ اس اعتبار سے اسم بامسمیٰ اخبار تھا کہ اس کے ذریعے جہاں دیگر امور پر توجہ دی گئی تھی وہاں تہذیب و اخلاق اور شائستگی پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ اچھے اخلاق اور تعلیم نسواں پر معیاری مضامین شائع کیے گئے۔ تہذیب نسواں کے بعد میرٹھ سے 1900ءمیں ”سفیر قیصر“ کے نام سے ایک رسالہ شائع ہوا۔ اس کا مقصد بھی خواتین میں بیداری تھی۔ اس کے مضامین بھی خواتین ہی لکھا کرتی تھیں۔

اسی طرح اسی سال ”پردہء  عصمت“ کے نام سے لکھنو  سے بھی ایک ادبی رسالہ شائع ہوا۔ یہ میگزین عورتوں کی اصلاح اور تعلیم و تعلّم کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ اس میں خواتین کے مضامین بکثرت شائع ہوتے تھے۔ علی گڑھ سے ایک رسالہ ”خاتون“ کے نام سے جاری ہوا۔ 1905ءمیں ”مشیر مادر“ کے نام سے ایک رسالہ نکلا۔ اس کی ایڈیٹر محمدی بیگم تھیں۔ اس میں خواتین کے مضامین، مقالات اور تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ آگرہ سے 1906ءمیں ”مسز خاموش“ نے ”پردہ نشین“ کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا۔ اس میں بھی زیادہ تر لکھنے والی خواتین ہی تھیں۔

خواتین کی صحافت کو فروغ دینے کے لیے 1908ءمیں ”عصمت“ کے نام سے کراچی سے بھی ایک رسالہ جاری ہوا تھا۔ اس میں خواتین کے موضوع پر ہی تحریریں ہوتی تھیں، اور خواتین رائٹرز ہی لکھتی تھیں۔ اسی طرح بھوپال سے 1909ءمیں ”الحجاب“ کے نام سے بھی ایک میگزین جاری ہوا تھا۔ اس کی تحریریں بھی خواتین کے موضوع پر ہی ہوا کرتی تھیں۔ اکثر مضامین خواتین ہی تحریر کرتی تھیں۔ اس میں زہرہ فیضی کے مضامین بچوں کی پرورش کے حوالے سے ہوا کرتے تھے۔ 1911ءمیں علامہ راشد الخیری نے ”تمدن“ کے نام سے ایک جریدہ نکالا تھا۔ اس کا مقصد خواتین کی فلاح و بہود اور ان میں شعور اجاگر کرنا تھا۔ اس میں کئی تحریریں خواتین کی ہوتی تھیں۔

اسی طرح 1916ءمیں ”پیغام امید“ کے نام سے ایک ماہنامہ رسالہ جاری ہوا۔ اس رسالے کی ایڈیٹر ”آزاد بیگم“ تھیں۔ اس میں بھی پڑھی لکھی خواتین کو دعوت دی جاتی تھی کہ وہ لکھیں، وہ صحافت کے میدان میں آئیں۔ اس میں علمی اور ادبی موضوعات پر خواتین کی تحریریں شائع ہوا کرتی تھیں۔ 1919ءمیں حسن نظامی کی نگرانی اور ان کی بیوی خواجہ لیلیٰ بانو کی ادارت میں ”استانی“ کے نام سے ایک رسالہ جاری ہوا تھا۔ اس میں زیادہ تر لکھنے والی خواتین تھیں اور خواتین کے موضوعات پر ہی مضامین ہوتے تھے۔ اسی سال ”نسائی“ کے نام سے خواتین کا ایک جریدہ شائع ہوا تھا۔ اس کا مقصد خواتین کی صحافت کو فروغ دینا تھا۔ اپنے زمانے کا یہ مقبول رسالہ شمار ہوتا تھا۔ اس رسالے کی ایڈیٹر بھی ایک خاتون تھی۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *