مُشتری کے چار گیلیلین چاند ۔۔۔۔محمد یاسر لاہوری/حصہ اول

آپ  نے یقیناًًً یہ بات تو ضرور سن رکھی ہو گی کہ “بادشاہوں کی بات باتوں کی بادشاہ ہوتی ہے” بالکل یہی صورت حال ہمارے نظام شمسی اور مشتری سیارہ کی ہے۔مُشتری سیارہ Jupiter planet نظامِ شمسی کے تمام سیاروں میں بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔جس کے اندر ہمارے نظامِ شمسی کے تمام سیارے اپنے چاندوں سمیت سما سکتے ہیں۔مُشتری سیارہ بادشاہ کی حیثیت سے نظام شمسی میں اپنا آپ منوائے ہوئے ہے، اس کا دیو ہیکل سائز اور طاقتور کشش ثقل اسے نظام شمسی کے تمام سیاروں میں ممتاز کرتی ہے۔لیکن یہاں ہمارا اصل موضوع سیارہ مشتری نہیں بلکہ مشتری کے چار گیلیلین چاند ہیں۔یہ تحریر جو میں شروع کرنے جا رہا ہوں اس میں ہم مشتری سیارہ کے ان چار چاندوں کے متعلق نہایت حیرت ناک معلومات جان سکیں گے جنہیں گیلیلین چاند Galilean moons کہا جاتا ہے۔

اس تحریر کو میں چار حصوں میں مکمل کروں گا، جن چار چاندوں کو ہم نے  اس تحریر کے ذریعے جاننا ہے اور ان کی حیرتناک دنیاؤں سے واقف ہونا ہے، ان میں سے ایک چاند گانیمید Ganymede ہے، جو کہ مشتری ہی کی طرح نظام شمسی میں موجود تمام معلوم چاندوں میں سب سے بڑا ہے۔مطلب نظام شمسی میں تمام سیاروں میں بڑا سیارہ مشتری بڑا ہے اور تمام چاندوں میں سب سے بڑا چاند گانیمید ہے، تحریر کے اس پہلے حصے میں ہم گانیمید چاند Ganymede moon کے متعلق کچھ اہم باتیں جانیں گے۔

نظام شمسی میں اب تک کی تحقیقات کے مطابق دو سو کے لگ بھگ چاند دریافت کئے جا چکے ہیں اور اندازہ ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں 350 کے لگ بھگ چاند موجود ہیں۔دو سو کے قریب دریافت شدہ چاندوں میں سے 80 چاند سیارہ مشتری کی طاقتور کشش ثقل کے چنگل میں اپنی اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں، پانچ درجن سے کچھ زیادہ یعنی 62 چاند سیارہ زحل کے ارد گرد گھوم رہے ہیں، ستائیس یا اٹھائیس چاندوں پر سیارہ یورینس Uranus اپنا قبضہ جمائےہوئے ہے اور نیپچون نے بھی چودہ 14 یا پندرہ 15 چاند گرفتار کر رکھے ہیں۔یاد رہے سیارہ زہرہ اور عطارد کے پاس قدرت کا عطا کردہ چاند جیسا کوئی کھلونا موجود نہیں جس سے یہ دونوں کھیل سکیں۔اس کے علاوہ ہمارے نظام شمسی میں پانچ معلوم بونے سیارے Dwarf planets بھی موجود ہیں۔جن میں Pluto, Ceres, Hauma, Makemake اور Eris شامل ہیں جو آٹھ یا نو چاند رکھتے ہیں۔نظام شمسی کے سیاروں کے گرد گھومتے بہت کم ایسے چاند ہیں جو مکمل گول اور بڑے سائز کے ہیں۔نظام شمسی کے تمام چاندوں میں سب سے بڑا چاند گانیمید Ganymede ہے جو صرف بڑا ہی نہیں بلکہ بہت ہی اہم راز و ماحول کو اپنی تہہ میں چھپائے ہوئے ہے۔ہماری تحریر کے حصہ اول کے موضوع کا محور و مرکز یہی گانیمید چاند ہے۔

زمین کے چاند کا ذکر ہو یا کسی دوسرے سیارے کے چاند کا، ہمیں عجیب نہیں لگتا کیوں کہ آج ہم دوسرے سیاروں اور ان کے گرد گھومتے چاندوں کے متعلق بہت کچھ جان چکے ہیں، پڑھ چکے ہیں یہاں تک آج دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت ہے جو ٹیلی سکوپ کے ذریعے اپنی آنکھوں سے دوسرے سیاروں کے گرد گردش کرتے چاند دیکھ چکے ہیں۔۔۔میں خود بھی ایسے افراد میں شامل ہوں جنہوں نے مشتری اور زحل کے چاند براہ راست اپنی آنکھوں سے ٹیلی سکوپ کے ذریعے دیکھ رکھے ہیں۔۔۔لیکن میں آپ کو تھوڑا پیچھے یعنی ماضی میں لے کر جانا چاہتا ہوں، زیادہ نہیں یہی کوئی چار سو سال پیچھے کہ جب نا تو کوئی دوربین ایجاد ہوئی تھی اور نا ہی کوئی ایسا آلہ یا ذریعہ موجود تھا جس سے آسمان پر پھیلی بے پناہ وسعتوں کی حامل خوبصورت و حیرتناک دنیا کا مشاہدہ کیا جا سکتا۔تب 1609ء میں ایک اٹالیئن فلکیاتدان گیلیلیو گیلیلی نے دوربین ایجاد کی اور فلکیات کی دنیا کا رخ موڑ کے رکھ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*مشتری کے گیلیلین چاندوں کا پہلا مشاہدہ!

آج سے تقریباً چار سو سال پیچھے جائیں تو ہم پر تاریخ کے سمندر میں ڈوبی یہ گِرہ کھلتی ہے کہ دوربین کی ایجاد کی بدولت انسانی آنکھ نے پہلی بار سترہویں صدی میں یہ دیکھا اور جانا کہ کچھ مخصوص راتوں میں زمین پر دودھیا روشنی بکھیرنے والا یہ گول تھال (چاند) اصل میں ہماری زمین ہی کی طرح کا ایک کرہ ہے، چاند بھی زمین ہی کی طرح ایک ٹھوس جسم ہے۔تب پہلی بار انسان پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ زمین کے چاند کی طرح دوسرے سیاروں کے گرد بھی چاند کے جیسے جسم موجود ہیں جو چاند ہی کی طرح ان سیاروں کے گرد اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔

جنوری 1610ء میں گلیلیو گلیلیی نے اپنی بنائی ہوئی دوربین سے مُشتری کے ارد گرد کچھ چھوٹے اجسام کو دیکھا، انسانی آنکھ کا پہلا مشاہدہ کس قدر حیرتوں سے بھرا ہو گا کہ جب پہلی بار نگاہِ انسان نے زمین کے چاند کی مِثل کسی دوسرے جہاں اور کسی دوسری دنیا کے گرد چکر لگاتے کچھ چاند دیکھے ہوں گے، ایک لمحے کے لئے یہاں رکئے۔۔۔۔!! اور ذرا سوچئے کہ کہاں ابھی تک انسان اپنے ہی چاند کے معمولی نوعیت کے حقائق و عجائبات سے نا آشنا تھا کہ اسی دوران حضرتِ انسان نے ساٹھ کروڑ کلومیٹر دور ایک انجان دیو ہیکل سیارے کے چاند بھی دیکھ لئے۔پہلے پہل یہ سمجھنا مشکل تھا کہ مشتری کے ساتھ نظر آنے والے یہ چھوٹے چھوٹے ستارہ نما اجسام اس سیارے کے چاند ہیں یا اس سیارے سے بھی کہیں دور کے ستارے ہیں، جو زیادہ دوری کی وجہ سے چھوٹے نظر آ رہے ہیں۔لیکن کئی روز کے مسلسل مشاہدے سے آخر گیلیلیو گیلیلی اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ بھی ہمارے چاند کی طرح اس سیارے یعنی مشتری کا چکر لگا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلسل مشاہدے سے کیسے پتہ چلا؟ کہ واقعی  ہی وہ بھی ہمارے چاند کی طرح اس سیارے کے ارد گرد اپنے مدار میں چکر لگا رہے ہیں؟ اور یہ کیسے پتہ چلا کہ زمین کی طرح مشتری بھی چاند رکھتا ہے؟ اس سوال کو نہایت آسانی سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔ مُشتری سیارہ کم و بیش ایک لاکھ بیالیس ہزار کلومیٹر کا ڈائی میٹر رکھتا ہے، اس کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہے کہ *یہ بڑے بڑے شہابیئے اس کی طاقتور کشش ثقل سے توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔اِسی کششِ ثقل کی بدولت مُشتری Jupiter کے چاند اس کے گرد نہایت تیزی سے چکر لگاتے ہیں، اس کے چار بڑے چاند جن کو گیلیلیو گیلیلی نے اپنی دوربین سے دریافت کیا تھا ان کے نام “آئی او Io, یوروپا Europa, گانیمید Ganymede اور کیلِسٹو Callisto ہیں۔ان چار چاندوں میں سے مُشتری کے سب سے زیادہ قریب Io چاند ہے، اس کے بعد یوروپا پھر تسرے نمبر پر “گانیمید Ganymede چاند ہے” ان چاروں میں فاصلے کے اعتبار سے آخری نمبر Callisto چاند کا ہے۔

مشتری کے حجم اور شدید تر کشش ثقل کو مد نظر رکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ لاکھوں کلومیٹر کا فاصلہ ہونے کے باوجود یہ چاروں چاند مشتری کے نہایت قریب ہیں۔مُشتری کی شدید اور طاقتور کششِ ثقل کی وجہ سے یہ چاروں گیلیلین چاند نہایت تیز رفتاری سے اپنے مدار پر چکر پورا کرتے ہیں۔اتنی تیز رفتاری کے باعث یہ چاند ہر روز زمین سے دیکھنے پر اپنی سابقہ جگہ پر نہیں ملتے، مطلب آج اگر Io چاند مشتری کے مشرق میں نظر آ رہا ہے تو اگلے دن آپ دوربین میں دیکھیں گے تو یہی چاند آپ کو مُشتری کے مغرب میں ملے گا۔۔۔مشتری اور اس کے چاروں چاندوں کے اس خوبصورت نظارے کا مشاہدہ میں اپنی ٹیلی سکوپ سے اگست و ستمبر 2018 میں دسیوں بار کر چکا ہوں۔۔۔بہت سے ثبوتوں و مشاہدات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک ثبوت و مشاہدہ تھا کہ جس کی بنا پر جنوری 1610ء میں دیکھے گئے ان چاروں نامعلوم اجسام کو مسلسل نگرانی کے بعد بالآخر مارچ 1610ء میں اس سیارے کے چاند قرار دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*گانیمید Ganymede چاند کا سائز!
گانیمید چاند ہمارے نظام شمسی میں موجود تقریباًًً دو سو سے کچھ کم “معلوم چاندوں” میں سے سب سے بڑا اور سب سے زیادہ ماس رکھنے والا چاند ہے، گانیمید Ganymede چاند سائز میں سیارہ عطارد Mercury سے بھی بڑا ہے۔ذہن میں رہے کہ سیارہ عطارد کا ڈائی میٹر چار ہزار آٹھ سو اُناسی کلومیٹر 4879km ہے اور سیارہ عطارد سے تقریبا چار سو کلومیٹر کے اضافہ کے ساتھ گانیمید Ganymede چاند پانچ ہزار دو سو اڑسٹھ کلومیٹر 5268km کا ڈائی میٹر رکھتا ہے۔اگر موازنہ کیا جائے ہمارے چاند اور گانیمید چاند کے سائز کا تو ہمارا چاند Earth’s moon گانیمید چاند Ganymede moon سے سترہ سو چورانے کلومیٹر 1794km چھوٹا ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ گانیمید چاند مریخ جتنا بڑا ہے۔

*چاند گانیمید کا مدار Orbite!
گانیمید Ganymede چاند، سیارہ مُشتریJupiter سے دس لاکھ ستر ہزار کلومیٹر 1070000km دور رہ کر اپنے مدار پر چکر لگاتا ہے، اپنے مدار پر ایک چکر پورا کرنے میں اس چاند کو سات دن اور کچھ گھنٹوں 7.15days کا وقت درکار ہوتا ہے۔ اس قدر بڑے اور بھاری جسم کو دس لاکھ ستر ہزار کلومیٹر دوری سے اس قدر تیز رفتاری سے چکر لگانے پر مجبور کرنا یقینا مشتری کی طاقتور کششِ ثقل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔جیوپیٹر یا مُشتری کی شدید کششِ ثقل کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ *سیارہ مُشتری Jupiter کا ایک چاند Pasiphae ہے، اس چاند کو مُشتری دو کروڑ پینتیس لاکھ کلومیٹر 23500000km کی دوری سے اپنی طاقتور کشش ثقل سے کنٹرول کرتا ہے اور یہ Pasiphae چاند پورے دو سال میں مشتری کے گرد اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے* گانیمید چاند ہمارے نظام شمسی کا آٹھواں سب سے بڑا فلکیاتی جسم ہے اور یہ ہمارے نظام شمسی کا واحد چاند ہے جو اپنا مقاطیسی میدان Magnetic field بھی رکھتا ہے, اسی میگنیٹک فیلڈ یعنی مقناطیسی میدان کی وجہ سے گانیمید Ganymede چاند کے ارد گرد زمین کے قطبین کے “ارورا” Aurora کی روشنیوں کی طرح کی روشنیاں دیکھی گئی ہیں جو کہ مشتری کی طرف سے آنے والی طاقتور مقناطیسی لہروں اور گانیمید کی اپنی مقناطیسیت سے پیدا ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*چاند گانیمید Ganymede کا پُراسرار سمندر*
کوشش و محنت کسی بھی نوعیت کی ہو اس کا صلہ ملنا ایک فطرتی بات ہے، یہی وجہ ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے انسان کا اس کائنات کو کھوجنے کا سفر جاری ہے جس کے بدلے میں انسان کو دیکھنے کے لئے بے مثال و لاجواب مناظر اور دنیائیں ہی نہیں لیں بلکہ اب نظام شمسی میں کئی ایک جگہوں پر نیچرل پانی سے بنی برف سے بنے بے پناہ وسیع و عریض سلسلے موجود ہونے کی نشانیاں اور شواہد مل رہےہیں۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ گانیمید چاند پر صرف برفانی بیابان ہی نظر آئے ہیں ایسا بالکل نہیں، بلکہ Hubble space telescope کی مدد سے اس چاند کی اورل ایکٹیوٹی Oral activity (اورل ایکٹِوِٹی یعنی کسی چیز کے زبانی یا مخصوص حرکات و سکنات سے اس کی معلومات سے آگاہ ہونا) سے اس چاند پر برف کے نیچے اس قدر بڑے نمکین پانی کے سمندر کے پختہ شواہد ملے ہیں کہ اگر اس سمندر کا موازنہ ہمارے سمندر سے کیا جائے تو اُس سمندر کے پانی سے ہم اپنے زمینی سمندر کو چھ 6 بار بھر سکتے ہیں۔انتہائی سر درجہ حرارت منفی ایک سو پینسٹھ ڈگری سینٹی گریڈ کے باعث گانیمید چاند کے سب سے اوپر نہایت موٹی برف کی تہہ جمی ہے، جس کے نیچے اندھیرے میں ڈوبا گہرا اور پراسرار سمندر ہے، جو ابھی تک کی معلومات و تحقیقیات کے مطابق نظام شمسی کا سب سے گہرا سمندر ہے۔

آپ میں سے اکثر احباب یہ بات جانتے ہوں گے کہ زمینی سمندر کی سب سے زیادہ گہرائی دس کلومیٹر 10km ہے جو کہ فلپائنی جزائر کے نزدیک سمندری حصہ ہے، دس کلومیٹر مطلب پینتیس ہزار فٹ سے زیادہ ہے، یہ اتنی گہرائی ہے کہ اس گہرائی میں آج تک سورج کی روشنی نہیں پہنچی۔یہ تو تھا دس کلومیٹر گہرا زمینی سمندر لیکن ہماری حیرت کی انتہاء تب ہوئی ہے جب ہمیں یہ پتہ چلا کہ Hubble space telescope کے نہایت حسّاس آلات سینسرز کی مدد سے یہ بات سامنے ائی ہے کہ گانیمید چاند (Jupiter’s moon) پر سمندر کی گہرائی ایک سو کلومیٹر 100km تک ہو سکتی ہے، جو کہ ہمارے سمندر سے دس گُنا زیادہ ہے۔

آنکھیں بند کیجئے اور اپنی تصوراتی سکرین پر ایک فلم آن کیجئے، آپ زمین سے کروڑوں میل دور ہیں ایک ایسی اندھیری کھائی آپ کے سامنے ہے جو وقت اور روشنی کے آغاز تک پھیلی ہے۔آپ کے سامنے ایک عجیب و غریب دنیا ہے ایک برفیلی دنیا، ایک خاموش دنیا اور ایک انجان دنیا جہاں آپ اپنے سامنے گانیمید Ganymede چاند کو دیکھ رہے ہیں۔حد نگاہ تک پھیلی اس کی سطحی ویرانگی اور ہیبت آپ کو اور آپ کی سوچوں کو جکڑے ہوئے ہے، اس کی برف سے ڈھکی سطح کئی کلومیٹر تک گہری ہے آپ چاہ کر بھی اس برف کی سطح کو توڑ کر اس کے نیچے چھپے رازوں کو نہیں جان سکتے۔اس برف کے نیچے چھپے اس تین لاکھ فٹ سے بھی زیادہ گہرے نمکین پانی کے سمندر کا سوچ کر ہی آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا ہو چکی ہے۔جانے کس قدر اندھیروں میں ڈوبا ہو گا وہ لامنتہاء گہرائیوں والا سمندر، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ نیچے ایک مکمل دنیا آباد ہو! کوئی بہت ہی الگ نوعیت کی مخلوق ہو جو اس پانی کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہو، یہ فطرتی قانون ہے کہ جس طرح زمین کو آوارہ خلائی ملبے سے بچانے کے لئے طاقتور فضاء اور سورج کی خطرناک شعاؤوں سے بچانے کے لئے اوزون دی گئی ہے بالکل اسی طرح گانیمید چاند کے سمندروں میں رہنے والی اس سمندری مخلوق کو بچاؤ کے لئے برف کی کئی کلومیٹر موٹی تہہ دی گئی ہو جو اس مخلوق کے لئے بچاؤ کے ساتھ ساتھ دوسری خلائی دنیاؤں سے چھپے رہنے کا کام بھی دیتی ہو۔ہم یہ فرض کر رہے ہیں ہو سکتا ہے ایسا نا بھی ہو۔۔۔!!!

مُشتری کے گرد گھومنے والا یہ نظامِ شمسی کا سب سے بڑا چاند اپنے حجم میں بھی الگ ہے، اپنے وزن میں بھی الگ ہے اور اپنی خصوصیات میں بھی الگ ہے۔انسان ابھی تک اپنے چاند کی بے آب و گیاہ اور ویران وادیوں اور کھائیوں میں بسنے کی خواہش کو پورا کرنے کی تگ و دوہ میں ہے کہ میرا متجسس دل ساٹھ کروڑ کلومیٹر دور مشتری کے اس چاند کو قریب سے دیکھنے لئے ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہا ہے۔گانیمید چاند کی سطح کا کیا ہی دلفریب نظارہ ہو گا کہ ایک لاکھ بیالیس ہزار کلومیٹر ڈائی میٹر رکھنے والا گیسوں میں لِپٹا مشتری گانیمید چاند کے سر پر ہو گا، تصور کیجئے کہ آپ گانیمید کی سطح پر کھڑے ہیں ایک طرف نظر اُٹھاتے ہیں تو لا محدود وسعتوں تک پھیلی سیاہ خلائی چادر آپ کو حیران کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف دیکھتے ہیں تو شمالاً جنوباً و شرقاً غرباً اور اوپر سے نیچے تک مشتری ہی آپ کی نگاہوں میں ہے۔۔۔یعنی ایک طرف آسمان کا نظارہ اور دوسری جانب ہر سُو، ہر سِمت میں صرف مُشتری کا دیدار!

کون جانے ہم انسان وہاں کا نظارہ وہاں پہنچ کر اپنی آنکھوں سے کر پائیں گے یا نہیں لیکن ہمارے تجسس کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور ہمارا دل و دماغ ہر وقت “چند سیکینڈز میں جسم کے اندر چلتے خون کو منجمند کر دینے والی ٹھنڈ، کروڑوں اربوں سال سے جمی برف کی تہہ اور گُھپ اندھیروں میں ڈوبے گانیمید کے عمیق اور گہرے سمندروں میں” کھویا رہتا ہے۔

اے گانیمید چاند! ہم نہیں جانتے کہ ہم تجھ تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔۔۔لیکن ہم زمین سے اپنی راتوں کی نیند بھلا کر اپنی دوربینوں میں تیری گردشوں اور تیرا مشتری کے گرد خوبصورت انداز میں گھومنے کا نظارہ کرتے رہتے ہیں، ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہاں کون کون سی مخلوقات زندگی کی کس کس حالت کو اپنائے ہوئے ہیں لیکن ہم انجان زندگی کے اصولوں کے تحت وہاں جینے والی اُس انجان مُمكِنہ مخلوق کو یہ خبر سنانے کو بے تاب ہیں کہ:
*اے گانیمید کے باسیو! تم اکیلے نہیں ہو اس جہاں میں، ہم اہلِ زمین بھی تمہارے جہاں میں بس رہے ہیں!*

گانیمید چاند کے ارد گرد زمین کے ارورا کی روشنیوں کی طرح منڈلاتی روشنیاں دیکھنے لئے نیچے دیا گیا لنک اوپن کریں

https://m.facebook.com/groups/2100179193327606?view=permalink&id=2313910211954502

گانیمید چاند کی برفیلی سطح اور اس چاند کا حقیقی سائز دیکھنے کے لئے مندجہ ذیل لنک کو کھولیں

https://m.facebook.com/groups/2100179193327606?view=permalink&id=2313910515287805

حصہ اول مکمل۔۔۔
نوٹ:
دوسرے حصے میں ہم مشتری کے چاند یوروپا کے متعلق پڑھیں گے۔

Avatar
محمد یاسر لاہوری
محمد یاسر لاہوری صاحب لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس، فلکیات، معاشرتی بگاڑ کا سبب بننے والے حقائق اور اسلام پر آرٹیکلز لکھتے رہتے ہیں۔ جس میں سے فلکیات اور معاشرے کی عکاسی کرنا ان کا بہترین کام ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *