نیوزی لینڈ : کرکٹ کا دہشت گرد ملک…احمد رضوان

یادش بخیر بچپن میں پی ٹی وی پر ایک اشتہار چلا کرتا تھا جو اشتہار شور و غوغا تو نہیں ہوتا تھا مگر ایک عجیب الخلقت جانور کو بوٹ پالش کے ساتھ جوڑ کر دکھایا جاتا تھا کہ کیوی ایک پرندہ ہے جو اڑ نہیں سکتا اور صرف نیوزی لینڈ یا ہماری بوٹ پالش کی ڈبیا پر ہی پایا جاتا ہے۔بوٹ پالش “چیری بلاسم” یا” کیوی” کون سی بہتر ہے یہ تو ہمارے وہ دانشور ہی بتا سکتے ہیں جو اصطبلچممنٹ کے بوٹ پالش کرنے سے چاٹنے پر آمادہ رہتے ہیں، ہمیں مگر کیوی کرکٹ ٹیم اپنی دہشت کی وجہ سے دہشت گردوں کی حمایت یافتہ محسوس ہوتی تھی۔

بہت دیر بعدجاکر جغرافیہ کی کتابوں سے یہ کھلا کہ نیوزی لینڈ ایک جزیرہ نما ملک شمال مغربی بحرالکاہل میں آسٹریلیا کےقریب واقع ہے اور کینگرو کے دیس والے اسے اپنا برادر خورد یعنی کزن ُملک سمجھتے ہیں۔اریب قریب 50 لاکھ آبادی والا یہ ملک پوری دنیا میں امن،خوشحالی، سماجی خدمات ،مساوات اور رواداری کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ ہماری گوڑھی پہچان اس ملک کے ساتھ مگراس کی کرکٹ ٹیم کے ذریعہ بنی ۔ ہم بھی بچپن سے اس شریفانہ کھیل کو اپنائے ہوئے ہیں اور ایک زمانے میں صرف یہی اوڑھنا ،بچھونا ،کھانا اور سونا ہوتا تھا ۔کچھ ریکارڈ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ چلتے تھے جیسے سب سے کم ٹیسٹ سکور پر آؤٹ ہونا، ایک وقت تک سب سے ذیادہ ٹیسٹ وکٹوں کا ریکارڈ رکھنے والے دنیا کے تیز ترین باؤلرز میں سے ایک “سر رچرڈ ہیڈلی” کے ذریعے دنیا بھر کے بیٹسمینوں کو دہشت زدہ کئے رکھنا اور میرے پسندیدہ ترین بیٹسمین مارٹن کرو جو ہر طرح کے موسمی حالات اور گراؤنڈ پر باآسانی کسی بھی بالر کی مت مار سکتے تھے۔اس بات کا اعتراف تو وسیم اکرم نے بھی کیا تھا کہ مجھے اگر دنیا میں کسی بیٹسمین کو باؤلنگ کرتے ہوئے پسینہ آجاتا تھا تو وہ مارٹن کرو تھے کہ ان کو آؤٹ کرنا سب سے مشکل لگتا تھا ۔

انیس سو بانوے کے ورلڈکپ ہر لحاظ سے یادگار تھا۔پانچواں ورلڈ کپ، شمالی کرہ پر کھیلا جانے والا پہلا ورلڈ کپ جس میں رنگین شرٹس،سفید بال ،کالی اسکرینوں اور فلڈلائٹ کا انتظام کیا گیا تھا۔چونکہ گرمیوں کا موسم تھا اور اکثر میچز کے دوران کم لباس میں خواتین میدان کے باہر گھاس کے قطعات پر لیٹی نظر آ جایا کرتی تھیں، جن کو پی ٹی وی کا سنسر دھندلے ڈبوں سے چھپانے کی کوشش کیا کرتا تھا مگر یار لوگ بھی ململ کے کپڑے کی اوڑھ سے اور آنکھوں کو سکیڑکر اپنے تخیل کے سہارے کچھ نہ کچھ حسن کی جلوہ افروزی کشید کر لیا کرتے تھے۔ اسی ورلڈ کپ میں ایک طویل عرصے کی پابندی کے بعد ساؤتھ افریقہ کی ٹیم بھی شامل ہو رہی تھی اور کسی کو امید نہیں تھی کہ وہ سیمی فائنل تک پہنچ جائے گی۔امید تو کسی کو پاکستان کرکٹ ٹیم سے بھی نہیں تھی کہ یہ ٹورنامنٹ کی ڈارک ہارس ٹیم ثابت ہوگی اور کپ جیت کر آئے گی۔وقاریونس ان فٹ ہونے کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہ بن سکے تھے اور جو بیٹسمین یا بالرز ساتھ گئے تھے وہ بھی اپنی کارکردگی میں اپنی سابقہ روایات برقرار رکھے ہوئے تھے یعنی” غیر یقینی صورتحال”.عمران خان شولڈر انجری کی وجہ سے انجکشن لگوا رہے تھے۔حالت یہ تھی کہ وسیم اکرم اور عاقب جاوید کے بعد تیسرا میڈیم پیسر اعجاز احمد تھا۔عمران خان جزوقتی بالر کے طور پر اور مڈل آرڈر بیٹسمین کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کررہے تھے۔لیگ اسپنر مشتاق احمد المعروف “مشی”ہمارا ترپ کا پتہ تھے جن کی” گگلی “سے کافی امیدیں وابستہ تھیں۔پواینٹس ٹیبل پر سب سے نیچے ہونے کی وجہ سے کافی سارے اگر مگر شامل کرنا پڑے تھے کہ آسٹریلیا اگر ویسٹ اینڈیز کو ہرا دے تو پاکستان سیمی فائنل کھیل سکتا تھا ۔

اس ورلڈ کپ میں پاکستان پول اے میں تھا اور زیادہ میچ اس نے آسٹریلیا میں کھیلے تھے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کھیلنے آسٹریلیا سے نیوزی لینڈ کا سفر کیا تھا اور ابتدائی مقابلہ جیت لیا تھا حالانکہ نیوزی لینڈ ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کی برتری کے ساتھ بہت اچھا کھیل رہی تھی اور ٹورنامنٹ جیتنے کے لئے کافی فیورٹ تھی۔
27 سال پیشتر آج ہی کے دن 21 مارچ 1992 کو جب سیمی فائنل میچ شروع ہوا تو رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تھا اور میچ کا آغاز صبح سحری کے وقت ساڑھے تین بجے کے قریب ہوا تھا ۔ آج بھی یاد ہے کہ اس رات مطلع ابرآلود تھا اور ہلکی ہلکی بوندا باندی جاری تھی۔ایڈن پارک آکلینڈ کی یہ گراؤنڈ نہ صرف کرکٹ بلکہ رگبی کے لئے بھی استعمال کی جاتی تھی ۔اس کی مخصوص شیپ کرکٹ کے لئے کئی لحاظ سے ذیادہ عمدہ نہیں تھی، جیسے کور اور پوائنٹ باؤنڈری بہت مختصر تھی اور آسانی سے چوکا یا چھکا لگ جاتا تھا۔نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنے دھواں دار اوپنر بیٹسمین مارک گریٹ بیچ کی عمدہ فارم کی بدولت بہت اچھا اسکور کرنے میں کامیاب رہتی تھی اس کے بعد مارٹن کرو، ردرفورڈ ،جان رائٹ جیسے بلے باز ایک بڑا سکور کھڑا کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔بالنگ میں بھی انہوں نے سرپرائز کرنے کےلئے اٹیک بالنگ میں آف اسپنر دیپک پٹیل کو اب تک کافی کامیابی سے استعمال کیا تھا ۔

ٹاس جیتنے کے بعد جب نیوزی لینڈ نے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو سب کے چہرے لٹک گئے کیونکہ پاکستانی بعد میں سکور کرنے کے معاملے میں ہمیشہ پچھڑ جاتے تھے اور پہلے بیٹنگ کو ترجیح دیتے تھے۔ خیرمرتے کیا نہ کرتے ہر چہ بادا باد۔ پچ بیٹنگ کے لئے سازگار تھی اور جب مارک گریٹ بیچ نے آتے ہی ابتدائی اوور میں پوائنٹ پر چھکا لگایا تو لگتا تھا کہ آج نیوزی لینڈ کی ٹیم ہوم گراؤنڈ اور کراؤڈ کا بھرپور فائدہ اٹھائے گی اور ایک بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وہ تو عاقب جاوید کی سلو ڈلیوری جس پر مارک گریٹ بیچ باہر نکل کر چھکا لگانے کے لیے نکلے اور بِیٹ ہو کر بولڈ ہوئے تو کچھ سانس میں سانس واپس آئی۔ مگر جب تک مارٹن کرو کریز پر موجود رہے دھڑکا لگا رہا کی یہ ضرور بڑا اسکور کرجائیں گے۔اکیانوے رنز کی اننگ کھیل کر جب وہ آؤٹ ہوئے تو میچ پر نیوزی لینڈ کی گرفت کافی مضبوط تھی۔پہلی اننگ کے آخری اوورز چل رہے تھے کہ موسم کی خرابی کے باعث گھر کے قریب موجود ٹرانسفارمر بھی غصہ کر گیا اور اس کا ایک فیڈر ٹرپ کر گیا۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ محلے کے کچھ گھروں میں تو لائٹ آرہی تھی مگر شومئی قسمت جہاں میچ دیکھنے والے تھے ان گھروں کی بند تھی۔ میں اور استاد محترم طارق محمود جو بہترین وکٹ کیپر تھے اور سیالکوٹ بہت اچھی کرکٹ کھیل چکے تھے دونوں کے گھروں میں لائٹ موجود نہیں تھی۔ تقریبا سات بجے کا وقت تھا ہم دونوں بے قرار ہو کر باہر نکلے تو ہمارے پڑوس میں ایک ہمسائے کے گھر لائٹ آرہی تھی مگر وہاں کرکٹ دیکھنے والا کوئی نہیں تھا۔باباجی اس گھر سے باہر نکلے تو ان سےنیوزی لینڈ اسکور کا پوچھ لیا ،انہوں نے نیوزی لینڈ کے نام کے ساتھ جو حشر کیا وہ لکھنے کے قابل نہیں مگر آج بھی جب یاد آتا ہے تو ہنسی لبوں پر کھیلنے لگ جاتی ہے(طاارق صاحب آپ کو یاد ہے نا؟)۔ گھر سے کچھ فاصلے پر ایک اور شوقین اپنی کرولا کی بیٹری کے ساتھ ایک چنا منا سا ٹی وی جوڑتے نظر آئے توان کی طرف دوڑ لگادی۔ آخری اوورز کا تماشہ دیکھا کہ کس طرح نیوزی لینڈ نے 262 کا ایک بڑا ٹارگٹ کھڑا کردیا تھا کوئی دہشت سے دہشت تھی۔اتنا بڑا اسکور تب ایک شاندار ٹارگٹ تھا جو کوئی ٹیم سوچ سکتی تھی ۔

ان دنوں میرا معمول تھا کہ کافی سارے میچز اپنے عزیز ترین دوست قبلہ شاہ صاحب کے گھر ڈش انٹینا پر اکٹھے بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے۔ کسی دن اس کی داستان بھی آپ سب کو سناؤں گا کہ نوے کے آغاز میں تقریبا چودہ فٹ قطر کی ڈش کیسے بنا کر چھت پر نصب کی گئی اور کس وارفتگی سے ایم ٹی وی اور روسی چینل دیکھا کرتے تھے ۔پاکستان کی باری شروع ہونے سے قبل میں شاہ صاحب کے ہاں پہنچ چکا تھا۔عامر سہیل آغاز میں جلد داغ مفارقت دے گیا۔ رمیز راجہ نے تھوڑی سی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور عمران خان نے ون ڈاؤن آکر اپنا کردار نبھانا شروع کیا۔ آہستہ آہستہ ٹیم سنبھلی اور سکور ہونا شروع ہوا رمیز راجہ اور عمران دونوں چوالیس رنز بنا کرآؤٹ ہو گئے اور میانداد نے ایک سائیڈ سنبھال لی۔سلیم ملک کو جانے کی جلدی تھی اور آؤٹ آف فارم بھی تھے تو بس ایک رن ہی بنا پائے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ سب میاں داد کا تجربہ تھا اور انضمام الحق کا جوش اور ولولہ جس نے میچ کو انچ انچ جیت کے قریب کردیا۔سینتیس گیندوں میں ساٹھ رنز اس دور میں کافی تیز اننگ سمجھی جاتی تھی۔ انضمام کے حسب عادت رن آؤ ٹ ہونے پر ایک بار پھر میچ مشکلات کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا تھا مگر معین خان نے جس دلیری سے آکر آخری اوورز میں میاں داد کے ساتھ سکور ایک اوور پہلے ہی پورا کیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دل پر نقش ہو گیا۔نیوزی لینڈ کی ٹیم اور عوام پر ایک سکتہ طاری تھا کہ یہ معجزہ کیسے ہو گیا کہ وہ ورلڈ کپ سے باہر ہوچکے ہیں اور پاکستان فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے اس دن مگر کرکٹ کی جیت ہوئی تھی۔

آج جب میں 27 سال پرانا دور یاد کرتا ہوں تو یوں لگتا ہے کل کی بات ہے اور جو 15 مارچ 2019 میں بیتاہے اس پر نیوزی لینڈ کے عوام ،ان کی قیادت کے حوصلہ اور جرات کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک مشکل وقت میں ایک دہشتگرد کے خلاف یکجا ہوکر جس طرح مذمت کی اور عملی اقدامات کیے اس سےساری دنیا کو پتا چلا کہ یہ امن پسند قوم ہے ۔نیوزی لینڈ کی دہشت اگر کسی کو محسوس کرنی ہے تو وہ کھیل کے میدان ہیں جہاں وہ اپنی کارکردگی سے دوسری ٹیموں کو سراسیمہ اور دہشت زدہ کر دیتے ہیں۔ساتھ ساتھ میں انٹرنیشنل کرکٹ کے حوالے سے بھی یہ کہنا چاہوں گا کہ نیوزی لینڈ خوش قسمت ہے کہ کوئی بنگلہ دیشی کھلاڑی خدانخواستہ اس حادثے میں زخمی یا جان سے نہیں گیا ورنہ انٹرنیشنل کرکٹ اور کھیل کے میدانوں میں اس کے لئے بے پناہ مشکلات آ سکتی تھیں۔ ایک اور سبق بنگلہ دیش ٹیم کو ملا ہےکہ انسانی جان دنیا میں کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ اگر آپ کا لکھا ہوا وقت پورا ہوچکا تو کہیں بھی ہو سکتا ہے اس لئے بے جا ضد چھوڑیں اور پاکستان کا دورہ بلاخوف وخطر کریں ۔ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا اگر پٹائی ہوگی تو صرف کھیل کے میدان میں بیٹ اور بال کے ساتھ۔
( اس مضمون کی تیاری میں وکی پیڈیا، کرک انفو اور اپنی یادداشت کا سہارا لیا گیا ہے ۔ )

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”نیوزی لینڈ : کرکٹ کا دہشت گرد ملک…احمد رضوان

  1. تمھاری بہترین تحریروں میں سے ایک تحریر ۔
    وہ کرکٹ کا میچ آنکھوں کے سامنے آگیا جسے دیکھتے ہوئے بار بار لگ رہا تھا کہ ہن مرے کہ ہن ۔۔۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ لگتا تھا دل سینے سے باہر نکل جائے گا اسی رفتار سے دھڑکتا رہا تو ۔۔۔۔۔ نیوزی لینڈ کے حالیہ واقعہ کے ساتھ جوڑ کر اسی دل کو ایک درد میں بھی مبتلا کر دیا ۔۔۔۔ آنسووں کے ساتھ پڑھا ہے ۔۔۔ ماضی کی یاد کے آنسو ۔۔ نیوزی لینڈ کے پچاس شہیدوں کی شہادت ۔۔۔ زبردست ۔ اللہ زور قلم اور زیادہ کرے ۔

  2. کیا ہی عمدہ مضمون، یادداشت کے تمام صفحات نظروں، دماغ میں گھوم گئے؛ ایک اتفاق یہ بھی شاملِ حال کر دوں کہ لائٹ نارتھ کراچی میں (اُس وقت وہاں رہائش پذیر تھا)، چلی گئی تھی، اور ایک میڈیکل سٹور والے کے پاس ٹی وی پر رش لگا، ہم نے سیمی فائنل وہاں ہی دیکھا؛ مجمع میں ٹی وی میچ دیکھنے کا مزہ وہاں پہلی دفعہ آیا تھا ۔۔۔ نیوزی لینڈ کے ایمپائر (کسی حد تک آسٹریلیاکے بھی) بہت نالائق، خود سر اور اکھڑ مزاج ہوتے تھے، اور میرے والد صاحب اُن کو اکثر غلط فیصلوں پر نوازتے بھی تھے، یہ خوبی انڈین ایمپائرز میں بھی تھی ۔۔ خُدا خُدا کر کے، انٹرنیشنل ایمپائر مقرر ہوئے، ٹی وی پر ایکشن ری پلے چلنے شروع ہوئے تو یہ عذابِ ناگہانی ختم ہوا ۔۔
    بر وقت لکھا آپ نے اور صبح تین، چار بجے اُٹھ کر جو میچ دیکھتے تھے، وہ وقت بس، اُن دنوں کے یادگار دن ہوا کرتے تھے۔

  3. بہت ممنون ہوں آپ نے وقت نکال کر پڑھا ۔واقعی اس دور میں کرکٹ کا ہر فیصلہ اور ایمپائر تک زیر بحث رہتے تھے ۔اگر آپ کو یاد ہو فائنل میں سٹیو بکنر نےپاکستان کا ایک ایل بی ڈبلیو شتابی سے دے دیا تھا اور یہ تھوڑا مشکوک تھا اسکو کاؤنٹر اس نے ایک یقینی ایل بی ڈبلیو میں شک کا فائیدہ بیٹسمین کو دے کر اپنے پہلے فیصلے کو نیوٹرل کردیا تھا۔ سارا نقشہ آج بھی آنکھوں میں ویسے ہی تازہ ہے ۔ کرکٹ سے جڑی یادیں سب کی تقریبآ ایک جیسی ہی ہیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *