غیرت۔۔۔محمد خان چوہدری/افسانہ

نمبردار قادر بخش کا دادا خدا بخش گاؤں کا بڑا زمیندار تھا، سو بیگھے مزروعہ ملکیت کے علاوہ شاملات ملا کے وہ تین سو بیگھے زمین کا مالک تھا۔انگریزوں کے وقت فوج میں بھرتی ہوا، اور پاکستان بننے کے ایک سال بعد وہ نائب صوبیدار ریٹائر ہوا تو ضلع منٹگمری میں اسے دو مربعے ملکیت ایک مربعہ،گھوڑی پال اور آدھ مربعہ نمبرداری کا زمین الاٹ ہوئی ، وہ نمبردار بنا تو چک کانام بھی صوبیدار والا مشہور ہو گیا، قادر بخش کے باپ اور دادا نے بڑی محنت سے ساری زمین آباد کی،اور برادری کے کچھ اور لوگوں کو بھی وہاں زمین الاٹ کرا کے آباد کیا،آبائی  گاؤں میں ان کا خاندان صوبیدارئیے مشہور ہے۔
قادر بخش کی پیدائش چک میں ہوئی  وہیں میٹرک کیا، اور اٹھارہ سال کی عمر میں اس کی شادی ہو گئی ، بیس سال کی عمر میں وہ دو بیٹوں کا باپ تھا۔بڑا بیٹا بی اے میں اور چھوٹا ایف اے میں تھا، تو قادر بخش کی بیوی فوت ہو گئی ، بیٹی تو تھی نہیں ، تو گھر سنبھالنے کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔
بہنوں نے اس وقت دوسری شادی کا کہا، لیکن قادر بخش نے جواب دیا کہ جوان بیٹے ہیں ان کی شادی پہلے ہونی چاہیے ، سو دونوں کی کر دی،آبائی  گاؤں آنا  جانا لگا رہتا تھا، دو تین ماہ بعد قادر بخش کا چکر لگتا وہاں کی حویلی اور زمینوں کی دیکھ بھال ہو ہی جاتی، زمینوں کے قبضہ کے مسئلے بھی چلتے رہتے تھے اور مزارعوں سے حساب کتاب کے جھگڑے بھی رہتے۔چک میں دونوں بیٹوں کے گھر تھے زمین برابر تقسیم تھی اور کام صحیح چلنے لگا تو قادر بخش نے گاؤں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، اس کی عمر بیالیس سال تھی۔
گاؤں میں حویلی سیٹ ہوئی، مال مویشی اور نوکر رکھے گئے تو برادری کے لوگ اس کی دوبارہ شادی پے زور دینے لگے، قادر بخش اس شرط پر  راضی ہوا کہ وہ کسی بیوہ سے شادی کر لے گا، لوگ اسے اپنی کنواری بیٹیوں کے رشتے دینے پر راضی تھے لیکن وہ اپنی بات پر  قائم رہا۔
بچیوں کے پرائمری سکول میں ساتھ والے گاؤں کی استانی تبسم پڑھاتی تھی۔۔۔۔۔اس کی چچازاد سے شادی کے ایک ماہ کے اندر طلاق ہو گئی  تھی، جس کی وجہ کسی کو بھی معلوم نہ تھی، اس کی عمر تیس سال ہو گی۔
قادر بخش کی بہن جو گاؤں میں ہی رہتی تھی اس کے  ذریعے تبسم کا رشتہ آیا، اور شادی ہو گئی  جس میں چک سے آ کے قادر بخش کے بچوں اور بہوؤں نے بھی شرکت کی۔
تبسم سے پہلے بیٹا پیدا ہوا مراد بخش اور پھر بیٹی ہوئی  جس کا نام نور جہاں رکھا گیا۔
تبسم کا میکہ گاؤں ہی نہیں  خاندان بھی دوسرا تھا، روایات کا فرق تھا یا اس کی پہلی شادی کی طلاق کا اثر کہ اس کی بچے ہو جانے کے باوجود نہ قادر بخش سے اور نہ اس کے خاندان سے بن پائی ، وہ زبان کی بھی تیز تھی۔
نوکری چھوڑنے کے بعد تو اس کے جھگڑے بہت بڑھ گئے ، بات بات پر  روٹھ کے میکہ جانا اور قادر بخش کی بہن کا منا کے لانا تو عام بات تھی، بچے بڑے ہو گئے  ، مراد کو تبسم نے بگاڑ دیا، کبوتر، لڑائی  والے مرغے ، اور کتے پالنا اس کے شغل تھے، سکول جاتا اور وہاں سے دوستوں کے ساتھ غائب ہو جاتا۔
قادر بخش یہ سب برداشت کرتا رہا، بیٹی اس سے بہت مانوس تھی ، اور پڑھائی  میں بھی لائق تھی، تبسم اب میکہ جاتی تو مراد ہی اس کے ساتھ جاتا، نور جہاں  باپ کے پاس ہی رہتی، اس نے میٹرک کر لیا اور گھر بھی سنبھال لیا۔اور گاؤں میں عام خیال تھا کہ اس کی شادی پھُپھی کے بیٹے سے ہو گی۔
مراد ماں کے ساتھ زیادہ تر ننھیال میں ہی رہتا تھا، اور وہاں اس کا اپنی خالہ کی بیٹی سے چکر بھی چل رہا تھا۔ایک دن تبسم نے قادر بخش سے بچوں کے رشتے کی بات کی،وہ اگر صرف مراد کا رشتہ اپنی بہن کے گھر کرنے کی بات کرتی تو شاید  قادر بخش مان لیتا، لیکن جب اس نےکہا کہ وٹہ سٹہ میں نور جہان کا رشتہ اس کی بہن کے بیٹے کو دینا پڑے گا، تو قادر بخش نے سختی سے انکار کر دیا۔

اس سارے عرصے کے دوران قادر بخش دو دفعہ نورجہاں کو چک ساتھ لے گیا جب اس کا جانا کم ہوا تو اس کے بیٹےاپنے بیوی بچوں کے ساتھ گاؤں آتے رہے اور ان کا آنا نور جہاں کے لیے عید سے کم نہ ہوتا، وہ بڑے بھائیوں اور ان کی فیملی سے سگی بہنوں سے زیادہ پیار کرتی اور وہ سب بھی اس کو چاہتے۔
مراد بھائیوں سے مل تو لیتا لیکن گھر نہیں  رہتا تھا۔۔۔تبسم کو تو سوتیلے بیٹوں کو دیکھنا بھی گوارا نہ تھا، وہ اسی دن میکے  چلی جاتی۔
رشتوں کی لڑائی  نے طول پکڑا اور پھیل بھی گئی ، دونوں گاؤں میں برادری اس سے با خبر بھی تھی اور جلتی پے تیل بھی ڈال رہی تھی،کہ قادر بخش نے ایک دھماکہ کر دیا، تبسم مراد کے ساتھ میکے میں تھی تو وہ نور جہان کو بہن کے پاس چھوڑ کے چک گیا، وہاں کی ساری زمین اور نمبرداری بڑے بیٹوں کے نام کر کے واپسی پر  ان کو ساتھ لے آیا اور گاؤں کی ساری آباد زمین ان کے اور نورجہاں کے نام انتقال کرا دی۔
اب تبسم کے لیے   تو اس کی سوتن زندہ ہو گئی  ،سوتیلا پن، حسد اور جلاپا اس کے بس سے باہر ہو گیا، اور اس کا نشانہ نور جہاں بن گئی ، اس بیچاری کی زندگی اب ہر وقت عذاب تھی، سارا دن وہ تبسم سے اپنے ددھیال کو دی جانے والی گالیاں اور بد دعائیں سنتی اور کڑھی رہتی، سکول وہ جاتی نہیں  تھی
آخر اس نے ضد کر کے باپ کو اسے چک کے نزدیک کالج میں داخل کرانے اور چک میں رہنے پر  راضی کر لیا، اور وہاں بھائیوں کے پاس شفٹ ہو گئی۔۔
تبسم کے پاس اب انتہائی  قدم اٹھانے کے سوا چارہ نہیں  تھا، اس کام  میں اس کی بہن بھی شاید  معاون تھی ، بظاہر مراد نے اپنی خالہ زاد کو اغوا کر لیا،
اس کے باپ نے پرچہ قادر بخش اور مراد سمیت اس کے تینوں بیٹوں کے خلاف درج کرا دیا، اثر و رسوخ کی وجہ سے گرفتاری نہ ہوئی ، دو دن بعد مراد خالہ زاد کے ساتھ تھانے پیش ہو گیا، علاقے کے معززین جمع ہوئے اور یہ فیصلہ ہوا کہ لڑکے لڑکی کا نکاح کرا دیا جائے   اور صلح نامہ لکھ دیا جائے  جو ہو گیا۔
تبسم نے یہ معرکہ جیت لیا، اور بھانجی کو بہو بنانے میں کامیاب ہو گئی،
اور اب اس نے پینترا بدلا، بہو کو لے کے سب کے گھر جانا، کہے سنے کی معافی مانگنا، سب رشتہ داروں کی باری باری دعوت ، اور نند کی تو خاص خاطر کرتی، مراد کی خدمت جو کبھی نہ کی تھی وہ بھی کرنے لگی۔۔
لوگ بھول بھال گئے  ،اس دوران چک سے کوئی  نہ آیا۔ نور جہاں نے ایف اے  کا امتحان دیا،اور عید بھی آ گئی  تو تبسم نے قادر بخش کے آگے رو دھو ان سب کو عید پے بلوا لیا، مراد کا رویہ بھی بہتر ہو گیا، عید کے بعد چک والے واپس گئے  تو نورجہاں گھر رہنے لگی، سب تبسم پر  اعتماد کرنے لگے،پھر ایک دن تبسم میکے میں مراد اور اس کی بیوی کو چھوڑ کے اکیلی واپس آئی ،
رات کو قادر بخش باہر والی بیٹھک میں سو رہا تھا، تبسم دودھ کے دو گلاس لے کر نور جہاں کے پاس آئی  اسے دودھ پینے کا کہہ کے خود بھی پینے لگی ، جب دونوں پی چکیں اور کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کیں ، تبسم نےکہا کہ میرے  پیٹ میں سخت دباؤ ہے آؤ تھوڑی سیر کرتے ہیں، نور جہاں نے کہا کہ میرا سر بھاری ہو رہا ہے سونا چاہتی ہوں، تبسم نے ضد کر کے اسے چادر پکڑآئی  اور ہاتھ پکڑ کے باہر لے آئی ، گلی کے آخری سرے پر قادر بخش کی بہن کا گھر تھا۔۔۔
نورجہاں مشکل سے چل رہی تھی اس گھر کی پھاٹک کے پاس پہنچ کے وہ بیٹھ گئی، اس نے زور سے کہا امی اور اسے قے ہونے لگی،
اس کی آواز پھپھو نے سن لی پھاٹک کھول کے اسے دیکھا تو شور ڈال دیا
تبسم اتنی دیر میں واپس گھر پہنچ گئی  اور باہر والا دروازہ بند کر کے بیڈ پر  سوتی بن گئی ،
گلی میں شور ہوا سب جاگ کے باہر نکل آئے،تبسم بھی ننگے پاؤں  کھلے سر۔۔میری دھی ، میری دھی چیختی ہوئی  گلی میں آئی، قادر بخش بھی شور سن کے اپنی بندوق لے کے نکل آیا ادھر تبسم چیخ رہی تھی میری بیٹی بھاگ گئی۔۔۔
قادر بخش کی بہن کو کچھ شک پڑا، اس نے بھاگ کے بھائی  کے ہاتھ سے بندوق پکڑ لی، اور کہا کہ نور جہاں کو اندر اٹھا کے لاؤ، پڑوس کی عورتوں نے تبسم کو چُپ کرایا،تو وہ روتی بسورتی گھر چلی گئی  اس کا کام تو ہو گیا تھا۔۔

رات پورے گاؤں نے جاگ کر گزاری، صوبیداریوں کا اتنا رعب تو تھا کہ مرد ان کے گھر تک نہ آۓ، لیکن عورتیں تبسم کے پاس ٹولیوں کی صورت میں افسوس کرنے آتی رہیں اور وہ ان کو نورجہاں کے گھر سے بھاگ جانے کی کہانی سناتی رہی، عورتیں اس کے پاس سے اٹھ کر نور جہاں کو دیکھنے بھی جاتیں لیکن قادر بخش اور اس کی بہن نے پھاٹک بند کر دیا تھا اور اندر پہلے انہوں نے نور جہاں کو دودھ میں انڈہ ڈال کے پلایا، وہ بے سدھ تھی تھوڑی دیر بعد اس نے کھل کے ایک قے اور کی، اور سو گئی ، سحری کے وقت اسے پودینہ کا قہوہ پلایا گیا، اس کی طبیعت کچھ بحال ہوئی ، پھپھو اس کو پکڑ کے باتھ روم لے گئی ، اس کا پیٹ خالی ہوا، تو اسے سلا دیا گیا۔۔۔
قادر بخش نے مسجد میں غسل کیا نماز پڑھی اور مولوی صاحب سے بات کر کے واپسی پر بیٹی کو دیکھا جو سو رہی تھی، اسے سوتے میں ہی پیار کیا۔۔۔
بہن سے کچھ مشورہ کیا، بندوق واپس لی اور گھر آیا،تبسم کے پاس ابھی تک عورتیں آ جا رہی تھیں وہ بیٹھک میں چلا گیا،
جب دن چڑھ آیا اور عورتیں اپنے گھروں کو جا چکیں تو اس بیرونی دروازے کو باہر سے تالہ لگا دیا، مویشیوں والی حویلی کی طرف گھر کے اندر گیا،تبسم رات بھر کی تھکن کی وجہ سے سوئی  ہوئی  تھی،اور
قادر بخش کے اندر کا زمیندار جاگ چکا تھا، تبسم کے منہ میں دوپٹہ ٹھونس کے اسے کس کے اس کے سر کے پیچھے باندھا ہاتھ پاؤں چارپائی کے ساتھ باندھ دیے ، تبسم کو مزاحمت کا موقع ہی نہ ملا، کمرہ بند کر کے دروازے پر  باہر تالہ ڈال کے اس نے نوکر کو پیسے دیئے، نائی  کو ساتھ لے کر سودا لا کے کھانے کا بندوبست کرنے کا کہا،
مسجد سے اعلان ہوا کہ بعد از نماز ظہر نمبردار قادر بخش کی بیٹی کا نکاح مسجد میں ہو گا، اور ساتھ شرکا ء کو کھانے کی دعوت بھی دی گئی،
نورجہاں ہوش و حواس میں تھی جب قادر بخش بہن کے گھر گیا، وہ روتی ہوئی  باپ کے پاؤں پڑ گئی۔۔  باپ  نے اسے سینے سے لگایا تو اس نے بس یہ کہا،
ابا میں نے کچھ نہیں  کیا، باپ نے اس کے منہ پر  ہاتھ رکھ کے چُپ کرا دیا،
پھپھو نے نورجہاں کو دلہن بنا کے سجایا، مسجد میں نکاح ہوا، وہیں کھانا دیا گیا، رخصتی ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں ہوئی ، اور عصر سے پہلے شادی مکمل ہو چکی تھی، تبسم کے بارے میں کسی صوبیدارئیے سے پوچھنے کی جرات کسی نے نہ کی اور نہ کسی نے قادر بخش کے گھر کی طرف رخ کیا،
عصر کی نماز کے بعد مسجد سے یہ اعلان ہوا،
نمبردار قادر بخش کی زوجہ تبسم بی بی وفات پا گئی  ہیں، ان کی نماز جنازہ مغرب کے بعد ادا کی جاۓ گی۔
تدفین کے بعد قادر بخش کے نوکر سے لوگوں نے پوچھا کہ عصر کے قریب حویلی سے فائر کی آواز کیوں آئی  تھی تو اس نے بتایا، کہ بھینس کا دودھ نکال کے اس نے رکھا تو مراد بخش کی پالتو کتیا نے دودھ کی بالٹی میں تھوتھنی ڈال دی، تو قادر بخش صوبیدارئیے نے اسے وہیں گولی مار دی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *