منظور پشتین سے انٹرویو۔۔۔۔۔ عبدالحنان ارشد

ایڈیٹر نوٹ: ادارہ مکالمہ یہ بات واضح کرتا ہے  کہ  یہ انٹرویو  آزادی اظہار رائے  کی روح کے تحت شائع کیا جا رہا ہے۔  ادارہ انٹرویو کے مندرجات سے بری الذمہ ہے۔

انٹرویو ور نوٹ: اس انٹرویو کو کرنے کی واحد وجہ یہ تھی کہ ایک عام پاکستانی کے ذہن میں جو سوالات PTM کو لے کر اٹھ رہے ہیں  اُن سب کے جوابات تلاش کیے جا سکیں۔  اِن سب جوابات کے لیے سب سے موضوع شخص خود منظور پشتین کے علاوہ اور کون ہو سکتا تھا؟ اسی لیے ہم نے منظور پشتین سے انٹرویو کے لئے وقت طے کیا اور منظور تک پہنچ گئے۔ تاکہ اس معاملے میں  سب   کی رہنمائی کر سکیں۔ اس انٹرویو کے لیے میں خصوصاً جبران ناصر اور ادریس پشتین کا تہہ  دل سے سپاس گزار ہوں جنہوں نے منظور تک رسائی میں میری مدد کی۔ اس سب کے ساتھ میں اپنے والد صاحب کا بےحد شکر گزار ہوں جنہوں نے PTM اور منظور پشتین کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے جس میں اسے غدار اور نہ جانے کیا کیا گردانا جا رہا تھا اس سب کو بلائے طاق رکھتے ہوئے مجھے وہاں جانے کی اور منظور سے ملنے کی اجازت دی۔
سوال و جواب کے باقاعدہ سلسلے سے پہلے اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ منظور سادہ سی بات کرتا ہے جو کہ عام لوگوں کو سمجھ میں آتی ہے۔ اس کے پاس لفاظی نہیں ہے  جو خواص کو اپنی طرف راغب کرسکے۔ لیکن اس کے سادہ سے الفاظ لفظوں کے شناوروں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں  اور اُس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے راستے میں آنے والی مشکلات کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہماری، اُن کی اور پاکستان کی بہتری اسی میں ہے کہ پُرامن طریقے سے اُن کے مسائل کا سدِباب کیا جائے کہیں  ایسا نہ ہو کہ بعد میں یہ مسئلہ نہ اگلا جائے اور نہ نگلا جائے۔  اب ہمارے ناتواں کندھوں پر  مزید  پریشانیوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت ختم ہوتی جارہی ہے۔

سوال: عام تاثر یہ ہے پختونوں کی اوریجنل موومنٹ نہیں ہے۔ یہ چند شرپسند عناصر   آپ کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے کا کام کررہے ہیں؟
جواب: اگر یہ پشتونوں کی نمائندہ تحریک نہ ہوتی تو اتنی بڑی تعداد میں پشتون اس کا ساتھ نہ دیتے۔ یہاں اتنے بڑے جلسے کسی نے بھی نہیں کیے جتنے PTM نے کیے ہیں۔
جہاں تک لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے کا تعلق ہے۔ کبھی یہی لوگ ہمارے PTM کے جلسے میں آ جائیں خود سٹیج پر بیٹھ کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہو گا۔ جتنے بھی سخت نعروں کا آپ کو پتا چلتا ہے یہ سب عوام خود لگا رہے ہیں۔ سٹیج سے آپ کو بہت کم تعداد میں ایسا دیکھنے کو ملے گا۔ سارے سخت الفاظ عوام خود استعمال کرکے اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا اظہار کرتے ہیں کہ ارباب اختیار تک اُن کی یہ پکار پہنچ جائے۔ ہم تو کہتے ہیں عوام ہمیں بھڑکا رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے، زیادتی ہوئی ہے ناانصافی ہوئی ہے آپ لوگ کوئی سخت عمل کریں۔ ہمارے یہاں ابھی بھی دوستوں کے درمیان یہ مکالمہ جاری ہے کہ یہ مزاحمت ابھی زیادہ  محسوس  نہیں ہوتی، بہت ہی کوئی سخت مزاحمت ہونی چاہیے تاکہ ارباب اختیار کے کانوں پر کوئی جوں رینگے۔ ابھی یہ لوگ جو کہتے ہیں عوام بھڑکا رہے ہیں عوام کو کیسے بھڑکایا جا سکتا ہے۔ عوام کو ورغلایا جا سکتا ہے اور آپ ایسا کر رہے ہیں۔ مطلب ابھی کچھ ہوا نہیں آپ جھوٹ بول بول کر انہیں ورغلا رہے ہیں اور ہمیں غدار اور نہ جانے کیا کیا قرار دے رہے ہیں۔ ہم نے تو آج تک جتنے واقعات سٹیج سے بیان کیے ہیں اکثر تو آفت رسیدہ خود آ کر بیان کرتے ہیں۔ تو ہم نے پھر کس کو بھڑکایا۔ یہ لوگ اپنے تجربات بیان کررہے ہیں انہوں نے لوگوں کو کیسے بھڑکایا۔ اگر زمینی حقائق بیان کرنا بھڑکانا  ہے تو پھر اس کا  ذمہ دار کوئی اور  ہے کیونکہ یہ سارے غلط کام انہوں نے خود کیے ہیں۔ جنہوں نے  عام عوام کو   Missing person بنایا ہے۔ جیٹ طیاروں سے اور آپریشن سے عام عوام کو برباد کردیا۔یہ ظلم کیا گیا ہے اور اگر ظلم کے خلاف آواز اٹھانا عوام کو مشتعل کرنا کہلاتا ہے تو پھر اسلام میں اس کے لیے بہت عجیب الفاظ پائیں گے اگر ظلم کے خلاف آواز کو اشتعال دلانا کہیں گے۔ اگر اسی پیمانے کا استعمال کیا جائے پھر تو جو کشمیر کے لیڈر ہیں یا فلسطین کے لیڈر ہیں وہ بھی لوگوں کو اسرائیل کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ پھر تو شام، افغانستان کے جو کمانڈر ہیں یا سردار ہیں تو وہ بھی لوگوں کو امریکہ کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی ظلم ہی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اگر ہمیں انسان سمجھتے ہیں ہمیں مسلمان سمجھتے ہیں تو لوگ ہمارے لیے بھی وہی الفاظ چنیں جو دیگر مظلومین کے لیے بولتے ہیں۔

سوال: (ہم نے سوال کو مزید کھلے انداز میں پوچھ ڈالا) افغانستان میں کوئی تحریک ہو تو ہمارے یہاں سے کبھی آفیشلی پرموٹ نہیں کیا جاتا۔ لیکن آپ کی تحریک کو افغانستانی اسٹیبشلمنٹ کی آشیرباد ملتی ہوئی لگتی ہے، کیونکہ جس طرح سوشل میڈیا پر حکومتی طور پر آپ کی تحریک کو پرموٹ کیا جاتا ہے؟
جواب: جب اپنی ریاست بات نہیں سنے گی تو غیر تو آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے، شاید افغانستان بھی یہی چاہتا ہو, اسی لیے انہوں نے ایسی کوئی ٹوئیٹ کی ہو تو شاید وہ پختونوں سے جذبہ خیر سگالی کے طور پر کی ہو یا شاید بغضِ پختون میں ایسا کیا ہو کہ لوگ وہ تاثر لیں جو وہ ابھی لے  رہے ہیں۔ٹوئیٹ تو افغانی کرکٹ ٹیم کے لیے جنرل آصف غفور نے بھی کی تھی۔
اور دوسری طرح ابھی جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ طالبان  کو مذاکرات کی میز پر لا کر ہم نے امن کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا ہے تو کیا پاکستان بھی افغانستان میں کشیدگی کا ذمہ دار ہے۔ یہ وہی پروپیگنڈہ ہیں جو ہماری تحریک اور ہمارے مطالبات کو دبانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں اور کچھ نہیں ہے  ۔

سوال: یہ قومیں جن کی آپ بات کر رہے ہیں، وہ وہاں محکوم ہیں، اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ لیکن آپ یہاں آزاد مملکت میں آزاد شہری ہیں۔ خاکمِ بدہن آپ بھی پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں؟
جواب: (منظور ہنستے ہوئے) یہ آپ کی عنائیت ہے ہمیں آزاد سمجھتے ہیں۔سمجھنے کی حد تک ہم بالکل آزاد ہیں۔ ہمیں بلیک لسٹ کیا جاتا ہے ہمارے ساتھ تصویر اتروانے والوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں( تصویر تو ہم نے بھی بنوائی تھی ، اب اللہ ہی خیر کرے)۔ آپ کے فیصل آباد میں ہی ہم نے میٹنگ کے لیے ایک جگہ بک کروانی تھی سب کو منع کردیا گیا کہ انہیں کوئی جگہ نہیں دینی۔ ہمیں سب نے انکار کردیا کہ وہ ہمیں جگہ نہیں دے سکتے۔ ہمیں غدار، انڈین ایجنٹ اور نہ جانے کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے۔ جہاں تک ہمارے مطالبات کا تعلق ہے یہ ریاست اور عوام کے درمیان معاملہ ہے خواہ ہم دس بندے ہی کیوں نہ ہوں ہمیں اگر انصاف نہیں ملتا تو ہم تو انصاف مانگیں گے۔ اس کا اس  بات سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے کہ ہم زیادہ ہیں یا کم۔ جہاں تک بات ہے پاکستان سے آزادی والی تو ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ہمارا وطن ہے اور رہے گا۔ ہمیں اس سے محبت ہے۔ ہم اس کو کبھی بھی تقسیم نہیں کرنا چاہیں گے۔ ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں پاکستان کا جھنڈا جلسے میں نہیں آنے دیتے جبکہ یہ نہیں جانتے اکثر جلسوں میں میرے گلے میں پاکستان کا جھنڈا ہوتا تھا۔ اگر کوئی ہماری بات سننے کی بجائے ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرنا چاہے تو ہم اُن کا کیا کر سکتے ہیں۔

سوال: کہتے ہیں لکیر کے دونوں طرف پختونوں کو سرگرم کرنے کی اوبامہ اسٹیبشلمنٹ نے کچھ منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ آپ کو اُس منصوبہ بندی کا حصہ کیوں نہ سمجھا جائے؟

جواب: لکیر کے اُس پار سے کبھی لوگ تو نہیں آئے ہماری مدد کے لیے، یہاں پر ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک یا پھر پشاور میں جلسہ ہوتا ہے تو آنے والوں کے شناختی کارڈ چیک ہوتے ہیں۔ لکیر کے اِس طرف یا اُس طرف کھڑے کرنے کی بات آج سے تو نہیں ہو رہی یہ تاریخ کا حصہ ہے لوگ یہ بات کرتے آئے ہیں کہ آپ افغانی ہوں یہاں سے چلے جاؤ۔ افغان تو ایک نسل کا نام ہے۔ پشتون اُس کا کہتے ہیں جو پشتو زبان بول سکتا ہو، نسل کا نام افغان ہے۔ یہاں سب کے ڈومیسائل میں نام افغان لکھے جاتے ہیں۔ افغان تو سب پختون ہیں۔ لکیر کے اس یا اُس پار والی جو بات ہے بہت واضح ہے۔ ہمارے ساتھ ظلم یہاں پر ہوا ہے ہم نے ٹیکس افغانستان کو ادا نہیں کیا کہ وہ ہماری حفاظت کرے  ،نہ انڈیا اور امریکہ کو ٹیکس دیا ہے کہ وہ ہمیں تحفظ فراہم کرے۔ ہم نے پاکستان کو ٹیکس ادا کیا ہے تو یہ ہمارے ذمہ دار ہیں۔ میرے پیسوں سے یہ کپڑے بھی خریدیں، بندوق بھی خریدیں اور پھر اسی بندوق کو لے کر آ جائیں  میرے علاقوں پر قبضہ کریں ، مجھے صبح شام ماریں ، اگر میں اُس کے خلاف آواز بلند کرتا ہوں کہ یہ تم زیادتی کررہے ہو تو کیا لوگ اسے غلط کہیں گے۔ یا یہ کہیں  گے کہ یہ تو فلاں نے کیا ہے، تمہیں اِن کے خلاف نہیں اٹھنا چاہیے۔ ابھی میں آپ کو ویڈیو دکھاؤں  گا جس میں دو ہفتہ قبل کےلینڈ مائن سے ہونے والی تباہی ہے جس میں بچوں کے جسم کا سارا گوشت اڑ گیا ہے صرف ہڈیاں رہ گئی ہیں۔ اگر ہڈیاں کسی جرنیل کے بیٹے کی رہ جائیں تو پھر اُس کے لیے آواز اٹھانا تو بالکل ٹھیک ہوگا۔ پھر تو پاکستان میڈیا بھی کوریج دے گا کہ یہاں ریاستی دہشت گردی ہو گئی ہے۔ اگر اس طرح فلسطین اور عراق میں ہوجائے تو اُس کے لیے احتجاج جائز ہے۔ تو کیا پھر یہ ریاست ہم کو مسلمان یا انسان نہیں سمجھتی کہ جب بھی ہم آواز اٹھائیں تو یہ پروپیگنڈہ  کے ذریعے اس کو دبانا چاہتے ہیں ۔ ہم لوگ جو بات کررہے ہیں وہ سب زمینی حقائق ہیں۔ زمینی حقائق کے سامنے ان سوالات کی کیا اوقات ہوتی ہے۔ اس طرح ہے کہ ہمارے مسائل یہاں کے ہیں۔ اگر ہم نے لینڈ مائنز کی، وسائل کی، ماورائے  عدالت قتل یا پھر لاپتہ افراد کی بات کی  ہے تو یہاں کے رہنے والے پشتونوں کی بات کی ہے افغانستان کے لوگوں کی تو بات نہیں کی۔ ایسا تاثر صرف پروپیگنڈہ کے طور پر لوگوں کو دیا جا رہا ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ان مسائل کو جتنے اچھے اور پرامن طریقے سے PTM اٹھا رہی ہے  شاید ہی کوئی اٹھا سکتا تھا۔ آپ کے سامنے یہ میرے دوست بیٹھے ہیں اگر میں انہیں ابھی کہتا ہوں آ جاؤ بندوق اٹھاؤ جدوجہد کرنی ہے ان کو مار کر اپنا بدلہ لینا ہے تو یہ سارے تیار ہیں۔ لیکن ہم نے تو مکالمہ اور امن کا راستہ چنا ہے۔ اب ہمارا امن کے راستے  پر چلنا بھی انہیں قبول نہیں ہے اب اگر منظور کے بعد  کوئی اور بندہ آتا ہے تو وہ ضرور سوچے گا کہ یہاں امن کے راستے پر چلنا ٹھیک نہیں ہے۔ آنے والوں کے لیے یہ لوگ کون سا تاثر دینا چاہتے ہیں کہ امن کا رستہ صحیح نہیں ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ لکیر کے آر یا پار کوئی ڈوریاں ہیں یا نہیں  بلکہ سوال تو یہ ہے لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کیوں کیا جاتا ہے۔لوگوں کو اُن کے جینے کے بنیادی حق سے کیوں محروم کیا جاتا ہے۔ ہمارے مسائل حل ہو جائیں تو ہماری تحریک خودبخود ختم ہو جائے گی۔ ایسا تاثر دینے کی بجائے یہ لوگ ہمارے مسائل کے حل کی طرف کیوں نہیں آتے-

سوال: آپ کو لگتا ہے خان صاحب آپ کے مسائل حل کر سکتے ہیں؟ یا حل کرنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ جس طرح انہوں نے نومبر میں محسن داوڑ اور علی وزیر سے ملاقات کی، مینگل صاحب اور آرمی چیف صاحب کی ملاقات طے کروائی اس سے تاثر یہی ملتا ہے وہ آپ کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

جواب: ہماری بات یہ نہیں کہ کوئی میٹھی باتیں کرے گا تو ہم خوش ہو جائیں گے۔ ہم اپنے مسئلہ پر بہت کلئیر ہیں۔ کسی کی منافقت میں لپٹی اچھی باتیں ہمیں بہلا یا ورغلا نہیں سکتی۔ ہم لوگ امن کی بات کرتے ہیں۔ ہم لوگ اس معاملہ پر عملی ا قدامات  چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ  میں چاہے عمران خان ہو، زرداری یا پھر نواز شریف ہو۔ ہمیں  اس سے کوئی سروکار نہیں ہے، ہمیں واسطہ ہے تو صرف اپنے مسائل کے ساتھ ہے۔بیشک کوئی ہمارے ساتھ ملاقات نہ کرے ، خاموشی سے ہمارے مسائل حل کر دیں ہمیں منظور ہے۔ ہمارے مسائل بالکل سیدھے سیدھے ہیں یہ حل ہو گئے تو ہم لوگ خود بخود بیٹھ جائیں گے۔ لیکن خان صاحب نے آج تک ہمارے ساتھ اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی ہے۔ خان صاحب سے الیکشن سے قبل میں دو دفعہ ملا ہوں، مجھے بلوا کر انہوں نے کہا تھا الیکشن کے دوسرے دن آپ کو بلوا کر آپ کے سارے مسائل حل کریں گے۔ اب جبکہ الیکشن وہ جیت گئے ہیں، شاید بھول گئے ہوں گے( ہنستے ہوئے)۔

سوال: نقیب مسعود والے واقعہ میں براہِ راست سندھ پولیس ملوث تھی، اب وہ کیس عدالت میں ہے لیکن آپ لوگ نعرے فوج کے خلاف لگاتے ہیں؟
جواب: سندھ پولیس ہو یا پنجاب پولیس ہو اُن لوگوں کو ایک صوبیدار سے نچلے رینک کے آفیسر کا بھی ٹیلی فون آ جائے ہمیں تو معلوم ہے۔ وہ لوگ ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ پنجاب میں اور مرکز میں نواز شریف کی حکومت تھی لیکن فوج نے چاہا تو کیا ہوا وقت کا وزیراعظم اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکا۔ اسی طرح آصف علی زرداری اپنے آپ کو کیسز سے نہیں بچا سکتا، تو وہ راؤ انور کو کیسے بچائے گا۔ ہم اس معاملہ پر بہت کلئیر ہیں یہاں پاور صرف ایک ہے جو سب کے اوپر ہے۔ عدلیہ کے اوپر بھی، پارلیمنٹ کے اوپر بھی انتخابات سے لے کر جتنے بھی مسائل ہیں  ایک گھس بیٹھیا  ہے جو ہمیں معلوم ہے اس لیے ہم صرف اسی کی بات کرتے ہیں۔ ہم چہروں کے شکار نہیں ہوتے چاہے وہ پولیس کے روپ میں ہمارے سامنے آ جائیں ہم پہچان لیتے ہیں۔۔۔تعلیم سے لے کر الیکشن تک ہر محکمے کا کریڈٹ وہ لوگ لیتے ہیں۔ جب وہ لوگ کریڈٹ لینے کے اتنے شوقین ہیں تو بات بھی پھر ہم اُن سے ہی کریں گے۔
دوسری بات جب واپڈا والوں کے خلاف احتجاج ہوتا ہے تو واپڈا والوں کو بے شمار گالیاں دی جاتی ہیں۔ کیا کبھی احتجاج کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج ہوا ہے؟ بالکل نہیں۔ کیا واپڈا ملکی ادارہ نہیں ہے؟ واپڈا کے کتنے اہلکار بجلی ٹھیک کرتے شہید ہو جاتے ہیں۔ کیا انہوں نے ملک کے لیے کام نہیں کیا ہے؟ پاکستان میں تو بیشمار احتجاج ہوتے ہیں ہم نے خود دیکھا ہے لوگ نعرے لگاتے ہیں۔ “کتا، کتا” DPO “کتا”، پولیس مردہ باد اور انتظامیہ مردہ باد۔ بیشمار پولیس والے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے شہید ہوئے ہیں، شہریوں کی حفاظت کے لیے تو پولیس نے قربانیاں دی ہیں۔ لیکن جب پولیس والوں کو کوئی گالی دیتا ہے کوئی مائنڈ کرتا ہے؟۔۔۔ نہیں!! کیونکہ شاید یہ سب لوگ تو گھٹیا لوگ ہیں۔ اپنے کو یہاں اعلی تو صرف فوج  سمجھتی  ہے  ۔ وہ ایک ایڈ ہے “سب سے آگے سب سے اوپر پرنس سوپر پرنس سوپر”۔ یہ سمجھتے ہیں یہ اعلی ہیں ان کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے۔ اگر یہ لوگ بھی اپنے آپ کو ملک کا ایک ادارہ سمجھتے ہیں تو ان کے خلاف بھی بات تو ضرور ہو گی۔ یہ لوگ اتنے نازک مزاج نہ بنیں۔

سوال: کیا کبھی فوج نے آپ لوگوں کو براہ راست مذاکرات کے لیے نہیں بلایا؟
جواب:  یہ لوگ ہم سے ڈائریکٹ بات کرنا نہیں چاہتے اور نہ ہی یہ ہمارے ساتھ براہ راست بات کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے مسائل کے حل کے لیے کچھ عرصہ قبل ایک جرگہ بنایا تھا۔ لیکن جرگہ والوں کو ایک تحریری نوٹس نہیں دیتے کہ یہ جرگہ فوج کی طرف سے بنایا گیا ہے آخر تنگ آ کر وہ جرگہ والے ہی خود بیٹھ گئے۔

سوال: ( اسی سوال پر گرہ لگائی) آپ سمجھتے ہیں فوج آپ کے مطالبات حل کرنے میں سنجیدہ بالکل نہیں ہے؟
جواب: وہ لوگ مطالبات حل کرنے کی بجائے PTM کو حل کرنے چاہتے ہیں کہ کسی طرح PTM کو ختم کردیں، ہمارے مسائل کو سمجھنے کی بجائے ہمارے خلاف غداری اور نہ جانے کس کس طرح کے   پڑوپیگنڈہ کمپین چلائیں گے ۔ وہ فوجی بنیں یا انسان، لیکن ہمارے لوگوں کے لیے مسائل نہ بنائیں۔ ہم انسان ہیں اور انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی غیر انسانی رویہ کوئی بھی غیر انسانی سوچ اور کوئی بھی غیر انسانی اعمال کے ساتھ ہمیں تنگ کریں گے تو ہم لوگ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

سوال: حال ہی میں کراچی میں آپ کی جماعت کے بندے گرفتار کیے گئے ہیں  جو کہ ایک ظلم ہے، پکڑنے والے سندھ پولیس  کے اہلکار ہیں۔ سندھ پولیس یا گورنمنٹ  کو ملامت  کرنے کی بجائے توپوں کا رخ آرمی کی طرف ہے۔ پیپلزپارٹی کے چئیرمین سے لے کر عہدہ دار بشمول سپورٹران آپ کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ٹوئیٹس بھی کرتے ہیں۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ سندھ میں اُن کی اپنی جماعت کی حکومت ہے؟
جواب: سندھ  ہو یا پنجاب ۔۔ ملک میں حکومت تو ایک ادارے  کی ہے۔
بات پھر وہی ہے کہ سندھ ہو یا پنجاب پولیس ہو اُن لوگوں کو ایک صوبیدار سے نچلے رینک کے آفیسر کا بھی ٹیلی فون آ جائے۔ وہ لوگ ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ سندھ پولیس کے ساتھ ساتھ کراچی رینجرز ہمیں زیادہ تنگ کرتے ہیں، کیونکہ وہ براہ راست فوج کا ماتحت ادارہ ہیں۔ بھتہ خور رینجرز اور بھتہ خور سندھ پولیس، ان کے خلاف ہم نے بہت بات کی ہے۔ یہ انسانوں کے روپ میں کوئی اور ہی مخلوق ہے۔ (طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے میں نے ویسے جتنے بھی دیکھے ہیں اِن کی شکل بھی انسانوں سے ملتی جلتی نہیں ہے)۔ یہ لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔ پاکستان آرمی کی مختلف برانچز ہیں، ایک برانچ طالبان ہے، ایک کراچی رینجرز ہیں اور ایک سندھ پولیس ہیں۔ سب سے زیادہ خطرناک اور دہشتگرد سندھ پولیس اور رینجرز ہیں۔

سوال: ابھی آپ نے کہا فوج الیکشن بھی دیکھتی ہے، الیکشن کے نتائج اور آرمی کے کردار کو لے کر ہر طرف شور و غل جاری ہے۔ اس دفعہ الیکشن کے رزلٹ کو آپ لوگ کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ بھی سمجھتے ہیں یہ پہلے سے طے شدہ نتائج سنائیں گے ہیں یا ووٹ کی پرچی کی بنیاد پر فیصلہ ہوا ہے؟

جواب: ہمیں انتخابات یا اِن کے نتائج سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن یہ بات کریں ہے اس دفعہ نہیں بلکہ ہر بار لوگ یہ نہ کہیں کچھ ہوا ہے۔ جبکہ ہمارا ماننا ہے اس دفعہ نہیں ہر بار ہی الیکشن میں انہوں (فوج) نے الیکشن میں انگلی ماری ہے۔ ( اسی دوران ہم نے اسی پر ایک اور سوال داغ دیا)( لیکن ہر بار ہی ہارنے والا یہی کہتا ہے کہ میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے)( ایک لمحہ کو سوچتے ہوئے) ہارنے والا نہیں بلکہ پچھلی دفعہ جیتنے والا  نواز شریف بھی اس دفعہ شور مچا رہا ہے ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔ ہارے ہوئے لوگ جو اس دفعہ جیت گئے انہوں نے تو یہ بات نہیں کی۔
ہمارا تو ان انتخابات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، کون جیتتا ہے کون ہارتا ہے ہمارا تو اپنی زندگی کے ساتھ ہے۔ کون الیکشن جیتتا ہے کون ہارتا ہے۔ انتخابات اچھے ہوں رہے ہیں یا برے ہمارا اس کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہمارا واسطہ ہمارے وسائل کے ساتھ ہے۔

سوال: جس طرح آپ کی جماعت کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا آپ مستقبل میں اپنی تحریک کو ایک سیاسی جماعت میں بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
جواب: جب یہاں ہماری زندگی محفوظ نہیں ہے ہم یہاں سیاست کیا کریں گے۔ ہم پارلیمانی سیاست نہیں کرتے لیکن اجتماعی مسائل کو چھیڑنا اور ُان کا حل تلاش کرنا سیاست ہی کہلاتا ہے۔ ہم مسائل چھیڑتے ہیں۔ PTM ایک تحریک ہے۔لیکن یہ ایک قومی تحریک ہے۔ ہمیں   صرف اپنے مسائل کے ساتھ سروکار ہے۔ ہم اتنا سیاسی نہیں بننا چاہتے کہ ہر مسائل پر ٹانگ اڑاتے پھریں  ہمیں صرف اپنے مسائل کا حل چاہیے ۔ ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے تو ہماری تحریک خودبخود ختم ہوجائے گی۔

سوال: آپ فوج کے مخالف بات کرتے ہیں لیکن آپ نہیں مانتے ملک میں خصوصاً قبائلی علاقوں میں امن قائم کرنے میں فوج کا بہت ہاتھ ہے؟

جواب: PTM ملک میں امن کے لیے تحریک ہے یہ دہشتگردی کے مخالف تحریک ہے۔ دہشتگردی کا مطلب ہوتا ہے لوگوں کو ڈرانا، دھمکانا۔ آرمی، سندھ پولیس، رینجرز اور طالبان غیر آئینی طریقے سے لوگوں کو ڈرا کر اپنی رٹ قائم کئے ہوئے ہیں۔ ہماری نظر میں ان سب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ طالبان نے بھی آئین کے مخالف کچھ اور رٹ قائم کی تھی۔ فوج نے بھی فاٹا میں یہی کیا ہے۔ ہمارے سامنے یہ برابر کے لوگ ہیں۔ ہمارے لیے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ بھی دہشتگرد تھے تو یہ بھی دہشتگرد ہیں جو لوگوں کو ڈرا کر دھمکا کر نقصان پہنچا کر اپنی رٹ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

سوال: ڈرون حملے  اب تو رک گئے ہیں، اسکے بارے میں آپ کا موقف  کیا ہے ؟
جواب: عام عوام جس میں بھی ماری  جائے گی  ہم اُس کی مخالفت کریں گے۔ اب یہاں پر طالبان کے خلاف آپریشن پاکستان آرمی نے کیا ہے یا امریکہ کر رہا ہے۔ یہ لوگ بڑے لوگ ہیں طالبان یہاں سے جا کر افغانستان میں امریکہ پر حملہ کرتے تھے تو امریکہ بھی یہاں آ کر اُن پر حملہ کرتا تھا۔ لیکن اس جنگ میں ہمارے معصوم لوگ ہلاک ہوتے تھے۔ ہم یہاں پر مکمل امن چاہتے ہیں۔ دونوں طرف معصوم لوگ نہ مریں۔ ہم چاہتے ہیں ہمارے وطن میں جنگ نہ ہو۔ جنگ کی تباہ کاریاں ہم دیکھ چکے ہیں۔

سوال: آپ کی پارٹی کے ایک ایم این اے محسن داوڑ ان ڈرون حملوں کی حمایت کرتے رہے ہیں؟ آپ کو نہیں لگتا وہ آپ کی موومنٹ کا حصہ بھی آپ کی بڑھتی ہوئی شہرت کی وجہ سے بنے ہیں؟
جواب: قبائلیوں کو طالبان  سے بہت زیادہ مسئلہ تھا۔ وہ قبائلیوں کو مارتے تھے۔ اب تک طالبان کے ملا فضل اللہ سمیت 88 کمانڈر مارے جا چکے ہیں جن میں سے 87 ڈرون حملوں سے مارے گئے تھے۔ ایک عبداللہ مسعود تھا وہ ژوب میں بم پھٹنے سے مارا گیا تھا۔ محسن اس لیے کہتا تھا کہ آرمی جو طالبان کے خلاف آپریشن کرتی تھی اُس میں   ہم نے کبھی عام لوگوں کے سوا طالبان کو مرتے نہیں دیکھا تھا۔ جو ڈرون حملے امریکہ کرتا تھا اُس میں کم از کم طالبان کمانڈر تو مارے جاتے تھے۔ کہتے ہیں فضل اللہ امریکہ کا بندہ تھا اسے مارا بھی امریکہ نے ہی ہے۔ یہاں وہ سوات میں اتنا عرصہ رہا ہے اسے کسی نے نہیں مارا اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ GHQ والوں کا ہی بندہ تھا۔ عصر کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کینٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کینٹ میں طالبان آتے اور جاتے ہیں۔ ان کی حفاظت کے لیے آرمی والے بھی نظر آتے ہیں۔

سوال: لوگوں کا ماننا ہے آپ اپنی تحریک کے ساتھ مخلص ہیں لیکن کچھ عناصر آپ کی مخلصی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں؟
جواب: اللہ نہ کرے ہماری تحریک کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہو، جو کہ انشااللہ ایسا نہیں ہو گا۔ تحریک کے ساتھ میں اکیلا مخلص نہیں ہوں۔ جتنے بھی جوان لوگ ہیں، جتنے بھی مظلوم لوگ ہیں وہ سب ہی اس تحریک کے ساتھ مخلص ہیں۔ وہ کسی بھی طرح اس تحریک کو ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے اپنی تحریک کے جتنے بھی بندے ہیں۔ اُن کی اس طرح تربیت کی گئی ہے کہ وہ ہر آن ہمارا احتساب کرتے ہیں۔ حتٰی کہ میں بھی ان کے ساتھ بیٹھتا ہوں اور مجھ سے بھی سوال جواب ہوتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے یا غلط۔ ابھی آپ کے سامنے جو دوست آئے  ہیں یہ میرا احتساب کریں گے۔ حتٰی کے ایک کمنٹ بھی قابلِ مواخذہ ہوتا ہے۔ جب اس طرح کی جوابدہی ہوتی ہے تب کوئی استعمال نہیں ہوتا بلکہ مشترکہ جدوجہد ہوتی ہے۔

سوال: آپ اکثر کہتے ہیں، آپ مذہبی رجحان رکھنے والے ہیں۔ لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ لگتا یہی ہے سارے لبرل سیکولر آپ کی تحریک کے ساتھ ہیں۔ مذہبی نہیں؟

جواب: ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں۔ پاکستان میں کہیں  بھی ایسا نہیں ہوتا سوائے ہمارے PTM کے جلسے میں جہاں باقاعدہ سٹیج پر اذان دی جاتی ہے اور پھر باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے۔ ہماری تحریک کی کور کمیٹی میں زیادہ تر مولانا حضرات ہیں۔ٹوئٹر پر یا سوشل میڈیا پر دراصل چند ایک چہرے ہی نظر آتے ہیں وہ باقی سامنے نہیں ہیں تو لوگوں کو یہی لگتا ہے کہ ہماری تحریک دین بیزار لوگوں کی ہے۔ میں سب کو بتانا چاہوں گا ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ہم سب اسلامی طریقوں کے مطابق ہی زندگی بسر کرتے ہیں۔ جہاں تک لبرل سیکولر لوگوں کا تعلق ہے یہ گندی مکھی کی طرح ہوتے ہیں جو صرف زخم پر ہی بیٹھتی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم یہ لوگ ہماری تحریک کے ساتھ مخلص ہیں یا نہیں۔ ہماری سپورٹ کے پیچھے اُن کا کوئی اپنا ایجنڈا ہو یہ بھی ہمیں نہیں معلوم۔ ہماری تحریک تو اپنے لوگوں کے لیے تحریک ہے۔ جو ہمارے ساتھ آئے گا ہم سب کو خوش آمدید کہیں گے ۔

سوال: آپ کی فنڈنگ کے اوپر سب سے زیادہ سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ آپ کو یہ فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے؟
جواب: بات یہ ہے صرف پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں آپ کو چندہ کے ڈبے نظر آتے ہیں۔ اور کسی کے جلسوں میں ایسا نہیں ہوتا۔یہ لوگ ہیں جو ہمیں چندہ دیتے ہیں۔ جلسے کے اختتام پر وہ ڈبے کھولے جاتے ہیں جتنے بھی پیسے اکٹھے ہوتے ہیں اُن کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں لوگ اپنے سر سے گزر چکے ہیں اب اُن کے لیے کچھ پیسے اپنے مفاد کے لیے دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ PTM کے جتنے بھی لوگ ہیں وہ سر دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ وہ تحریک کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں۔ اگر وہ ایسے کھٹن حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلے ہیں تو سوچ سمجھ کر نکلے ہیں۔ وہ سر دینے کو تیار ہیں تو پیسے کیا چیز ہیں۔
یہاں پر کتنی سیاسی جماعتیں ہیں آپ نے کبھی یہ سوال سنا ہے انہیں فنڈنگ کون دیتا ہے اور کہاں سے آتی ہے۔ عمران خان کہتے ہیں میرے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے لیکن اُن کے جلسے تو ہم سے کئی گنا زیادہ سہولیات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ہمارے جلسوں میں تو کرسیاں بھی نہیں ہوتی لوگ گھروں سے چٹائیاں لے کر آتے ہیں۔ ایک لاؤڈ سپیکر ہوتا ہے بعد میں لاؤڈ سپیکر دینے والوں پر ایف آئی آر  درج ہو جاتی ہیں۔ ہم تو لوگوں کو جلسوں میں آنے کے لیے پیسے بھی نہیں دیتے لوگ خود آتے ہیں۔کیونکہ وہ اس کو اپنی ضرورت سمجھتے ہیں۔ لوگ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے  ہیں۔ ہمیں پنجاب سے بھی فنڈنگ ملتی ہے اور اچھی خاصی ملتی ہے۔ جو لاہور کا جلسہ ہوا تھا وہ بھی پنجاب والوں نے سارا خود ارینج کیا تھا۔
ہمارے لوگ ہمیں فنڈنگ  دیتے ہیں اور بہت زیادہ دیتے ہیں۔ اگر کسی کو شک ہے تو پاکستانی میڈیا کو قائل کرے وہ کیمرے لے کر آ جائیں۔ ایک دن طے کر لیتے ہیں اور منظور لوگوں سے کہے گا اتنے پیسے چاہیئں  تو دو گھنٹہ تک اتنے پیسے نہیں بلکہ ڈبے اس سے کہیں  زیادہ پیسوں سے بھر جائیں گے۔
یہ امتیازی سلوک ہے باقی یہاں کسی سے بھی یہ سوال نہیں ہوتا سوائے ہمارے۔ ایسے امتیازی سلوک سے تو ہمیں لگتا ہے کہ یہاں پشتون ہونا گناہ ہے، میں ایلیٹ کلاس پشتون نہیں غریب اور پسے ہوئے طبقہ کی بات کر رہا ہوں۔ ایلیٹ کلاس بھی متاثر ہوئی  ہے   لیکن اُن کی اپنی بہت سی مجبوریاں ہیں۔ جو انہیں خاموش کر دیتے ہیں۔ ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔
“ ایک دفعہ جلسہ تھا اور جلسے کے لیے پیسے نہیں پورے ہو رہے تھے۔ یہ جو انہوں نے پاکستان زندہ باد تحریک چلائی گئی ہے۔ اُن کے کچھ لیڈروں نے ہمیں پیسے بھیج دئیے کہ ہم آمنے سامنے  مخالفت تو کریں گے   لیکن ہمیں معلوم ہے ظلم تو ہوا ہے۔ ہماری مجبوریاں ہیں ہم سامنے سے آپ کو سپورٹ نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری اپنی مصلحتیں ہیں”۔ اصل میں ایسے سوال خفیہ اداروں کی طرف سے اچھالے جا رہے ہیں تاکہ PTM تنگ آ کر مستقل فنڈنگ کرنے والوں کی فہرستیں جاری کردے  ، پھر دیکھیں کیسے اُن کی خیر نہیں۔اگر وہ کہتے ہیں کوئی ملک یا کوئی ایجنسی ہمیں فنڈنگ کرتی ہے تو وہ کیوں آج تک کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکے۔ کیونکہ یہ صرف ایک پروپیگنڈہ ہے-

سوال: آپ سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے آپ کی طرز کی تحریکیں شروع کی تھیں ، لیکن اُن  میں وہ آگ نہیں جو آپ کی تحریک میں ہے؟ ایسا کیونکر ممکن ہوا؟
جواب: آپ دیکھیں اُن سب تحریکوں کے مطالبات ہیں۔ آپ دیکھیں پاکستان زندہ باد والوں کے کیا مطالبات ہیں۔ کس سے ہیں اور کیا وہ مسائل حل ہو گئے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ پاکستان زندہ باد تحریک کو دیکھا جائے تو اُن کا ایک کام ہے نفرت پھیلانا۔ کوئی مظلوم اٹھا ہے تو اُس کو روکنے کے لیے اُس کے خلاف نفرت پھیلائیں۔ PTM تو کسی کے خلاف کوئی بات کرتی ہے تو وہ بھی کسی بنیاد پر کرتی ہے، اُس کے تو ریاست سے گلے، شکوے اور مسائل ہیں۔ دنیا میں لوگ ریاست کے خلاف احتجاج کرتے ہیں یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے ریاست لوگوں کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔

سوال: اکثر تصویروں میں آپ کو لائبریری میں بیٹھے دیکھا گیا ہے وہ آپ کی اپنی لائبریری ہے؟
جواب: نہیں۔ وہ میری لائبریری نہیں ہے۔ وہ میرے دوستوں کی ہے۔ وہاں سب آتے ہیں۔ یہ سمجھ لیں PTM کی ایک جگہ ہے جہاں سب بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں۔ میرا اپنا گھر کتابوں سے بھرا ہوا تھا لیکن اسے جلا دیا گیا۔ پہلے بہت کتابیں پڑھتا تھا اب تو موقع ہی بہت کم ملتا ہے۔ اب بس جب تھوڑا سا وقت ملتا ہے تو پڑھ لیتا ہوں لیکن باقاعدگی کے ساتھ نہیں۔

سوال: بچپن میں کون سی پہلی کتاب پڑھی تھی؟
جواب: ایسے تھا کہ میرے والد صاحب کتابوں کے بہت شوقین تھے ہمارے گھر میں کتابوں کی تین بڑی بڑی الماریاں تھیں۔ جہاں ہمیں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ ہمیں کہا جاتا تھا پہلے تم لوگ اپنے نصاب کی کتب پڑھو۔ کبھی کبھی اُس کمرے میں چلے جاتے تھے سب سے پہلے میں نے واقفیتِ عامہ نام کی کتاب  پڑھی تھی۔ تقسیم ہند اور مطالعہ پاکستان پر کافی زیادہ کتابیں پڑھیں ۔ پھر بچپن میں ہی جو مجھے یاد ہے۔ پشتونوں کی اور وزیرستان کی تاریخ پر کتاب پڑھی۔ سب سے زیادہ جو کتاب مجھے پسند آئی وہ تین جلدوں پر مشتمل تاریخ اسلام تھی۔ وہ میں نے تین بار پڑھی تھی۔ یہ ساری کتابیں والد صاحب سے چھپ کر چوری چوری پڑھتا تھا۔ تاکہ پتا نہ لگے  کہ میں نصاب کے علاوہ بھی کچھ پڑھتا ہوں۔ میں سب کو تجویز کروں گا تاریخ اسلام کی کتاب پڑھیں اُس کے مصنف کا نام ابھی میرے ذہن سے نکل گیا ہے۔

سوال: آپ خود بھی کوئی کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
میں ابھی دو کتابیں لکھ رہا ہوں۔ ایک چھوٹی کتاب ہے جو کہ تین سو کے قریب صفحات پر مشتمل ہو گی۔ جس میں PTM کیسے شروع کی اور کیا کیا پریشانیاں راستے میں حائل ہوئیں  وہ لکھ رہا ہوں۔ جو دوسری کتاب لکھ رہا ہوں وہ ماورائے عدالت قتل اور جبری لاپتہ افراد پر لکھ رہا ہوں وہ تو شائد دو ہزار صفحات سے بھی بڑھ جائے گی۔ جب آپ جبری لاپتہ افراد جو کہ آٹھ ہزار کے قریب ہیں۔ جب آپ اُن ٹھ  ہزار لوگوں پر لکھیں تو کتاب بہت ضخیم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہ صرف اس میں لاپتہ افراد کی داستانیں اور ان کے خاندان پر گزرنے والی معاشی تنگی کا ذکر کروں گا۔ ابھی ہمارا دوات عالم زیب جو اس چیز پر کام کررہا تھا اسے تو اُن لوگوں نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ شخص جو آپ کے ساتھ بیٹھا ہے یہ بھی عالم زیب کے ساتھ تھا اس کا بھی ریاستی اداروں نے ہاتھ توڑ دیا ہے۔
ابھی میں نے سوچا ہے پہلے چھوئی کتاب کو شائع کیا جائے۔ جس میں PTM مطالبات اور ریاستی اداروں کی طرف سے مطالبات کے حل کی بجائے لگنے والے الزامات کا جواب دے سکوں۔ یہ کتابیں اردو، انگلش اور پشتو پر مشتمل ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے ساتھ ہمارا انٹرویو اختتام پذیر ہو گیا۔ تب تک کھانا بھی آ چکا تھا۔ ہم نے مل کر کھانا کھایا۔ کھانا کھاتے ہوئے (منظور طنزیہ انداز میں) یہ لوگ کہتے ہیں ہمیں انڈین “را” فنڈنگ کرتی ہے۔ اگر وہ کرتی تو ہم ایسا کھانا نہ کھاتے جس کے ساتھ چمچ بھی دستیاب نہیں۔ کھانے کے بعد تب تک مغرب کا بھی وقت ہو چکا تھا۔ پھر ہم نے منظور کی ہی امامت میں نمازِ مغرب ادا کی۔ نماز کے بعد ہم نے منظور سے اجازت طلب کی اور اپنے راستے چل دئیے۔اور راستے میں یہی سوچتے سوچتے سفر کب کٹ گیا پتا ہی نہیں چلا کہ منظور اگر ناکام ہو گیا تو ریاست کا فائدہ ہو گا یا نقصان۔ کیونکہ وہ اکیلا نہیں ہے لاتعداد لوگ اسے ربِ کعبہ کی طرف سے اپنی دعاؤں کا منظور ہونا سمجھ کر اُس کے جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں۔ منظور کی غیر مسلح اور تشدد سے پاک آئینی تحریک کو نظرانداز کرنا بہت بڑی حماقت ہو گی۔ جس کا ہمیں آگے جا کر کہیں  خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *