آپ بے غیرت ہیں ۔۔۔ ایمان شاہ

غیرت کیا ہے؟

محوِ حیرت ہوں ،عقل دنگ ہے کہ غیرت کوئی نفسیاتی بیماری ہے جسے علاج کی شدید ضرورت ہے یا معاشرے میں بے حیائی روکنے کی دوا ؟

یوں تو ہم ہر معاملے پر Love at first sight والی نگاہ ڈالتے ہیں
پھر کہہ ڈالتے ہیں جو کہنا ہو
جم جاتے ہیں ، اکڑ جاتے ہیں
اور اکڑتے بھی یوں ہیں کہ ذرا بھی لچکنے کی کوشش کی تو پاش پاش ہوجائیں گے۔

لیکن ایک ساتھ دو خبریں دیکھتے ہوئے دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔

سمجھ نہیں آرہا کہ کس چیز کو غیرت مندی کہہ کر داد دی جائے ۔
اور کس بات کو بے غیرتی کا سرٹیفیکیٹ تھمایا جائے ؟

پہلی خبر۔۔۔
کریم کا وہ پوسٹر جس نے ایک ٹرک کی بتی کی طرح تمام سرکس کے مداحوں کو کہیں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے میں لگایا ہوا ہے اور کہیں استغفراللہ استغفراللہ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ۔

یعنی وہی دو متضاد انتہائیں ۔

مارکیٹنگ کا اصول ہے کہ اپنی پراڈکٹ یا سروس کی اہمیت کو اس انداز سے متعاورف کروایا جائے کہ ایک اچھوتا انداز لگے منفرد اور پرکشش ۔

لیکن اب اس اصولِ مارکیٹنگ میں ناچ ناچ کر کمانا ، مداریوں کی طرح ڈگڈگی بجانا اثر پذیر ہوتا جارہا ہے۔
انٹرٹینمنٹ کا ہر وہ عنصر ہم اردگرد ، میڈیا اور اشتہارات کی صورت میں موجود پاتے ہیں
جو لمحے بھر کو بھی ہمارے ذہن کو بھٹکنے نہ دے ۔

معاشرہ کیا ہے ؟  معاشرتی اقدار کیا ہیں سب بھاڑ میں گیا ۔
ہمیں تو صرف اپنی ریٹنگ بڑھا کر اپنا کاروبار چمکانا ہے ۔
کریم کے نئے مارکیٹنگ ایڈورٹائز میں ایک دلہن کے روپ میں لڑکی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اب شادی سے بھاگنا ہو تو کریم کریں ۔

مجھے بے ہودہ مزاح کے علاوہ اس پوسٹر میں کوئی خاص عنصر یا ترغیب نظر نہیں آئی۔
اس لئے اس پوسٹر کو غور سے دیکھنے کی کوشش کی نہ تبصروں پر نظر ۔

لیکن اگلے ہی لمحے جب مردان کی ایک لڑکی کی تاروں سے بندھی لاش سرخ رنگ کے کمبل میں دیکھی تو دل چیخ اٹھا۔۔

اور فوراً ہی کریم کا ایڈورٹائز ذہن میں گھوم گیا۔
کتنی سستی تفریح ہے اب شادی سے بھاگنا ہو تو کریم کریں ۔۔

جبکہ پسند کی شادی کی خواہش کرنے پر ہی غیرت مند بھائیوں نے جنازہ بنادیا ایک ہنستی مسکراتی خواب بنتی لڑکی کو ۔۔

غیرت کے نام پر یہ سرخ کمبل میں تاروں سے لپٹی لاش اس مملکتِ خداداد میں اعداد و شمار کے مطابق ہزار بار دیکھی جاتی ہے ۔۔
یعنی دنیا میں اگر پانچ ہزار قتل غیرت کے نام پر کئے جاتے ہیں تو ہزار لاشیں اس میں پاکستان کا حصہ ہوتی ہیں ۔
ہمارا معاشرہ کیوں اس قدر پستی و گمراہی کے دلدل میں ڈوبتا جارہا ؟
کہ لڑکی اگر اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق مانگے تو اجتماعی غیرت مجروح ہوجائے ؟

یہی وہ نکات تھے جن پر عورتوں کے لئے مخصوص کئے گئے ایک دن میں سنجیدگی سے غور کرنا تھا۔۔
لیکن اس موقع کو کریم کی طرح واہیات متنازعہ اشتہارات سے بھر کر ہر لڑکی کے سرخ کفن اور گھٹتے جذبات کا مذاق اڑایا گیا ۔۔
نام نہاد خواتین نمائندگان سے شکوے تو چلتے رہیں گے
لیکن
غیرت مند بھائیوں!
کیا آپ جانتے ہیں کہ لڑکی کو شادی سے بھاگنے کی آفر کریم بائیک سروس والے ہی رقم کے عوض کیوں آفر کررہے ہیں ؟

کیونکہ۔۔۔

آپ بے غیرت ہیں ۔

بہن کو پڑھانے پر ،
بہن کے مشورے پر ،
بہن کے اونچا بولنے، بہن کے اختلاف کرنے پر ،
بہن کے اپنا حق مانگنے پر
اگر آپ کی غیرت مارے جوش کے اس طرح پھٹنے لگے کہ ہاتھ خون آلود کرلئے جائیں تو آپ بے غیرت ہیں ۔

غیرت کی اس لپٹی لاش کو دیکھ کر جی چاہتا ہے
جی چاہتا ہے
کاش کہ
بلوغت پر ایک ٹیسٹ غیرت کا بھی کروایا جائے ۔

تمام حکماء جدیدو قدیم سر جوڑ کر بیٹھیں ۔
بندے کی غیرت کا لیول شوگر لیول کی طرح جانچیں ۔

اگر تمام تر انسانی اصولوں کے مطابق غیرت مند قرار پائے تو سند سے نوازا جائے ۔
بصورت دیگر افسوس کے ساتھ کہا جائے

ہمیں افسوس ہے کہ ” آپ بے غیرت ہیں ” ۔

آپ کو علاج کی شدید ضرورت ہے ۔

یقین کریں اگر ایسا نہ ہوا تو ہر نفسیاتی مریض اپنی خباثت چھپانے کے لئے غیرت کو بطور ڈھال استعمال کرے گا ۔
اور ہماری بہنیں، بیٹیاں ان نفسیاتی مریضوں کے ہاتھوں یوں ہی بے دردی کے ساتھ اپنے خوابوں سمیت دفن ہوجائیں گی ۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *