کرک کا نوحہ”تف ہے مجھ پر اور تف ہے تم پر”۔۔۔۔عارف خٹک

کرک میں دو بھائی ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی غیر موجودگی میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے۔
آج  آپ چیخ رہے ہیں  کہ کیوں مر گئے؟ میں کہتا ہوں ایک طرح سے اچھا ہوا کہ مر گئے۔ احساس جرم والی زندگی جی کر کرتے بھی کیا۔ غریب کا بچہ پیدا ہوتے ہی مر جانا چاہیے۔ نہ ان کو صاف پانی ملنا تھا۔پولیس تھانے میں ان کیساتھ کتے والا سلوک کیا جانا تھا۔ ایم این اے یا ایم پی اے کی تصاویر اٹھا کر کل انھوں نے بھی اس کرپٹ سسٹم کا حصہ بننا تھا۔ لہذا یہ سوچ کر آپ بھی مطمئن ہوجائیں۔ ہر جگہ امن  نظر آئے گا۔ اسے آپ مثبت نظریہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

آپ مجھے دعوت دے رہے ہیں کہ لالہ وزیرستان کے مرتے جوانوں کے  نوحوں کو چھوڑ کر کرک کے  مرتے ہوئے جوان بچوں کیلئے آواز اٹھاو۔ ڈاکٹروں کی من مانیاں، پولیس کے ظلم، سسکتے پیاسے بچے، یورنیم زدہ مروعورتیں اور گیس پلانٹ کے سامنے جھگیوں میں رہنے والی مائی رحیماں   لکڑیوں سے جلاتی آگ اور اسی آگ میں جلتی جوانیاں جو پیدا ہی فوج کیلئے ہیں۔ ان کو روؤں؟

تف ،لعنت ہے مجھ پر۔

میں نے تو کرک کی تاریخ میں پہلی بار سوشل میڈیا پر  آپ کو حوصلہ دیا کہ جوان شاہد خٹک کو ووٹ دیں۔ مجھے شاہد خٹک کی تعلیم نے متاثر نہیں کیا تھا۔نہ ہی اس کی خوبصورتی کا اسیر تھا۔ میں کرک سے سیاسی اجارہ داری ختم کرنی چاہ رہا تھا۔ بالآخر ختم کرکے دکھا بھی دی۔ مگر نتائج میں نہیں دے سکتا۔ نتائج کیلئے آپ کو اپنے  گرم بستر چھوڑنے  ہوں گے بیوی کی  گود میں دبک کر آپ مجھ پر تکیہ نہیں کرسکتے۔ بیٹھ جاو شاہد خٹک کے پاس، پوچھ لو اس سے کہ اتنا بڑا مینڈیٹ دے کر آپ نے ابھی ورغہ بانڈہ روڈ کی تعمیر کیوں نہیں کی۔ جہاں بارش کے دن یہ لوگ اپنے مریضوں کو مرتا دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اسکول اور ہسپتال کا کلچر کیوں نہیں بدل پا رہے۔ رائلٹی کا پچھلا فنڈ کس کس نے کھایا جو میرے بچوں کا حق تھا۔ مجھے ان کے نام بتا دیئے جائیں۔تاکہ میں سڑک پر بیٹھ کر خود ان کا احتساب کروں۔
مگر نہیں یہ آپ نہیں پوچھوگے۔ کیوں؟

اس لئے کہ آپ خود بھی کرپٹ ہو۔ آپ نے اس سسٹم کے آگے ہار مانی لی ہے۔ میں نے تو ڈاکٹر صوفیہ سجاد زوجہ میجر سجاد صدر تحریک انصاف کرک کے بارے میں اتنا لکھا اتنا لکھا کہ میری انگلیوں نے مزید درد سہنے سے انکار کرڈالا۔
باباکوڈا نے میری آواز سے آواز ملائی۔پاکستان کے ہر درد مند دل نے میرے ساتھ آواز اٹھائی۔ اس آواز نے خان کو جھنجھوڑا۔ پورا پاکستان میرے ساتھ کھڑا ہوا کہ موصوفہ نے غلط آپریشن کرکے جہاں اپنے پیشے کا تقدس پامال کیا ہے وہاں سرکاری ہسپتال کے سامنے اپنا پرائیویٹ کلینک چلا کر وہ تبدیلی کا بلاتکار کئے جارہی ہیں۔ کتنے بچے مرے ہیں؟۔ ۔۔یہ آپ نہیں جانتے کیونکہ آپ جاننا ہی نہیں چاہ  رہے۔ میں سپریم کورٹ تک اس کی فائل بناکر بھیج دی، نیب کو پکارا۔
پورا پاکستان سن رہا تھا بس نہیں سن پارہا تھا تو آپ کا ایم این اے اور خیبر پختونخوا  کی صوبائی حکومت کی آنکھوں پر پردے پڑے تھے.،کیونکہ پارٹی بدنام ہوجاتی۔ آپ نے باقاعدہ مجھے خٹک زینے کا دشمن ڈکلیرڈ کرڈالا کہ میری وجہ سے خٹک قوم بدنام ہورہی ہے۔ اگر اس دن آپ ڈاکٹر صوفیہ سجاد کو سزا دیتے تو شاید یہ دونوں بھائی اس طرح بے یارومددگار نہیں مرتے۔
شاہد خٹک تحریک انصاف کا ہے۔ میجر سجاد کا دوست ہے۔ وہ پارٹی اصولوں سے انحراف نہیں کرسکتا۔ مگر متحدہ مجلس عمل کے دونوں ایم پی ایز (ظفراعظم اور میاں نثار) کو کیوں سانپ سونگھ گیا ہے۔ آیا وہ تحریک انصاف کی کشتی ڈوبنے کا انتظار کررہے ہیں یا وزارت اعلیٰ کی کرسی کا۔ جس پر بیٹھ کر وہ پانچ سال بعد ان مرتے بچوں کو انصاف دیں گے؟۔ ۔یا میاں صاحب پھر کوئی ٹھیکہ لیکر ان بچوں کے والدین کو فنڈ کا اجرا کریگا؟ کہ شاید غریبوں کیلئے سب سے بہتر آپشن ہی پیسہ ہوتا ہے۔

بھاڑ میں جاو تم لوگ اور بھاڑ میں جائے آپ کا ضمیر۔ میں لکھنے والا بندہ ہوں۔ میں الفاظ جوڑ جوڑ کر تھک گیا ہوں مگر آپ روتے روتے نہیں تھک رہے۔ لہذا تم پر تف اور تیری سوچ پر بھی تف۔
تم سے بہتر تو وہ یہودی کی لڑکی تھی جس نے دوسری جنگ عظیم میں لکھا کہ “گسٹاپو والے جب میرے باپ کو گھسیٹ کر لیکر جارہے تھے تو میں مدد کیلئے چیخی مگر میرے پاس کوئی ہوتا تو میری مدد کرتا۔ وہاں سب غائب کردیئے گئے تھے”۔

سن لو تم سے ہزار درجے بہتر وہ یہودی کی لڑکی ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *