ورچوئل سیکس اور ہماری نوجوان و بوڑھی نسل/چوہدری عامر عباس

ورچوئل سیکس جیسے حسّاس موضوع پر لکھنا بہت معیوب سا لگتا ہے مگر پرویز رشید کی ویڈیو آنے کے بعد کچھ دوستوں نے کہا کہ اس پر لکھنا بنتا ہے۔ ورچوئل سیکس کی اصطلاح کوئی نئی نہیں ہے۔ پہلی بار اس بابت کوئی چودہ برس قبل سنا جب میرے ایک ایڈووکیٹ دوست نے مجھے اپنے سینئر کے ایک مشہور کیس بارے بتایا مگر اس وقت مجھے یہ ہرگز معلوم نہیں تھا کہ اسے ورچوئل سیکس کہتے ہیں۔

اس کے کلائنٹ کا بھائی اپنے کمرے میں نیم برہنہ حالت میں مردہ پایا گیا تھا اور اس کی کھوپڑی پر گولی لگی تھی۔ دوسری جانب غالب امکان یہ تھا کہ متوفی نے خودکشی کی تھی۔ بادی النظر  میں یہ ایک پیچیدہ کیس تھا۔ اس کیس کی ابتدائی تفتیش میں متوفی کے موبائل ڈیٹا کو جب چیک کیا گیا تو اپنی دوست لڑکی کیساتھ فخش گفتگو کے ان باکس اور سینٹ آئٹمز میں پچھتر کے قریب میسجز موجود تھے جو وقوعہ کے چند گھنٹے پہلے صرف آدھے گھنٹے دورانیہ میں بھیجے اور وصول کئے گئے تھے۔ میسجز کا تسلسل اور گفتگو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میسجز کے ذریعے دونوں پارٹنر فزیکل ایکٹیویٹی میں ملوث تھے۔ ان دنوں سادہ موبائل ہوتے تھے جس پر کال پیکجز اور سادہ ٹیکسٹ میسجز کرنے اور بھیجنے کی سہولت ہوتی تھی۔ تصاویر یا ویڈیوز وغیرہ بھیجنے کی سہولیات نہیں تھیں۔

میرے لئے یہ ایک نئی شئے  تھی لہذا یہ جاننے کے بعد میں شدید اضطراب میں مبتلا ہو گیا۔ اگلے ہی دن ایک سینئر دوست سے اس بابت پوچھا تو اس نے اس بارے بتایا۔ خیر اس کے بعد میں اس کیس کو بھول گیا پرویز رشید کی ویڈیو آنے کے بعد بس اچانک سے مجھے وہ کیس یاد آ گیا پھر میں نے اس بارے تھوڑا ریسرچ کی،تو معلوم ہوا کہ ورچوئل سیکس ایک گلوبل مسئلہ ہے۔ یہ ہر سوسائٹی میں بہت تیزی سے سرائیت کر چکا ہے۔ اگر آپ ورچوئل سیکس لکھ کر گوگل کریں گے تو آپ کو اس کی بابت بہت زیادہ مواد نظر آئے گا۔ ترقی یافتہ غیر مسلم ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے پروفیشنل خواتین و مرد حضرات موجود ہیں ،جو معمولی چارجز کے عوض آڈیوز اور ویڈیوز کے ذریعے جنسی تسکین کیلئے ورچوئل سیکس کی سہولیات دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل میڈیا پر اپنا ڈیٹا پبلک کر رکھا ہے۔ اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

معروف ریسرچ ویب سائٹ وکی پیڈیا کے مطابق اس وقت ڈیڑھ کروڑ کے قریب مرد و خواتین صرف چند افریقی اور یورپین ممالک میں ورچوئل لوونگ ریلیشن شپ میں رہ رہے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یہ جاننے کے بعد میں نے ایک سائیکالوجسٹ دوست سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ٹچ فون جی تھری و فور ٹیکنالوجی اور سیل فون میں موجود ہائی ریزولوشن کیمرہ ، آڈیوز، ویڈیوز نے ہمارے ہر شعبہ ہائے زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کے کچھ مثبت پہلوؤں کیساتھ کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ ورچوئل سیکس ایک دوسرے سے دور بیٹھے میاں بیوی کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ ورچوئل سیکس میں ایک دوسرے سے کوسوں دور بیٹھے دونوں پارٹنرز دراصل باتوں، آواز، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے خود پر ایسی صورتحال طاری کر لیتے ہیں کہ انھیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ایک ہی کمرے میں آمنے سامنے موجود ہیں، اسی طرح وہ دونوں بہترین جنسی تسکین حاصل کر لیتے ہیں، مگر یہی کام دو انجان لڑکا اور لڑکی بھی کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس کا کوئی مصدقہ ڈیٹا نہیں ہے مگر بدقسمتی سے آج پاکستان میں بھی جانے انجانے میں نوجوان نسل کی بڑی تعداد اس کا شکار ہو چکی ہے۔ اس کا الزام صرف نوجوانوں پر ہی نہیں تھوپا  جا سکتا بلکہ ہر طرح اور ہر عمر کے افراد اس میں ملوث ہیں اس میں کسی پڑھے لکھے، اَن پڑھ، بوڑھے، جوان کی تخصیص نہیں کی جا سکتی۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply