جسے رات لے اڑی ہوا۔۔ طاہر بندیشہ

علم قلم کے ساتھ ہے۔ معلومات ہی مہیا نہیں کرتی،کتاب صرف تنہائی  کی مونس ہی نہیں،غورو فکر پہ آمادہ کرتی ہے۔ pleasure of learning,زندگی کی عظیم ترین مسرتوں میں سے ایک مسرت۔ماضی سے رشتہ جوڑتی ہے۔شخصیت کی تکمیل کرتی ہے۔ قرآن کریم بھی کتاب ہے بلکہ “الکتاب”۔ کتاب تخلیق و ہدایت۔ جو سحر دم جاگتے اور اس میں جی لگاتے ہیں، ان کی کشتی ساحل سے ہم کنار ہوتی ہے۔مراد پا لیتی ہے۔(ہارون الرشید صاحب) نشَّہ آفریں کتاب ایک ایسی کتاب کا قصہ جو اپنی گرفت میں لے لے ۔جو فیسبک بھلا دے بیٹھ کر سیرِ دوجہاں کرنا ،یہ تماشا کتاب میں دیکھا ،دس گھنٹے کی مسلسل مصروفیت  اور ذہنی طور پہ تھکا دینے والی جاب اور پھر اللہ ماری دو بلائیں واٹس ایپ اور فیسبک کے ہوتے ہوئے کالمز وغیرہ تو پڑھے جا سکتے ہیں مگر کتاب پڑھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے کہ لمحہ بہ لمحہ کوئی نہ کوئی شے توجہ اپنی طرف مبذول کروا لیتی ہے۔

فون ہی مان نہ تھا کہ اب اس میں سوشل ایپس یک نہ شد دو شد والا معاملہ درپیش ہو گیا۔ایسے میں ایک کتاب ہاتھ لگی جس نے یہ سب کچھ پس پشت ڈلوا دیا ۔۔۔کمرے میں پہنچتے ہی ہر کام بہ عجلت سرانجام دے کر بس کتاب اور قاری ۔ رات دو بجے تک کمرے کی لائیٹ جلتی ہے اس کے بعد ہاتھ والی ٹارچ کام دیتی رہی۔ ” جسے رات لے اڑی ہوا ” ایک ایسی ہی کتاب ثابت ہوئی کہ جس نے تمام تر توجہ اپنی جانب ہی مبذول کروائے رکھی ۔اگر ہفتہ وار تعطیل کی رات شروع کرتا تو ایک ہی نشست میں اختتام پذیر ہو جانی تھی مگر جاب کی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر دمِ صبح بند کرنی پڑتی تھی۔

اس کتاب کے بارے میں مجھ جیسا عامی کیا اظہار خیال کرے گا، جہاں امجد اسلام امجد جیسے قد آور شاعر اور کالم نگار یہ کہتے پائے گئے کہ اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت اپنے آپ کو پڑھوانا ہے ۔

محترمہ مہتاب اکبر راشدی صاحبہ یوں گویا ہوئیں ” مجھے مصنف کے مشاہدے سے خوف ،مطالعہ اور معلومات پر رشک آیا ہے “۔

ایک ایڈیٹر اخبار نے جو تبصرہ کیا وہ مجھے سب سے زیادہ من بھایا ” ان کی وقائع نگاری کو دیکھ کر ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اگر یہ کہیں بھولے بھٹکے سے کوچۂ صحافت کی جانب آ نکلتے تو بہت سوں کو لینے کے دینے پڑ جاتے ” ۔

عامی کا تجربہ بھی یہی کہتا ہے ،راگ شنکارا سے ان کی وال پہ شروع ہوا سفر ہنوز جاری ہے ،جہاں ہر رنگ ملتا ہے سوائے ان کی ذاتی تفصیلات کے ۔۔کہانی بھی وہیں ملتی ہے اور مصوری بھی ، شاعری اور فوٹوز کے کیپشن جو یہ دیتے ہیں ان کا جواب نہیں ۔ کبھی کبھار کالم بھی لکھتے ہیں جنہیں آپ صحافت کے ٹویٹ کہتے ہیں ۔۔۔تحریر میں عہدِ حاضر کے حقائق و واقعات ،شخصیات ، بالی وڈ ہالی وڈ کی فلمیں اور ان کے ستاروں سے جڑی باتوں کا اس شفگتگی کے ساتھ   تذکرہ کرتے ہیں کہ بے اختیار قاری کہیں مسکرائے تو کہیں قہقہ لگائے بنا رہ نہیں پاتا ۔ ایک بڑی اہم خوبی جو نوٹ کی گئی کہ کوئی بھی لفظ ، اصطلاح یا کسی غیرمشہور شخصیت کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ ہی میں بین القوسین اس کی تصریح کرتے چلے جاتے ہیں ۔۔جیسے کہ رودالی لفظ جب لکھتے ہیں تو ساتھ ہی میں بین القوسین اس کا مفہوم بھی سمجھاتے ہیں ۔ کتاب سے کچھ عبارتیں من و عن نقل کرتا ہوں ۔ کتاب کا ہر رنگ ایک نویکلا اور دلچسپ رنگ ہے۔ سب سے پہلے انتساب ہی ایسا کمال کا پڑھنے کو ملا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا انتساب نہیں دیکھا تھا ۔

والد ہ محترمہ کے نام ، شریک حیات کے نام ، سول سروس کے نام ، دوستوں کے نام ۔ کتاب میں اشعار اس طرح پروئے گئے ہیں جیسے کہ کسی تاج میں جابجا ہیرے جڑ دیے گئے ہوں ۔ آصف فرخی صاحب کے بقول” انہوں نے شاعری کو گھول کر پی رکھا ہے ۔ بلکہ انہوں نے فلمی گانے تک نہ چھوڑے جیسے اقبال کے مردِ مجاہد نے دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے” سب سے زیادہ مسحور کن بات دیوان صاحب کا کثرت سے تشبیحات کا استعمال ہے ۔بلاغت کے مضمون میں علم بیان کے باب میں تشبیہ کا ذکر پڑھایا جاتا ہے ” کلام میں جس قدر تشبیہات استعمال کی جائیں کلام اس قدر ہی عمدہ ہو گا ” ۔ تشبیہ عربی زبان کا لفظ ہے انگریزی میں اس کو سیمائل کہا جاتا ہے مگر زیاہ سہل کرنے کے لیے کہوں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ چیزوں کو چیزوں کے ساتھ اس خوبصورتی اور مہارت سےجوڑتے کرتے ہیں  کہ پورا نقشہ یوں آنکھوں کے سامنے پھیل جاتا ہے ۔ ایسے ہی کچھ جملے نقل کیے ہیں ۔ایک خاندان کے جب دن پھرے تو کس طرح بیان کیا گیا ،دیکھیے ذرا۔۔

” پھر اللہ نے صحرائے سینا میں بھٹکے ہوئے بنی اسرائیل کے یہودیوں کی طرح ان کے دن بھی پھیر دیے ” ۔ جملے کا لطف لیجئے

” وزیر صاحبہ بھی تب تک اپنی وارفتگی کے رخشِ فسوں کو اپنے دامِ فریب میں لا کر اس پر احتیاط کی سجیلی زین کس کر پا بہ رکاب ہو چکی تھیں “۔ اس جملے کو پڑھ کر مصنف کے مشاہدے و معلومات اور پھر ان کو برتنے کے ہنر پر رشک آیا

” وہاں کے تعمیراتی سیلِ رواں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اس رات کی کوئی صبح نہیں ۔ کسی زبان پر غبارے سے ہوا نکلنے کا اُن دنوں کوئی تذکرہ نہ تھا “۔

بیوروکریسی کی موجودہ حالت پہ تبصرہ ” سو اب اس قبیلے میں سکالر آفیسر قسم کے افسران جو چینی دانشمند کنفیوشس کی طرح سرکار کا کام سرانجام دیتے ، بالکل ایسے ہی ناپید تھے جیسے ہیرا منڈی میں کلاسیکل گائیکی کی اور نِرَت کے بھید بھاؤ کی سمجھ رکھنے والی خوبصورت تہذیب یافتہ طوائفیں “۔

ہر بیوروکریٹ چاہے وہ موجودہ سیکرٹری ہو یا ریٹائرد ہو چکا ہو اس کی تان اس جملے سے شروع ہوتی ہے جب میں ڈپٹی کمشنر ہوا کرتا تھا اس کی وجہ کیا ہے

” عورت بھلے سے نانی دادی بن جائے اپنا دلہن ہونا کبھی نہیں بھولتی ۔ یہ چیف سیکرٹری صاحبان جو اب ملازمت کی رو سے نانیاں دادیاں بن گئے ہیں ،دلہن اس دن بنے تھے جب وہ ڈپٹی کمشنر بنے تھے “۔

بدکردار سیاستدان جو ہر آمریت میں حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ان کے بارے میں جملہ دیکھیے  ،آپ  داد دیے بنا رہ نہیں پائیں گے “کرنل صاحب کی گود میں اُس ( ساتھ بیٹھی میم کا جس پہ کرنل صاحب محنت کر رہے تھے ) کا دو ڈھائی سال کا بچہ منہ میں انگوٹھا ڈالے یوں سو رہا تھا جیسے فوجی آمریت کی وسطی مدت والی شفقت بھری آغوش میں بد کردار سیاست داں سو جاتے ہیں “۔

پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز پہ اس سے عمدہ کیا چوٹ ہو سکتی ہے۔۔۔ ” پاکستان میں این جی او سے مراد ہے کہ وہ لمبی ہو ، گوری ہو ، فر فر انگریزی بولتی ہو۔ کسی طاقتور کی بیٹی یا بہو ہو “۔

قناعت پسندی ایسی بھی ہوتی ہے۔۔۔ ” عدنان کی ماں نے کہا میرا بیٹا پڑھ لکھ کر نام روشن کرے گا ، پولیس کا آئی جی بنے گا ۔ عدنان کے قناعت پسند باپ نے کہا ” بھلی مانس ہمارے لیے تو ڈی ایس پی بھی بہت ہے “۔

گوری عورتوں کے ہمراہ ایک ہی یونیفارم میں ملبوس ان کے ساتھ چلتی ہوئی کالی اور آبنوسی رنگت والیوں کو دیکھ کر جو تشبیہ دی۔۔۔ ” جن کو ان کی رفاقت میں دیکھ کر ایسے لگتا تھا جیسے کسی نے اصلی دیسی گھی میں تلے دیسی مرغی کے آملیٹ پر پسی ہوئی کالی مرچوں کا دل کھول کر چھڑکاؤ کیا ہو”۔

ایک جہادی گروپ کے امیر نے عدنان صاحب کو ایک بار کہا کہ آپ ایک اچھے مسلمان ہیں ہم چاہتے ہیں ایک آدھ جہادی کارروائی میں آپ بھی شامل ہو کر ثوابِ دارین حاصل کریں یہ زندگی تو عارضی ہے ۔ عدنان نے کیا جواب دیا ۔۔۔” حضرت ہم جس کمیونٹی سے ہیں اس کے بارے میں تو آپ کو علم ہی ہے کہ کتنی بزدل ہے ۔ جب آپ بمبئی پہنچ جائیں تو وہاں کی فلم انڈسٹری کو سنبھالنے کے لیے ہم کو یاد فرمائیے گا ۔ ہم بتلائیں گے کہ اداکار رنبیر کپور کی ختنہ کہاں کروانی ہے ۔ بپاشا باسو اور قطرینہ کیف کو کس مدرسے میں بھیجنا ہے ۔ پریتی زنٹا اور سویتا تیواری کس طرح کے برقع میں جچیں گی۔ ہم ریس کے گھوڑے ہیں ، ہم کو تانگے میں جوتنے کی کوشش نہ کریں “۔

پاکستان کی اعلی سوسائٹی جن کی ہر گیٹ ٹو گیدر شراب کے بنا ادھوری ہوتی ہے ان کی شراب کے بارے میں معلومات کتنی ہیں اس پہ ایک چوٹ ملاحظہ کیجئے ! کیا خوبصورت طنز کیا ہے ۔۔۔

” اس محفلِ شراب میں مئے نوشوں کی اکثریت وہسکی کی مشہور برانڈ بلیک لیبل سے آگے اگر کبھی سوچتے تھے تو صرف شراب طہورہ کا ہی سوچتے تھے ” ۔

ڈاکٹر ایمیلی دیستاں کا باب اپنے اندر کئی دل چسپ اور معلومات افزا باتیں لیے ہوئے  ہے ۔کیا لطیف جملہ ہے جو ڈاکٹر ایمیلی دیستاں کو ایک بات کے جواب میں کہا گیا ۔۔۔۔

” عورتوں سے ہم جو کچھ سیکھتے ہیں وہ عورتوں کے ہی کام آتا ہے “۔

” سجاوٹ اور بناوٹ کے نام پر عورت جو دکھ جھیل سکتی ہے اس کا کوئی مرد اندازہ نہیں کر سکتا “۔

” سچ ہے کوئی اچھا عمل رائیگاں نہیں جاتا”

اس جملے کے پس پردہ کہانی لبوں پرمسکراہٹ بکھیر دیتی ہے ۔ مسکراہٹ کی کون سی قسم۔۔ اس بارے میں راوی ہنوز خاموش ہے ۔

کیا ہی پُرحکمت مشورہ دیا اپنی ایک جاننے والی کو ، جب وہ کسی شخص کی تیسری بیوی بننے پر آمادہ تھیں ۔۔

” آپ بھی اپنا طلاق کا شوق پورا کرنا چاہتی ہیں ، تو اس سے شادی کر لیں “۔

فرقہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے پر ایک جملہ ملاحظہ کیجئے جب انمول کو سنڈریلا کی کہانی سنائی جا رہی تھی ۔۔۔۔

” شہزادے نے وہ سینڈل بالکل اسی طرح قابو کر لیا جیسے ہماری کروڑوں کا بجٹ خرچ کرنے والی  پُر  اعتماد تفتیشی ایجنسیاں ، کسی خودکش بمبار کا سر دھماکے کے بعد قابو کر لیتی ہیں “۔

آنٹی ایم جن کا نام عطیہ موجود تھا پر جو باب باندھا گیا ہے اس میں کئی حیرت انگیز اور مفید باتیں جاننے کو ملی ۔ اب تک شاید محترمہ عطیہ موجود پر یہ ایک مفصل مضمون تھا ۔ کرامات تین طرح کی ہوتی ہیں ۔۔۔کون کون  سی  ؟؟؟

ایک پروفیسر صاحب آنٹی ایم کے  پاس آ کر ان سے استدعا کر کے قدیم انگریزی شاعر جیفرے چاسر کی روح کو بلوایا کرتے تھے ۔کس لیے ؟؟؟؟ شہاب نامہ میں نائنٹی کون ہستی ہے ؟؟ مولوی اور درویش میں کیا فرق ہے ؟ کیا ہی خوبصورت مثال سے سمجھایا ہے ۔ اورنگ زیب عالمگیر کو بادشاہت کیسے ملی ! آخری باب میں بہشت زہرا کا ذکر اس انداز سے کیا کہ قبرستان سے بھی پیار ہو گیا۔

اس سے پہلے مختلف لوگوں کی تحریروں میں ان کا حوالہ ہی پرھنے کو ملتا تھا ۔ یہ تو چند بطورِحوالہ جملے تھے ورنہ چار سو پچاس صفحات کی اس کتاب کا ہر صفحہ اور ہر سطر پڑھے جانے والی ہے ۔پڑھتے جائیں اور سر دھنتے جائیں ۔ مصنف نے عدنان کی یہ کہانی بیان کی ہے اگرچہ کئی اشارے ملتے ہیں کہ پسِ پردہ کون ہے مگر چونکہ مصنف نے خود ہی کہہ دیا ہے کہ جو کوئی عدنان سے مراد مصنف کو لے گا تو وہ اس کی اپنی صوابدید ہو گی .صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں والا معاملہ ہوا ۔اس لیے ہم بھی عدنان کو عدنان ہی سمجھیں گے کہ اگر مصنف کو سمجھیں گے تو یہ جدید بیانیے کے مطابق پرسنل سپیس پہ ڈاکہ مارنے کے مترادف ہو گا ،

چاہیے وہ کہے سو لکھ رکھیں

ہر سخن میرؔ کا کتاب ہے میاں!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *