عالمی یوم مسرت اور خوشیوں کو ترسے لوگ ۔۔۔عامر عثمان عادل

کل اخبار کے اوراق پلٹتے ہوئے ایک سنگل کالمی خبر پر نظر پڑی پتہ چلا کہ آج عالمی یوم مسرت ہے تجسسس نے اس بارے میں جاننے کی تحریک دی ۔تفصیل اس اجمال کی یوں سامنے آئی  کہ 2012 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس بات پر بحث ہوئی  کہ خوشیوں پر دسترس اس کرہ ارض کے ہر باسی کا بنیادی حق ہے اور اس کو ہر ممکن بنانا ہر ریاست کی ذمہ داری۔۔ بس جی پھر یہ قرارداد منظور ہوئی کہ آئندہ ہر برس 20 مارچ کو عالمی یوم مسرت منایا جائے گا ۔
کس ملک کے شہری کتنے خوش ہیں اس بارے میں اقوام متحدہ ہر برس ایک رپورٹ مرتب کرتا ہے جس کی بنیاد مندرجہ ذیل چھ عوامل کے تفصیلی جائزہ پر ہوتی ہے
1۔ فی کس اوسط آمدنی
2۔ صحت و تندرستی کیلئے دستیاب سہولیات
3۔ زندگی گزارنے کیلئے آزادی
4۔ بدعنوانی سے پاک معاشرہ
5۔ سماجی بہبود کا مربوط نظام
6۔ فیاضی و سخاوت
آئیے ایک جھلک رواں سال 2019 کی رپورٹ کی دیکھتے ہیں کہ اس سال خوش ترین ممالک میں ٹاپ ٹین پوزیشن پر کون سی اقوام فائز ہیں
1۔ فن لینڈ
2۔ ناروے
3۔ ڈنمارک
4۔ آئس لینڈ
5۔ سوئٹزر لینڈ
6۔ نیدرلینڈ
7۔ کینیڈا
8۔ نیوزی لینڈ
9۔ سویڈن
10۔ آسٹریلیا
عالم اسلام کا واحد ملک متحدہ عرب امارات ہے جو اس فہرست میں بیسویں نمبر پہ ہے قطر 32 ویں اور سعودی عرب 33 ویں پوزیشن پر جبکہ پاکستان 75 ویں سیڑھی پر کھڑا ہے
دبئئ میں قیام کے دوران میرے لئے یہ امر باعث حیرت تھا کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران لوگوں کو موبائل میسج موصول ہوتے اور پوچھا جاتا کیا آپ دوبئی  میں قیام کے دوران خوش ہیں ؟ اگر نہیں تو ہمیں اپنے حزن و ملال کی وجہ بتائیے ہم آپ کے غم کو خوشی میں بدلنے کی پوری کوشش کریں گے یہ طرز عمل اس بات کی دلیل تھا کہ حکومت نے اپنے شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنا رکھی ہے تبھی تو اب وہ لوگوں سے انکی خوشی پوچھ رہے ہیں ۔
آپ ان ممالک کی فہرست دیکھئے جن کے باسیوں کی زندگیاں اتنی آسان ہیں کہ وہ دنیا بھر میں پر مسرت زندگی کیلئے مطلوب آسائشوں سے مالا مال ہیں اور حسن اتفاق دیکھئے پہلی چار پوزیشنز پر سیکنڈے نیوین ممالک کا راج ہے ۔
ناروے کے شہریوں میں بڑھتے ہوئے ڈپریشن کی وجوہات کی جانچ کیلئے سروے کیا گیا تو سب سے بڑی جو وجہ سامنے آئی  وہ یہ تھی کہ لوگوں کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ ہمیں کسی بات کی ٹینشن ہی نہیں
ہم سے کہہ دیا ہوتا ٹوکرے بھر بھر رنگ برنگی فکریں پریشانیاں برآمد کر دیتے کہ اس معاملے میں ہم خود کفالت کی منزل کو چھو چکے ہیں گویا
دام دے کر غم نئے کچھ خرید لاتا ہوں میں  قابل رشک ہیں وہ حکمران جو اپنی رعایا کو خوش رکھنے کے سو سو جتن کرتے ہیں باعث تقلید ہیں وہ اقوام جو زندگی کے ایک ایک پل سے خوشیاں کشید کرنے کا ہنر جانتی ہیں ایک ہمارے حاکم ہیں جن کی اپنی ہوس اقتدار اور طلب مال و زر کم ہو تو عوام کی خوشیوں کا سوچیں کبھی کبھی تو گمان ہونے لگتا ہے کہ ہماری حکومتیں ہر اس دریچے کو بند کرنے کے درپے رہتی ہیں جو حبس کے مارے شہریوں کیلئے تازہ ہوا کا ذریعہ ہوں ہماری وزارتیں اس بات کو یقینی بنانے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کر دیتی ہیں کہ شہری کسی صورت بھی سکھ کا سانس نہ لینے پائیں
برس ہا  برس کی طوائف الملوکی نااہلی لوٹ کھسوٹ بد عنوانی نے مہنگائی رشوت ستانی معاشرتی ناہمواری بد امنی لاقانونیت کے ایسے ایسے زہریلے ناگ اس حرماں نصیب قوم پر چھوڑ رکھے ہیں جن کا ڈسا پانی بھی نہ مانگے اس ریاضت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم خوش رہنا ہی بھول چکے ہیں
خوشیاں ہمارے پاس کہاں مستقل رہیں
باہر کبھی ہنسے بھی تو گھر آ کے رو پڑے
نفسا نفسی کے اس دور میں خونی رشتے تو سفید ہوئے ہی تھے آنکھوں کا پانی بھی سمجھو مر گیا کہاں کی مروت بھائی چارہ رواداری اخلاقی قدریں سب مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گیا یہی وجہ ہے خوشیاں ہم سے روٹھ گئی ہیں ۔
ایک بے کیف زندگی ہے جسے ہم نہیں بلکہ وہ ہمیں گزار رہی ہے
جو نعمتیں رب ذوالجلال نے بن مانگے ہمارے دامن میں ڈال رکھی ہیں ان کے لئے سجدہ شکر بجا لانے کی بجائے ہم ہر اس شے کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہمہ وقت دوسروں سے توقعات وابستہ کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ کسی کی امید ہم سے بھی جڑی ہو سکتی ہے کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارا وجود دوسروں کے لئے کس قدر راحت کا باعث ہے ستم یہ کہ ہم نے اپنے بچوں کو بھی خوش رہنا نہیں سکھایا ۔
گنی چنی خوشیوں پر ہم خود سانپ بن کر بیٹھے ہیں تو پھر گلہ کیسا؟ ببول کے بیج بو کر گلاب کی آس پر زندگی گزارنا ایک سراب یے محض
ہو سکتا ہے ہماری روٹھی خوشیاں دوسروں کی راہ میں بکھرے خار چننے سے واپس مل جائیں اپنی ذات کی نفی کر کے کسی مبتلائے درد کے لبوں پر مسکان بھرنے سے ہماری روح تک سرشار ہو جائے تو یہ سودا مہنگا تو نہیں
آو آپس میں ہم زندگی بانٹ لیں
زندگی بانٹ لیں ہر خوشی بانٹ لیں
ڈال لیں ریت گر بانٹ لینے کی ہم
دوگنی ہو خوشی نصف رہ جائے غم

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *