• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایک باہمت لڑ کی (اسماطاہر)سے، دوسری باہمت لڑ کی(رابعہ الرَبّاء) کا انٹرویو۔جن کو نا سازگار حالات نے طاقت عطا کی

ایک باہمت لڑ کی (اسماطاہر)سے، دوسری باہمت لڑ کی(رابعہ الرَبّاء) کا انٹرویو۔جن کو نا سازگار حالات نے طاقت عطا کی

SHOPPING

تند ی باد مخالف نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
اسما طاہر:ایسی بیٹیاں جن پہ ہمیں فخر ہو تا ہے۔ ایسی بیٹیاں جو ہماری پہچان ہو تی  ہیں۔ ایسی بیٹیاں جن کو دیکھ کر ہمارے بہت سے لو گ اپنی بیٹیوں کو پڑ ھانا چاہتے ہیں۔ اسما طاہر امریکہ میں مقیم ایسی ہی ایک پاکستا نی بیٹی ہیں۔ آئیے ملتے ہیں اسما طاہر سے۔
رابعہ ۔جی اسما یہ بتائیے کہ یہا ں تک پہنچے میں آپ نے کیا کچھ فیس کیا؟ اور یہ سفر کیسے شروع ہوا؟
اسما ۔
فیس تو بہت کچھ کیا۔ پڑ ھائی کا شروع سے بہت زیادہ شوق تھا۔مگر اندازہ نہیں تھا کہ زندگی میں کیا ہو نے والا ہے۔ جب ہم 1994میں یو ایس گئے۔ میرا پہلا بیٹا ہو نے والا تھا۔ سوچا یہی تھا کہ جب یہ تھوڑے بڑے ہو جائیں گے، میں واپس کالج جاؤ ں گی۔ کیو نکہ میں پاکستان سے سائنسز میں گریجویشن کر کے آئی تھی۔ مجھے یہی تھا کہ مجھے آگے پڑ ھنا ہو گا۔ مجھے یہ مو قع مل رہا ہے۔ مگر یہا ں آنے کے دو سال بعد ہمیں علم ہوا کہ میرے بیٹے ایک نیرو میسکولر ڈس آڈر میں مبتلا ہیں اور ہمیں بتایا گیا کہ یہ سات سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکیں گے تو زندگی بد ل گئی۔ اب والدین میں سے کسی ایک کو گھر میں رہنا تھا۔ میرے شوہر ڈکٹر ہیں۔ ظاہر ہے ان کو کام کر نا تھا۔ اور سمجھوتہ مجھے ہی کر نا تھا۔یہ حتمی تھا لہذا اس بارے میں کو ئی بات نہیں ہو ئی۔ پھر اللہ کا شکر میری ایک اور بیٹی ہو ئیں۔ ماشاء اللہ اچھا کر رہیں ہیں مجھے ان پہ بہت ناز ہے۔ جہاں وہ پہنچ رہی ہیں۔لیکن میں نے اپنی چیزیں ایک طرف کر دیں۔ کبھی نہیں سوچا کہ شاید دوبارہ میں پڑ ھ سکو ں گی۔ پھر دونوں بچے فْل ڈے ہو گئے تو میں نے دوبارہ کا لج جانے کی ہمت کی ،تومجھے بتایا گیا جو کچھ میں نے پڑ ھا ہے وہ سب یہاں کام نہیں آئے گا۔ تب میں نے اپنا شعبہ بدلا۔ مضمون بد لا،نفسیات میں گئی۔ تو مجھے سب کچھ دوبارہ پڑ ھنا پڑا۔یہاں  گریجویشن چار سال کی ہو تی ہے۔ جومیں نے اوور لو ڈ لے کے دو سال میں ختم کیا۔ میں صبح بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کر تی تھی۔ اسی وجہ سے اَسّی فی صد کورسز میں نے آن لا ئن لئے تا کہ میں پڑ ھ سکو ں۔ رات کو سات آٹھ بجے بچوں کو سلا کر پڑھتی تھی۔ ایک سپیشل چائلڈاس کی چیزیں، اس کی ضروریات بہت زیا دہ تھیں۔ اس وقت میرے بیٹے زین اب سے بہتر تھے۔مگر پھر بھی بہت مشکل تھا۔میں ساری رات جاگتی تھی۔ صبح ایک سے دو کلاسز لیتی تھی۔ پھر ان کو پک اینڈ ڈراپ کر نے کے لئے بھاگتی تھی۔ گھر آنا کھانا بنانا۔ گھر ا سی طرح چلتا تھا جیسے پہلے چل رہا تھا۔ تواقعات بھی وہیں تھیں کہ میں ویسے ہی کرو ں گی۔ مشکلات تھیں۔ شروع میں گھر سے اتنی سپورٹ نہیں تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ کچھ چیزیں بدل گئیں۔ میں نے دو سال میں گریجویشن کیا اور میں برن آؤٹ ہو چکی تھی اور مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں آ گے ماسٹرز نہیں کر سکو ں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ رائیل ا سٹیٹ کا کورس بھی کر رہی تھی۔کرنے کے بعد پریکٹس کر تی تھی۔میراوہ لائسنس آج تک ایکٹو ہے۔لیکن میری امی نے مجھے ہمت دلائی کہ آپ ماسٹرز کے لئے اپلائی کریں۔ اور آپ یقین نہیں کریں گی کہ ڈیڈ لائین سے چوبیس گھنٹے پہلے میں نے اپنا فارم جمع کروایا۔یہ سوچ کر کہ مجھے داخلہ نہیں ملے گا۔میں نے ماسٹرز ان پبلک ہیلتھ میں اپلائی کیا۔اور ایک ہفتے کے اندر مجھے ای میل آ گئی کہ میرا داخلہ ہو سکتا ہے۔میرا خیال ہے یہ ماں باپ کی دعائیں اوراللہ کی بھی مدد تھی۔ کہ یہ سب ہو گیا۔ ماسٹرز کر نے کے بعد مسئلہ یہ ہوا کہ اب عمر ہو چکی تھی۔میں ایک بیس پچیس یا پینتیس سالہ خاتو ن نہیں تھی۔ اس فیلڈ میں تجر بہ بھی نہیں تھا۔ مگر میں نے روز جوتے چٹخائے۔روز ڈیپارٹمنٹ جاتی تھی۔ ان پروفیسر سے ملتی تھی جن کے ساتھ مقالہ کیا ہوا تھا۔اورآخر کار مجھے ایک سٹوڈنٹ ورکر کے طور پہ ینگ سٹوڈینس کے نیچے کا م کر نے کا موقع ملا۔ مشکل تھا۔ کیو نکہ آپ کی عمر کے اعتبار سے توقع یہ ہو تی ہے کہ آپ کسی اچھی پوزیشن پہ لگیں گے۔ مگر میں نے اس سب کو نظر انداز کر دیا اور یہ سوچا کہ یہیں سے آہستہ آہستہ آگے بڑ ھو ں گی۔ ایک سال میں نے ان بچو ں کے نیچے کام کیا،جو مجھ سے جوان تھے۔ مگر اب سوپر وائزر بن چکے تھے۔ بہت سی باتیں بھی سنیں۔ اور آخر کار ایک سال کے بعدمجھے لیب سوپر وائزر بنا دیا گیا۔ تو اب میں پچھلے تین سال سے لاس ویگاس میں pollen lab supervisor(UNLV) ہو ں۔ شکر کرتی ہو ں کہ جوتے گھسیٹ گھسیٹ کے یہا ں تک پہنچ گئی ہوں۔مگر ہمت نہیں ہاری۔

رابعہ۔ اچھا اس موڑ پہ جب آپ وکٹری سٹینڈ پہ کھڑے ہو تے ہیں۔زندگی کو کیسے دیکھتی  ہیں؟
اسما۔
میں اپنی بیٹی کو شروع دن سے یہ سمجھاتی تھی اور انگریزی کی ایک ٹرم بو لتی تھی۔ life is not bed of roses
تو وہ کسی کی بھی نہیں ہو تی۔ اگر زندگی میں کو ئی مشکلیں نہ ہو ں تو میری ذاتی رائے ہے کہ وہ زندگی نہیں ہو تی۔ کسی کو اپنی مشکلیں کم لگتی ہیں کسی کو زیادہ لگتی ہیں۔اورہمیں بھی کسی کی مشکلیں کم لگتی ہیں یا زیادہ لگتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں ہما ری مشکلیں سب سے زیادہ ہیں ،ایسا نہیں ہے۔ زندگی میں مشکلیں آتی ہیں۔ زندگی خوشی اور غم دونوں کا امتزاج ہے۔مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ میری زندگی بھی یونہی  تھی اورمیرے بیٹے کی صورتحال کچھ ایسی تھی کہ مجھے لگتا تھا کہ میں کچھ نہیں کر پا ؤ ں گی۔مگر کر لیا۔اب بھی بہت کچھ مینج کر رہی ہو ں۔بہت لو گو ں نے ساتھ دیا۔ہمت جاری ہے۔ زندگی پانے اورکھونے کا امتزاج ہے۔ آپ کچھ کھوئیں گے، کچھ پا ئیں گے۔

رابعہ ۔زندگی کا سب سے بڑا چیلنج کیا تھا؟
اسما۔
چیلنج؟ آپ اسے چیلنج بھی کہہ سکتے ہیں۔ Achievementبھی کہہ سکتے ہیں۔ کہ جب میں نے یہا ں سے پڑھنا شروع کیا،میں ایک روایتی طالب علم نہیں تھی ۔شادی ہو چکی تھی۔ شادی کو کئی سال ہو چکے تھے۔ دو بچے تھے۔دونوں سکول جا رہے تھے۔ اور جو سب سے بڑی چیز تھی کہ میرے بڑے بیٹے سپیشل چائلڈ ہیں۔مجھے لگا کہ میرے لئے چیلنج تھا۔ مگر میں نے اس کو قبول کرتے ہو ئے کہا کہ میں کرسکتی ہو ں۔میں پھر بھی کر سکتی ہو ں اور کیا۔کتنا اچھا کیا۔یہ تو میں نہیں کہہ سکتی ہوں۔ لیکن میں نے اس مسئلے کو اپنے سامنے آنے نہیں دیا۔لیکن مشکل ہے کہ جب آپ گھرواپس آتے ہیں تو اپنے بچے کی طبعی اور جسمانی مشکلات دیکھتے ہیں۔اس کو مینج کر نا اور اپنے آپ کو کہیں پہنچانے کے لئے کوشش کر نا۔ اور جو میرے بیٹے کی طبعی ضرورت اورجوdisabilityکی صورت حال تھی وہ میرے لئے بہت مشکل تھی۔
رابعہ۔کسی بھی مقام پہ پہنچنے کے لئے والدین کی تر بیت کتنا اہم کردار ادا کر تی ہے؟کیونکہ آپ خود بھی ایک ماں ہیں۔
اسما۔
بہت زیادہ کردار  ادا کر تی ہے۔ اب میں چو نکہ خود ایک ماں ہو ں میں سمجھ سکتی ہو ں کہ تربیت بہت ضروری ہے۔مگر میں اس بات پہ بھی یقین رکھتی ہو ں کہ آ پ ایک حد تک بچے کو سمجھا سکتے ہیں۔ آپ ایک حد تک بچے کو لے جا سکتے ہیں۔ اور جب وہ اس عمر تک پہنچ جاتے ہیں جہا ں وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ اپنے فیصلے خود لے سکتے ہیں۔اور خود لینا چاہتے ہیں۔پھر وہ غلطیاں بھی کریں گے۔
یو نائٹیڈ اسٹیٹ میں جہا ں میں اب رہتی ہوں اورپاکستان جہا ں سے میں آئی ہو ں۔ میں نے دیکھا ہے کہ فوراً سے والدین کوالزام دے دیا جا تا ہے اور ایک ججمنٹ دی جاتی ہے کہ انہو ں نے تربیت صحیح نہیں کی۔ ہر وقت یہ نہیں ہو تا۔ ہمیں والدین نے بہت اچھی تربیت کی ،مگر ہم نے بھی کچھ غلطیا ں کیں اور ان سے کچھ سیکھا۔ لیکن میں یہ یقین کر تی ہو ں کہ ماں باپ کی تربیت کا آپ کی شخصیت میں بہت زیادہ ہاتھ ہو تا ہے۔ اگر والدین صرف آ پ کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، باتیں کر رہے ہیں تو میں سمجھتی ہوں اس سے بھی بہت زیادہ فرق پڑ تا ہے۔
رابعہ۔ آپ کے ایک انٹرویو میں پڑ ھا کہ آپ کے والد آر می میں تھے۔ تو اس کے حوالے سے  ظاہر ہے مختلف جگہ پوسٹنگ ہو تی ہے۔ بہت سی یادیں ہو تی ہیں۔ وہ شئیر کیجئے۔ ایلفا براو  و چارلی کے علاوہ۔ کیو نکہ میں سمجھتی ہو ں ایلفا براوو چارلی نے ہمیں  ایک نسل دی ہے؟
اسما۔
پاکستان آرمی میں ہمارا بہت اچھا وقت گزرا۔ وہ دوستیا ں آج تک ہیں۔ ہمارے بچپن کی، ہمارے ماں باپ کی اپنے دوستو ں سے۔وہا ں ہم ایکسر سائز ایریا جاتے تھے۔ مجھے اندازہ نہیں ہے کہ اب آرمی کے کیپٹن، میجر،کرنل کی تنخواہ کتنی ہے۔ ہمارے وقت میں اتنی نہیں تھی مگر برکت بہت تھی اور ہم خوش تھے۔ اس ودری کی بے انتہا عزت تھی۔ مجھے یقین ہے ابھی بھی ہو گی۔ مگر جب ہم اپنے باپ کو دیکھتے تو ہمیں فخر ہو تا تھا۔ کہ ہم ایک وردی والے کرنل کے ساتھ جا رہے ہیں۔جس ودری کی لو گ عزت کر تے ہیں۔
میرے والد prisoner of war رہ چکے ہیں۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ انہو ں نے ہمیں زندگی کے جو بھی اصول سکھائے وہ بہت سارے ان کے اس سفر کی بنیاد تھے جب وہ جنگی قیدی تھے۔ ان کو جب وقت ملتا، موقع ملتا وہ ہمیں بتاتے تھے کہ وہ اس مشکل وقت سے کیسے گزرے اور انہو ں نے اس وقت سے کیا سیکھا۔ اسی کی بنیا د پہ وہ ہمیں بتاتے تھے کہ ہمیں دنیا میں کیا کر نا چاہیے اور کیا نہیں کر نا چاہیے۔ کن چیزوں پہ زیا دہ فو کس کر نا چاہیے  کن پہ نہیں کر نا چاہیے۔ میری ماں کی دعائیں اور میرے والد کی  باتیں، ان کے دئیے سبق، میری زندگی میں بہت کام آئے ہیں۔

رابعہ۔ پا کستا ن کے حوالے سے کیا مِس کر تیں ہیں؟
اسما۔
بہت کچھ مس کر تے ہیں۔ سب سے پہلے میری والدہ ابھی وہیں ہیں۔ میرے بھائی ہیں۔ میری بہت ساری فیملی وہا ں ہے۔ آپ اپنی ویلیوز،اپنی تہذیب کو مس کرتے ہیں۔ فیملی کا ساتھ رہنا، ساتھ ملنا مس کر تے ہیں، کھا نا مس کر تے ہیں۔ اور تہوارخصوصاً  جب عید آتی ہے۔آپ یہا ں رہنا سیکھ لیتے ہیں یہا ں اپنے دوست بنا لیتے ہیں۔ مگر جس طرح وہ تہوار آپ وہا ں مناتے تھے وہ مس کر تے ہیں اور اگر خدا نخواستہ پیچھے کو ئی زندگی نہ رہے تو بہت مس کرتے ہیں کہ کاش ہم وہیں ہو تے۔ کیو نکہ آپ وہا ں پہنچ نہیں سکتے۔ کو ئی بیما ر ہو جائے تو آپ نہیں پہنچ پاتے تو آپ بہت مس کر تے ہیں۔
رابعہ۔ جس پاکستا ن کو چھوڑ کے گئیں تھیں۔ یہا ں کبھی آنا تو ہوا ہو گا۔ کیا تبدیلی دیکھی؟انسان، جغرافیہ، حالات معاشرت، معیشت؟
اسما۔
میں نے تبدیلی دونوں طرف سے دیکھی۔ ہم نے جس وقت پاکستان چھوڑا، میڈیا میں اس وقت کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک ایس ٹی این اور این ٹی ایم شروع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ ہم اس پاکستان میں پلے بڑھے ہیں جہا ں رات کو گیارہ بجے ترانہ بج کے پی ٹی وی بند ہو جاتا تھا۔ اور ہم سارا ہفتہ اس جمعہ کا انتظار کرتے تھے جس رات فلمیں چلتیں تھیں۔ جس دن کارٹون آتا تھا۔ ہم چار بجے ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے تھے۔ ڈرامہ ایک ساتھ بیٹھ کے دیکھا جاتا تھا کیو نکہ ہفتے میں ایک ہی ڈرامہ ایک ہی چینل پہ آتا تھا۔ تو ہم نے وہ پاکستان میڈیا کہ حوالے سے دیکھا،اب بہت اچھا ہے۔ اس قدرexposureہے۔لڑکیا ں پڑ ھ رہی ہیں۔اورزیادہ پڑھ رہی ہیں۔ مگر مجھے پاکستا ن میں دونوں انتہائیں نظر آتی ہیں۔بے انتہا ماڈرن والی بھی اورابھی تک بے انتہا تنگ نظر ی والی بھی۔جو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے وقت میں ایسا نہیں تھا۔ پاکستان بد ل گیا ہے ظاہر ہے آبادی بہت زیادہ ہے۔ اس لئے چیزیں شاید کم ہو گئیں ہیں اور لوگوں کونہیں مل پا رہیں۔ اس لئے صحت متاثر ہو رہی ہے۔ عوام پہ لگانے کے لئے ا تنا بجٹ نہیں ہے۔ہر ملک میں ایسی تبدیلیا ں تو آتی ہیں۔ کیو نکہ مجھے اب یہا ں پچیس سال ہو گئے ہیں۔تو پچیس سا ل میں بہت کچھ بدل جاتا ہے۔
رابعہ۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کو وہا ں سے کیسے دیکھ رہی ہیں؟
اسما۔
سیاست میں  اتنی  دلچسپی نہیں لیتی ۔ میں اپنے بچوں کو بھی یہی سیکھاتی ہوں اور خود بھی یہی یقین رکھتی ہوں کہ جب آپ کہیں بیٹھیں تو مذہب اور سیاست پہ کوئی بحث نہیں کریں۔ کیو نکہ مجھے لگتا ہے کہ بہت مشکل ہے کہ آپ کسی کا نقطہ نظر بدل سکیں۔ ایک خاص عمر ہو تی ہے جہا ں تک آپ تھوڑا سامولڈ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں بہت حساس ہیں، لڑائی ہوسکتی ہے۔دلوں میں بد گمانیاں آسکتی ہیں۔ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔اشتعال انگیزی کی طرف چلے جاتے ہیں۔چونکہ میں پڑھتی نہیں ہو ں کہ وہا ں پہ سیاست میں کیا ہو رہا ہے۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے سیاست ہر جگہ ایک جیسی ہو تی ہے۔ کچھ لو گو ں کوحکومت میں رہنے کا شوق ہوتا ہے، کچھ لوگوں  کے  طاقت دماغ پہ چڑھ جاتی ہے۔ تو وہ عوام کے لئے اچھا نہیں سوچتے۔ اپنے لئے ہی سوچتے ہیں مگر کچھ لو گ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ سیاست میں آتے ہی صر ف اس لئے ہیں کہ وہ عوام کے لئے اچھا کر نا چاہتے ہیں۔تومجھے زیادہ فرق نہیں لگتا۔ کہ امریکہ اور پاکستان کی بات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ سیاست ہر جگہ ایک جیسی ہو تی ہے۔ ڈپینڈ کر تا ہے کہ آپ کو اس میں کتنی دلچسپی ہے میں ذاتی طور پہ اس سے دور رہنا چاہتی ہوں۔کیو نکہ میں نے زندگی میں سیکھ لیا ہے کہ ان چیزوں پہ اگر آپ زیادہ بات کریں تو نتیجہ اچھا نہیں ہو تا۔

رابعہ۔ اچھا لاس ویگاس میں آپ نے صحت کے حوالے سے بہت کام کیا اس حوالے سے ہم نے آپ کی بہت کاوشیں پڑھیں یہ بتائیے کہ اس میں سب سے زیادہ دشواری کیا پیش آئی؟
اسما۔
دشواری دیکھیں یہا ں بھی یہ ہے کہ یہا ں بھی بہت سار ے لوگ ایسے ہیں کہ جن کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں ہے۔ ہمارا سسٹم یہا ں پہ ایسا ہے کہ ہیلتھ انشورنس ہو گی تو آپ ہسپتا ل میں جا کے دکھا سکیں گے۔آپ کو اچھی سروس ملے گی۔آپ اچھے سپیشلسٹ کے پاس جا سکتے ہیں تو جن لو گوں کے پاس پیسہ نہیں ہے تو وہ اپنی صحت پہ تو جہ نہیں دیتے۔ یہا ں بہت سے لوگ ہیں جو سڑکو ں پہ رہ رہے ہیں۔ یہ چیز بڑھتی چلی جارہی ہے۔جب وہ گھر کا مورگج نہیں دے پاتے۔گاڑیو ں کے بل نہیں دے پاتے۔ تو ان کے گھرفروخت ہو جاتے ہیں وہ باہر آ جاتے ہیں۔اپنی صحت پہ تو جہ نہیں دیتے۔ پھر جب وہ بیمار ہو جاتے ہیں تو ظاہرہے وہ ہسپتا ل کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں جاتے ہیں تو حکومت پہ معاشی اعتبار سے بوجھ بڑھتا ہے۔ کیو نکہ یہا ں یہ قانون ہے کہ اگر آپ ایمر جنسی ڈیپارٹمنٹ میں آتے ہیں تو خواہ دو گھنٹے لگیں، چار گھنٹے لگیں آپ کو ہیلتھ کی سروس دی جاتی ہے۔مگر وہ بل کو ن اداکر تا ہے یہا ں ٹیکس کا سسٹم ہے۔ تو لو گوں کویہ سمجھانا بہت مشکل ہو تا ہے کہ آپ اپنی صحت کا خیال شروع سے رکھیں۔آپ سمجھا تو دیتے ہیں ، مگر جس شخص نے اگلے دن میز پہ اپنے بچوں کے لئے کھانالا کے رکھناہے۔ اس کے لئے صحت ترجیح نہیں ہو تی۔ مگر ہر ایک کے اپنے حالات ہو تے ہیں۔ اس لئے یہ سمجھانا بہت مشکل ہے۔ صحت ہو گی تو وہ کچھ کر سکیں گے۔
رابعہ۔ جب آپ گئیں وہ کلنٹن کا امریکہ تھا۔ کلٹن کا امریکہ ااور ٹرمپ کا امریکہ؟ کیا کہیں گی؟
اسما۔
بہت چیزیں بدل چکی ہیں گلو بلی بھی چیزیں بدلی ہیں۔بہت سے واقعات ایسے ہو گئے جس میں مذہب کے لو گو ں پہ دباؤ آیا۔ ہمارے پہ بھی آیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر آپ کے پاس بہت اچھی تعلیم ہے تو ابھی بھی محنت کر کے آپ اچھی جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ مواقع ابھی بھی ہیں۔ ظاہر ہے اب جو حالات ہیں یا جو اس وقت صدر ہیں یا حکومت ہے ان کا ایک اپنا نقطہ نظر ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر کو ئی اس نقطہ نظر سے متفق ہو۔ اور میں یہ بھی نہیں کہو ں گی کہ اس وجہ سے ہماری زندگی یہا ں دوبھر ہو گئی ہے۔ جو فرق ہے وہ تعلیم ہے۔ اور میں اپنی تعلیم کی وجہ سے ہی کہیں پہنچی ہو ں۔ میرا مذہب نہیں دیکھا گیا میری تعلیم دیکھی گئی۔ میرے شوہر بھی اپنی تعلیم کی وجہ سے، اپنے تجربے کی وجہ سے کسی مقام پہ ہیں۔ آپ کو یہ ملک ان چیزوں کی اجازرت دیتا ہے۔ جو حالات ہو ئے ہیں وہ آج نہیں ہو گئے۔ پچھلے پچیس سال سے بہت کچھ دنیا میں پہلے ہو ا۔ظاہر ہے پھر قانون بدلتے ہیں۔نئی حکومت آتی ہے وہ اپنی پالیسی لاتی ہے۔ چیزیں بدلی ہیں۔فرق یہ ہے کہ پہلے لوگ بات نہیں کرتے تھے۔ اب کر رہے ہیں تو آپ تھوڑا گھبراتے ہیں۔ مگر میں اب بھی سمجھتی ہو ں کہ بہت کچھ نہیں بدلا۔اگر اس ملک میں آپ محنت کریں، آپ کے پاس تعلیم ہو تو آپ کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس مواقع ہیں۔ ابھی بھی مواقع ہیں۔

رابعہ۔ امریکہ میں مقیم پا کستانیو ں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟یا یو ں کہہ لیجیے ایشین کا مسئلہ کیا ہے؟
اسما۔

میں پچھلے پچیس سال کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہو ئے سمجھتی ہو ں تو اکثریت پاکستانی و ایشین محنتی قوم ہو تے ہیں۔ محنت کر تے ہیں۔ پڑ ھنے کی طرف توجہ زیادہ ہو تی ہے۔ اکثر لو گ سمجھتے ہیں کہ ٹیکسی چلا رہے ہیں۔تو کوئی بْری بات نہیں ہے۔اپنا پورا گھر چلا تے ہیں اسی سے۔
اگر ان کو کوئی جاب نہیں ملتی، وہ یہا ں آئے اور پڑھ نہیں سکے، قرضہ نہیں اتار سکے تو کچھ تو کریں گے۔لیکن اکثریت لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔
وہ یہاں بھی اپنی تہذیب کو نہیں چھوڑتے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ اقلیت بہت جلد ایک اقلیت نہیں رہے گی۔ہم اب مین آفیسزمیں بھی ہیں، مئیر بھی ہیں، یہا ں جو بچے پیدا ہو رہے ہیں وہ اب حکو متی اداروں میں جا رہے ہیں۔ جس کی ہمیں زیادہ ضرورت ہے۔ مسئلہ مجھے لگتا ہے اس نسل کا ہے جو پیدا یہا ں ہو ئی ہے اور ان کے والدین پاکستا ن سے آئے تھے۔ وہ بچے مجھے لگتا ہے کہ اگر وہا ں پاکستان جائیں تواتنی جلدی ان کو قبولیت نہیں ملے گی۔ وہ یہا ں رہتے ہیں تو پو ری قبو لیت نہیں ہو تی کہ ان کے ماں باپ پاکستان سے ہیں۔ مگر یہ حتمی نہیں ہے کہ میں اس کو مسئلہ کہو ں۔ ہو تا صرف یہ ہے کہ پاکستان کا نام بعض اوقات بْرے طریقے سے میڈیا میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس ملک میں بہت پاکستانی بہت اچھا کام  کر رہے ہیں۔ میں اپنے آپ کو سمجھتی ہو ں کہ ہم نے اچھا کام کیا ہے۔ ہمارے بچے اچھے کالجو ں میں پڑ ھ رہے ہیں۔ میرے شوہر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ میرے بھائی یہا ں سے پڑھ رہے ہیں۔ میری بہن یہا ں کام کر رہی ہیں۔ بہت سارے پاکستانیو ں کو جا نتی ہوں ۔جن کے اپنے کارو بار ہیں۔ایک نہیں کئی کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ نہیں دکھا یا جاتا، ہمیں وہ دکھا نا ہے۔ہمیں اپنے بچو ں کو سمجھانا ہے کہ پبلک سروس میں جائیں۔ وہ صرف ڈاکٹر انجینئرنہ بنیں۔ اور جس طرح آپ مجھ  سے سوال کر رہی ہیں۔ وہ یہا ں کے میڈیا میں جائیں اور انہیں بتائیں کہ اچھا بْرا ہر جگہ ہو تا ہے۔ایک بْرے سے پورا پاکستان بْرا نہیں ہو جاتا۔ یا سارے پاکستانی برے نہیں ہو جاتے۔ یہ مسئلہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں فیس کر نا پڑتا ہے۔لیکن ہم اس کو ڈیل کر رہے ہیں۔
رابعہ۔ دنیا میں کو ئی ایسی جگہ جیسے دوبارہ دیکھنے کا یا بار بار دیکھنے کا دل چاہتا ہو؟ اور کیو ں؟
اسما۔
اپنا ملک پو را نہیں دیکھا تو اس کو دیکھنے کا دل کر تا ہے۔کہ بہت چھوٹی عمر میں وہا ں سے نکل گئے۔.san franciscoبہت خوبصورت شہر ہے۔دل کر تا ہے کئی بار جائیں۔نیو یارک کا اپنا ایک چارم ہے تیز رفتاری سے چل رہا ہو تا ہے مگر مزاآتا ہے۔میرا خیال ہے کہ لند ن ایک ایسی جگہ ہے کہ جہا ں جتنی بار بھی جائیں آپ بو ر نہیں ہو نگے۔
رابعہ۔ اچھا آپ نے خود کو کیسے دریافت کیا کہ میں یہ اسما طاہر ہو ں اور مجھے یہ کر نا ہے؟
اسما۔
بہت چیزیں تھیں۔ اپنے بیٹے کی وجہ سے مجھے یہ لگتا تھا کہ میں کچھ کر نہیں پاؤ ں گی۔ مجھ  میں ہمت نہیں ہے۔ کچھ کر نے کامقصدیہ نہیں ہے کہ آپ ایک ماں ہیں تو آپ کچھ نہیں کر رہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ جو وقت گزارا جو مشکلیں تھیں۔ اوران حالات میں اپنی بیٹی کو پالنا۔ کیو نکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ میری بیٹی کو یہ محسوس ہو کہ میرے بیٹے کو جو مشکلات درپیش ہیں اس کی وجہ سے، میں ان کی خواہشیں پو ری نہیں کر سکتی۔ ان کو باہر نہیں لے جا سکتی۔ ان کو پڑھا نہیں سکتی۔یا ان کی چیزوں میں کو ئی کمی نہ آئے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ صرف ما ں ہیں، آپ پڑھ نہیں رہے، نوکری نہیں کر رہے تو آپ ایک مکمل عورت نہیں ہیں۔ لیکن اگر آپ کی خواہش ہے اور اس میں کسی بھی وجہ سے حالات کیوجہ سے،لو گو ں کی وجہ سے رکا وٹ ہے۔تو مجھے لگتا تھا کہ مجھے کچھ کر نا ہے۔ میرے والد کو بہت اعتماد تھا کہ میں کچھ کرو ں گی۔ کیا کرو ں گی مجھے نہیں پتا۔وہ اس دنیا سے بہت جلدی چلے گئے۔جو تھوڑا بہت بھی میں کر سکی وہ بھی اتنی عمر کے بعد اور بچو ں کے بعد اور گھر چلانے کے بعد،انہو ں نے میری یہ کامیابیا ں نہیں دیکھیں۔۔ میں نے اپنے آپ کو ایسے ڈھونڈا کہ میری ماں مستقل مجھے یہ کہتیں تھیں کہ آپ کر سکتی ہیں۔ میرے بہن بھائیو ں کو مجھ پہ بھروسہ تھا۔میرے دوست مجھے کہتے تھے کہ آپ کر سکتیں ہیں۔تو مجھے لگتا تھا جتنی بھی رکاوٹیں ہیں مجھے ان کو دور کر کے دکھانا ہے۔ کہ جو کچھ بھی مخالف ہے میری عمر، میرا تجربہ نہیں ہے۔ میں اس سب کے متضاد جاتے ہو ئے یہ سب کر سکتی ہو ں۔ اور میں نے کرکے دکھایا۔ مگر اس کا اکیلا کریڈٹ مجھے نہیں جاتا۔ میری ماں کی بہت دعائیں ہیں۔ میرے پروفیسرز جنہو ں نے مجھ میں دیکھا کہ میں کچھ کر سکتی ہو ں۔تو میں نے اپنے آپ کو ایسے ڈھونڈا۔اور اکیلے نہیں ڈھونڈا۔ آپ کے ساتھ ایک پو ری فوج ہو تی ہے۔جسے آپ کہتے ہیں نا ں takes a village۔ جو کبھی زیادہ ہو تا تھا کبھی کم۔ مشکلیں ابھی بھی ہیں۔ میرے بیٹے کی صحت اب اچھی نہیں رہی۔خراب ہے۔ لیکن میں روز ایک دن کے ساتھ چلتی ہوں۔ صبح ہو تی ہے۔میں وہ دن گزارتی ہو ں۔ اگلا دن آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ ہمت نہیں ہاری۔ والد کی نصیحت کو یاد رکھا اس پہ عمل کیا۔ ماں کی دعاؤ ں کا شکر کیا.

رابعہ۔ یہ بتائیے کہ ایک آئیڈیل با ہر کا ہو تا ہے۔ کچھ آئیڈیل خاندان کے ہو تے ہیں۔اپنے خاندان میں کس سے متاثر ہو ئیں؟
اسما۔
میرے والد۔میرے والد کے پاس کو ئی بہت زیادہ پیسہ نہیں تھا۔مگر وہ محنت کر کے جس مقام پہ پہنچے تھے۔ وہ ریٹائرڈکر نل تھے۔ تمغہ امتیاز ہو لڈر تھے۔ پرزنر آف وار تھے۔واپس آئے۔ انہو ں نے ہم سب کو پڑ ھایا۔ میری والدہ کا تعلیم پہ زور میرے والد سے زیادہ تھا۔ میرے والد سمجھتے تھے کہ وہ یہا ں تک پہنچ گئے ہیں توضروری نہیں ہے کہ اچھے سکولو ں میں پڑ ھا جائے۔ مگر میری والدہ نے جاب کی۔ اور اس لئے کی کہ وہ ہم سب کو پڑ ھا سکیں۔ اور آج ہم سب جہا ں ہیں اور سب پاکستا ن کے اچھے سکولوں سے پڑ ھے ہیں۔اس میں میری والدہ کا بہت ہاتھ ہے۔ میرے والد نے ہمیں زندگی کے اصول سیکھائے۔اس وقت ہمیں بہت برا لگتا تھا بس بیٹھا کے ہمیں لیکچر دے رہے ہیں۔ کچھ ہوا تو ہے نہیں پھر کیو ں ہمیں ہر وقت سیکھاتے رہتے ہیں۔ مگر وہ اتنا سمجھا گئے کہ مجھے ہر چیز میں اب یاد آتا ہے وہ یہ کہتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے۔میں نے زندگی کے اصول ان سے سیکھے۔ organization ان سے سیکھی۔ ڈسپلن ان سے سیکھا۔کم میں رہنا اور اس میں خوش رہنا ان سے سیکھا۔میرے والدین نے مجھے یہ سیکھایا ہے کہ آپ نے دنیا میں جب رہنا ہے اور جب دنیا سے جانا بھی ہے تو اچھا کر کے جانا ہے۔اور صرف اپنے لئے اچھا نہیں کر نا۔ آپ نے دنیا کے لو گو ں کے لئے اچھا کر نا ہے۔ میں اپنی بیٹی کو بھی یہی سمجھاتی ہو ں۔کہ جب آپ اس دنیا سے جائیں تو لوگ آپ کو اچھے انسان کے طور پہ پہچانیں۔ یہ نہیں جانیں کہ آپ نے کتنا پیسہ کمایا۔ اگر آپ نے اس پیسے سے کسی کی مدد نہیں کی تو کو ئی فائدہ نہیں ہے۔
رابعہ۔ اچھا کو ئی پریکٹیکل جوک جو لائف میں اچانک ہو گیا ہو؟۔
اسما۔
پریکٹیکل جوک۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی ایسا ہے جو اچانک ہو گیا ہو۔ نہیں کوئی ایسی چیز مجھے یاد نہیں آرہی

رابعہ۔ پاکستانی حالات کو دیکھتے ہو ئے بتائے۔کہ ہم نے درخت نہیں لگانے، ہم کیسے کنٹرول کریں اپنے حالات کو، موسم کو اوراس سے ہو نے والی آلو دگی کو؟
اسما۔
بہت اچھا سوال ہے۔میں جب بھی پاکستانی میڈیا، پاکستانی ٹی وی دیکھتی ہو ں یا آن لائین اخبار پڑ ھتی ہوں تو مجھے احساس ہو تا ہے کہ تو قع کی جاتی ہے ہر چیز حکومت کر ے گی۔ حکومت ایک حد تک کر سکتی ہے۔آپ ٹیکسز ادا نہیں کریں گے تو حکومت کے پاس پیسہ کہا ں سے آئے گا۔حکومت بھی بدلتی رہتی ہے۔ ترجیحات بھی بدلتی رہتیں ہیں۔ تو یہ گراس روٹ سے ہو نا ہے۔ ہر ایک کواپنا کام کر نا ہے۔بچو ں کو سیکھانا ہے خواتین کو سیکھانا ہے۔ اگر آپ اپنے محلے، اپنے صحن کے درخت کا ٹ دیں گے۔تو اس کا حکومت سے کیا تعلق ہے۔کچڑا آپ باہر پھینک رہے ہیں حکومت تو نہیں پھینک رہی۔ٹھیک ہے وہ اْٹھا نہیں پا رہی۔ اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔لیکن یہ شعور نیچے سے آنا ہے۔بہت کچھ تبدیل بھی ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ملک میں ہر چیز خراب ہے۔ مگر مائنڈ سیٹ کو تبدیل ہو نے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنے حصے کا کام کریں پھر حکومت سے سوال کریں۔اور یہ ہو جائے گا آہستہ آہستہ۔حکومت کا کام یہ ہے کہ وسائل پیدا کرے اوران کاموں کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ سار ابجٹ آپ دفاع پہ نہ لگائیں۔ میں سمجھتی ہو ں پاکستان کا جغرافیہ تقاضا کر تا ہے کہ دفاع پہ پیسہ لگانا ضروری ہے۔ مگر انسان کی صحت و تعلیم بھی ضروری ہے۔
اگر صحت ہی اچھی نہیں ہو گی تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔ تب وہ کسی پہ بوجھ ہوجائیں گے۔ بوجھ ہو نے سے پو ری معشت خراب ہو جائے گی۔ یہ ایک دائرہ ہے۔
رابعہ۔زندگی کی ناکامیوں کو کس طرح مثبت بنایا جا سکتا ہے؟
اسما۔
آپ زندگی میں آگے تب ہی بڑھ سکتے ہیں جب آپ اپنی غلطیوں یا نا کامیو ں سے سیکھیں۔ اگر آپ یہ سمجھ لیں کہ کسی نے مجھے کہہ دیا ہے کہ میں یہ نہیں کر سکتی تو نہیں کر سکتی۔ ایسا نہیں ہے۔ آپ بے شک اس انسان سے بحث نہیں کریں،بے شک لڑ یں نہیں۔مگر آپ اتنی محنت کر یں کہ آپ میں یہ جذبہ بیدار ہو جائے کہ میں کر سکتی ہوں اور آپ کر کے دکھائیں۔ اس کے باوجود بھی اگر کچھ نہیں ہو پائے تو مثبت رہیے۔کیو نکہ اگر آپ منفی رہیں گے تو آپ کچھ نہیں کر پائیں گے آپ کا پو را مائنڈسیٹ منفی ہو گا۔آپ کو لگے کا میں منفی ہو ں تودنیا منفی ہے۔ ناکامیو ں سے سیکھیں۔ میں یقین رکھتی ہوں قسمت بھی بہت بڑی چیز ہے۔ کہ دس لو گو ں کو کچھ ملنا تھا۔ آپ گیارہویں نمبر پہ تھے۔ آپ کو وہ چیز نہیں مل سکی۔ لیکن ہر صورت مثبت کریں اور اپنے پہ بھروسہ رکھیں۔ انشاء اللہ اچھا ہو گا۔

رابعہ۔ اچھا اسماآپ   یہ پتائیے کہ مستقبل کے حوالے سے کو ئی خواب؟

اسما۔
میں اور پڑھنا چاہتی ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں پڑھتی رہو ں۔میں چاہتی ہو ں میری بیٹی پڑھیں بھی اور مستقبل میں ایک اچھی انسان بنیں۔ اور جس طرح وہ چاہتی ہیں کہ وہ دنیا میں ان لوگو ں کی مدد کریں جن کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ وہ اس میں کامیاب ہو ں۔ میں چاہتی ہوں عورتیں پڑ ھیں اور بہت اچھا کریں۔ پڑھنے سے مراد ڈگری نہیں ہے۔ گھر سے باہر نکلیں۔ جب آپ باہر نکلتے ہیں لو گو ں سے بات کر تے ہیں۔آپ کو ئی بھی جاب کرتے ہیں آپ کا دماغ کھلتا ہے آپ سیکھتے ہیں۔ میں یہ چاہتی ہو ں کہ خواتین پڑھیں اور معاشی طور پہ اپنے قد موں پہ کھڑی ہو ں۔ انہیں کسی کے سہارے کی ضرورت نہ ہو۔

رابعہ۔ زندگی میں کتا بو ں کی اہمیت کیا ہے؟
اسما۔
بہت زیادہ ہے۔ اور میں یہ سچ بو لو ں گی کہ اب میں نہیں پڑ ھتی کیو نکہ زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے۔ مجھے وقت نکالنا چاہیے۔ مگر جب میں چھوٹی تھی اور پاکستان میں تھی کتابیں میرے لئے بہت اہم تھیں۔ اور ہم جب کھاریاں کینٹ سٹیشن رہتے تھے تو پنڈی جانا ایک ٹریٹ ہو تی تھی کہ ہم نے جانا ہے اور لبرٹی بک سٹور جانا ہے۔اور وہاں سے کتاب لیں گے۔ میری امی کتا بوں پہ بہت زور دیتیں تھیں اور ہمیں کتا بیں خرید کے دیتیں تھیں۔ آپ کتابو ں سے سیکھتے ہیں وہ آپ کے استاد ہیں۔ اب کتابیں ختم ہو تی جا رہیں ہیں۔ اب وہی کتابیں آن لائین ہیں۔آپ کے فون میں ہیں۔ مگر اس میں وہ کیفیت نہیں ہے جو صفحہ بدلنے میں ہے۔ کتابیں آپ کو زندگی سکھاتیں ہیں زندگی چلنا سیکھاتیں ہیں۔ان کے بغیر گزارا نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

SHOPPING

اسما طاہر پاکستان کی ایک باہمت بیٹی،وہ بچیاں جو سمجھتی ہیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ اسما ان کیلئے اک چراغ، ایک جگنو ہیں۔ جنہو ں نے نا سازگار حالات میں اپنے لئے ایک راہ نکالی۔ کیو نکہ ان میں آگے بڑھنے کا، پڑ ھنے کا سچا جذبہ تھا۔ اور ان جذبو ں پہ رب رنگ چڑھا ہی دیتا ہے۔ کتنا اور کیسا یہ نصیب کا کھیل ضرور ہو سکتا ہے۔ کیو نکہ زندگی باذات خود اختیاری شے نہیں ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *