• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • روحانی علم کی کنجیاں کبالا والوں اور صوفیا کے پاس ہیں ۔۔۔نذر محمد چوہان

روحانی علم کی کنجیاں کبالا والوں اور صوفیا کے پاس ہیں ۔۔۔نذر محمد چوہان

روحانی علم کی کنجیاں کبالا والوں اور صوفیا کے پاس ہیں ۔
صوفی اور کبالا والے مذاہب سے ہزاروں سال پہلے روحانی جستجو میں لگے رہے ۔ قبالا والے حضرت آدم کی کتاب ;
The Angel of God’s Secret
کو اپنی پہلی کتاب گردانتے ہیں اور حضرت ابراہیم کی ظہر یا تورات کو دوسری ۔ کبالا آج سے پانچ ہزار سال پہلے میسیپوٹومیا کے شہر بیبیلون سے شروع ہوا ۔ کبالا والوں کی یہودیوں کے ساتھ وابستگی کی بات بھی بہت غلط ہے ۔ یہودی مذہب تو صرف دو ہزار سال پرانا ہے ۔ ہاں البتہ کبالا کے ربی یہودہ اشلاگ نے پہلی کتاب ظہر پر لکھی جس وجہ سے کبالا کا غلط یہودی مطلب نکالا گیا ۔ کبالا کا مذہبوں سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہے اور بہت جگہ کبالا والے مذہب سے شدید اختلاف رکھتے ہیں ۔ یہودیوں کے ربی کبالا والوں سے اسی طرح نفرت کرتے ہیں جیسے مولوی صوفیا سے ۔
کبالا دیکھا جائے تو روحانیت کی سائینس ہے ، بالکل سیدھی سادھی دلائل سے روحانیت کا کیس سمجھایا ہوا ہے ۔ نہ کبالا میں جادو کا لین دین ہے اور نہ ہی کبالا کوئی  cult ہے ۔ کبالا والے کرما پر بھی یقین نہیں رکھتے ہاں البتہ اس دنیا میں اعمال کی بنیاد نیتوں میں ڈھونڈتے ہیں اور اس کے مطابق جزا اور سزا پر یقین رکھتے ہیں ۔ یہ ایک بلکل انسانی سمجھ میں آنے والا بہت ہی آسان اور کسی بھی تنازع سے پاک علم ہے ۔
علم کبالا میں انسان خالق کے نزدیک ایک؛“Will to receive pleasure”کا نتیجہ بنا ، جو آج تک جاری و ساری ہے ۔ یہ اپنے اندر جھانکنے کا معاملہ ہے ، جسے Maslow نے اپنے انسانی ڈھانچے میں سب سے آخر ی اور اہم اسٹیج کہا اپنی self actualization کی تھیوری میں ۔ نیت ہماری سوچ کو جنم دیتی ہے جو پھر اس کے مطابق عمل پیدا کرتی ہے اور وہی عمل ہمیں ، ہماری اصلیت اور حقیقت پر لے کے جاتا ہے ۔ جیسے کے اسلام اور کریمینل لاء میں نیتوں پر بہت زور دیا گیا ہے اعمال کے پرکھنے کے لیے، اسی طرح کبالا میں بھی ہمارے اعمال اہمیت نہیں رکھتے ، بلکہ ضروری یہ ہے کے یہ بات جاننے کی کے ہم ان کےذریعے حاصل کیا کرنا چاہتے تھے یا ہیں ۔ میں نے اپنے ایک سابقہ بلاگ میں “ذرائع اہداف کا پاک ہونا “ میں اسی سوچ کو اجاگر کیا تھا ، آپ سے دوبارہ پڑھنے کی درخواست ہے ۔
روحانی خواہش دراصل روشنی کا رقص ہے ۔ محبوب کی تڑپ جس کا تمام صوفیا نے اپنے کلام میں تذکرہ کیا ۔ یہ وہی روشنی ہے جس میں ہم اور ساری کائنات ایک  اکائی میں پروئے ہوئے ہیں ۔
کبالا کے نزدیک اگر یہ نیت اپنی ذات تک محیط ہے تو یہ ناخالص ہے اور کبالا والے اسے صرف ایک shell کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر یہ نیت اپنے خالق کے ساتھ ملاپ کی ہے تو پھر یہ خالص بھی ہے اور مقدس بھی ۔ بابزید بسطامی اور منصور حلاج کا جلال اور انالحق کہنا اسی نیت کی بنیاد پر تھا۔ وہ دونوں سمجھتے تھے کے ان کی رضا اب خالق کی رضا کے ساتھ مل چُکی ہے ۔ اسی بنیاد پر مذہب والوں نے ان دونوں کا جینا حرام کر دیا اور جنازہ نکال دیا ۔ اور اسی انالحق کے نعرے کو فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ ؛
“جو میں بھی ہوں ، اور تم بھی ہو “
اور اسی کو سلطان العارفین ، حق باہو نے کچھ اس طرح فرمایا ؛
اندر ہوُتے باہر ہوُ وت، باہو کتھ لبھیوے ہُو
لُوں لُوں دے وچ زکر اللہ دا، دم دم پیا پڑھیوے ہوُ
ظاہر باطن عین عیانی ، ہوُ ہوُ پیا سینوے ہوُ
نام فقیر تنہا دا باہُو ، قبر جیناں دی جیوے ہُؤ
اور پنجابی زبان کے صوفی شاعر میاں محمد بخش نے فرمایا ؛
اوّل حمد ثناء الہی ، جو مالک ہر ہر دا
اس دا نام چتارن والا، ہر میدان نہ ہر دا

خالق کائنات نے انسان کو اس خواہش سے بنایا کے انسان اس کی چاہت وصول کرے اس کے علاوہ انسان کو بنانے کا اور کوئی مقصد نہیں تھا ۔ اور خالق کائنات بہت خوش ہوتا ہے جب اس کی والی خصوصیات انسان پانے کی کوشش کرتا ہے ۔ کرنا کیا ہے کے ، آپ نے اپنی ذات کو خوش کرنے والی خواہش کو تبدیل کرنا ہے ۔ اسے اپنے خالق کو خوش کرنے والی سے بدلنا ہے ۔ یہ ہے صوفیا اور کبالا والوں کا بنیادی نظریہ ۔
آپ اس کائنات کی خوبصورتی کے پیچھے اس طاقت کو ڈھونڈتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے آپ کسی کڑھائی  کے پیچھے وہ دھاگوں کی بُنت دیکھتے ہیں جو بظاہر بہت مشکل اور بھدی سی لگتی ہے لیکن وہ اصل جان ہے اس کڑھائی  کی جس پر وہ شاہکار کھڑا ہے ۔
ایک اور نقطہ جو بہت ہی اہم ہے وہ یہ کہ  کبالا اور صوفیا نے اس کو ایک حقیقت سمجھا نہ کے نفسیاتی عمل ۔ آپ پلیسیبو placebo سے یا کچھ نفسیاتی مشقوں سے ٹرانس میں تو جا سکتے ہیں لیکن وہ حقیقت تب تک آشکار نہیں ہو سکتی جب تک دل میں وہ بیج نہ بویا جائے ۔ نفسیات حقیقت سے دور ہوتی ہے ۔ کبالا اور صوفیا کے نزدیک ، رب سے ملانے والا عنصر دل میں بستا ہے ۔ اسی لیے بلھے شاہ نے کہا تھا ؛
مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے
ڈھیندا جو کچھ ڈھا دے
اک بندے دا دل نا ڈھاویں
رب ! دلاں وچ رہندا
کبالا اور اصل صوفی اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ  روحانی علم میں استاد کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہر کوئی  روحانی ہے ، ہاں صوفی لوگ یا کبالا والے کتابوں ، کلام اور لیکچروں سے اسے سمجھا سکتے ہیں ، باقی یہ جاگ آپ نے دل میں خود لگانا ہے ۔ یہ پیری، مریدی ، گدی نشینی ، سب دوکانداری اور انا کو تقویت دینے کی شعبدہ بازیاں ہیں ۔ انا ہی کو تو آپ نے ختم کرنا ہے دل میں رب کی محبت جگانے کے واسطے ۔ اسی کو پھر آپ ان دھندوں سے فروغ دے رہے ہیں ، کیسی حماقت ، کیسا پاگل پن ؟ یہ علم تو سب کے لیے “اوپن سورس ٹیکنالوجی “ کی طرح بالکل کُھلا ہے ۲۴/۷۔
کبالا کے نزدیک یہ سب کچھ پانچ مراحل میں ہوا ، جس میں پہلا اسٹیج تھا غیر ذی روح inanimate کا پھر vegetative یعنی سبزی کا ، پھر متحرک یا animate ہونے کا ، چوتھا انسانی اور پانچواں روحانی ۔ اب بنی نوع انسان نے روحانی کی طرف ہی جانا ہے اور کوئی  آپشن ہی نہیں بچا ان ارتقاء کی منازل میں ۔ کبالا اور صوفیا کے نزدیک نہ کوئی  ماضی ہے اور نہ ہی مستقبل ، بلکہ حال جو پہلے سے لکھا جا چُکا ہے اور ہم نہ اس کے آبزرور ہیں ، نہ کریچر بلکہ ہم ہی اپنے رب ، اپنے خالق کے ساتھ وہ فیلڈ ہیں ۔ صرف اس کی محبت اپنے دل میں جگانی ہے اور نیتوں کو بدلنا ہے ۔ چالیس سال تک ضرور دنیا داری کا معاملہ دیکھیں لیکن اس کی بعد صرف اسی کی لو اپنے دلوں میں جگانی ہے ۔ اترپردیش ، ہندوستان کی شاعرہ الکامشرہ کی غزل کے مطابق کچھ اس یہ سارا معمالہ کچھ اس طرح ہے ؛
لو میرے دل نے زرا اس سے لگائی ہی نہیں
میں نے چاہت کی کبھی جوت جگائی ہی نہیں
روشنی روح تک آئی ہے تو آئی کیسے
جب کہ اس تک تو مری کوئی رسائی ہی نہیں
اپنی رو میں ہوں بہے جاتی ہوں ندی کی طرح
پتھروں کو میں کبھی دھیان میں لائی ہی نہیں
کیسے بن جاتے ہیں سب کام یہ بگڑے میرے
ایک نیکی تو ابھی میں نے کمائی ہی نہیں
خود بہ خود جھک گئیں در پر ترے نظریں میری
یہ نگہ میں نے کہیں اور جھکائی ہی نہیں
کیسے چپ چاپ چلے آتے ہیں نیندوں میں مری
میں نے خوابوں کو تو آواز لگائی ہی نہیں
اس کی امید ابھی سے میں لگا لوں کیسے
اپنی ہستی تو ابھی میں نے مٹائی ہی نہیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *