• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • نجی اسکول نے عدالتی فیصلے کو انتہائی نا منصفانہ لکھا تھا،جسٹس گلزار

نجی اسکول نے عدالتی فیصلے کو انتہائی نا منصفانہ لکھا تھا،جسٹس گلزار

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نجی اسکولوں کاوالدین کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے سے متعلق کیس  میں جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ نجی اسکول نے عدالتی فیصلے کوانتہائی نامنصفانہ لکھا تھا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نجی اسکولوں کے والدین کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نےایکول اور ہیڈ اسٹارٹ اسکول کے جواب نامناسب قرار دےکردوبارہ وضاحت طلب کرلی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے  کہ اسکولوں کے نام اتنے مشکل ہیں کہ زبان پر نہیں چڑھتے ۔

جسٹس گلزار  نے استفسار کیا کہ ہیڈ اسٹارٹ  اسکول کا خط تو ہم نے دیکھ لیا، ایکول کا خط کہاں ہے، اسکول کے سی ای او کہاں ہیں؟ جس پر وکیل نجی اسکول نے جواب دیا کہ وہ کربلا میں پھنس گئے ہیں۔

جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ ایکول اسکول نے سپریم کورٹ کے فیصلے کوانتہائی نامنصفانہ لکھا تھا، اب آپ عدالتی فیصلے کومنصفانہ اورغیرمنصفانہ قراردیں گے۔

وکیل نجی اسکول نے کہا کہ ہم معذرت خواہ ہیں، جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں کواکسا رہے ہیں،اسکول کے سی ای او کا حلیہ ہی شریف آدمیوں والا نہیں۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ایکول اسکول کے جواب کے ساتھ اصل خط منسلک نہیں،آئندہ سماعت پر دونوں اسکول دوبارہ جواب جمع کرائیں ۔

بعدازاں عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *